128-The jewel of seven stars by Bram Stoker

The jewel of seven stars by Bram Stoker

زندہ ممی از مقبول جہانگیر

The jewel of seven stars by Bram Stokerمصنف: بریم اسٹوکر

ترجمہ: زندہ ممی

مترجم: مقبول جہانگیر

صنف: ناول، خوفناک ناول، انگریزی ادب

صفحات: 213

سن اشاعت: 1903

خوفناک کہانیوں کی جب بات کی جائے تو “ڈریکولا” سے سب ہی واقف ہوں گے۔ یہ ناول انگریزی ادب میں کلاسک کا درجہ رکھتا ہے۔ یہ مشہور ناول اور کردار آئرش مصنف “بریم اسٹوکر” کا تخلیق کردہ ہے۔ ڈریکولا کے علاوہ بھی اسٹوکر کے کریڈٹ پہ کئی ناول اور مختصر کہانیاں ہیں جن میں سے ایک پہ آج بات ہو رہی ہے۔ اس ناول کا عنوان ہے “دی جیول آف سیون اسٹارز” یعنی سات ستاروں کا زیور۔ اس ناول کا اردو زبان میں ترجمہ مقبول جہانگیر صاحب کی مہربانی سے ہم تک پہنچا ہے۔ اس ترجمے کا مطالعہ آج سے کوئی پندرہ سولہ سال قبل کیا گیا تھا، کتابستان کے لئے مضمون لکھتے ہوئے اسے دوبارہ پڑھنے کا موقع ملا اور اتنے طویل عرصے کے بعد پڑھنے کے بعد بھی اس ناول نے اتنا ہی لطف دیا جتنا کہ پہلی بار مطالعہ کے دوران محسوس ہوا تھا۔ یہ یقیناً مصنف کی مہارت اور موضوع کی دلچسپی ہے کہ یہ ناول کسی بھی زمانے میں پرانا محسوس نہی ہوتا وہیں یہ مترجم کی بھی کامیابی ہے کہ اس نے اردو زبان کے قالب ڈھالتے ہوئے ناول کی دلچسپی کم نہیں ہونے دی۔ Continue reading 128-The jewel of seven stars by Bram Stoker

Advertisements

127- The history of the devil and the idea of evil by Paul Carus

The history of the devil and the idea of evil by Paul Carus

شیطان کی تاریخ: مختلف تہزیبوں اور مذاہب میں تصور شیطان کا تحقیقی جائزہ از پال کیرس اور یاسر جوادThe history of the devil

مصنف: پال کیرس

ترجمہ و تالیف: یاسر جواد

صنف: تحقیقی کتاب، فلسفہ، نان فکشن

صفحات: 208

قیمت: 300 روپے

سن اشاعت: 1900ء

اشاعت ترجمہ: ء 2014

ناشر: نگارشات پبلشرز

خدا کا تصور، ابتدائے آفرینش سے ہی انسان کے ہمراہ ہے۔ اس تصور کے ساتھ ہی اچھائی کی بنیاد وابستہ ہے۔ خیر اور شر کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ شر کو شیطان کی پشت پناہی حاصل ہے۔ کتابستان کی آج کی منتخب کردہ کتاب اسی منفرد موضوع کے بارے میں ہے۔ اس کتاب میں شیطان کو موضوع بنایا گیا ہے۔ یہ کتاب پال کیرس نے سن 1900 میں تحریر کی تھی۔ کیرس ایک جرمن امریکی مصنف تھے جن کی مہارت فلسفے اور مذاہب عالم کے تقابلی مطالعے میں تھی۔ دنیا بھر کے مذاہب میں جہاں خدا کا تصور پیش کیا گیا ہے وہیں ایک شر کی قوت کا بیان بھی موجود ہے۔ کیرس نے اسی شر کی قوت کے بارے میں پیش کردہ معلومات، تصورات اور وضاحتوں کو علیحدہ کرکے ایک کتاب کی شکل دے دی ہے۔ کتاب کا ترجمہ یاسر جواد نے کیا ہے جنہوں نے ترجمے کے ساتھ ساتھ اس کتاب میں ایک باب کا اضافہ بھی کیا ہے۔ کتاب میں شیطان کے اسلامی تصور پہ مبنی باب یاسر صاحب کا تحریر کردہ ہے۔ اور آخری باب کارل ساگان کی کتاب “توہمات کی دنیا” کے اقتباسات کی مدد سےترتیب دیا گیا ہے۔ کتاب کا دیباچہ یاسر جواد صاحب کا تحریر کردہ ہے اور وہ رقم طراز ہیں؛ Continue reading 127- The history of the devil and the idea of evil by Paul Carus

123-The Man-eaters of Tsavo by John Henry Patterson

The Man-eaters of Tsavo by John Henry Patterson

تساوو کے آدم خور از جے۔ ایچ پیٹر سن

The man eaters of tsavoمصنف: جے۔ ایچ۔ پیٹر سن (جان ہنری پیٹر سن)

ترجم: تساوو کے آدم خور

مترجم: سید علاؤ الدین

صنف: نان فکشن، شکاریات

سن اشاعت: 1907

صفحات: 119

کتابستان میں شکاریات کے موضوع پہ آج سے پہلے ایک ہی کتاب پیش کی گئی ہے۔ یہ تبصرہ کتابستان کے ابتدائی دنوں میں پیش کیا گیا تھا اور یہ اس بلاگ پہ سب سے زیادہ پڑھی اور تلاش کی جانے والی کتابوں میں شامل ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قارئین شکاریات کے موضوع پہ کتابیں پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ہمارے لئے خوشی کا موقع ہے کہ ہم آج ایسے ہی قارئین کے لئے شکاریات کے موضوع پہ لکھی گئی کتاب پیش کر رہے ہیں۔ یہ کتاب انگریز مصنف جے ایچ پیٹر سن کے قلم سے نکلی ہوئی ہے اور سن 1907 میں پہلی بار شائع کی گئی۔ اس کتاب نے اپنے وقت میں ناصرف عوامی پسندیدگی حاصل کی بلکہ امریکی صدر روز ویلٹ اور برطانوی وزیراعظم سالسبری کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ اردو زبان کے قارئین کے لئے اس کتاب کا ترجمہ سید علاؤالدین صاحب نے تساوو کے آدم خور کے عنوان سے کیا ہے۔ Continue reading 123-The Man-eaters of Tsavo by John Henry Patterson

119-The old man and the sea by Ernest Hemingway

The old man and the sea by Ernest Hemingway

بوڑھا اور سمندر از ارنسٹ ہمنگ وے

The old man and the seaمصنف: ارنسٹ ہمنگ وے

ترجمہ: بوڑھا اور سمندر

مترجم: ابن سلیم

صنف: ناول، امریکی ادب

سن اشاعت: 1952

ارنسٹ ہمنگ وے ایک نوبل انعام یافتہ امریکی مصنف اور صحافی تھے۔ آپ نے کئی ناول اور مختصر کہانیاں لکھی ہیں۔ “دی اولڈ مین اینڈ دی سی” جس کا اردو ترجمہ بوڑھا اور سمندر کے عنوان سے کیا گیا ہے، آپ کی لکھی ہوئی وہ تحریر ہے جس نے آپ کو نوبل انعام کا حقدار قرار دلوانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ آپ کا بہترین ناول شمار کیا جاتا ہے۔ اس ناول کو ادب کا پلٹزر انعام بھی دیا گیا ہے۔

بوڑھا اور سمندر ایک عمر رسیدہ مچھیرے کی داستان ہے۔ اس مچھیرے کا نام سان تیاگو تھا۔ ناول کی کہانی اس وقت شروع ہوتی ہے جب سان تیاگو سمندر میں مسلسل چوراسی دن تک ماہی گیری کرنے کے باوجود ایک بھی مچھلی پکڑنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ یہ انتہا درجے کی بدقسمتی تھی۔ اسی بدقسمتی کی وجہ سے اس کے شاگرد مینولن کے والدین نے اسے سان تیاگو کے ساتھ کام کرنے سے منع کر دیا تھا۔ Continue reading 119-The old man and the sea by Ernest Hemingway

111- Humiliated and insulted by Fyodor Dostoyevsky

Humiliated and insulted by Fyodor Dostoyevsky

ذلتوں کے مارے لوگ از فیودور دوستو فیسکی

The insulted and injuredمصنف: فیودور دوستو فیسکی

ترجمہ: ذلتوں کے مارے لوگ

مترجم: ض ۔ انصاری

صنف: ناول، روسی ادب

زبان: روسی

روسی ادب دنیا کے بہترین ادب میں شمار ہوتا ہے۔ روس نے دنیا کو بڑے ادیب دیئے ہیں جن میں لیو ٹالسٹائی، الیگزینڈر پشکن، فیودور دوستوفیسکی وغیرہ جیسے بڑے نام شامل ہیں۔ نثر ہو یا نظم، دونوں میدانوں میں ہی روسی ادباء اور شعراء نے کمالات دکھائے ہیں۔ کتابستان میں مشہور روسی مصنف لیوٹالسٹائی کےکچھ کام کو پیش کیا جا چکا ہے ۔آج ایک اور عظیم مصنف کے تعارف کا ہم اعزاز حاصل کر رہے ہیں جن کا نام ہے ’فیودور دستوفیسکی‘ ۔ دستو فیسکی کا زمانہ ۱۸۲۱ سے ۱۸۸۱ کا ہے۔ آپ ایک مشہور ناول نگار، فلسفی، جرنلسٹ اور مضمون نگار تھے۔ دتسو فیسکی نے انسانوں کی نفسیات کو روسی لوگوں کی حالت زار کے حوالے سے پیش کیا ہے۔ دستو فیسکی کے بارے میں مزید جاننے کے لئے یہاں جائیں۔ Continue reading 111- Humiliated and insulted by Fyodor Dostoyevsky

097-Blasphemy by Tehmina Durrani

Blasphemy by Tehmina Durrani

کفر از تہمینہ درانی

Blasphemyنام ترجمہ: کفر

مصنفہ: تہمینہ درانی

مترجم: میجر آفتاب احمد

صنف: ناول، پاکستانی ادب

صفحات: 265

سن اشاعت:1999

ناشر: پینگوئن بکس، مطبوعہ فیروز سننز پرائیویٹ لمیٹڈ

تہمینہ درانی صاحبہ، پاکستان کے پہلے وزیر اعظم جناب لیاقت علی خان صاحب کی پوتی ہیں۔ آپ کا ادبی سفر آپ کی لکھی ہوئی کتاب “مائی فیوڈل لارڈ” سے شروع ہوا۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ “مینڈا سائیں” کے عنوان سے موجود ہے۔ یہ کتاب تہمینہ صاحبہ کی سوانح عمری ہے اس میں آپ نے اپنی شادی شدہ زندگی اور شوہر کے سلوک کی تفصیلات پیش کی ہیں۔ اس کتاب کو غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی اور آج بھی آپ کے حوالے کے طور پہ اس کتاب کا نام جانا جاتا ہے۔ تہمینہ نے اور کتب بھی لکھی ہیں جن میں جناب ایدھی صاحب کی سوانح حیات بھی شامل ہے۔ کتابستان میں آج جو کتاب شامل ہونے جا رہی ہے وہ سوانح حیات نہیں ہے بلکہ ایک ناول ہے۔ آپ نے یہ ناول انگریزی زبان میں لکھا تھا جو 1999 میں شائع ہوا۔ بعد میں اس کا اردو ترجمہ کفر کے عنوان میجر آفتاب احمد صاحب نے کیا اور یہ کتاب اب اردو زبان پڑھنے والے قارئین کے لئے بھی دستیاب ہے۔ Continue reading 097-Blasphemy by Tehmina Durrani

089- She by Henry Rider Haggard

She by Henry Rider Haggard

She  by Rider Haggardمصنف: ہنری رائڈر ہیگرڈ

نام ترجمہ: پراسرار روح

صنف: ناول، انگریزی ادب

صفحات: 206

سر ہنری رائڈر ہیگرڈ ایک مشہور انگریز ناول نگاری تھے آپ کا زمانہ 1856 سے 1925 کے درمیان کا ہے۔ آپ نے مہم جوئی، تخیلاتی اور گم شدہ دنیاؤں کی تلاش کے موضوعات پہ کئی بہترین ناول لکھے ہیں۔ خصوصاً کمشدہ دنیاؤں کی تلاش کے موضوع کا آپ کو بانی قرار دیا جاتا ہے۔ آپ کے بعد کئی ناول نگاروں نے مہم جوئی اور گمشدہ دنیاؤں کے بارے میں قلم اٹھایا۔ کئی فلمیں بھی ان موضوعات پہ بنائی گئیں جن میں سے ایک سلسلہ انڈیانا جونز سیریز کا ہے جس میں بھی مہم جوئی اور قدیم دنیاؤں کی تلاش کو موضوع بنایا گیا ہے۔ ہنری رائڈر ہیگرڈ اپنے وقت کے ایک مشہور ناول نگار تھے آپ کے قلم سے کئی ناول نکلے جنہوں نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔ آپ کے کئی ناول اب سکولوں کے نصاب میں بھی شامل ہیں۔ اور کئی ناولوں کی کہانی کو بعد میں مزید آگے بھی بڑھایا گیا ہے۔ آپ کے ناولوں کے تراجم کئی زبانوں میں کئے جا چکے ہیں۔ Continue reading 089- She by Henry Rider Haggard

084- پہاڑوں کی بیٹی از پاویل لوکنتیسکی

پہاڑوں کی بیٹی از پاویل لوکنتیسکی

Paharon ki betiمصنف: پاویل لوکنتیسکی

مترجم: خدیجہ عظیم

صنف: ناول، روسی ادب

صفحات: 387

ناشر: فکشن ہاؤس، مزنگ روڈ لاہور

پہاڑوں کی بیٹی، روسی مصنف پاویل لوکنتسکی کے ایک ناول کا ترجمہ ہے جسے خدیجہ عظیم صاحبہ نے اردو زبان میں پیش کیا ہے۔ ترجمہ فکشن ہاؤس کی پیشکش ہے جو سن 1999 میں شائع ہوا۔ خدیجہ صاحبہ نے ایک ترجمہ کرکے ایک اچھے ناول کا اردو زبان میں اضافہ کیا ہے تاہم ہم اس ناول کے اصل تک نہیں پہنچ سکے۔ تاہم ہمیں خوشی ہوگی اگر کتابستان کے کوئی قاری اس بارے میں معلومات فراہم کر سکیں۔ کتاب میں موجود مصنف کے تعارف سے معلوم ہوتا ہے کہ مصنف “ادب برائے ادب” کی بجائے “ادب برائے زندگی” کی تحریک کے حامی ہیں۔ وہ کہتے ہیں: Continue reading 084- پہاڑوں کی بیٹی از پاویل لوکنتیسکی

083- دلچسپ حکایاتِ رومی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ

دلچسپ حکایاتِ رومی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ

Hikatay-e-Roomiمرتب: ابن علی

صفحات: 157

قیمت: 85 روپے

ناشر: مشتاق بک کارنر، اردو بازار لاہور

مولانا رومی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کے بارے میں کون نہیں جانتا۔ آپ ایک مشہور صوفی بزرگ اور شاعر تھے۔ آپ کی شاعری مثنوی روم کے نام سے موجود اور مشہور ہے اور آج بھی پڑھی جاتی ہے۔ اس کا ترجمہ دنیا کی کئی زبانوں میں ہو چکا ہے جس کی وجہ سے مولانا کے کلام سے کئی زبانوں کے لوگ مستفید ہو چکے ہیں اور ہو رہے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ہم نے ایک ترکی مصنفہ کی لکھی ہوئی کتاب ” فورٹی رولز آف لو” کا ذکر کیا تھا۔ اس کتاب میں حضرت شمز تبریز اور مولانا روم کی ملاقات، دوستی اور محبت کی کہانی ایک ناول کی شکل میں پیش کی گئی ہے۔ “فورٹی رولز آف لو” کی مصنفہ نے مثنوی روم پڑھنے کے بعد ہی ناول لکھنے کا ارادہ کیا تھا اور ان کے ناول کے کئی واقعات مثنوی سے ہی لئے گئے ہیں۔ آج جس کتاب کی ہم بات کر رہے ہیں یعنی دلچسپ حکایات رومی بھی مثنوی روم سے ہی ایک انتخاب ہے۔ Continue reading 083- دلچسپ حکایاتِ رومی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ

068- دجال از علیم الحق حقی

دجال از علیم الحق حقی

dajjal-titleمصنف: علیم الحق حقی

دجال کے تصور کے بارے میں ہم پہلے بھی کچھ کتب میں ذکر کر چکے ہیں۔ یہ ایک ایسا فتنہ ہے جس کا ذکر تمام الہامی مذاہب میں پایا جاتا ہے۔ ہمارے آخری پیغمبر الزماں نے ایسی کئی احادیث بیان کی ہیں جن میں مستقبل میں سامنے آنے والے فتنہ دجال سے خبردار کیا گیا ہے۔ عیسائی مذہب میں بھی یہ تصور موجود ہے۔ علیم الحق حقی صاحب کے پیش کردہ ناول کا موضوع یہی فتنہ ہے تاہم ناول کی بنیاد عیسائی عقیدے کے تصور پہ رکھی گئی ہے۔ ناول کا مرکزی خیال ایک انگریزی ناول اومین (Omen) سے لیا گیا ہے۔ تاہم حقی صاحب کا یہ ناول انگریزی کے دو ناولوں کی کہانیوں کو آپس میں مکس کرکے پیش کرتا ہے۔ ایک کا ذکر ہم کر چکے ہیں اور دوسرا سڈنی شیلڈن کا ناول Are You Afraid of the Dark? ہے۔

ناول کے مطابق عیسائیت میں تصور ہے کہ دنیا کے اختتام سے پہلے شیطان اپنی اولاد دنیا میں بھیجے گا۔ یہ اولاد ایک جانور کے جسم سے پیدا ہوگی اور دنیا میں فتنہ و فساد پیداکرے گی۔ شیطان کا مقابلہ کرنے کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام دنیا میں تشریف لائیں گے اور دنیا میں امن و امان قائم ہوگا۔ ناول کا آغاز اسی تصور سے ہوا ہے جہاں ایک مادہ گیدڑ کے ہاں شیطانی بچے کی پیدائش ہوتی ہے۔ اس بچے کو شیطانی چیلے ایک ایسے جوڑے کے بچے سے تبدیل کر دیتے ہیں جن کے ہاں بھی عین اسی وقت اولاد پیدا ہوئی تھی Continue reading 068- دجال از علیم الحق حقی

067-The legend of sleepy hollow by Washington Irving

The legend of sleepy hollow by Washington Irving

sleepy hollowمصنف: واشنگٹن ارونگ

زبان: انگریزی

سن اشاعت: 1820

نام ترجمہ: سر کٹا گھڑ سوار

مترجم: ریاض احمد

ناشر: فیروز سنز پبلی کیشنز

واشنگٹن ارونگ، انیسویں صدی کے ایک امریکی مصنف تھے۔ آپ نے زیادہ شہرت اپنی مختصر کہانیوں سے حاصل کی۔ آپ کے کام کو اس وقت کے یورپ میں بھی پسند کیا گیا۔ یعنی آپ کی شہرت بین الاقوامی نوعیت کی تھی۔ کتابستان میں آج آپ کی مختصر کہانیوں کے ایک مجموعے کو موضوع بنایا گیا ہے۔ یہ مجموعہ بھی کافی پرانا ہے۔ یہ ترجمہ 1975 میں ریاض احمد صاحب نے کیا اور فیروز سنز پبلی کیشنز والوں نے شائع کیا۔ انیسویں صدی میں جب یہ کہانیاں شائع ہوئی ہوں گی تو یقیناً بڑوں نے انہیں شوق سے پڑھا ہوگا، لیکن اب انہیں پڑھتے ہوئے بچوں کی کہانیوں جیسا احساس ہوتا ہے۔ ایسا اس لئے ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسانی معلومات اور علم میں اضافہ ہوتا چلا آیا ہے۔ ہر دور کے بچے پچھلے دور کے بچوں سے تیز اور سمجھدار ہوتے جا رہے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ اب ہم ان کہانیوں کو بچوں کی کہانیاں قرار دے رہے ہیں۔ Continue reading 067-The legend of sleepy hollow by Washington Irving

057- Princess by Jean Sussan پرنسس از جین ساسون

Princess by Jean Sasson

پرنسس از جین ساسون

نام کتاب: پرنسس
مصنفہ: جین ساسون
نام ترجمہ: پرنسس
مترجم: محمد احسن بٹ
صفحات: 216
قیمت: 250 روپے
سن اشاعت: 2012
ناشر: نگارشات پبلشرز، 24 مزنگ روڈ لاہور

جین ساسون ایک امریکی مصنفہ ہیں۔ آپ کے کام کا زیادہ تر حصہ مشرق وسطیٰ کی خواتین کے بارے میں ہے۔ آپ کے قلم سے ایسی کتب نکل چکی ہیں جن میں آپ نے عرب خواتین کی حالت زار اور مسائل پہ روشنی ڈالی ہے۔ آپ کے قلم سے نکلی ہوئی کتب میں The Rape of Kuwait، Princess: A True Story of Life Behind the Veil in Saudi Arabia، Princess Sultana’s Daughters، Mayada: Daughter of Iraq اور دیگر کتب شامل ہیں۔

کتابستان میں آج آپ کی جو کتاب شامل ہو رہی ہے اس کا عنوان ہے پرنسس، یعنی شہزادی۔ کتاب کا ترجمہ بھی “پرنسس” کے نام سے ہی پیش کیا گیا ہے۔ پرنسس، جیسا کہ عنوان سے واضح ہے کہ ایک شہزادی کے بارے میں ہے۔ یہ ایک سعودی شہزادی “سلطانہ” کی آپ بیتی ہے جو انہوں نے کتاب کی مصنفہ جین ساسون سے بیان کی ہے۔ کتاب میں شہزادی کا نام سلطانہ بتایا گیا ہے تاہم یہ بات شروع میں ہی بتا دی گئی ہے کہ یہ شہزادی کا اصلی نہیں بلکہ ایک فرضی نام ہے جو ان کی اصل شناخت کو چھپانے کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ Continue reading 057- Princess by Jean Sussan پرنسس از جین ساسون

055- محبتوں کے آسیب (Of love and other demons) از گیبریل گارشیا مارکیز (Gabriel Garcia Marcques)

Of love and other demons by Gabriel Garcia Marcques

محبتوں کے آسیب از گیبریل گارشیا مارکیز

نام کتاب: Of love and other demons
ترجمہ: محبتوں کے آسیب
مترجم: ضیاء الحق
صفحات: 160
قیمت: 200 روپے
سن اشاعت: 2012
ناشر: فکشن ہاؤس لاہور

گیبریل گارشیا مارکیز کا نام عالمی ادب سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے نیا ہرگز نہیں۔ آپ کولمبیا سے تعلق رکھنے والے مصنف ہیں جنہیں اپنی تحاریر کی بنا پہ ادب کا نوبل انعام بھی مل چکا ہے۔ آپ کے قلم سے کئی ناول اور مختصر کہانیاں نکل چکی ہیں جنہوں نے بے انتہا شہرت پائی۔ ان کتابوں میں One Hundred Years of Solitude، No One Writes to the Colonel، اور Love in the Time of Cholera وغیرہ شامل ہیں۔ آنے والے دنوں میں ان شاء اللہ یہ کتب بھی کتابستان کا موضوع بنیں گی۔

کتابستان کا آج کا موضوع گیبریل کے قلم سے نکلی ہوئی ایک مختصر کہانی ہے جس کا عنوان ہے Of love and other demons۔ اس کہانی کا اردو میں ترجمہ ضیاء الحق صاحب نے “محبتوں کے آسیب” کے عنوان کے تحت کیا ہے۔ یہ ایک بارہ سالہ لڑکی سائیوا ماریہ کی زندگی کی کہانی ہے جو اس وقت شروع ہوتی ہے جب ایک آوارہ اور پاگل کتا اس لڑکی کو کاٹ جاتا ہے۔ Continue reading 055- محبتوں کے آسیب (Of love and other demons) از گیبریل گارشیا مارکیز (Gabriel Garcia Marcques)

042- پانچ خوفناک کہانیاں از مقبول جہانگیر

پانچ خوفناک کہانیاں از مقبول جہانگیر

panch khofnak kahanyanمترجم: مقبول جہانگیر

صفحات: 240

مقبول جہانگیر کا نام سسپنس، جاسوسی، اور خوفناک کہانیاں پسند کرنے والے قارئین کے لئے نیا نہیں ہے۔ آپ کے قلم سے لاتعداد کہانیاں نکل چکی ہیں۔کئی مشہور مصنفین کی کتابوں کے ترجمے آپ نے اردو قارئین کے لئے پیش کئے ہیں۔ آپ کی ترجمہ شدہ ایک اور کتاب بھی کتابستان کا موضوع رہ چکی ہے جس کو یہاں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ زیر نظر کتاب “پانچ خوفناک کہانیاں” بھی تراجم کے مجموعے پہ مشتمل ہے۔ یہ کتاب گرچہ مقبول جہانگیر کے نام سے پیش کی گئی ہے تاہم یہ ان کی ذاتی تخلیقات پہ نہیں بلکہ غیر ملکی زبان میں لکھی گئی خوفناک کہانیوں کے ترجموں پہ مشتمل ہے۔ ان کہانیوں کے اصل خالق کون ہیں Continue reading 042- پانچ خوفناک کہانیاں از مقبول جہانگیر

039۔ خانقاہ (The Monk) از ایم۔ جی لیوس (M.G. Lewis)

خانقاہ (The Monk) از ایم۔ جی لیوس (M.G. Lewis)

ترجمہ: خانقاہ
مترجم: مظہر الحق علوی
صفحات: 300

ایم۔ جی لیوس کے انگریزی ناول “دی مونک” کا اردو ترجمہ خانقاہ کے عنوان سے مظہر الحق علوی صاحب نے کیا ہے۔ یہ موجودہ صدی کا ناول نہیں ہے، یہ پچھلی صدی کا ناول بھی نہیں ہے۔ یہ ناول اٹھارویں صدی میں لکھا گیا تھا۔ یہ ناول ایک متنازعہ ناول ہے جس کا پلاٹ چرچ، پادریوں اور عیسائی راہبات کی زندگیوں کے گرد گھومتا ہے۔ اس ناول میں چرچ اور پادریوں کا جو کردار دکھایا گیا ہے، اس نے اسے اپنے وقت کا ایک مشہور ناول بنا دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ناول کے لکھتے وقت مصنف ایم۔ جی لیوس کی عمر 20 سال بھی نہیں تھی تاہم ان کے لکھے ہوئے اس ناول نے اس وقت عیسائی دنیا کو ہلا کے رکھ دیا تھا۔ Continue reading 039۔ خانقاہ (The Monk) از ایم۔ جی لیوس (M.G. Lewis)

035۔ موت کے خطوط (The ABC murders) از اگاتھا کرسٹی (Agatha Christie)

موت کے خطوط (The ABC murders) از اگاتھا کرسٹی (Agatha Christie)

نام ترجمہ: موت کے خطوط
مترجم: مقبول جہانگیر
صفحات: 250

اگاتھا کرسٹی کا نام جاسوسی کی دنیا میں نیا یا گمنام نہیں ہے۔ اپنے لکھے ہوئے ناولوں کی بنیاد پہ آپ کو جرائم کی دنیا کی ملکہ بھی کہا جاتا ہے۔ وکی پیڈیا کے مطابق آپ شیکسپیر کے بعد دنیا کی دوسری بہترین مصنف ہیں۔ اسی بات سے آپ کے کام کی مقبولیت کا اندازہ بآسانی کیا جا سکتا ہے۔ جرائم کی دنیا کے بارے میں اور دیگر جاسوسی ناول آپ نے اتنی مہارت سے لکھے ہیں کہ بہت سارے اساتذہ اپنے طالبعلموں کی ذہنی مشقوں کے لئے آپ کے ناولوں سے سوالات منتخب کرتے ہیں۔ Continue reading 035۔ موت کے خطوط (The ABC murders) از اگاتھا کرسٹی (Agatha Christie)

023۔ تائیس (Thais) از اناطول فرانس (Anatole France)

تائیس (Thais) از اناطول فرانس (Anatole France)

مترجم: عنایت اللہ دہلوی
صفحات: 208
قیمت: 200 روپے
پبلشر: فکشن ہاؤس، بک اسٹریٹ 39-مزنگ روڈ لاہور، پاکستان

اناطول فرانس، ایک مشہور فرانسیسی ادیب تھے۔ ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ آپ شاعر اور صحافی بھی تھے۔ آپ کے لکھے ہوئے ناول تائیس (1890) کو نوبل انعام دیا گیا۔ آج کے بلاگ کا موضوع یہی ناول ہے۔ یہ نوبل انعام یافتہ ناول اب اردو پڑھنے والے قارئین کے لئے بھی دستیاب ہے۔

اس ناول کا مرکزی کردار ایک عیسائی راہب پفنوتوس ہے جو دریائے نیل کے کنارے صحرا میں ایک جھونپڑی میں رہائش پذیر تھا۔ دریائے نیل کا یہ کنارا عیسائی راہبوں سے آباد تھا۔ پفنوتوس انہی عیسائی راہبوں میں سے ایک تھا اوردل ہی دل میں اپنی عبادت پہ بہت مغرور تھا۔ ناول کا دوسرا اہم کردار اور جس کے نام پہ اس ناول کا نام بھی رکھا گیا ہے وہ تائیس کا کردار ہے۔ Continue reading 023۔ تائیس (Thais) از اناطول فرانس (Anatole France)

020۔ الکیمسٹ (Alchemist) از پاؤلو کوئیلہو (Paulo Coelho)

الکیمسٹ (Alchemist) از پاؤلو کوئیلہو (Paulo Coelho)

ترجمہ: کیمیا گری
مترجم: عمر الغزالی
صفحات: 145
قیمت: 260 روپے
پبلشر: سینٹر فار ہیومن ایکسی لینس، لاہور

پاؤلو کوئیلہو ایک برازیلی مصنف ہیں۔ آپ کے لکھے ہوئے ناول الکیمسٹ نے مقبولیت کے غیر معمولی ریکارڈ قائم کئے ہیں۔ وکی پیڈیا کے مطابق ستمبر 2012 تک اس کتاب کا دنیا کی 56 زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے۔ آپ کی زندگی میں ہی اس کتاب کے اتنے زیادہ تراجم ہونے کی وجہ سے آپ کا نام گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی شامل کیا گیا ہے۔ جب اس کتاب کو دنیا کی ہر زبان میں ترجمہ کیا جا رہا ہے تو اردو زبان کے شیدائی بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ یہ کتاب اردو میں بھی ترجمہ کی جا چکی ہے ۔”کیمیا گری” کے نام سے عمر الغزالی نے اس کا ترجمہ کیا ہے اور یہ ترجمہ سینٹر فار ہیومن ایکسی لینس کی پیش کش ہے۔

ناول کی تفصیل میں جانے سے پہلے کچھ گزارشات اس ترجمے کے بارے میں ہیں۔ Continue reading 020۔ الکیمسٹ (Alchemist) از پاؤلو کوئیلہو (Paulo Coelho)

019۔ سراغِ زندگی (And now, and here) از اوشو (گرو رجنیش)

سراغِ زندگی (And now, and here) از اوشو (گرو رجنیش)

ترجمہ: سراغ زندگی
مترجم: وسیم الدین چودھری
صفحات: 245
قیمت: 250 روپے
پبلشر: فکشن ہاؤس، 18-مزنگ روڈ لاہور

اوشو کو گرو رجنیش بھی کہا جاتا ہے۔ دنیا میں ایک بڑا حلقہ ان کے فلسفے اور تعلیمات سے متاثر ہے اور انہیں بھگوان مانتا ہے۔ان کے ماننے والے احتراماً انہیں بھگوان شری رجنیش کے نام سے پکارتے ہیں۔ تاہم رجنیش کو بیسویں صدی کے سب سے متنازعہ مذہبی رہنما ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ ناقدین رجنیش کو ایک بےحد خطرناک شخص قرار دیتے ہیں جس کی باتیں یا تعلیمات انسان کو مکمل طور پہ بدل سکتے ہیں۔ Continue reading 019۔ سراغِ زندگی (And now, and here) از اوشو (گرو رجنیش)

016۔ سہ ماہی ادبیات (بچوں کا ادب)

سہ ماہی ادبیات (بچوں کا ادب)

نام کتاب: سہ ماہی ادبیات، بچوں کا ادب (جلد اول، عالمی ادب سےا نتخاب)
صفحات: 746
قیمت: 200 روپے

ادبیات، اکادمی ادبیات پاکستان کے تحت شائع ہونے والا سہ ماہی ادبی شمارہ ہے۔ اس شمارے کے ذریعے اکادمی ادبیات، اردو ادب کی بہت عمدہ خدمت کر رہا ہے تاہم بچوں کا ادب، ادب کا ایک ایسا حصہ ہے جس پہ زیادہ کام نہیں کیا گیا ہے۔ بچوں کے لئے لکھی گئی کہانیاں ادب کا حصہ شمار نہیں کی جاتیں اور انہیں سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ لیکن اس کے باوجود بھی بچوں کا ادب ایک وسیع اثاثے کا حامل ہے جو رنگ رنگ کی کہانیوں سے مزین ہے۔

ادبیات نے بچوں کے ادب کو اس کا جائز مقام دینے اور اسے یکجا کرنے کے لئے سال گزشتہ میں بچوں کا ادب نمبر شائع کیا ہے۔ Continue reading 016۔ سہ ماہی ادبیات (بچوں کا ادب)

014۔ کریترز سوناٹا از لیو ٹالسٹائی

کریترز سوناٹا از لیو ٹالسٹائی

ترجمہ: وفا کیسی کہاں کا عشق
مترجم: ظہور احمد خان
صفحات: 124
قیمت: 160 روپے
پبلشر: سید محمد شاہ پرنٹرز، لاہور

مشہور روسی ناول نگار لیو ٹالسٹائی کے ناول کریترز سوناٹا کا اردو میں ترجمہ وفا کیسی کہاں کا عشق کے نام سے ظہور احمد خان نے کیا ہے۔ وار اینڈ پیس اور آناکارینیا کے برعکس کریترز سوناٹا ایک مختصر اور چھوٹی کہانی ہے اور بہت زیادہ شہرت حاصل نہیں کر سکی۔ Continue reading 014۔ کریترز سوناٹا از لیو ٹالسٹائی

002۔حاجی مراد (Hadji Murat ) از لیو ٹالسٹائی

حاجی مراد (Hadji Murat ) از لیو ٹالسٹائی

ترجمہ: ظہور احمد خان
صفحات: 154
پبلشر: فکشن ہاؤس، لاہور پاکستان

حاجی مراد، لیو ٹالسٹائی کا آخری ناول ہے جو ان کی وفات کے بعد شائع ہوا ہے۔ ناول کا مرکزی کردار یعنی حاجی مراد، ایک تارتاری مسلمان جنگجو سردار ہے جس کا قبیلہ روسی حکومت کی سرحدوں کے پاس واقع ہے اور اس کا خاندان، جس میں اس کی بیوی اور بچے شامل ہیں، اس کے دشمن قبیلے کی قید میں صعوبتیں جھیل رہے ہیں۔ ایسے میں حاجی مراد اس امید روسی فوج کے ساتھ آ ملتا ہے کہ وہ اس کے خاندان کو رہا کروانے میں اس کی مدد کریں گے اور بدلے میں وہ بھی ان کی مدد کرنے کا وعدہ کرتا ہے۔ Continue reading 002۔حاجی مراد (Hadji Murat ) از لیو ٹالسٹائی