129-غلام باغ از مرزا اطہر بیگ

غلام باغ از مرزا اطہر بیگ

Ghulam baghمصنف: مرزا اطہر بیگ

صفحات: 878

صنف: اردو ادب، پاکستانی ادب، ناول

قیمت: 1100 روپے

ناشر: سانجھ پبلی کیشنز

سن اشاعت: 2006

ISBN: 978-969-593-061-8

مرزا اطہر بیگ کے نام سے ہمارے کئی قارئین واقف ہوں گے۔ آپ ٹیلی ویژن کے لئے لکھتے رہے ہیں اور کئی مشہور ڈراموں کے مصنف ہیں۔ غلام باغ آپ کا لکھا ہوا پہلا ناول ہے جو سن 2006 میں منظر عام پہ آیا ہے۔ اس ناول نے آتے ساتھ ہی دھوم مچا دی ہے۔ غلام باغ کی خاص بات یہ ہے کہ جہاں یہ سنجیدہ اردو ادب کے قارئین کو زبان و بیان کی چاشنی مہیا کرتا ہے وہیں یہ فکشن کے دلدادہ قارئین کو ایسی کہانی مہیا کرتا ہے جو مکمل پڑھے بنا چھوڑی نہیں جا سکتی، نہ ہی اس ناول کے صفحات پلٹ کے کہانی کا انجام جاننے کی کوشش کامیاب ہو سکتی ہے۔ یہ ایسا ناول ہے جو صفحہ بہ صفحہ، سطر بہ سطر اور لفظ بہ لفظ پڑھنے پہ ہی اپنے قاری پہ کھلتا ہے اور اسے اپنی فضا میں ایسے جکڑ لیتا ہے کہ اسے مکمل پڑھنے کے بعد بھی وہ خود کو غلام باغ کے اردگرد ہی پاتا ہے۔ Continue reading 129-غلام باغ از مرزا اطہر بیگ

Advertisements

120-اداس نسلیں از عبداللہ حسین

اداس نسلیں از عبداللہ حسین

Uddas Naslainمصنف: عبداللہ حسین

صنف: ناول، پاکستانی ادب

صفحات: 512

سن اشاعت:

قیمت: 750 روپے

ناشر: سنگ میل پبلی کیشنز

ISBN-10: 969-35-0073-3
ISBN-13: 978-969-35-0073-8

عبداللہ حسین صاحب اردو ادب کے جانے مانے اور مشہور مصنف ہیں۔ آپ کی تصنیف “اداس نسلیں” اردو زبان کے شاہکار ناول کا درجہ رکھتی ہے۔ اداس نسلیں، آگ کا دریا کے بعد اردو زبان کا دوسرا بڑا شاہکار ناول تصور کیا جاتا ہے۔ اس ناول کا اسلوب، بیان، کردار سازی، منظر نگاری، غرض ہر پہلو پہ نقاد بحث کر چکے ہیں اور یہ ناول متفقہ طور پہ پسندیدگی کی سند حاصل کر چکا ہے۔ اس لئے اس ناول کے محاسن پہ بات کرنے کی یہاں ضرورت نہیں ہے۔ تاہم ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ اپنے قارئین کو اس ناول سے متعارف کروائیں جس نے اردو دنیا میں بےپناہ مقبولیت حاصل کی ہے۔

ناول کی کہانی کا آغاز اس وقت سے ہوتا ہے جب برصغیر پہ انگریز راج تھا اور برٹش انڈیا کہلاتا تھا۔ ناول کے ابتدا میں روشن پور نامی ایک گاؤں کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ اس گاؤں کا نام نواب روشن علی خان کے نام پہ رکھا گیا تھا۔ روشن علی خان صاحب خاندانی نواب نہیں تھے۔ ایک انگریز کو بلوائیوں سے بچانے کے انعام کے طور پہ انہیں روشن خان کی جاگیر دی گئی تھی۔ اس طرح اس گاؤں کا نام روشن پور پڑ گیا۔ اس گاؤں کا کہانی سے گہرا تعلق ہے۔ ناول کے مرکزی کردار نعیم کا تعلق اسی گاؤں سے تھا۔ Continue reading 120-اداس نسلیں از عبداللہ حسین

115- بہاؤ از مستنصر حسین تارڑ

بہاؤ از مستنصر حسین تارڑ

Bahaoمصنف: مستنصر حسین تارڑ

صنف: ناول، پاکستانی ادب

صفحات:229

قیمت: 250 روپے

ناشر: سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور

ISBN: 969-35-0150-8

اردو ادب میں وادی سندھ کی گم گشتہ تہذیب کو کسی مصنف نے اپنے تخیل کا موضوع نہیں بنایا، یہی بات ہے جو بہاؤ کو موضوع کے حساب سے انتہائی منفرد ناول بنا دیتی ہے۔ مستنصر حسین تارڑ صاحب کی وجہ شہرت ان کے تحریر کردہ سفر نامے ہیں۔ ان کے لکھے سفر نامے گھر بیٹھے ہی قاری کو دور کے دیس میں لے جاتے ہیں جہاں چلتی برفیلی ہواؤں اور برف پوش چوٹیوں کی ٹھنڈک کو وہ اپنے گھر کے اندر ہی محسوس کر لیتے ہیں۔ تاہم بہاؤ میں تارڑ صاحب اپنے قاری کو کسی دور کے دیس میں نہیں لے جا رہے بلکہ بہاؤ قاری کو آج سے پانچ ہزار سال پرانی ایک ایسی بستی میں لے جاتا ہے جو دریائے سندھ کے کنارے آباد تھی اور اس کا زمانہ موہنجودڑو کی تہذیب کا ہم عصر زمانہ تھا۔ موہنجودڑو کے متعلق انسانی معلومات وہاں کھدائی کے دوران نکلنے والے کھنڈرات اور چند قدیم باقیات تک محدود ہے۔ یہ تارڑ صاحب کے مضبوط تخیل کا کمال ہے کہ انہوں نے اتنی کم معلومات کی بنیاد پہ موہنجودڑو کے نواح میں واقع ایک بستی پہ ایک بھر پور ناول لکھ دیا ہے۔ Continue reading 115- بہاؤ از مستنصر حسین تارڑ