142- آخری آدمی از انتظار حسین

آخری آدمی از انتظار حسین

Aakhri aadmi-Intezar Hussainمصنف:انتظار حسین

صنف: افسانے، اردو ادب، پاکستانی ادب

صفحات: 160

قیمت: 200 روپے

ناشر: سنگ میل پبلی کیشنز

ISBN: 969-35-2049-1

انتظار حسین موجودہ دور کے مشہور مصنف ہیں۔ آپ بیک وقت افسانہ نگار، ناول نگار اور کالم نویس ہیں۔ بستی، آگے سمندر ہے، ہندوستان سے آخری خط، شہرِ افسوس آپ کی کچھ تصانیف کے عنوانات ہیں۔ آپ کے ناولوں کا انگریزی زبان میں ترجمہ بھی کیا جا چکا ہے۔ سن 2013 میں آپ کو بکر پرائز کے لئے نامزد بھی کیا گیا تھا۔ یہ آپ کے کام کی اہمیت کا بین الاقوامی سطح پہ اعتراف ہے۔ آپ کو حکومت پاکستان کی طرف سے تمغہ امتیاز سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ اردو نثر میں انتظار حسین کا کام ان کے ہم عصروں سے مختلف اور جداگانہ ہے۔ آپ کی تحریروں کا ماحول کسی بچپن کی کہانی یا پرانے قصے جیسا ہے۔ آپ کی زبان پرانے عہد نامے اور داستانوں کی سلیس و سادہ زبان ہے جسے آپ نے اپنے مخصوص اسلوب میں پیش کیا ہے۔ آج کا ہمارا موضوع آپ کے افسانوں کی کتاب ہے جس کا عنوان ہے “آخری آدمی”۔ Continue reading 142- آخری آدمی از انتظار حسین

137-قائم دین از علی اکبر ناطق

قائم دین از علی اکبر ناطق

Qain Deen-Ali Akber Natiqمصنف: علی اکبر ناطق

صنف: افسانے، اردو ادب، پاکستانی ادب

صفحات: 106

قیمت: 325 روپے

ناشر: آکسفورڈ یونیورسٹی پریس

سن اشاعت: 2012

ISBN: 978-0-19-906288-1

علی اکبر ناطق موجودہ دور کے شاعر اور نثر نویس ہیں۔ آپ نے شاعری، افسانہ نویسی اور ناول نگاری کے شعبوں میں قلم آزمائی کی ہے۔ اپنے کام کی وجہ سے آپ ادبی دنیا کا ایک روشن ستارہ شمار کئے جاتے ہیں۔ ناطق بنیادی طور پہ ایک معمار ہیں تاہم آپ کا اردو اور عربی زبان کا مطالعہ بہت وسیع ہے۔ آپ کے لکھے افسانوں کی پہلی کتاب ہی آکسفورڈ یونیورسٹی پریس سے شائع ہوئی ہے۔ ایک بین الاقوامی ادارے سے آپ کی کتاب کا شائع ہونا بذات خود آپ کے کام کی اہمیت اور معیار کی نشاندہی ہے۔ کتابستان کا آج کا موضوع آپ کے افسانوں کی یہی کتاب ہے جس کا عنوان ہے “قائم دین”۔ اس کتاب کے علاوہ آپ کا لکھا ناول “نو لکھی کوٹھی” بھی پسندیدگی کی سند لینے میں کامیاب رہا ہے۔ Continue reading 137-قائم دین از علی اکبر ناطق

130- Inferno by Dan Brown

Inferno by Dan Brown

inferno-dan-brownمصنف:ڈین براؤن

صنف: ناول، انگریزی ادب

صفحات: 461

سن اشاعت: 2013

ISBN: 978-1-845-95067-5

کسی بھی مصنف کی کامیابی کی نشانی یہ ہے کہ اس کی ایک کتاب پڑھنے کے بعد قاری اس کی لکھی دیگر کتب پڑھنے کی خواہش محسوس کرے۔ ایسا ہی ڈین براؤن کے ساتھ بھی ہے۔ ان کا تحریر کردہ ایک ناول پڑھنے کے بعد ان کی دوسری کتابوں کے مطالعے کی تحریک پیدا ہوتی ہے۔ کتابستان میں گاہے بہ گاہے ان کے کام کو پیش کیا جاتا رہا ہے۔ ان کی ابتدائی کتب گرچہ بہت متاثر کن نہیں رہی ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ براؤن کے لکھنے کے انداز میں بتدریج بہتری آئی ہے۔ ان کے سسپنس پیش کرنے کا طریقہ بہتر ہوا ہے۔ اینجلز اینڈ ڈیمنز، گرچہ موضوع کے اعتبار سے اک عمدہ اور منفرد ناول تھا، تاہم اس کے مطالعے کے کافی عرصے بعد تک بھی مصنف کی کوئی کتاب زیرِ مطالعہ نہ آ سکی، گرچہ نئے ناول منظر عام پہ آ چکے تھے۔ تاہم “دی لاسٹ سمبل” کا مطالعہ کرتے ہوئے احساس ہوا کہ اس ناول کو مکمل کئے بغیر ہاتھ سے رکھا نہیں جا سکتا۔ اس ناول کے اختتام پہ براؤن کے تازہ ترین ناول کی تلاش شروع ہوئی اور ہاتھ میں انفرنو آ گیا، جو ہمارا آج کا موضوع ہے اور آج کل دی ڈاونشی کوڈ ہمارے زیر مطالعہ ہے۔ امید ہے جلد ہی اس پہ لکھا گیا مضمون  کتابستان کا حصہ بنے گا۔ عمیرا احمد بابا یحییٰ خان کے بعد ڈین براؤن بھی ہماری اس فہرست میں شامل ہو گئے ہیں جن مصنفین کی آنے والی کتب کا ہم بےچینی سے انتظار کرتے ہیں۔ Continue reading 130- Inferno by Dan Brown

124-رقصِ جنوں (جزام) از بشریٰ سعید

رقصِ جنوں (جزام) از بشریٰ سعید

Raqs-e-junoon-by-bushra-saeedمصنفہ: بشریٰ سعید

صنف: ناول، پاکستانی ادب

صفحات: 182

ناشر: القریش پبلی کیشنز، لاہور

بشریٰ سعید صاحبہ کی تحاریر کی خاص بات ان کی منفرد اور گہری سوچ ہے۔ آپ معاملات کو ظاہری انداز سے نہیں دیکھتیں بلکہ ان کے اندر اتر کے ان کی اصلیت ڈھونڈ کے لاتی ہیں اور اس کے لئے چاہے پاتال میں ہی کیوں نہ جانا پڑے۔ یہی گہرا پن آپ کی تحریروں کو ان کا منفرد روپ دیتا ہے۔ آپ کے ناول ڈائجسٹ میں چھپنے کے باوجود معنویت کا پہلو لئے ہوتے ہیں۔ آپ کی سوچ کا انداز کہیں کہیں عمیرا احمد صاحبہ کی سوچ سے جا ٹکراتا ہے ایسا شاید مذہب کو موضوع بنانے کی وجہ سے محسوس ہوتا ہے۔

رقصِ جنوں، جاثیہ کی کہانی ہے۔ ناول کا آغاز ایک پجارن کے قصے سے ہوتا ہے جو اپنے دیوتا کو منانے کے لئے دیوانہ وار رقص کر رہی تھی۔ اسی رقص کی بنیاد پہ ناول کا عنوان رکھا گیا ہے۔ پجارن کے رقص کی وجہ سے دیوتا اپنے سنگھاسن سے اتر آیا، اور جب وہ نیچے اترا تو پجارن کو معلوم ہوا کہ وہ ایک عام انسان ہے اور انسانوں سے تو خوف کھاتے ہیں۔ ناول میں مصنفہ نے جاثیہ کی مماثلت اسی پجارن سے کی ہے۔ جاثیہ ایک بیوہ استانی کی بیٹی ہے۔ اس کی ماں نے اس کی تربیت نیک خطوط پہ کی تھی۔ لیکن جب اونیل، جاثیہ کے سامنے آٰیا تو وہ سب کچھ بھول گئی یہاں تک کہ یہ بھی کہ اس کے مذہب میں غیر مسلم مرد سے شادی کرنا ممنوع ہے۔ اونیل ایک یہودی شخص تھا جو پاکستان کے شہر اوکاڑہ میں ایک ہوٹل کی تعمیر کروا رہا تھا۔ اونیل کا خاندان جرمنی میں آباد تھا۔ اونیل نے جاثیہ سے کہا کہ وہ اس کی محبت پانے کی خاطر اپنا مذہب تبدیل کر لے گا۔ جاثیہ کی والدہ نے اپنی بیٹی کو اس بات کی اجازت نہیں دی اور نتیجتاً جاثیہ اپنا گھر چھوڑ کے بھاگ گئی۔ Continue reading 124-رقصِ جنوں (جزام) از بشریٰ سعید

123-The Man-eaters of Tsavo by John Henry Patterson

The Man-eaters of Tsavo by John Henry Patterson

تساوو کے آدم خور از جے۔ ایچ پیٹر سن

The man eaters of tsavoمصنف: جے۔ ایچ۔ پیٹر سن (جان ہنری پیٹر سن)

ترجم: تساوو کے آدم خور

مترجم: سید علاؤ الدین

صنف: نان فکشن، شکاریات

سن اشاعت: 1907

صفحات: 119

کتابستان میں شکاریات کے موضوع پہ آج سے پہلے ایک ہی کتاب پیش کی گئی ہے۔ یہ تبصرہ کتابستان کے ابتدائی دنوں میں پیش کیا گیا تھا اور یہ اس بلاگ پہ سب سے زیادہ پڑھی اور تلاش کی جانے والی کتابوں میں شامل ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قارئین شکاریات کے موضوع پہ کتابیں پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ہمارے لئے خوشی کا موقع ہے کہ ہم آج ایسے ہی قارئین کے لئے شکاریات کے موضوع پہ لکھی گئی کتاب پیش کر رہے ہیں۔ یہ کتاب انگریز مصنف جے ایچ پیٹر سن کے قلم سے نکلی ہوئی ہے اور سن 1907 میں پہلی بار شائع کی گئی۔ اس کتاب نے اپنے وقت میں ناصرف عوامی پسندیدگی حاصل کی بلکہ امریکی صدر روز ویلٹ اور برطانوی وزیراعظم سالسبری کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ اردو زبان کے قارئین کے لئے اس کتاب کا ترجمہ سید علاؤالدین صاحب نے تساوو کے آدم خور کے عنوان سے کیا ہے۔ Continue reading 123-The Man-eaters of Tsavo by John Henry Patterson

122-انسانی قیامت از علیم الحق حقی

انسانی قیامت از علیم الحق حقی

insani-qayamat_Aleem-ul-Haq_Haqqiمصنف: علیم الحق حقی

صنف: ناول، پاکستانی ادب

صفحات: 188

ناشر: علی میاں پبلی کیشنز، لاہور

سن اشاعت: 1998

پاکستان میں پاپولر فکشن لکھنے والے مصنفین میں غیر ملکی ناولوں کے تراجم کرنے کا رجحان کافی رہا ہے۔ عموماً یہ ترجمے لفظی یا بامحاورہ نہیں ہوتے بلکہ مصنفین کہانی کی فضا اور کرداروں کو مقامی یعنی پاکستانی ماحول کے مطابق ڈھال کے پیش کرتے ہیں تاہم کہانی کا اصلی متن وہی رہتا ہے۔ یہاں تک بات ٹھیک رہتی ہے لیکن ہمارے زیادہ تر مصنفین ان ناولوں کو اپنے ناموں سے پیش کرتے ہیں۔ ان ناولوں کو کہاں سے اخذ کیا گیا، ان کی انسپیریشن کس ناول سے لی گئی، اس بارے میں مصنف خاموش رہتے ہیں۔ ایسے ناول عوام میں انہی مصنفین (مترجمین) کے ناموں سے مشہور ہو جاتے ہیں اور ان کے اصل مصنف اور اصلی کتاب کا نام کم ہی سامنے آ پاتا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ فعل مناسب نہیں، اس ضمن میں جتنی غلطی مصنف کی ہے اتنی ہی ناشر کی بھی ہے۔ ایک ناشر کو چاہئے کہ وہ مترجم کو اس بات کی تحریک دے کہ وہ ناول کے اصل مصنف کا بھی ذکر کرے اور اس ناول کا بھی ذکر کرے جس سے کہانی اٹھائی گئی ہے۔ کتابستان میں ہماری کوشش رہتی ہے کہ ہم تراجم کے ساتھ اصل ناول اور مصنف کا حوالہ بھی دیں تاکہ حقائق درست رہیں، تاہم چند موقعے ایسے بھی رہے ہیں جب ہم اپنی کم علمی کے باعث اصل کتاب نہیں ڈھونڈ سکے۔ حقی صاحب کا موجودہ ناول بھی ایک ایسا ہی ناول ہے جس کے اصل مصنف کا انہوں نے ذکر نہیں کیا۔ تاہم اپنے قارئین کے لئے ہم یہ بتاتے چلیں کہ یہ امریکی مصنف گورے وڈال کے ناول “کالکی” سے ماخوذ ہے۔ انسانی قیامت، علیم الحق حقی صاحب کی تصنیف ہے۔ حقی صاحب کی تصنیفات پہ پہلے بھی بات ہو چکی ہے۔ اس ناول کی بنیاد ہندو مذہب کے ایک عقیدے کے گرد گھومتی ہے جس کے مطابق دنیا کے اختتام پہ سفید گھوڑے پہ کالکی اوتار کی آمد ہوگی جو بھگوان وشنو کا آخری اوتار ہوگا۔ اس اوتار کی آمد کے بعد دنیا کا خاتمہ ہو جائے گا۔

موجودہ ناول انسانی قیامت، کالکی اوتار ہونے کے دعوے دار ایک شخص کی کہانی ہے جو ایک امریکی پائلٹ خاتون تھیوڈور اوٹنگز کی زبانی پیش کی گئی ہے۔ تھیوڈور اوٹنگز کو ایک ایسے شخص کے انٹرویو کی ذمہ داری دی جاتی ہے جس نے کالکی ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ کالکی ہندوستان میں ایک آشرم چلا رہا تھا۔ اس کے چیلے مختلف لوگوں میں کنول کے پھول تقسیم کیا کرتے تھے اور وہ کسی سے کسی قسم کی مالی امداد نہیں لیا کرتے تھے اسی وجہ سے کالکی کئی لوگوں کی نظروں میں آ رہا تھا، لوگوں کا خیال تھا کہ اس کی مالی امداد منشیات سے وابستہ گروہ کر رہے ہیں۔ کچھ لوگ کالکی کے بارے میں مشکوک تھے اور ان کا خیال تھا کہ “کوئی طاقت مغربی دنیا کو سرنگوں کرنا چاہتی ہے۔ اس کی سب سے سادہ اور آسان ترکیب یہ ہے کہ مغرب کی نئی نسل کو نشے کی لت ڈال دی جائے۔ انہیں ایک ایسے مذہب سے روشناس کرایا جائے جو یہ بتائے کہ دنیا کا خاتمہ قریب ہے۔ ایسے مایوس اور نشے کے عادی لوگ لڑ سکتے ہیں کبھی، وہ تو جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی ہار جائیں گے۔” Continue reading 122-انسانی قیامت از علیم الحق حقی

119-The old man and the sea by Ernest Hemingway

The old man and the sea by Ernest Hemingway

بوڑھا اور سمندر از ارنسٹ ہمنگ وے

The old man and the seaمصنف: ارنسٹ ہمنگ وے

ترجمہ: بوڑھا اور سمندر

مترجم: ابن سلیم

صنف: ناول، امریکی ادب

سن اشاعت: 1952

ارنسٹ ہمنگ وے ایک نوبل انعام یافتہ امریکی مصنف اور صحافی تھے۔ آپ نے کئی ناول اور مختصر کہانیاں لکھی ہیں۔ “دی اولڈ مین اینڈ دی سی” جس کا اردو ترجمہ بوڑھا اور سمندر کے عنوان سے کیا گیا ہے، آپ کی لکھی ہوئی وہ تحریر ہے جس نے آپ کو نوبل انعام کا حقدار قرار دلوانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ آپ کا بہترین ناول شمار کیا جاتا ہے۔ اس ناول کو ادب کا پلٹزر انعام بھی دیا گیا ہے۔

بوڑھا اور سمندر ایک عمر رسیدہ مچھیرے کی داستان ہے۔ اس مچھیرے کا نام سان تیاگو تھا۔ ناول کی کہانی اس وقت شروع ہوتی ہے جب سان تیاگو سمندر میں مسلسل چوراسی دن تک ماہی گیری کرنے کے باوجود ایک بھی مچھلی پکڑنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ یہ انتہا درجے کی بدقسمتی تھی۔ اسی بدقسمتی کی وجہ سے اس کے شاگرد مینولن کے والدین نے اسے سان تیاگو کے ساتھ کام کرنے سے منع کر دیا تھا۔ Continue reading 119-The old man and the sea by Ernest Hemingway

118- عالم اسلام کی روحانی صورتحال از اسرار عالم

عالم اسلام کی روحانی صورتحال از اسرار عالم

مصنف: اسرار عالمAalm-e-Islam ki roohani soorat-e-haal

صنف: نان فکشن، اسلامی کتب

صفحات:131

ناشر:ادارہ معارف اسلامی، کراچی

نئے سال کے موقع پہ ہم اپنے قارئین کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ یہ نیا سال ہر ایک کے لئے خوشیوں، مسرتوں اور آسانیوں سے بھرپور ہو۔ اس نئے سال کے موقع پہ ہم ایک نئے مصنف کی کتاب آپ کے لئے لائے ہیں جن کا نام ہے اسرار عالم۔ اسرار عالم صاحب کوئی نئے مصنف نہیں ہیں، آپ ایک معروف مفکر ہیں جنہوں نے موجودہ دور میں عالم اسلام کو درپیش مسائل کے بارے میں قلم اٹھایا ہے۔ آپ کے قلم سے کئی کتب نکل چکی ہیں اور مذہبی حلقوں کے ساتھ ساتھ عام قارئین میں بھی پسند کی جا رہی ہیں۔ آپ کی کتب میں اسلام اور اکیسویں صدی کا چیلنج، امت کا بحران، معرکہ دجال اکبر، عالم اسلام کی سیاسی صورتحال وغیرہ شامل ہیں۔

کتاب کے پیش لفظ میں مصنف تحریر کرتے ہیں،

“اندوہناک صورتحال سے زیادہ کرب کی بات یہ ہے کہ امت مسلمہ، جو دنیا کی وہ واحد گروہ ہے جسے ماضی، حال اور مستقبل کا کافی علم دیا گیا، آج حیران اور ناواقف راہ بھٹک رہی ہے اور دنیا کی تاریکیوں سے روشنی کی بھیک مانگ رہی ہے۔ چودہ صدیوں بعد اب آثار قیامت کے ظاہر ہونے کی رفتار تیر تر ہوئی ہوئی محسوس ہوتی ہے گویا کوئی ہار ٹوٹ جائے اور یکے بعد دیگرے دانے گرنے لگیں۔
Continue reading 118- عالم اسلام کی روحانی صورتحال از اسرار عالم

117-The lost symbol by Dan Brown

The lost symbol by Dan Brown

The Lost Symbolمصنف: ڈین براؤن
صنف: ناول، امریکی ادب
زبان: انگریزی
صفحات:۴۶۲
سن اشاعت: ۲۰۰۹
مشہور امریکی مصنف ڈین براؤن کا ناول، دی لوسٹ سمبل جس کا اردو ترجمہ ’گمشدہ نشان‘ ہو سکتا ہے ان کی مشہور رابرٹ لینگڈن سیریز کا حصہ ہے۔ را برٹ لینگڈن ، ڈین براؤن کا تخلیق کردہ کردار کا نام ہے۔ یہ کردار ہاورڈ یونیورسٹی کا ایک درمیانی عمر کا پروفیسر ہے جس کی مہارت قدیم تہذیبوں کی تصویری زبانیں ہیں۔ دی لاسٹ سمبل، رابرٹ لینگڈن سیریز کا تیسرا ناول ہے۔ اس سے پہلے دو ناول دی ڈاونشی کوڈ اور دی اینجلنز اینڈ ڈیمنز نے بہت مقبولیت حاصل کی اور بیسٹ سیلرز کی لسٹ میں شامل ہوئے۔ موجودہ ناول  بھی بیسٹ سیلر کی لسٹ میں شامل ہے۔
Continue reading 117-The lost symbol by Dan Brown

116- امر بیل از عمیرا احمد

امر بیل از عمیرا احمد

Amar bail- Umaira Ahmedمصنفہ: عمیرا احمد

صنف: ناول، پاکستانی ادب

صفحات: 760

امر بیل، عمیرا احمد صاحبہ کے قلم سے نکلا ہوا ایک شاہکار ناول ہے۔ یہ ایک رومانوی ناول ہے جس کے تانے بانے پاکستان کی سول سوسائٹی کی زندگی اور اطوار کے گرد بنے گئے ہیں۔ عمیرا صاحبہ کے زیادہ تر ناولوں کا موضوع مذہب یا عورت ذات رہی ہے تاہم امر بیل عمیرا احمد کے ان چند ناولوں میں ہے جس کا مرکزی خیال مذہب سے نہیں اٹھایا گیا۔ یہ ناول کئی ماہ تک ڈائجسٹ میں شائع ہوتا رہا ہے اور اس نے بہت مقبولیت حاصل کی۔ بعد ازاں اس کو کتابی شکل میں بھی پیش کر دیا گیا ہے۔ اس ناول پہ مبنی ڈرامہ بھی ٹیلی ویژن پہ آ چکا ہے۔ Continue reading 116- امر بیل از عمیرا احمد

115- بہاؤ از مستنصر حسین تارڑ

بہاؤ از مستنصر حسین تارڑ

Bahaoمصنف: مستنصر حسین تارڑ

صنف: ناول، پاکستانی ادب

صفحات:229

قیمت: 250 روپے

ناشر: سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور

ISBN: 969-35-0150-8

اردو ادب میں وادی سندھ کی گم گشتہ تہذیب کو کسی مصنف نے اپنے تخیل کا موضوع نہیں بنایا، یہی بات ہے جو بہاؤ کو موضوع کے حساب سے انتہائی منفرد ناول بنا دیتی ہے۔ مستنصر حسین تارڑ صاحب کی وجہ شہرت ان کے تحریر کردہ سفر نامے ہیں۔ ان کے لکھے سفر نامے گھر بیٹھے ہی قاری کو دور کے دیس میں لے جاتے ہیں جہاں چلتی برفیلی ہواؤں اور برف پوش چوٹیوں کی ٹھنڈک کو وہ اپنے گھر کے اندر ہی محسوس کر لیتے ہیں۔ تاہم بہاؤ میں تارڑ صاحب اپنے قاری کو کسی دور کے دیس میں نہیں لے جا رہے بلکہ بہاؤ قاری کو آج سے پانچ ہزار سال پرانی ایک ایسی بستی میں لے جاتا ہے جو دریائے سندھ کے کنارے آباد تھی اور اس کا زمانہ موہنجودڑو کی تہذیب کا ہم عصر زمانہ تھا۔ موہنجودڑو کے متعلق انسانی معلومات وہاں کھدائی کے دوران نکلنے والے کھنڈرات اور چند قدیم باقیات تک محدود ہے۔ یہ تارڑ صاحب کے مضبوط تخیل کا کمال ہے کہ انہوں نے اتنی کم معلومات کی بنیاد پہ موہنجودڑو کے نواح میں واقع ایک بستی پہ ایک بھر پور ناول لکھ دیا ہے۔ Continue reading 115- بہاؤ از مستنصر حسین تارڑ

114-Doomsday and life after death by Sultan Bashir Mehmood

Doomsday and life after death by Sultan Bashir Mehmood

قیامت اور حیات بعد الموت از سلطان بشیر محمود

Doomsday and life after deathمصنف: سلطان بشیر محمود

نام ترجمہ: قیامت اور حیات بعد الموت

مترجم: میجر (ر) امیر افضل خان

صنف: نان فکشن، اسلام اور سائنس، تحقیق

صفحات: 570

سن اشاعت: 1987

ناشر: القرآن الحکیم ریسرچ فاؤنڈیشن، اسلام آباد

ڈومز ڈے اینڈ لائف آفٹر ڈیتھ، جس کا اردو ترجمہ “قیامت اور حیات بعد الموت” کے عنوان سے کیا گیا ہے، سلطان بشیر محمود صاحب کی تصنیف ہے۔ بشیر صاحب کا تعارف ہم کتابستان میں پیش کی گئی ان کی ایک اور کتاب کے تعارف کے دوران کروا چکے ہیں۔ اس بلاگ کے آخر میں اس کتاب کا ربط موجود ہے جہاں سے قارئین اس تعارف تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس کتاب کے آغاز میں کتاب کے تعارف کے طور پہ درج ہے،

“قرآن حکیم، فرمودات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور جدید سائنسی دریافتوں کی روشنی میں تخلیق کائنات، مومن کا فلسفہ حیات، کائنات میں انسان کا مقام اور مقاصد تخلیق، زندگی، موت، جسم، نفس، روح، ملائکہ اور جنات کے حقائق، قیامت عالم قبور،عالم برزخ، آخرت، روز محشر، جزا و سزا، جنت و دوزخ کے حالات یعنی یہ کتاب زمان و مکان میں ابتدا سے انتہا تک انسانی سفر کی داستان پہ ایک حقیقی مدلل اور سائنٹیفک تجزیہ ہے”۔ Continue reading 114-Doomsday and life after death by Sultan Bashir Mehmood

113-Happy things in sorrow times by Tehmina Durrani

Happy things in sorrow times by Tehmina Durrani

Happy-Things-in-Sorrow-Timesمصنفہ: تہمینہ درانی

صنف: ناول، پاکستانی ادب

زبان: انگریزی

صفحات: ۲۰۴

سن اشاعت: ۲۰۱۳

قیمت: ۸۹۵ روپے

ناشر: فیروز سنز پرائیویٹ لمیٹڈ، لاہور ، راولپنڈی، کراچی

ISBN: 9789690024763

ہیپی تھنگز ان سورو ٹائمز، محترمہ تہمینہ درانی صاحبہ کا تحریر کردہ تازہ ترین ناول ہے، جو گزشتہ سال منظر عام پہ آیا ہے۔ یہ تہمینہ صاحبہ کی چوتھی تحریر ہے۔ اس سے قبل آپ اپنی سوانح عمری، جناب عبدالستار ایدھی صاحب کی سوانح حیات، اور ایک انگریزی ناول تحریر کر چکی ہیں۔ آپ کی سوانح حیات مائی فیوڈل لارڈ کے عنوان سے شائع ہوئی تھی۔ یہ اپنے وقت کی مشہور ترین کتاب تھی جس نے آپ کو شہرت کی بلندیوں پہ پہنچا دیا۔ Continue reading 113-Happy things in sorrow times by Tehmina Durrani

112-میرے ہمدم میرے دوست از فرحت اشتیاق

میرے ہمدم میرے دوست از فرحت اشتیاق

Merey hamdam merey dostمصنفہ: فرحت اشتیاق

صنف: ناول، پاکستانی ادب

میرے ہمدم میرے دوست، محترمہ فرحت اشتیاق صاحبہ کی تخلیق ہے۔ فرحت اشتیاق وہی مصنفہ ہیں جن کے لکھے ہوئے ناول ہم سفر پہ مبنی ڈرامے نے ناصرف ملک گیر شہرت حاصل کی بلکہ ہمسایہ ملک میں بھی اپنی پسندیدگی کے جھنڈے گاڑنے میں کامیاب ہوا۔ میرے ہمدم میرے دوست کی بھی ڈرامائی تشکیل کی گئی ہے اور اس کو بھی ڈرامے کی شکل میں حال ہی میں پیش کیا گیا ہے۔ فرحت اشتیاق صاحبہ خواتین کے لئے شائع ہونے والے ڈائجسٹس کی مشہور لکھاری ہیں۔ آپ ہلکے پھلکے رومانوی موضوعات پہ لکھتی ہیں۔ آپ کے ناولوں کا مرکزی کردار ناول کی ہیروئن ہوتی ہے اور ناولوں میں اس کی زندگی اور اس میں آنے والی تبدیلیاں اور حالات پیش کئے جاتے ہیں۔ زیادہ تر آپ کی ہیروئن ایک تعلیم یافتہ، خوددار اور باہمت لڑکی ہوتی ہے جو زندگی میں مشکلات پیش آنے پہ آنسو بہانے کے ساتھ ساتھ ہمت کا مظاہرہ کرتی ہے اور اپنے حالات کی بہتری کے لئے کوشش کرتی ہے۔ تاہم کہانی میں ایک زبردست سا ہیرو بھی ہمیشہ موجود ہوتا ہے۔ Continue reading 112-میرے ہمدم میرے دوست از فرحت اشتیاق

111- Humiliated and insulted by Fyodor Dostoyevsky

Humiliated and insulted by Fyodor Dostoyevsky

ذلتوں کے مارے لوگ از فیودور دوستو فیسکی

The insulted and injuredمصنف: فیودور دوستو فیسکی

ترجمہ: ذلتوں کے مارے لوگ

مترجم: ض ۔ انصاری

صنف: ناول، روسی ادب

زبان: روسی

روسی ادب دنیا کے بہترین ادب میں شمار ہوتا ہے۔ روس نے دنیا کو بڑے ادیب دیئے ہیں جن میں لیو ٹالسٹائی، الیگزینڈر پشکن، فیودور دوستوفیسکی وغیرہ جیسے بڑے نام شامل ہیں۔ نثر ہو یا نظم، دونوں میدانوں میں ہی روسی ادباء اور شعراء نے کمالات دکھائے ہیں۔ کتابستان میں مشہور روسی مصنف لیوٹالسٹائی کےکچھ کام کو پیش کیا جا چکا ہے ۔آج ایک اور عظیم مصنف کے تعارف کا ہم اعزاز حاصل کر رہے ہیں جن کا نام ہے ’فیودور دستوفیسکی‘ ۔ دستو فیسکی کا زمانہ ۱۸۲۱ سے ۱۸۸۱ کا ہے۔ آپ ایک مشہور ناول نگار، فلسفی، جرنلسٹ اور مضمون نگار تھے۔ دتسو فیسکی نے انسانوں کی نفسیات کو روسی لوگوں کی حالت زار کے حوالے سے پیش کیا ہے۔ دستو فیسکی کے بارے میں مزید جاننے کے لئے یہاں جائیں۔ Continue reading 111- Humiliated and insulted by Fyodor Dostoyevsky

110-زاویہ سوم از اشفاق احمد

زاویہ سوم از اشفاق احمد

Zavia-3مصنف: اشفاق احمد

صنف: پاکستانی ادب، نان فکشن

صفحات: ۳۲۰

ناشر: سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور

ISBN: 969-35-1885-3

زاویہ اول اور زاویہ دوم کے بعد اب پیش خدمت ہے زاویہ سوم کا تعارف ۔ زاویہ سوم، زاویہ سیریز کی آخری کتاب ہے۔ حصہ اول اور حصہ دوم کی طرح یہ بھی اشفاق احمد صاحب کے ٹیلی ویژن پروگرام زاویہ کی اقساط کے متن پہ مشتمل ہے۔ اس پروگرام کا نام زاویہ کیوں رکھا گیا، اس بارے میں اشفاق احمد صاحب فرماتے ہیں،

’فرض کریں ماڈرن دنیا میں کسی قسم کا ایک ڈیرہ ہو، جس میں سائیکاٹرسٹ بیٹھا ہو، یا سائیکالوجسٹ ہو لیکن وہ فیس نہ لے، اس کے پاس وہ بنچ نہ ہو جس پہ لٹا کر انالسس کرتے ہیں بلکہ بچھانے کے لئے صف ہو۔ ایسا سامان ہو کہ آمنے سامنے بیٹھ کر بات کر سکیں تو ان ڈیروں کو، ان تکیوں کو شمالی افریقہ میں، الجزائر میں، تیونس میں ’زاویے‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان کو ’زاویہ‘ کہتے ہیں۔ کچھ رباط بھی کہتے ہیں لیکن زاویہ زیادہ مستعل ہے۔ حیران کن بات ہے ، باوجود اس کے کہ زاویہ ایک خاص اسم طرف مکان ہے شمالی افریقہ کا، لیکن اندلس کے زمانے میں اندلس کی سرزمین پر زاویے نہیں تھے۔ تیونس، الجزائر میں رباط تھے۔ یہاں صوفی لوگ بیٹھ کر لوگوں کو، آنے جانے والوں کو ایک چھت فراہم کرتے تھے۔ وہنے کے لئے جگہ دیتے تھے۔ کھانے کے لئے روٹی پانی دیتے تھے۔ کچھ دیر لوگ بیٹھتے تھے، دکھی لوگ آتے تھے، اپنا دکھ بیان کرتےتھے اور ان سے شفا حاصل کرکے ڈائیلاگ کرتے تھے۔ سچ مچ! سائیکالوجسٹ جوکہا کرتے ہیں، وہ مہیا کرتے تھے، ہم نے بھی اسی تقلید میں پروگرام کا نام زاویہ رکھا ہے۔ اس لحاظ سے تو مجھے تھوڑی سی شرمندگی ہے کہ یہ اصل زاویہ نہیں ہے ۔ نقل بمطابق اصل ہے لیکن روح اس کی وہی ہے۔ کوشش اس کی یہی ہے کہ اس طرح کی باتیں یہاں ہوتی رہیں اور طبیعیت کا بوجھ جو پروگراموں میں کالموں اور کتابوں سے دور نہیں ہوتا وہ کسی طور یہاں دور ہو سکے۔‘ Continue reading 110-زاویہ سوم از اشفاق احمد

109-یتی از کاشف زبیر

یتی از کاشف زبیر

Yatti by Kashif Zubairمصنف: کاشف زبیر

صنف: ناول، پاکستانی ادب

صفحات: ۱۳۲

ناشر: جاسوسی پبلی کیشنز لاہور، کتاب گھر ڈاٹ کام

یتی، بگ فٹ، آئس مین، برفانی آدمی یہ تمام نام ایک ہی مخلوق کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ انسانی نسل عرصے سے ایک ایسی مخلوق کی کہانیاں سنتی آئی ہے جو برفانی پہاڑوں پہ بستی ہے۔ بلند و بالا پہاڑوں کے نزدیک علاقوں میں رہنے والے کئی لوگوں نے برفانی آدمی کو دیکھنے کے واقعات کا ذکر کیا ہے خصوصاً کوہ ہمالیہ کے گرد و نواح میں رہنے والے لوگوں میں اس مخلوق کی کہانیاں بہت مشہور ہیں۔ برفانی انسان یا برفانی آدمی بین الاقوامی ادب میں ایک جانا مانا کردار ہے۔ بگ فٹ، یتی، آئس مین نامی کرداروں پہ مشتمل ایڈونچر، سسپنس تھرلرز وغیرہ اکثر منظر عام پہ آتے رہتے ہیں۔ پاپولر فکشن میں اس قدر مقبول ہونے کی وجہ سے سائنس دانوں اور ماہرین حیاتیات نے اس مخلوق کے سراغ کی بہت کوشش کی ہے لیکن تمام تر کوششوں کے باوجود ابھی تک برفانی انسان کی موجودگی کا کوئی حتمی ثبوت نہیں مل سکا۔ بہت سارے تحقیق کاروں کا خیال ہے کہ برفانی ریچھوں یا بھالوؤں کو ہی برفانی انسان سمجھنے کی غلطی کر لی جاتی ہے۔ یعنی برفانی انسان انسانی ذہن کی ایسی اختراع ہے جس کی ابھی تک تصدیق نہیں ہو سکی، اس کے باوجود بھی یتی کا کردار کہانیوں میں زندہ سلامت موجود ہے۔ جب برفانی انسان کے بارے میں دنیا بھر میں اتنی بحث جاری ہے تو ایسے میں پاکستانی مصنفین بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ کاشف زبیر ، جو ایک مشہور کہانی نویس ہیں، نے اسی موضوع پہ قلم اٹھایا ہے۔ انہوں نے اپنے ناول کا عنوان اسی مخلوق کے نام پہ رکھا ہے یعنی ’یتی‘۔ Continue reading 109-یتی از کاشف زبیر

108- جو چلے تو جان سے گزر گئے از ماہا ملک

جو چلے تو جان سے گزر گئے از ماہا ملک

Jo chaley tou jaan sey guzer gayeمصنفہ : ماہا ملک

صنف: ناول، پاکستانی ادب

صفحات: ۱۶۳

ماہا ملک صاحبہ خواتین کے لئے چھپنے والے ڈائجسٹس کی ممتاز مصنفہ ہیں۔ آپ کے قلم سے کئی ناول نکل چکے ہیں اور ملک گیر شہرت حاصل کر چکے ہیں۔ آپ کے کئی ناولوں پہ ڈرامے بھی بنائے جا چکے ہیں۔’ جو چلے تو جان سے گزر گئے ‘ کی بھی ڈراماٹائزیشن ہو چکی ہے۔ یہ ماہا کے قلم سے نکلا ہوا کافی پرانا ناول ہے جس نےاس وقت مقبولیت کے بےپناہ ریکارڈ قائم کئے ۔ Continue reading 108- جو چلے تو جان سے گزر گئے از ماہا ملک

107-The reluctant fundamentalist by Mohsin Hamid

The reluctant fundamentalist by Mohsin Hamid

ReluctantFundamentalistمصنف: محسن حامد

صنف: ناول، پاکستانی ادب

زبان: انگریزی

صفحات: ۲۰۰

سن اشاعت: ۲۰۰۷

محسن حامد پاکستانی ادیب ہیں جنہیں سن ۲۰۰۰ میں لکھے اپنے پہلے انگریزی ناول ’موتھ اسموک‘ کی وجہ سے بہت شہرت حاصل ہوئی۔ آپ کا دوسرا ناول ’دی ریلکٹنٹ فنڈامینٹلسٹ‘ جو آج کا ہمارا موضوع ہے ، نے بھی کامیابی کے نئے جھنڈے گاڑے۔ گزشتہ سال آپ کا تیسرا ناول بھی منظر عام پہ آیا ہے اور اس نے بھی بہت مقبولیت حاصل کی ہے۔آپ کے ناولوں کو بکر پرائز کے لئے شارٹ لسٹ بھی کیا گیا ہے۔ ٓپ کے ناولوں پہ فلمیں بھی بنائی جا رہی ہیں ۔ محسن حامد نے اپنی آدھی سے زیادہ زندگی پاکستان اور خصوصاً لاہور میں گزاری ہے۔ تاہم آپ کا بچپن امریکی شہر کیلی فورنیا میں گزرا ہے۔ آپ نے ہاورڈ اور پرسٹن یونیورسٹی سے تعلیم بھی حاصل کی ہے۔ کتابستان آج آپ کی کتاب کا تعارف و تبصرہ پیش کرتے ہوئے خوشی محسوس کر رہا ہے۔ Continue reading 107-The reluctant fundamentalist by Mohsin Hamid

106- کان کن از علیم الحق حقی

کان کن از علیم الحق حقی

Kankun_Aleem-ul-Haq Haqqiمصنف: علیم الحق حقی

صنف: ناول، اردو ادب، پاکستانی ادب

صفحات: 179

ناشر: مکتبہ القریش، لاہور

کان کن علیم الحق حقی صاحب کی تحریر ہے۔ علیم صاحب کی کتب پہ پہلے بھی بات ہوئی ہے۔ آپ کو اگر ایک عوامی مصنف کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ آپ کی تقریباً تمام کتب ہی عوامی پسندیدگی کی سند پاتی ہیں۔ حقی صاحب کی اکثر کتب بین الاقوامی کتب سے متاثر شدہ یا ان کا ترجمہ ہوتی ہیں لیکن آپ ان اجنبی کرداروں اور ماحول کو دیسی انداز میں ڈھال لیتے ہیں۔ آپ کے لکھنے کا انداز سادہ اور سلیس ہے جس کی وجہ سے کہانی ایک عام قاری کے ذہن پہ پھسلتی جاتی ہے اور اسے کہانی اور کرداروں سے تعلق بنانے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔کان کن بھی ایک ایسی ہی کتاب ہے، ہمیں اس کتاب کے اصل کے بارے میں علم نہیں، اگر کوئی قاری اس بارے میں معلومات دیں گے تو ہم اسے اپنے تبصرے میں شامل کر لیں۔ Continue reading 106- کان کن از علیم الحق حقی

105- Evidence of afterlife: The science of near death experiences by Jeffrey Long, MD with Paul Perry

Evidence of afterlife: The science of near death experiences by Jeffrey Long, MD with Paul Perry

evidence_of_the_afterlifeمصنف: جیفرے لانگ، پال پیری

صنف: نان فکشن، تحقیقی ، سائنسی

صفحات: ۲۳۴

ناشر: ہارپر کولنز ای بکس

سن اشاعت: ۲۰۱۰

موت انسانی زندگی کی ایک اٹل حقیقت ہے۔ اس دنیا میں آنے والی ہر روح کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ ہر زندگی اپنی پیدائش سے شروع ہوتی ہے اور موت پہ جا کے اس کا اختتا م ہوتا ہے۔ موت کے بعد کیا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا حتمی جواب کسی کے پاس نہیں، کیونکہ مرنے والا کبھی لوٹ کے واپس نہیں آیا۔ موت کی حقیقت کے بارے میں دنیا کے مختلف عقائد کے ماننے والوں کے مختلف خیالات ہیں۔ کچھ عقائد میں مرنے کے بعد دوسرے جنم کا تصور ہے۔ ان لوگوں کا ماننا ہے کہ مرنے والا ایک نیا جنم لے کے دنیا میں واپس آجاتا ہے۔ اس نئے جنم میں اسے کس طرح کی زندگی ملے گی اس کی بنیاد اس کے گزشتہ جنم میں کئے گئے اعمال پہ ہو گی۔ اور یہ سلسلہ اس روح کے سات جنموں تک چلتا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مرنے کے بعد کوئی زندگی نہیں، کوئی نیا جنم نہیں لیا جاتا، یہ دنیا کی زندگی ہی ہے جو سب کچھ ہے، مرنے کے بعد کچھ نہیں۔ تاہم یہ اعتقادات کی باتیں ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سائنس بھی اس موضوع میں دلچسپی رکھتی ہے وہ بھی اس سوال کا جواب لگانے کی کوشش کر رہی ہے کہ مرنے کے بعد کیا ہوتا ہے، یا موت کیا ہے، کیا یہ زندگی کا اختتام ہے یا سفر کی ایک منزل کی طرف روانگی ہے۔ کتابستا ن میں آج اسی موضوع کے بارے میں بات کرنے کے لکھی گئی ایک سائنسی تحقیقی کتاب منتخب کی گئی ہے۔ اس کتاب کا اردو عنوان ’حیات بعدالموت کے شواہد‘ ہو سکتا ہے۔ یہ کتاب میڈیکل ڈاکٹر جیفرے لانگ صاحب کی تحریر کردہ ہے اور اس کام میں ان کی مدد پیری پال نے کی ہے۔
کتابستان میں اس موضوع پہ پہلے بھی کچھ کتب پیش کی جا چکی ہیں جن میں موت کی حقیقت مذہبی نقطہ نظر سے پیش کی گئی ہے۔ ان کتب کے عنوانات ہیں:
Continue reading 105- Evidence of afterlife: The science of near death experiences by Jeffrey Long, MD with Paul Perry

104- Not a penny more, not a penny less by Jeffrey Archer

Not a penny more, not a penny less by Jeffrey Archer

not-a-penny-more-not-a-penny-less مصنف: جیفری آرچر

صنف:  ناول،انگریزی ادب

سن اشاعت: ۱۹۷۶

ناٹ اے پینی مور، ناٹ اے پینی لیس، جس کا اردو ترجمہ ’نہ ایک پیسہ زیادہ ، نہ ایک پیسہ کم‘ ہو سکتا ہے، مصنف جیفری آرچر کا پہلا ناول ہے۔ یہ ایک سسپنس تھرلر ناول ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کی کہانی جیفری آرچر کی ذاتی زندگی سے اٹھائی گئی ہے۔ آرچر ایک انگریز مصنف اور سیاستدان ہیں۔ مصنف بننے سے پہلے آپ پارلیمنٹ کے ممبر تھے۔ تاہم مالی بےضابطگیوں کے اسکینڈلز کی وجہ سے آپ کو استعفیٰ دینا پڑا۔ آپ کے پہلے ناول نے ہی بے انتہا کامیابی حاصل کی اور آپ کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا۔ اس ناول کی بعد ازاں پکچرائزیشن بھی کئی گئی۔ آرچر نے اس کے بعد کئی ناول لکھے جنہوں نے بہت کامیابی حاصل کی۔ Continue reading 104- Not a penny more, not a penny less by Jeffrey Archer

103- اندھیروں کے قافلے از خان آصف

اندھیروں کے قافلے از خان آصف

Andheron k kafleمصنف: خان آصف

صنف: تاریخی ناول، پاکستانی ادب، اردو ادب

صفحات: 455

قیمت: 600 روپے

ناشر: القریش پبلی کیشنز لاہور

ISBN: 9789696022114

خان آصف اسلامی تاریخ کے دریچوں سے کہانیاں نکال کے لانے کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔ آپ کے قلم سے کئی تاریخی ناول نکل چکے ہیں۔ آپ نے مسلمان اولیاء اور بزرگوں کی زندگی کے واقعات بھی دلچسپ کہانیوں کی صورت میں پیش کئے ہیں۔ آپ کی یہ تحاریر ہفت روزہ اخبار جہاں میں بڑی باقاعدگی سے چھپتی رہی ہیں جن میں سے اکثریت نے نا صرف بےپناہ مقبولیت حاصل کی بلکہ یہ دلوں میں ایمان کی گرمی جگانے کا باعث بھی بن گئیں۔ خان آصف صاحب کی مقبول کتب میں اللہ کے ولی، اللہ کے سفیر، دلوں کے مسیحا، سفیرانِ حرم، وغیرہ شامل ہیں۔ Continue reading 103- اندھیروں کے قافلے از خان آصف

102- One hundred years of solitude by Gabriel García Márquez

One hundred years of solitude by Gabriel García Márquez

تنہائی کے سو سال از گبریل گارشیا مارکیز

one_hundred_years_of_solitude-Gabriel Garcia Marquezمصنف: گبریل گارشیا مارکیز

ترجمہ: تنہائی کے سو سال

مترجم: ڈاکٹر نعیم کلاسرا

ہمارے لئے خوشی کا موقع ہے کہ آج ہم نوبل انعام یافتہ مصنف گبریل گارشیا مارکیز کی کتاب کا تعارف پیش کر رہے ہیں۔ گبریل گارشیا مارکیز بیسویں صدی کے ایک اہم مصنف ہیں۔ گبریل گارشیا کا تعلق کولمبیا سے تھا۔ آپ ایک مشہور ناول نگار، افسانہ نگار، اور صحافی تھے۔ ایک طویل اور کامیاب ادبی سفر کے بعد موجودہ سال اپریل میں آپ انتقال کر گئے۔ آپ کے انتقال سے ادبی دنیا ایک بہت اچھے ادیب سے محروم ہو گئی ہے۔ “ون ہنڈرڈ ائرز آف سولیٹیوڈ” جس کا اردو ترجمہ “تنہائی کے سو سال” کے عنوان سے نعیم کلاسرا صاحب نے پیش کیا ہے، ادبی دنیا میں انتہائی اہمیت کا حامل ناول ہے۔ اس ناول کو نقادوں کی بہت توجہ حاصل ہوئی ہے اور اسے ادب کا شاہکار ناول قرار دیا گیا ہے۔ اس ناول کا دنیا کی سینتیس ذبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے جس کی وجہ سے اس کے قارئین دنیا کے ہر گوشے میں پائے جاتے ہیں۔ Continue reading 102- One hundred years of solitude by Gabriel García Márquez

100- سرخ فیتہ از قدرت اللہ شہاب

سرخ فیتہ از قدرت اللہ شہاب

Surkh Feetaمصنف: قدرت اللہ شہاب

صنف: افسانے، اردو ادب، پاکستانی ادب

صفحات: 239

کتابستان آج اپنے بلاگ پہ 100 ویں کتاب کا تعارف و تبصرہ پیش کرنے جا رہا ہے۔ یہ کتابستان کے سفر میں ایک سنگ میل ہے۔ اس سفر کے دوران ہماری کوشش رہی ہے کہ مختلف النوع کتب کے بارے میں بات کی جائے جو مذہب سے لے کے فکشن، بین الاقوامی ادب اور سائنس و ٹیکنالوجی کے میدانوں کی کتب کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ آج کے اس موقع پہ ہم آپ کے لئے ایک خاص کتاب پیش کر رہے ہیں جس کا عنوان ہے سرخ فیتہ اور یہ قدرت اللہ شہاب صاحب کی لکھی ہوئی ہے۔ Continue reading 100- سرخ فیتہ از قدرت اللہ شہاب