142- آخری آدمی از انتظار حسین

آخری آدمی از انتظار حسین

Aakhri aadmi-Intezar Hussainمصنف:انتظار حسین

صنف: افسانے، اردو ادب، پاکستانی ادب

صفحات: 160

قیمت: 200 روپے

ناشر: سنگ میل پبلی کیشنز

ISBN: 969-35-2049-1

انتظار حسین موجودہ دور کے مشہور مصنف ہیں۔ آپ بیک وقت افسانہ نگار، ناول نگار اور کالم نویس ہیں۔ بستی، آگے سمندر ہے، ہندوستان سے آخری خط، شہرِ افسوس آپ کی کچھ تصانیف کے عنوانات ہیں۔ آپ کے ناولوں کا انگریزی زبان میں ترجمہ بھی کیا جا چکا ہے۔ سن 2013 میں آپ کو بکر پرائز کے لئے نامزد بھی کیا گیا تھا۔ یہ آپ کے کام کی اہمیت کا بین الاقوامی سطح پہ اعتراف ہے۔ آپ کو حکومت پاکستان کی طرف سے تمغہ امتیاز سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ اردو نثر میں انتظار حسین کا کام ان کے ہم عصروں سے مختلف اور جداگانہ ہے۔ آپ کی تحریروں کا ماحول کسی بچپن کی کہانی یا پرانے قصے جیسا ہے۔ آپ کی زبان پرانے عہد نامے اور داستانوں کی سلیس و سادہ زبان ہے جسے آپ نے اپنے مخصوص اسلوب میں پیش کیا ہے۔ آج کا ہمارا موضوع آپ کے افسانوں کی کتاب ہے جس کا عنوان ہے “آخری آدمی”۔ Continue reading 142- آخری آدمی از انتظار حسین

137-قائم دین از علی اکبر ناطق

قائم دین از علی اکبر ناطق

Qain Deen-Ali Akber Natiqمصنف: علی اکبر ناطق

صنف: افسانے، اردو ادب، پاکستانی ادب

صفحات: 106

قیمت: 325 روپے

ناشر: آکسفورڈ یونیورسٹی پریس

سن اشاعت: 2012

ISBN: 978-0-19-906288-1

علی اکبر ناطق موجودہ دور کے شاعر اور نثر نویس ہیں۔ آپ نے شاعری، افسانہ نویسی اور ناول نگاری کے شعبوں میں قلم آزمائی کی ہے۔ اپنے کام کی وجہ سے آپ ادبی دنیا کا ایک روشن ستارہ شمار کئے جاتے ہیں۔ ناطق بنیادی طور پہ ایک معمار ہیں تاہم آپ کا اردو اور عربی زبان کا مطالعہ بہت وسیع ہے۔ آپ کے لکھے افسانوں کی پہلی کتاب ہی آکسفورڈ یونیورسٹی پریس سے شائع ہوئی ہے۔ ایک بین الاقوامی ادارے سے آپ کی کتاب کا شائع ہونا بذات خود آپ کے کام کی اہمیت اور معیار کی نشاندہی ہے۔ کتابستان کا آج کا موضوع آپ کے افسانوں کی یہی کتاب ہے جس کا عنوان ہے “قائم دین”۔ اس کتاب کے علاوہ آپ کا لکھا ناول “نو لکھی کوٹھی” بھی پسندیدگی کی سند لینے میں کامیاب رہا ہے۔ Continue reading 137-قائم دین از علی اکبر ناطق

126- نکلے تیری تلاش میں از مستنصر حسین تارڑ

نکلے تیری تلاش میں از مستنصر حسین تارڑ

Nikle Teri Talash Meinمصنف: مستنصر حسین تارڑ

صنف: سفر نامہ، اردو ادب

صفحات: 368

قیمت: 450 روپے

ناشر: سنگ میل پبلی کیشنز

ISBN-10: 969-35-0016-4

ISBN-13: 978-969-35-0016-5

مستنصر حسین تارڑ کا نام اردو ادب میں ایک الگ اور اہم مقام رکھتا ہے۔ آپ مشہور سفرنامہ نگار، ناول نگار، ڈرامہ رائٹر اور ٹی وی میزبان ہیں۔ ادب کی اتنی صنفوں سے تعلق اور ٹیلی ویژن سے وابستگی کی وجہ سے شائد ہی کوئی ایسا قاری ہو جو آپ کے نام سے واقف نہ ہو۔ کتابستان میں مصنف کے ناولوں پہ تفصیلی بات ہو چکی ہے آج ہم آپ کے سفرنامے “نکلے تیری تلاش میں” کو موضوع بنائیں گے۔ یہ مستنصر صاحب کا پہلا سفر نامہ ہے۔ اردو سفرنامہ نگاری میں آپ کے لکھے ہوئے سفرناموں کو ایک ممتاز حیثیت حاصل ہے۔ آپ کے سفرناموں میں ایک مخصوص رومانوی اور افسانوی فضا موجود ہوتی ہے جو انہیں نا صرف رپورتاژ بننے سے بچاتی ہے بلکہ قاری پوری توجہ کے ساتھ سفرنامے میں محو ہو جاتا ہے۔ سفرنامہ حال کے ساتھ ساتھ ماضی میں بھی سفر کرتا جاتا ہے اور قاری کو مقام کی صرف ظاہری سیاحت نہیں کراتا بلکہ اس مقام کی تاریخی اہمیت سے بھی روشناس کراتا ہے۔ ایسے میں مستنصر صاحب کا قلم سفرنامے پہ ایک ایسا فسوں بکھیر دیتا ہے جو قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے اور وہ ایک ان دیکھی جگہ کے رومان میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ مستنصر کے کم و بیش تمام سفرنامے ان تمام خصوصیات کے حامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ قارئین میں عام مقبول ہیں اور ایک طویل عرصے کے بعد بھی پڑھے جا رہے ہیں۔

“نکلے تیری تلاش میں” مستنصر صاحب کے یورپ کے دورے کا احوال ہے۔ اس سفر کی خاص بات یہ ہے کہ یہ سفر انہوں نے ہوائی جہاز کے ذریعے سے طے نہیں کیا بلکہ زمینی رستہ اختیار کیا۔ بقول مصنف: Continue reading 126- نکلے تیری تلاش میں از مستنصر حسین تارڑ

124-رقصِ جنوں (جزام) از بشریٰ سعید

رقصِ جنوں (جزام) از بشریٰ سعید

Raqs-e-junoon-by-bushra-saeedمصنفہ: بشریٰ سعید

صنف: ناول، پاکستانی ادب

صفحات: 182

ناشر: القریش پبلی کیشنز، لاہور

بشریٰ سعید صاحبہ کی تحاریر کی خاص بات ان کی منفرد اور گہری سوچ ہے۔ آپ معاملات کو ظاہری انداز سے نہیں دیکھتیں بلکہ ان کے اندر اتر کے ان کی اصلیت ڈھونڈ کے لاتی ہیں اور اس کے لئے چاہے پاتال میں ہی کیوں نہ جانا پڑے۔ یہی گہرا پن آپ کی تحریروں کو ان کا منفرد روپ دیتا ہے۔ آپ کے ناول ڈائجسٹ میں چھپنے کے باوجود معنویت کا پہلو لئے ہوتے ہیں۔ آپ کی سوچ کا انداز کہیں کہیں عمیرا احمد صاحبہ کی سوچ سے جا ٹکراتا ہے ایسا شاید مذہب کو موضوع بنانے کی وجہ سے محسوس ہوتا ہے۔

رقصِ جنوں، جاثیہ کی کہانی ہے۔ ناول کا آغاز ایک پجارن کے قصے سے ہوتا ہے جو اپنے دیوتا کو منانے کے لئے دیوانہ وار رقص کر رہی تھی۔ اسی رقص کی بنیاد پہ ناول کا عنوان رکھا گیا ہے۔ پجارن کے رقص کی وجہ سے دیوتا اپنے سنگھاسن سے اتر آیا، اور جب وہ نیچے اترا تو پجارن کو معلوم ہوا کہ وہ ایک عام انسان ہے اور انسانوں سے تو خوف کھاتے ہیں۔ ناول میں مصنفہ نے جاثیہ کی مماثلت اسی پجارن سے کی ہے۔ جاثیہ ایک بیوہ استانی کی بیٹی ہے۔ اس کی ماں نے اس کی تربیت نیک خطوط پہ کی تھی۔ لیکن جب اونیل، جاثیہ کے سامنے آٰیا تو وہ سب کچھ بھول گئی یہاں تک کہ یہ بھی کہ اس کے مذہب میں غیر مسلم مرد سے شادی کرنا ممنوع ہے۔ اونیل ایک یہودی شخص تھا جو پاکستان کے شہر اوکاڑہ میں ایک ہوٹل کی تعمیر کروا رہا تھا۔ اونیل کا خاندان جرمنی میں آباد تھا۔ اونیل نے جاثیہ سے کہا کہ وہ اس کی محبت پانے کی خاطر اپنا مذہب تبدیل کر لے گا۔ جاثیہ کی والدہ نے اپنی بیٹی کو اس بات کی اجازت نہیں دی اور نتیجتاً جاثیہ اپنا گھر چھوڑ کے بھاگ گئی۔ Continue reading 124-رقصِ جنوں (جزام) از بشریٰ سعید

122-انسانی قیامت از علیم الحق حقی

انسانی قیامت از علیم الحق حقی

insani-qayamat_Aleem-ul-Haq_Haqqiمصنف: علیم الحق حقی

صنف: ناول، پاکستانی ادب

صفحات: 188

ناشر: علی میاں پبلی کیشنز، لاہور

سن اشاعت: 1998

پاکستان میں پاپولر فکشن لکھنے والے مصنفین میں غیر ملکی ناولوں کے تراجم کرنے کا رجحان کافی رہا ہے۔ عموماً یہ ترجمے لفظی یا بامحاورہ نہیں ہوتے بلکہ مصنفین کہانی کی فضا اور کرداروں کو مقامی یعنی پاکستانی ماحول کے مطابق ڈھال کے پیش کرتے ہیں تاہم کہانی کا اصلی متن وہی رہتا ہے۔ یہاں تک بات ٹھیک رہتی ہے لیکن ہمارے زیادہ تر مصنفین ان ناولوں کو اپنے ناموں سے پیش کرتے ہیں۔ ان ناولوں کو کہاں سے اخذ کیا گیا، ان کی انسپیریشن کس ناول سے لی گئی، اس بارے میں مصنف خاموش رہتے ہیں۔ ایسے ناول عوام میں انہی مصنفین (مترجمین) کے ناموں سے مشہور ہو جاتے ہیں اور ان کے اصل مصنف اور اصلی کتاب کا نام کم ہی سامنے آ پاتا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ فعل مناسب نہیں، اس ضمن میں جتنی غلطی مصنف کی ہے اتنی ہی ناشر کی بھی ہے۔ ایک ناشر کو چاہئے کہ وہ مترجم کو اس بات کی تحریک دے کہ وہ ناول کے اصل مصنف کا بھی ذکر کرے اور اس ناول کا بھی ذکر کرے جس سے کہانی اٹھائی گئی ہے۔ کتابستان میں ہماری کوشش رہتی ہے کہ ہم تراجم کے ساتھ اصل ناول اور مصنف کا حوالہ بھی دیں تاکہ حقائق درست رہیں، تاہم چند موقعے ایسے بھی رہے ہیں جب ہم اپنی کم علمی کے باعث اصل کتاب نہیں ڈھونڈ سکے۔ حقی صاحب کا موجودہ ناول بھی ایک ایسا ہی ناول ہے جس کے اصل مصنف کا انہوں نے ذکر نہیں کیا۔ تاہم اپنے قارئین کے لئے ہم یہ بتاتے چلیں کہ یہ امریکی مصنف گورے وڈال کے ناول “کالکی” سے ماخوذ ہے۔ انسانی قیامت، علیم الحق حقی صاحب کی تصنیف ہے۔ حقی صاحب کی تصنیفات پہ پہلے بھی بات ہو چکی ہے۔ اس ناول کی بنیاد ہندو مذہب کے ایک عقیدے کے گرد گھومتی ہے جس کے مطابق دنیا کے اختتام پہ سفید گھوڑے پہ کالکی اوتار کی آمد ہوگی جو بھگوان وشنو کا آخری اوتار ہوگا۔ اس اوتار کی آمد کے بعد دنیا کا خاتمہ ہو جائے گا۔

موجودہ ناول انسانی قیامت، کالکی اوتار ہونے کے دعوے دار ایک شخص کی کہانی ہے جو ایک امریکی پائلٹ خاتون تھیوڈور اوٹنگز کی زبانی پیش کی گئی ہے۔ تھیوڈور اوٹنگز کو ایک ایسے شخص کے انٹرویو کی ذمہ داری دی جاتی ہے جس نے کالکی ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ کالکی ہندوستان میں ایک آشرم چلا رہا تھا۔ اس کے چیلے مختلف لوگوں میں کنول کے پھول تقسیم کیا کرتے تھے اور وہ کسی سے کسی قسم کی مالی امداد نہیں لیا کرتے تھے اسی وجہ سے کالکی کئی لوگوں کی نظروں میں آ رہا تھا، لوگوں کا خیال تھا کہ اس کی مالی امداد منشیات سے وابستہ گروہ کر رہے ہیں۔ کچھ لوگ کالکی کے بارے میں مشکوک تھے اور ان کا خیال تھا کہ “کوئی طاقت مغربی دنیا کو سرنگوں کرنا چاہتی ہے۔ اس کی سب سے سادہ اور آسان ترکیب یہ ہے کہ مغرب کی نئی نسل کو نشے کی لت ڈال دی جائے۔ انہیں ایک ایسے مذہب سے روشناس کرایا جائے جو یہ بتائے کہ دنیا کا خاتمہ قریب ہے۔ ایسے مایوس اور نشے کے عادی لوگ لڑ سکتے ہیں کبھی، وہ تو جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی ہار جائیں گے۔” Continue reading 122-انسانی قیامت از علیم الحق حقی

118- عالم اسلام کی روحانی صورتحال از اسرار عالم

عالم اسلام کی روحانی صورتحال از اسرار عالم

مصنف: اسرار عالمAalm-e-Islam ki roohani soorat-e-haal

صنف: نان فکشن، اسلامی کتب

صفحات:131

ناشر:ادارہ معارف اسلامی، کراچی

نئے سال کے موقع پہ ہم اپنے قارئین کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ یہ نیا سال ہر ایک کے لئے خوشیوں، مسرتوں اور آسانیوں سے بھرپور ہو۔ اس نئے سال کے موقع پہ ہم ایک نئے مصنف کی کتاب آپ کے لئے لائے ہیں جن کا نام ہے اسرار عالم۔ اسرار عالم صاحب کوئی نئے مصنف نہیں ہیں، آپ ایک معروف مفکر ہیں جنہوں نے موجودہ دور میں عالم اسلام کو درپیش مسائل کے بارے میں قلم اٹھایا ہے۔ آپ کے قلم سے کئی کتب نکل چکی ہیں اور مذہبی حلقوں کے ساتھ ساتھ عام قارئین میں بھی پسند کی جا رہی ہیں۔ آپ کی کتب میں اسلام اور اکیسویں صدی کا چیلنج، امت کا بحران، معرکہ دجال اکبر، عالم اسلام کی سیاسی صورتحال وغیرہ شامل ہیں۔

کتاب کے پیش لفظ میں مصنف تحریر کرتے ہیں،

“اندوہناک صورتحال سے زیادہ کرب کی بات یہ ہے کہ امت مسلمہ، جو دنیا کی وہ واحد گروہ ہے جسے ماضی، حال اور مستقبل کا کافی علم دیا گیا، آج حیران اور ناواقف راہ بھٹک رہی ہے اور دنیا کی تاریکیوں سے روشنی کی بھیک مانگ رہی ہے۔ چودہ صدیوں بعد اب آثار قیامت کے ظاہر ہونے کی رفتار تیر تر ہوئی ہوئی محسوس ہوتی ہے گویا کوئی ہار ٹوٹ جائے اور یکے بعد دیگرے دانے گرنے لگیں۔
Continue reading 118- عالم اسلام کی روحانی صورتحال از اسرار عالم

116- امر بیل از عمیرا احمد

امر بیل از عمیرا احمد

Amar bail- Umaira Ahmedمصنفہ: عمیرا احمد

صنف: ناول، پاکستانی ادب

صفحات: 760

امر بیل، عمیرا احمد صاحبہ کے قلم سے نکلا ہوا ایک شاہکار ناول ہے۔ یہ ایک رومانوی ناول ہے جس کے تانے بانے پاکستان کی سول سوسائٹی کی زندگی اور اطوار کے گرد بنے گئے ہیں۔ عمیرا صاحبہ کے زیادہ تر ناولوں کا موضوع مذہب یا عورت ذات رہی ہے تاہم امر بیل عمیرا احمد کے ان چند ناولوں میں ہے جس کا مرکزی خیال مذہب سے نہیں اٹھایا گیا۔ یہ ناول کئی ماہ تک ڈائجسٹ میں شائع ہوتا رہا ہے اور اس نے بہت مقبولیت حاصل کی۔ بعد ازاں اس کو کتابی شکل میں بھی پیش کر دیا گیا ہے۔ اس ناول پہ مبنی ڈرامہ بھی ٹیلی ویژن پہ آ چکا ہے۔ Continue reading 116- امر بیل از عمیرا احمد

115- بہاؤ از مستنصر حسین تارڑ

بہاؤ از مستنصر حسین تارڑ

Bahaoمصنف: مستنصر حسین تارڑ

صنف: ناول، پاکستانی ادب

صفحات:229

قیمت: 250 روپے

ناشر: سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور

ISBN: 969-35-0150-8

اردو ادب میں وادی سندھ کی گم گشتہ تہذیب کو کسی مصنف نے اپنے تخیل کا موضوع نہیں بنایا، یہی بات ہے جو بہاؤ کو موضوع کے حساب سے انتہائی منفرد ناول بنا دیتی ہے۔ مستنصر حسین تارڑ صاحب کی وجہ شہرت ان کے تحریر کردہ سفر نامے ہیں۔ ان کے لکھے سفر نامے گھر بیٹھے ہی قاری کو دور کے دیس میں لے جاتے ہیں جہاں چلتی برفیلی ہواؤں اور برف پوش چوٹیوں کی ٹھنڈک کو وہ اپنے گھر کے اندر ہی محسوس کر لیتے ہیں۔ تاہم بہاؤ میں تارڑ صاحب اپنے قاری کو کسی دور کے دیس میں نہیں لے جا رہے بلکہ بہاؤ قاری کو آج سے پانچ ہزار سال پرانی ایک ایسی بستی میں لے جاتا ہے جو دریائے سندھ کے کنارے آباد تھی اور اس کا زمانہ موہنجودڑو کی تہذیب کا ہم عصر زمانہ تھا۔ موہنجودڑو کے متعلق انسانی معلومات وہاں کھدائی کے دوران نکلنے والے کھنڈرات اور چند قدیم باقیات تک محدود ہے۔ یہ تارڑ صاحب کے مضبوط تخیل کا کمال ہے کہ انہوں نے اتنی کم معلومات کی بنیاد پہ موہنجودڑو کے نواح میں واقع ایک بستی پہ ایک بھر پور ناول لکھ دیا ہے۔ Continue reading 115- بہاؤ از مستنصر حسین تارڑ

114-Doomsday and life after death by Sultan Bashir Mehmood

Doomsday and life after death by Sultan Bashir Mehmood

قیامت اور حیات بعد الموت از سلطان بشیر محمود

Doomsday and life after deathمصنف: سلطان بشیر محمود

نام ترجمہ: قیامت اور حیات بعد الموت

مترجم: میجر (ر) امیر افضل خان

صنف: نان فکشن، اسلام اور سائنس، تحقیق

صفحات: 570

سن اشاعت: 1987

ناشر: القرآن الحکیم ریسرچ فاؤنڈیشن، اسلام آباد

ڈومز ڈے اینڈ لائف آفٹر ڈیتھ، جس کا اردو ترجمہ “قیامت اور حیات بعد الموت” کے عنوان سے کیا گیا ہے، سلطان بشیر محمود صاحب کی تصنیف ہے۔ بشیر صاحب کا تعارف ہم کتابستان میں پیش کی گئی ان کی ایک اور کتاب کے تعارف کے دوران کروا چکے ہیں۔ اس بلاگ کے آخر میں اس کتاب کا ربط موجود ہے جہاں سے قارئین اس تعارف تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس کتاب کے آغاز میں کتاب کے تعارف کے طور پہ درج ہے،

“قرآن حکیم، فرمودات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور جدید سائنسی دریافتوں کی روشنی میں تخلیق کائنات، مومن کا فلسفہ حیات، کائنات میں انسان کا مقام اور مقاصد تخلیق، زندگی، موت، جسم، نفس، روح، ملائکہ اور جنات کے حقائق، قیامت عالم قبور،عالم برزخ، آخرت، روز محشر، جزا و سزا، جنت و دوزخ کے حالات یعنی یہ کتاب زمان و مکان میں ابتدا سے انتہا تک انسانی سفر کی داستان پہ ایک حقیقی مدلل اور سائنٹیفک تجزیہ ہے”۔ Continue reading 114-Doomsday and life after death by Sultan Bashir Mehmood

113-Happy things in sorrow times by Tehmina Durrani

Happy things in sorrow times by Tehmina Durrani

Happy-Things-in-Sorrow-Timesمصنفہ: تہمینہ درانی

صنف: ناول، پاکستانی ادب

زبان: انگریزی

صفحات: ۲۰۴

سن اشاعت: ۲۰۱۳

قیمت: ۸۹۵ روپے

ناشر: فیروز سنز پرائیویٹ لمیٹڈ، لاہور ، راولپنڈی، کراچی

ISBN: 9789690024763

ہیپی تھنگز ان سورو ٹائمز، محترمہ تہمینہ درانی صاحبہ کا تحریر کردہ تازہ ترین ناول ہے، جو گزشتہ سال منظر عام پہ آیا ہے۔ یہ تہمینہ صاحبہ کی چوتھی تحریر ہے۔ اس سے قبل آپ اپنی سوانح عمری، جناب عبدالستار ایدھی صاحب کی سوانح حیات، اور ایک انگریزی ناول تحریر کر چکی ہیں۔ آپ کی سوانح حیات مائی فیوڈل لارڈ کے عنوان سے شائع ہوئی تھی۔ یہ اپنے وقت کی مشہور ترین کتاب تھی جس نے آپ کو شہرت کی بلندیوں پہ پہنچا دیا۔ Continue reading 113-Happy things in sorrow times by Tehmina Durrani

110-زاویہ سوم از اشفاق احمد

زاویہ سوم از اشفاق احمد

Zavia-3مصنف: اشفاق احمد

صنف: پاکستانی ادب، نان فکشن

صفحات: ۳۲۰

ناشر: سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور

ISBN: 969-35-1885-3

زاویہ اول اور زاویہ دوم کے بعد اب پیش خدمت ہے زاویہ سوم کا تعارف ۔ زاویہ سوم، زاویہ سیریز کی آخری کتاب ہے۔ حصہ اول اور حصہ دوم کی طرح یہ بھی اشفاق احمد صاحب کے ٹیلی ویژن پروگرام زاویہ کی اقساط کے متن پہ مشتمل ہے۔ اس پروگرام کا نام زاویہ کیوں رکھا گیا، اس بارے میں اشفاق احمد صاحب فرماتے ہیں،

’فرض کریں ماڈرن دنیا میں کسی قسم کا ایک ڈیرہ ہو، جس میں سائیکاٹرسٹ بیٹھا ہو، یا سائیکالوجسٹ ہو لیکن وہ فیس نہ لے، اس کے پاس وہ بنچ نہ ہو جس پہ لٹا کر انالسس کرتے ہیں بلکہ بچھانے کے لئے صف ہو۔ ایسا سامان ہو کہ آمنے سامنے بیٹھ کر بات کر سکیں تو ان ڈیروں کو، ان تکیوں کو شمالی افریقہ میں، الجزائر میں، تیونس میں ’زاویے‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان کو ’زاویہ‘ کہتے ہیں۔ کچھ رباط بھی کہتے ہیں لیکن زاویہ زیادہ مستعل ہے۔ حیران کن بات ہے ، باوجود اس کے کہ زاویہ ایک خاص اسم طرف مکان ہے شمالی افریقہ کا، لیکن اندلس کے زمانے میں اندلس کی سرزمین پر زاویے نہیں تھے۔ تیونس، الجزائر میں رباط تھے۔ یہاں صوفی لوگ بیٹھ کر لوگوں کو، آنے جانے والوں کو ایک چھت فراہم کرتے تھے۔ وہنے کے لئے جگہ دیتے تھے۔ کھانے کے لئے روٹی پانی دیتے تھے۔ کچھ دیر لوگ بیٹھتے تھے، دکھی لوگ آتے تھے، اپنا دکھ بیان کرتےتھے اور ان سے شفا حاصل کرکے ڈائیلاگ کرتے تھے۔ سچ مچ! سائیکالوجسٹ جوکہا کرتے ہیں، وہ مہیا کرتے تھے، ہم نے بھی اسی تقلید میں پروگرام کا نام زاویہ رکھا ہے۔ اس لحاظ سے تو مجھے تھوڑی سی شرمندگی ہے کہ یہ اصل زاویہ نہیں ہے ۔ نقل بمطابق اصل ہے لیکن روح اس کی وہی ہے۔ کوشش اس کی یہی ہے کہ اس طرح کی باتیں یہاں ہوتی رہیں اور طبیعیت کا بوجھ جو پروگراموں میں کالموں اور کتابوں سے دور نہیں ہوتا وہ کسی طور یہاں دور ہو سکے۔‘ Continue reading 110-زاویہ سوم از اشفاق احمد

109-یتی از کاشف زبیر

یتی از کاشف زبیر

Yatti by Kashif Zubairمصنف: کاشف زبیر

صنف: ناول، پاکستانی ادب

صفحات: ۱۳۲

ناشر: جاسوسی پبلی کیشنز لاہور، کتاب گھر ڈاٹ کام

یتی، بگ فٹ، آئس مین، برفانی آدمی یہ تمام نام ایک ہی مخلوق کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ انسانی نسل عرصے سے ایک ایسی مخلوق کی کہانیاں سنتی آئی ہے جو برفانی پہاڑوں پہ بستی ہے۔ بلند و بالا پہاڑوں کے نزدیک علاقوں میں رہنے والے کئی لوگوں نے برفانی آدمی کو دیکھنے کے واقعات کا ذکر کیا ہے خصوصاً کوہ ہمالیہ کے گرد و نواح میں رہنے والے لوگوں میں اس مخلوق کی کہانیاں بہت مشہور ہیں۔ برفانی انسان یا برفانی آدمی بین الاقوامی ادب میں ایک جانا مانا کردار ہے۔ بگ فٹ، یتی، آئس مین نامی کرداروں پہ مشتمل ایڈونچر، سسپنس تھرلرز وغیرہ اکثر منظر عام پہ آتے رہتے ہیں۔ پاپولر فکشن میں اس قدر مقبول ہونے کی وجہ سے سائنس دانوں اور ماہرین حیاتیات نے اس مخلوق کے سراغ کی بہت کوشش کی ہے لیکن تمام تر کوششوں کے باوجود ابھی تک برفانی انسان کی موجودگی کا کوئی حتمی ثبوت نہیں مل سکا۔ بہت سارے تحقیق کاروں کا خیال ہے کہ برفانی ریچھوں یا بھالوؤں کو ہی برفانی انسان سمجھنے کی غلطی کر لی جاتی ہے۔ یعنی برفانی انسان انسانی ذہن کی ایسی اختراع ہے جس کی ابھی تک تصدیق نہیں ہو سکی، اس کے باوجود بھی یتی کا کردار کہانیوں میں زندہ سلامت موجود ہے۔ جب برفانی انسان کے بارے میں دنیا بھر میں اتنی بحث جاری ہے تو ایسے میں پاکستانی مصنفین بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ کاشف زبیر ، جو ایک مشہور کہانی نویس ہیں، نے اسی موضوع پہ قلم اٹھایا ہے۔ انہوں نے اپنے ناول کا عنوان اسی مخلوق کے نام پہ رکھا ہے یعنی ’یتی‘۔ Continue reading 109-یتی از کاشف زبیر

108- جو چلے تو جان سے گزر گئے از ماہا ملک

جو چلے تو جان سے گزر گئے از ماہا ملک

Jo chaley tou jaan sey guzer gayeمصنفہ : ماہا ملک

صنف: ناول، پاکستانی ادب

صفحات: ۱۶۳

ماہا ملک صاحبہ خواتین کے لئے چھپنے والے ڈائجسٹس کی ممتاز مصنفہ ہیں۔ آپ کے قلم سے کئی ناول نکل چکے ہیں اور ملک گیر شہرت حاصل کر چکے ہیں۔ آپ کے کئی ناولوں پہ ڈرامے بھی بنائے جا چکے ہیں۔’ جو چلے تو جان سے گزر گئے ‘ کی بھی ڈراماٹائزیشن ہو چکی ہے۔ یہ ماہا کے قلم سے نکلا ہوا کافی پرانا ناول ہے جس نےاس وقت مقبولیت کے بےپناہ ریکارڈ قائم کئے ۔ Continue reading 108- جو چلے تو جان سے گزر گئے از ماہا ملک

106- کان کن از علیم الحق حقی

کان کن از علیم الحق حقی

Kankun_Aleem-ul-Haq Haqqiمصنف: علیم الحق حقی

صنف: ناول، اردو ادب، پاکستانی ادب

صفحات: 179

ناشر: مکتبہ القریش، لاہور

کان کن علیم الحق حقی صاحب کی تحریر ہے۔ علیم صاحب کی کتب پہ پہلے بھی بات ہوئی ہے۔ آپ کو اگر ایک عوامی مصنف کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ آپ کی تقریباً تمام کتب ہی عوامی پسندیدگی کی سند پاتی ہیں۔ حقی صاحب کی اکثر کتب بین الاقوامی کتب سے متاثر شدہ یا ان کا ترجمہ ہوتی ہیں لیکن آپ ان اجنبی کرداروں اور ماحول کو دیسی انداز میں ڈھال لیتے ہیں۔ آپ کے لکھنے کا انداز سادہ اور سلیس ہے جس کی وجہ سے کہانی ایک عام قاری کے ذہن پہ پھسلتی جاتی ہے اور اسے کہانی اور کرداروں سے تعلق بنانے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔کان کن بھی ایک ایسی ہی کتاب ہے، ہمیں اس کتاب کے اصل کے بارے میں علم نہیں، اگر کوئی قاری اس بارے میں معلومات دیں گے تو ہم اسے اپنے تبصرے میں شامل کر لیں۔ Continue reading 106- کان کن از علیم الحق حقی

100- سرخ فیتہ از قدرت اللہ شہاب

سرخ فیتہ از قدرت اللہ شہاب

Surkh Feetaمصنف: قدرت اللہ شہاب

صنف: افسانے، اردو ادب، پاکستانی ادب

صفحات: 239

کتابستان آج اپنے بلاگ پہ 100 ویں کتاب کا تعارف و تبصرہ پیش کرنے جا رہا ہے۔ یہ کتابستان کے سفر میں ایک سنگ میل ہے۔ اس سفر کے دوران ہماری کوشش رہی ہے کہ مختلف النوع کتب کے بارے میں بات کی جائے جو مذہب سے لے کے فکشن، بین الاقوامی ادب اور سائنس و ٹیکنالوجی کے میدانوں کی کتب کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ آج کے اس موقع پہ ہم آپ کے لئے ایک خاص کتاب پیش کر رہے ہیں جس کا عنوان ہے سرخ فیتہ اور یہ قدرت اللہ شہاب صاحب کی لکھی ہوئی ہے۔ Continue reading 100- سرخ فیتہ از قدرت اللہ شہاب

099-لگن از بشریٰ رحمٰن

لگن از بشریٰ رحمٰن

Lagan- Bushra Rehmanمصنفہ: بشریٰ رحمان

صفحات: 546

قیمت: 550 روپے

صنف: ناول؛ پاکستانی ادب

ناشر: خزینہء علم و ادب، لاہور

بشریٰ رحمٰن صاحبہ کے بارے میں پہلے بھی بات ہو چکی ہے۔ آپ ایک جانی مانی مصنفہ ہیں جن کے قلم سے کئی مشہور ناول اور افسانے نکل چکے ہیں۔ کتابستان میں آج جس کتاب کے بارے میں ہم بات کر رہے ہیں وہ آپ کا لکھا ہوا ایک مشہور ناول ہے جس کا عنوان ہے “لگن”۔ یہ وہی ناول ہے جس پہ پاکستان ٹیلی ویژن کے گولڈن زمانے میں ڈرامہ بنایا جا چکا ہے۔ اس دور میں اس ڈرامے نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کئے تھے جس میں ناول کی کہانی کا بڑا ہاتھ تھا۔ Continue reading 099-لگن از بشریٰ رحمٰن

098-من و سلویٰ از عمیرا احمد

من و سلویٰ از عمیرا احمد

manosalwa-titleمصنفہ: عمیرااحمد

صنف: ناول، پاکستانی ادب، اردو ادب

صفحات: 784

پاکستانی خواتین مصنفات کے ناولوں کا مطالعہ کرتے ہوئے موضوعات کی یکسانیت کا احساس ہوتا ہے۔ زیادہ تر کہانیاں کچھ موڑ مڑ کے ایک ہی رخ اور سمت اختیار کر لیتی ہیں۔ ناولوں کے پلاٹ میں نیا پن، کوئی اچھوتی بات کوئی منفرد کردار ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک فکری اور ذہنی جمود ہماری مصنفات کی تخلیقی صلاحیتوں پہ چھا چکا ہے اور دھند کی یہ لہر دبیز سے دبیز تر ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے فکری قحط کے دور میں کچھ مصنفات ایسی بھی ہیں جو بارش کے چھینٹے کی طرح ہیں۔ ان کا کام ایک تازہ ہوا کے جھونکے کی طرح ہے جو قاری کے دل اور روح کو جھنجوڑ دیتا ہے۔ اس کے دماغ کی تلاش کو مطمئن کر دیتا ہے۔ ہم گاہے بہ گاہے کتاباستان کے صفحات پہ ایسی خواتین مصنفات کا ذکر کرتے رہے ہیں۔ آج بھی ایک ایسی مصنفہ کی کتاب کا ذکر ہے جن کا نام ہی کافی ہے۔ عمیرا احمد، کتابستان میں سب سے زیادہ بات کی جانے والی مصنفہ ہیں۔ آپ کی کہانی منفرد اور اچھوتے موضوعات پہ مبنی ہیں۔ آپ کی سوچ اور فکر سے قارئین کو اختلاف ہو سکتا ہے تاہم یہ کسی بھی طرح آپ کے کام کی اہمیت کو کم نہیں کرتا۔ آج آپ کے جس ناول پہ بات ہوگی اس کا عنوان ہے “من و سلویٰ”۔ ہماری رائے میں من و سلویٰ عمیرا کا اب تک کا بہترین ناول ہے۔ بہت سے لوگ اس بات سے اختلاف کریں گے کیونکہ آپ کے لکھے ہوئے ناول “پیرِ کامل” کو عمومی پسندیدگی کی سند حاصل ہے اور ایسا ہونا بھی چاہئے، تاہم ایک مصنفہ کے طور پہ عمیرا صاحبہ من و سلویٰ میں اپنے فن کی بلندی پہ نظر آئی ہیں، آپ کی سوچ کا پختہ پن اس کہانی میں جھلک جھلک کے سامنے آیا ہے اور یہی ہماری رائے میں اس ناول کو آپ کے دوسرے ناولوں سے ممتاز کرتا ہے۔ Continue reading 098-من و سلویٰ از عمیرا احمد

096-بری عورت کی کتھا از کشور ناہید

بری عورت کی کتھا از کشور ناہید

BURI_AURAT_KI_KATHAنام مصنفہ: کشور ناہید

صنف: سوانح عمری، پاکستانی ادب

صفحات: 174

قیمت: 250 روپے

سن اشاعت: 2008

 ناشر: سنگ میل پبلی کیشنز لاہور

ISBN-10: 969-35-0628-6

ISBN-13: 978-969-35-0628-0

کشور ناہید صاحبہ کا ذکر گزشتہ صفحات پہ پہلے بھی ہو چکا ہے۔ آپ ایک معروف شاعرہ اور دانشور ہیں۔ آپ کی شاعری کے کئی مجموعے منظر عام پہ آ چکے ہیں۔ آپ کے انٹرویو اکثر اخبارات، اور جرائد کی زینت بنتے ہیں۔ آپ نے مختلف بین الاقوامی مضامین کے تراجم بھی کئے ہیں جو گاہے بہ گاہے سامنے آتے رہے ہیں۔ Continue reading 096-بری عورت کی کتھا از کشور ناہید

094- شہر دل کے دروازے از شازیہ چودھری

شہر دل کے دروازے از شازیہ چودھری

Shaher_e_dil_k_darwazeمصنفہ: شازیہ چودھری

صنف: ناول، اردو ادب، پاکستانی ادب

صفحات: 479

قیمت: 500 روپے

ناشر: مکتبہ عمران ڈائجسٹ، کراچی

کتابستان کا آج کا موضوع شازیہ چودھری صاحبہ کا تحریر کردہ ناول ہے۔ شازیہ چودھری صاحبہ کا بہت کم عمری میں انتقال ہو گیا، ہم ان کی مغفرت کے لئے دعا گو ہیں، یہی وجہ ہے کہ آپ کی زیادہ تحاریر موجود نہیں ہیں۔ شازیہ چودھری صاحبہ نے یہ ناول ایک ڈائجسٹ کے لئے لکھا تھا جس نے بےپناہ مقبولیت حاصل کی تھی، بعد ازاں اس ناول کو کتابی شکل میں بھی پیش کیا گیا ہے، ناول اخباری کاغذ پہ شائع کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اس کی قیمت زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ Continue reading 094- شہر دل کے دروازے از شازیہ چودھری

091- جنگ سنڈے میگزین

جنگ سنڈے میگزین

Jang sunday magazineناشر: روزنامہ جنگ

پاکستان میں ماہانہ کئی ہرچے شائع ہوتے ہیں جو ادبی اور غیر ادبی دونوں طرح کے قارئین کے ذوق کی بھر پور تسکین کرتے ہیں۔ ملک میں کئی اخبارات بھی شائع ہوتے ہیں۔ یہ اخبارات روزانہ کی خبروں کے علاوہ اپنے ہفتہ وار میگزین بھی پیش کرتے ہیں۔ ان میگزین میں مختلف موضوعات پہ مضامین اور تحاریر شامل کی جاتی ہیں۔ یہ میگزین عوام میں خاصے مقبول ہیں۔ کتابستان میں آج ہم روزنامہ جنگ کے زیر اہمتام شائع ہونے والے ہفت روزہ میگزین کی بات کریں گے۔ یہ میگزین “جنگ سنڈے میگزین” کے نام سے ہر اتوار کو جنگ اخبار کے ساتھ شائع ہوتا ہے۔ Continue reading 091- جنگ سنڈے میگزین

090- بنت فرعون از محمد یعقوب خان

بنت فرعون از محمد یعقوب خان

Bint-e-Firaunمصنف: محمد یعقوب خان

صنف: ناول، تاریخی ناول، اردو ادب

صفحات:223

سن اشاعت: 2008

بنتِ فرعون کے ذریعے محمد یعقوب خان سے یہ ہمارا پہلا تعارف ہے تاہم آپ کئی میگزین اور ڈائجسٹوں کے لئے لکھ چکے ہیں۔ آپ کی تمام کہانیوں میں سے بنت فرعون کو زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ بنتِ فرعون ایک ناول ہے۔ اس کے عنوان سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ قدیم مصری تاریخی ناول ہوگا لیکن ایسا نہیں ہے۔ ناول کی سیٹنگ گرچہ مصر کی ہی ہے لیکن اس میں قدیم مصری زمانہ نہیں دکھایا گیا ہے بلکہ گزشتہ صدی کے اول نصف حصے کا زکر ہے جب مصر میں کھدائیوں اور آثاراتِ قدائم کی تلاش کا سلسلہ زوروں پہ تھا۔ اسی سلسلے کی وجہ سے غیر ملکی ماہرین اور سیاح مصر کے ریگستانوں کا رخ کرتے تھے۔ Continue reading 090- بنت فرعون از محمد یعقوب خان

088- کشور ناہید کی نوٹ بک از کشور ناہید

کشور ناہید کی نوٹ بک از کشور ناہید

Kishwer Naheed ki notebookمصنفہ: کشور ناہید

صنف: سوانح حیات

صفحات: 92

قیمت: 300 روپے

سن اشاعت: 2014

ناشر: سنگ میل پبلی کیشنز لاہور

ISBN-10: 969-35-2732-1

کشور ناہید، آج کے دور کی ایک معروف دانشور اور ادیب ہیں۔ آپ نے خواتین کے حقوق اور تحفظ لئے بہت کام کیا ہے۔ آپ ایک معروف شاعرہ ہیں اور آپ کی شاعری کی کئی کتب شائع ہو چکی ہیں۔ آپ کو اردو ادب کی خدمت میں نمایاں کام کرنے پہ حکومت پاکستان کی طرف سے تمغہ امتیاز سے نوازا جا چکا ہے۔ آپ کی کتب میں دشت قیس میں لیلیٰ، بری عورت کی کتھا، بےنام مسافت، لیلیٰ خالد، سیاہ حاشیے میں گلابی رات وغیرہ شامل ہیں۔ Continue reading 088- کشور ناہید کی نوٹ بک از کشور ناہید

087- میرے چارہ گر از رخسانہ نگار عدن

میرے چارہ گر از رخسانہ نگار عدن

Mere Chara Gar by Rukhsana Nigar Adnanمصنفہ: رخسانہ نگار عدن

صنف: ناولٹ، اردو ادب

رخسانہ نگار صاحبہ، خواتین کے لئے شائع ہونے والے پرچوں کی باقاعدہ لکھاری ہیں۔ آپ کے قلم سے کئی ناول، ناولٹ نکل چکے ہیں۔ کتابستان کے گزشتہ صفحات میں آپ کے لکھے ہوئے ایک ناول کا تذکرہ ہو چکا ہے۔ آج کا موضوع آپ کا لکھا ہوا ایک ناولٹ ہے جو ماہنامہ شعاع ڈائجسٹ میں قسط وار شائع ہوتا رہا ہے۔ Continue reading 087- میرے چارہ گر از رخسانہ نگار عدن

085- کرنیں از شفیق الرحمٰن

کرنیں از شفیق الرحمٰن

KIRNAINمصنف: شفیق الرحمٰن

صنف: اردو ادب، افسانے

صفحات: 144

قیمت: 180 روپے

ناشر: سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور

ISBN-10: 969-35-1220-0

ISBN-13: 978-969-35-1220-5

شفیق الرحمٰن ایک مشہور مزاح نگار اور افسانہ نویس ہیں۔ آپ پیشے کے اعتبار سے ایک میڈیکل ڈاکٹر تھے اور پاکستانی فوج کے ساتھ منسلک تھے، اس کے باوجود آپ کی ادبی کاوشیں کسی بھی باقاعدہ ادیب سے کم نہیں ہیں۔ آپ کے قلم سے کئی کتب نکل چکی ہیں جنہوں نے بہت مقبولیت حاصل کی ہے۔ ان میں کرنیں، حماقتیں، مزید حماقتیں، دریچے، انسانی تماشہ وغیرہ شامل ہیں۔ آپ کی تحریریں شگفتگی، مزاح اور سادگی سے بھر پور ہوتی ہیں جو پڑھنے والے کے ذہن پہ خوشگوار اثر چھوڑتی ہیں۔ Continue reading 085- کرنیں از شفیق الرحمٰن

082- دہشت گرد از طارق اسمٰعیل ساگر

دہشت گرد از طارق اسمٰعیل ساگر

Dehshat Gard Urdu Novel by Tariq Ismail Sagarمصنف: طارق اسمٰعیل ساگر

صنف: ناول، اردو ادب

طارق اسمٰعیل ساگر صاحب کا نام جاسوسی ادب کی دنیا میں نیا نہیں ہے۔ آپ کے قلم سے کئی ناول نکل چکے ہیں جنہوں نے عوامی مقبولیت حاصل کی ہے۔ ناولوں کے علاوہ آپ ڈرامے، کالمز اور سفر نامے بھی لکھ چکے ہیں۔ آپ کی کتابوں کی ایک طویل فہرست ہے جس میں سے چند نام یہ ہیں۔ آخری گناہ کی مہلت، اور حصار ٹوٹ گیا، بیس کیمپ، بلیک واٹر، کمانڈو، گرفت، یلغار وغیرہ۔ Continue reading 082- دہشت گرد از طارق اسمٰعیل ساگر