142- آخری آدمی از انتظار حسین

آخری آدمی از انتظار حسین

Aakhri aadmi-Intezar Hussainمصنف:انتظار حسین

صنف: افسانے، اردو ادب، پاکستانی ادب

صفحات: 160

قیمت: 200 روپے

ناشر: سنگ میل پبلی کیشنز

ISBN: 969-35-2049-1

انتظار حسین موجودہ دور کے مشہور مصنف ہیں۔ آپ بیک وقت افسانہ نگار، ناول نگار اور کالم نویس ہیں۔ بستی، آگے سمندر ہے، ہندوستان سے آخری خط، شہرِ افسوس آپ کی کچھ تصانیف کے عنوانات ہیں۔ آپ کے ناولوں کا انگریزی زبان میں ترجمہ بھی کیا جا چکا ہے۔ سن 2013 میں آپ کو بکر پرائز کے لئے نامزد بھی کیا گیا تھا۔ یہ آپ کے کام کی اہمیت کا بین الاقوامی سطح پہ اعتراف ہے۔ آپ کو حکومت پاکستان کی طرف سے تمغہ امتیاز سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ اردو نثر میں انتظار حسین کا کام ان کے ہم عصروں سے مختلف اور جداگانہ ہے۔ آپ کی تحریروں کا ماحول کسی بچپن کی کہانی یا پرانے قصے جیسا ہے۔ آپ کی زبان پرانے عہد نامے اور داستانوں کی سلیس و سادہ زبان ہے جسے آپ نے اپنے مخصوص اسلوب میں پیش کیا ہے۔ آج کا ہمارا موضوع آپ کے افسانوں کی کتاب ہے جس کا عنوان ہے “آخری آدمی”۔ Continue reading 142- آخری آدمی از انتظار حسین

Advertisements

111- Humiliated and insulted by Fyodor Dostoyevsky

Humiliated and insulted by Fyodor Dostoyevsky

ذلتوں کے مارے لوگ از فیودور دوستو فیسکی

The insulted and injuredمصنف: فیودور دوستو فیسکی

ترجمہ: ذلتوں کے مارے لوگ

مترجم: ض ۔ انصاری

صنف: ناول، روسی ادب

زبان: روسی

روسی ادب دنیا کے بہترین ادب میں شمار ہوتا ہے۔ روس نے دنیا کو بڑے ادیب دیئے ہیں جن میں لیو ٹالسٹائی، الیگزینڈر پشکن، فیودور دوستوفیسکی وغیرہ جیسے بڑے نام شامل ہیں۔ نثر ہو یا نظم، دونوں میدانوں میں ہی روسی ادباء اور شعراء نے کمالات دکھائے ہیں۔ کتابستان میں مشہور روسی مصنف لیوٹالسٹائی کےکچھ کام کو پیش کیا جا چکا ہے ۔آج ایک اور عظیم مصنف کے تعارف کا ہم اعزاز حاصل کر رہے ہیں جن کا نام ہے ’فیودور دستوفیسکی‘ ۔ دستو فیسکی کا زمانہ ۱۸۲۱ سے ۱۸۸۱ کا ہے۔ آپ ایک مشہور ناول نگار، فلسفی، جرنلسٹ اور مضمون نگار تھے۔ دتسو فیسکی نے انسانوں کی نفسیات کو روسی لوگوں کی حالت زار کے حوالے سے پیش کیا ہے۔ دستو فیسکی کے بارے میں مزید جاننے کے لئے یہاں جائیں۔ Continue reading 111- Humiliated and insulted by Fyodor Dostoyevsky

110-زاویہ سوم از اشفاق احمد

زاویہ سوم از اشفاق احمد

Zavia-3مصنف: اشفاق احمد

صنف: پاکستانی ادب، نان فکشن

صفحات: ۳۲۰

ناشر: سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور

ISBN: 969-35-1885-3

زاویہ اول اور زاویہ دوم کے بعد اب پیش خدمت ہے زاویہ سوم کا تعارف ۔ زاویہ سوم، زاویہ سیریز کی آخری کتاب ہے۔ حصہ اول اور حصہ دوم کی طرح یہ بھی اشفاق احمد صاحب کے ٹیلی ویژن پروگرام زاویہ کی اقساط کے متن پہ مشتمل ہے۔ اس پروگرام کا نام زاویہ کیوں رکھا گیا، اس بارے میں اشفاق احمد صاحب فرماتے ہیں،

’فرض کریں ماڈرن دنیا میں کسی قسم کا ایک ڈیرہ ہو، جس میں سائیکاٹرسٹ بیٹھا ہو، یا سائیکالوجسٹ ہو لیکن وہ فیس نہ لے، اس کے پاس وہ بنچ نہ ہو جس پہ لٹا کر انالسس کرتے ہیں بلکہ بچھانے کے لئے صف ہو۔ ایسا سامان ہو کہ آمنے سامنے بیٹھ کر بات کر سکیں تو ان ڈیروں کو، ان تکیوں کو شمالی افریقہ میں، الجزائر میں، تیونس میں ’زاویے‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان کو ’زاویہ‘ کہتے ہیں۔ کچھ رباط بھی کہتے ہیں لیکن زاویہ زیادہ مستعل ہے۔ حیران کن بات ہے ، باوجود اس کے کہ زاویہ ایک خاص اسم طرف مکان ہے شمالی افریقہ کا، لیکن اندلس کے زمانے میں اندلس کی سرزمین پر زاویے نہیں تھے۔ تیونس، الجزائر میں رباط تھے۔ یہاں صوفی لوگ بیٹھ کر لوگوں کو، آنے جانے والوں کو ایک چھت فراہم کرتے تھے۔ وہنے کے لئے جگہ دیتے تھے۔ کھانے کے لئے روٹی پانی دیتے تھے۔ کچھ دیر لوگ بیٹھتے تھے، دکھی لوگ آتے تھے، اپنا دکھ بیان کرتےتھے اور ان سے شفا حاصل کرکے ڈائیلاگ کرتے تھے۔ سچ مچ! سائیکالوجسٹ جوکہا کرتے ہیں، وہ مہیا کرتے تھے، ہم نے بھی اسی تقلید میں پروگرام کا نام زاویہ رکھا ہے۔ اس لحاظ سے تو مجھے تھوڑی سی شرمندگی ہے کہ یہ اصل زاویہ نہیں ہے ۔ نقل بمطابق اصل ہے لیکن روح اس کی وہی ہے۔ کوشش اس کی یہی ہے کہ اس طرح کی باتیں یہاں ہوتی رہیں اور طبیعیت کا بوجھ جو پروگراموں میں کالموں اور کتابوں سے دور نہیں ہوتا وہ کسی طور یہاں دور ہو سکے۔‘ Continue reading 110-زاویہ سوم از اشفاق احمد

083- دلچسپ حکایاتِ رومی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ

دلچسپ حکایاتِ رومی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ

Hikatay-e-Roomiمرتب: ابن علی

صفحات: 157

قیمت: 85 روپے

ناشر: مشتاق بک کارنر، اردو بازار لاہور

مولانا رومی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کے بارے میں کون نہیں جانتا۔ آپ ایک مشہور صوفی بزرگ اور شاعر تھے۔ آپ کی شاعری مثنوی روم کے نام سے موجود اور مشہور ہے اور آج بھی پڑھی جاتی ہے۔ اس کا ترجمہ دنیا کی کئی زبانوں میں ہو چکا ہے جس کی وجہ سے مولانا کے کلام سے کئی زبانوں کے لوگ مستفید ہو چکے ہیں اور ہو رہے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ہم نے ایک ترکی مصنفہ کی لکھی ہوئی کتاب ” فورٹی رولز آف لو” کا ذکر کیا تھا۔ اس کتاب میں حضرت شمز تبریز اور مولانا روم کی ملاقات، دوستی اور محبت کی کہانی ایک ناول کی شکل میں پیش کی گئی ہے۔ “فورٹی رولز آف لو” کی مصنفہ نے مثنوی روم پڑھنے کے بعد ہی ناول لکھنے کا ارادہ کیا تھا اور ان کے ناول کے کئی واقعات مثنوی سے ہی لئے گئے ہیں۔ آج جس کتاب کی ہم بات کر رہے ہیں یعنی دلچسپ حکایات رومی بھی مثنوی روم سے ہی ایک انتخاب ہے۔ Continue reading 083- دلچسپ حکایاتِ رومی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ

062- ابتدائی دور کے 28 مسلمان صوفی اور فلاسفر از ایس۔ ایم۔ بجلی

ابتدائی دور کے 28 مسلمان صوفی اور فلاسفر از ایس۔ ایم۔ بجلی

Musalman-sufi-aur-philosphers-s-m-bijli-Ilm-o-Irfan-Publishersمصنف: ایس۔ ایم۔ بجلی

مترجم: مسعود مفتی

صفحات: 168

قیمت: 200 روپے

سن اشاعت: 2013

ناشر: سیونتھ اسکائی پبلی کیشنز

پروفیسر شاہ محمد بجلی صاحب کا تعلق تامل ناڈو سے ہے۔ آپ علی گڑھ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں۔ آپ کے قلم سے تقابلی مذاہب، فلسفے اور مابعد الطبیعات کے موضوعات پہ کتب نکل چکی ہیں۔ کتاب میں موجود آپ کے تعارف کے مطابق اب تک دس کتب آپ تحریر کر چکے ہیں۔ زیر گفتگو کتاب ابتدائی دور کے اٹھائیس مسلمان صوفی اور فلاسفر، کتابستان میں شامل ہونے والی آپ کی پہلی کتاب ہے۔ ہمیں امید ہے کہ باقی کتابیں بھی ان شاء اللہ کتابستان کا موضوع بنیں گی۔

کتاب میں کل اٹھائیس صوفی اور فلاسفر حضرات کا ذکر ہے۔ کتاب کے باقاعدہ آغاز سے پہلے مصنف نے ایک صفحہ قارئین کی توجہ کے لئے لکھا ہے جس میں انہیں پیش لفظ کی اہمیت سے آگاہ کیا ہے۔ Continue reading 062- ابتدائی دور کے 28 مسلمان صوفی اور فلاسفر از ایس۔ ایم۔ بجلی

061- دل من مسافر من از عنیزہ سید

دل من مسافر من از عنیزہ سید

sshot-622مصنفہ: عنیزہ سید
صفحات: 640

عنیزہ سید صاحبہ کی ایک تخلیق کا ہم پہلے بھی تعارف پیش کر چکے ہیں۔ آج بات ہونے والی ہے آپ کے ایک اور ناول کے بارے میں، جس کا عنوان ہے “دل من مسافر من”۔ ناول کا عنوان فیض احمد فیض کی مشہور نظم سے لیا گیا ہے۔ ذیل میں قارئین کی دل چسپی کے لئے پیش کی جا رہی ہے۔

دلِ‌ من مسافرِ من
ہوا پھر سے حکم صادر
دیں گلی گلی صدائیں
کریں رخ نگر نگر کا
کہ سراغ کوئی پائیں
کسی یار نامہ بر کا
ہر اک اجنبی سے پوچھیں
جو پتا تھا اپنے گھر کا
سر کوئے ناشنایاں
ہمیں دن سے رات کرنا
کبھی اِس سے بات کرنا
کبھی اُس سے بات کرنا
تمہیں کیا کہوں کہ کیا ہے
شبِ غم بری بلا ہے
ہمیں یہ بھی تھا غنیمت
جو کوئی شمار ہوتا
ہمیں کیا برا تھا مرنا
اگر ایک بار ہوتا !!!

ناول کے اتنے خوبصورت عنوان کے بعد اس سے وابستہ توقعات بڑھ جاتی ہیں۔ Continue reading 061- دل من مسافر من از عنیزہ سید

058- دربارِ دل از عمیرا احمد

دربارِ دل از عمیرا احمد

مصنفہ: عمیرا احمد
صفحات: 200
قیمت: 200 روپے
سن اشاعت: ء 2005
ناشر: علم و عرفان پبلشرز

موجودہ دور کے ناول نگاروں میں عمیرا احمد کا نام سرفہرست ہے۔ کتابستان میں ان کی کئی کتابوں پہ بات ہو چکی ہے۔ ان کی کتب عمومی پسندیدگی کی سند پاتی ہیں۔ پاکستان میں یہ درجہ کم ہی مصنفین کو حاصل ہو سکا ہے کہ لوگ کسی مصنف کی کتاب کا شائع ہونے سے پہلے ہی منتظر ہوں۔ عمیرا احمد نے اپنے منفرد موضوعات اور مذہب کے امتزاج سے کہانیوں کے ایسے رخ پیش کئے ہیں جنہوں نے پڑھنے والوں سے خوب داد سمیٹی ہے۔ آج جس ناول پہ بات ہو رہی ہے وہ بھی ایک ایسے موضوع پہ لکھا گیا ہے کہ پڑھنے والے کو مکمل اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔

دربار دل کا موضوع انسان کی اللہ سے مانگی ہوئی دعا ہے۔ اس ناول کی بنیاد سورۃ بنی اسرائیل کی اس آیت پہ رکھی گئی ہے جس کا مفہوم ہے کہ انسان اپنے لئے شر کو ایسے مانگتا ہے کہ جیسے بھلائی ہو اور بےشک انسان بڑا جلد باز ہے۔ Continue reading 058- دربارِ دل از عمیرا احمد

046- پیا رنگ کالا از بابا محمد یحییٰ خان

پیا رنگ کالا از بابا محمد یحییٰ خان

Piya Rang Kala By Baba yahya Khanمصنف: بابا محمد یحییٰ خان
صفحات: 722

بابا محمد یحییٰ خان موجودہ دور کے بابا ہیں۔ آپ ممتاز مفتی اور اشفاق احمد کے قبیل سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کو اپنا مرشد مانتے ہیں۔ بابا جی کے بارے میں کئی لوگ جانتے ہوں گے۔ زیر گفتگو کتاب “پیا رنگ کالا” بظاہر بابا محمد یحییٰ خان کی آپ بیتی ہے۔ بظاہر کا لفظ یہاں اس لئے استعمال کیا ہے کہ اس کتاب میں بہت ساری ایسی ماورائی اور بعید از عقل باتیں موجود ہیں جن کی حقیقت کی سند دینا بہت مشکل ہے۔ ایسی باتوں کی موجودگی کی بنا پہ عقل پسند لوگ اس کتاب کو ناول کا درجہ دیتے ہیں اور اگر انہی کی بنیاد پہ کئی ماننے والے بابا جی کو “علم” والے بندے کا درجہ دے دیتے ہیں۔ تاہم حقیقت کیا ہے Continue reading 046- پیا رنگ کالا از بابا محمد یحییٰ خان

041۔ سامانِ وجود از بانو قدسیہ

سامانِ وجود از بانو قدسیہ

مصنفہ: بانو قدسیہ
صفحات: 206

بانو قدسیہ صاحبہ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ آپ کا کام ہی آپ کی پہچان ہے۔ مشہورِ زمانہ ناول “راجہ گدھ” کی آپ مصنفہ ہیں۔ آپ اپنے مخصوص فلسفے، سوچ انداز اور دھیمے پن کی وجہ سے دیگر تمام مصنفین سے ممتاز اور نمایاں نظر آتی ہیں۔ تاہم ایک المیہ یہ بھی ہے کہ آپ پاپولر فکشن پڑھنے والے قارئین میں زیادہ نہیں پڑھی جاتیں۔ عموماً لوگوں کو آپ کا انداز مشکل اور بوریت بھرا محسوس ہوتا ہے جس میں کہانی کم اور پیغام زیادہ ہوتا ہے۔ تاہم ہماری نظر میں یہی بانو جی کی خوبصورتی ہے۔ کہانیاں تو بہت پڑھنے کو مل جاتی ہیں لیکن کہانی کے ساتھ پیش کیا گیا پیغام ہی وہ چیز ہے جو کہانی کو خوبصورت اور یادگار بنا دیتی ہے۔ بانو صاحبہ کی تحاریر کی یہ خصوصیت ہے کہ Continue reading 041۔ سامانِ وجود از بانو قدسیہ

025۔ دست بستہ از بانو قدسیہ

دست بستہ از بانو قدسیہ

مصنفہ: بانو قدسیہ
صفحات: 232
قیمت: 300 روپے
پبلشر: سنگ میل پبلیکیشنز، لاہور

بانو قدسیہ صاحبہ کے تعارف کے لئے یہ بتانا قطعی ضروری نہیں ہے کہ آپ مشہور مصنف اشفاق احمد کی اہلیہ ہیں۔ آپ کا خود کا اپنا ایک نام اور مقام ہے جو کسی بھی طرح اشفاق احمد صاحب کے تعلق کے باعث نہیں ہے۔ پاکستان میں اگر فلسفہ لکھنے والوں کی فہرست بنائی جائے تو بانو جی کا نام یقیناً سر فہرست ہوگا۔ آپ کے پائے کا لکھاری بہت کم اور بہت مشکل سے ہی پیدا ہوتا ہے۔ آپ کل قلم سے نکلا ہوا ناول راجہ گدھ پاکستان کے مقبول ترین ناولز میں شمار ہوتا ہے اور یہ ایک اکیلا ناول ہی آپ کو بہترین فلسفیوں کی فہرست میں شامل کرنے کے لئے کافی ہے۔ بانو جی نے راجہ گدھ کے علاوہ بھی بہت ناول اور افسانے لکھے ہیں۔ آپ ٹیلی ویژن کے لئے بھی لکھتی رہی ہیں۔ Continue reading 025۔ دست بستہ از بانو قدسیہ

019۔ سراغِ زندگی (And now, and here) از اوشو (گرو رجنیش)

سراغِ زندگی (And now, and here) از اوشو (گرو رجنیش)

ترجمہ: سراغ زندگی
مترجم: وسیم الدین چودھری
صفحات: 245
قیمت: 250 روپے
پبلشر: فکشن ہاؤس، 18-مزنگ روڈ لاہور

اوشو کو گرو رجنیش بھی کہا جاتا ہے۔ دنیا میں ایک بڑا حلقہ ان کے فلسفے اور تعلیمات سے متاثر ہے اور انہیں بھگوان مانتا ہے۔ان کے ماننے والے احتراماً انہیں بھگوان شری رجنیش کے نام سے پکارتے ہیں۔ تاہم رجنیش کو بیسویں صدی کے سب سے متنازعہ مذہبی رہنما ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ ناقدین رجنیش کو ایک بےحد خطرناک شخص قرار دیتے ہیں جس کی باتیں یا تعلیمات انسان کو مکمل طور پہ بدل سکتے ہیں۔ Continue reading 019۔ سراغِ زندگی (And now, and here) از اوشو (گرو رجنیش)