135- ایک دن کی بات از عکسی مفتی

ایک دن کی بات از عکسی مفتی

Aik din ki baat- Aksi Muftiمصنف: عکسی مفتی

صنف: جدید حکایات، اردو ادب، پاکستانی ادب، مضامین

سن اشاعت: 2013

صفحات: 200

قیمت: 500 روپے

ناشر: الفیصل ناشران، اردو بازار لاہور

عکسی مفتی، مشہور مصنف ممتاز مفتی صاحب کے صاحبزادے ہیں۔ تاہم یہ آپ کی پہچان کا واحد حوالہ نہیں۔ ایک مشہور و معروف والد کی اولاد ہونے کے باوجود عکسی صاحب نے اپنی پہچان خود بنائی ہے اور اس کی انفرادیت برقرار رکھی ہے تاہم والد سے لکھنے کے جراثیم آپ کو ضرور منتقل ہوئے ہیں۔ آپ کی ایک اہم پہچان لوک ورثہ سے آپ کی وابستگی ہے آپ لوک ورثہ کے ڈائریکٹر رہ چکے ہیں۔ اسلامی اور پاکستانی ثقافت کو دنیا بھر میں متعارف کروانے کے لئے آپ کا کردار قابل تعریف ہے۔ آپ فلسفے اور نفسیات کے ماہر ہیں۔ اپنے والد کی طرح عکسی مفتی بھی اپنی زمین سے جڑے ہوئے ہیں۔ آپ کی تحریروں میں اسلامی تہذیب و ثقافت کا حوالہ و ذکر بار بار ملتا ہے۔ آپ کے قلم سے “تلاش” جیسی کتاب نکل چکی ہے جس کا موضوع “اللہ: ماورا کا تعین” ہے۔ یہ وہی تلاش ہے جس کا ذکر ممتاز مفتی کی تحریروں میں نظر آتا ہے اور اسی تلاش کا ذکر عکسی مفتی کی تحریروں میں چھلکتا ہے۔ Continue reading 135- ایک دن کی بات از عکسی مفتی

127- The history of the devil and the idea of evil by Paul Carus

The history of the devil and the idea of evil by Paul Carus

شیطان کی تاریخ: مختلف تہزیبوں اور مذاہب میں تصور شیطان کا تحقیقی جائزہ از پال کیرس اور یاسر جوادThe history of the devil

مصنف: پال کیرس

ترجمہ و تالیف: یاسر جواد

صنف: تحقیقی کتاب، فلسفہ، نان فکشن

صفحات: 208

قیمت: 300 روپے

سن اشاعت: 1900ء

اشاعت ترجمہ: ء 2014

ناشر: نگارشات پبلشرز

خدا کا تصور، ابتدائے آفرینش سے ہی انسان کے ہمراہ ہے۔ اس تصور کے ساتھ ہی اچھائی کی بنیاد وابستہ ہے۔ خیر اور شر کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ شر کو شیطان کی پشت پناہی حاصل ہے۔ کتابستان کی آج کی منتخب کردہ کتاب اسی منفرد موضوع کے بارے میں ہے۔ اس کتاب میں شیطان کو موضوع بنایا گیا ہے۔ یہ کتاب پال کیرس نے سن 1900 میں تحریر کی تھی۔ کیرس ایک جرمن امریکی مصنف تھے جن کی مہارت فلسفے اور مذاہب عالم کے تقابلی مطالعے میں تھی۔ دنیا بھر کے مذاہب میں جہاں خدا کا تصور پیش کیا گیا ہے وہیں ایک شر کی قوت کا بیان بھی موجود ہے۔ کیرس نے اسی شر کی قوت کے بارے میں پیش کردہ معلومات، تصورات اور وضاحتوں کو علیحدہ کرکے ایک کتاب کی شکل دے دی ہے۔ کتاب کا ترجمہ یاسر جواد نے کیا ہے جنہوں نے ترجمے کے ساتھ ساتھ اس کتاب میں ایک باب کا اضافہ بھی کیا ہے۔ کتاب میں شیطان کے اسلامی تصور پہ مبنی باب یاسر صاحب کا تحریر کردہ ہے۔ اور آخری باب کارل ساگان کی کتاب “توہمات کی دنیا” کے اقتباسات کی مدد سےترتیب دیا گیا ہے۔ کتاب کا دیباچہ یاسر جواد صاحب کا تحریر کردہ ہے اور وہ رقم طراز ہیں؛ Continue reading 127- The history of the devil and the idea of evil by Paul Carus

126- نکلے تیری تلاش میں از مستنصر حسین تارڑ

نکلے تیری تلاش میں از مستنصر حسین تارڑ

Nikle Teri Talash Meinمصنف: مستنصر حسین تارڑ

صنف: سفر نامہ، اردو ادب

صفحات: 368

قیمت: 450 روپے

ناشر: سنگ میل پبلی کیشنز

ISBN-10: 969-35-0016-4

ISBN-13: 978-969-35-0016-5

مستنصر حسین تارڑ کا نام اردو ادب میں ایک الگ اور اہم مقام رکھتا ہے۔ آپ مشہور سفرنامہ نگار، ناول نگار، ڈرامہ رائٹر اور ٹی وی میزبان ہیں۔ ادب کی اتنی صنفوں سے تعلق اور ٹیلی ویژن سے وابستگی کی وجہ سے شائد ہی کوئی ایسا قاری ہو جو آپ کے نام سے واقف نہ ہو۔ کتابستان میں مصنف کے ناولوں پہ تفصیلی بات ہو چکی ہے آج ہم آپ کے سفرنامے “نکلے تیری تلاش میں” کو موضوع بنائیں گے۔ یہ مستنصر صاحب کا پہلا سفر نامہ ہے۔ اردو سفرنامہ نگاری میں آپ کے لکھے ہوئے سفرناموں کو ایک ممتاز حیثیت حاصل ہے۔ آپ کے سفرناموں میں ایک مخصوص رومانوی اور افسانوی فضا موجود ہوتی ہے جو انہیں نا صرف رپورتاژ بننے سے بچاتی ہے بلکہ قاری پوری توجہ کے ساتھ سفرنامے میں محو ہو جاتا ہے۔ سفرنامہ حال کے ساتھ ساتھ ماضی میں بھی سفر کرتا جاتا ہے اور قاری کو مقام کی صرف ظاہری سیاحت نہیں کراتا بلکہ اس مقام کی تاریخی اہمیت سے بھی روشناس کراتا ہے۔ ایسے میں مستنصر صاحب کا قلم سفرنامے پہ ایک ایسا فسوں بکھیر دیتا ہے جو قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے اور وہ ایک ان دیکھی جگہ کے رومان میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ مستنصر کے کم و بیش تمام سفرنامے ان تمام خصوصیات کے حامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ قارئین میں عام مقبول ہیں اور ایک طویل عرصے کے بعد بھی پڑھے جا رہے ہیں۔

“نکلے تیری تلاش میں” مستنصر صاحب کے یورپ کے دورے کا احوال ہے۔ اس سفر کی خاص بات یہ ہے کہ یہ سفر انہوں نے ہوائی جہاز کے ذریعے سے طے نہیں کیا بلکہ زمینی رستہ اختیار کیا۔ بقول مصنف: Continue reading 126- نکلے تیری تلاش میں از مستنصر حسین تارڑ

123-The Man-eaters of Tsavo by John Henry Patterson

The Man-eaters of Tsavo by John Henry Patterson

تساوو کے آدم خور از جے۔ ایچ پیٹر سن

The man eaters of tsavoمصنف: جے۔ ایچ۔ پیٹر سن (جان ہنری پیٹر سن)

ترجم: تساوو کے آدم خور

مترجم: سید علاؤ الدین

صنف: نان فکشن، شکاریات

سن اشاعت: 1907

صفحات: 119

کتابستان میں شکاریات کے موضوع پہ آج سے پہلے ایک ہی کتاب پیش کی گئی ہے۔ یہ تبصرہ کتابستان کے ابتدائی دنوں میں پیش کیا گیا تھا اور یہ اس بلاگ پہ سب سے زیادہ پڑھی اور تلاش کی جانے والی کتابوں میں شامل ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قارئین شکاریات کے موضوع پہ کتابیں پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ہمارے لئے خوشی کا موقع ہے کہ ہم آج ایسے ہی قارئین کے لئے شکاریات کے موضوع پہ لکھی گئی کتاب پیش کر رہے ہیں۔ یہ کتاب انگریز مصنف جے ایچ پیٹر سن کے قلم سے نکلی ہوئی ہے اور سن 1907 میں پہلی بار شائع کی گئی۔ اس کتاب نے اپنے وقت میں ناصرف عوامی پسندیدگی حاصل کی بلکہ امریکی صدر روز ویلٹ اور برطانوی وزیراعظم سالسبری کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ اردو زبان کے قارئین کے لئے اس کتاب کا ترجمہ سید علاؤالدین صاحب نے تساوو کے آدم خور کے عنوان سے کیا ہے۔ Continue reading 123-The Man-eaters of Tsavo by John Henry Patterson

118- عالم اسلام کی روحانی صورتحال از اسرار عالم

عالم اسلام کی روحانی صورتحال از اسرار عالم

مصنف: اسرار عالمAalm-e-Islam ki roohani soorat-e-haal

صنف: نان فکشن، اسلامی کتب

صفحات:131

ناشر:ادارہ معارف اسلامی، کراچی

نئے سال کے موقع پہ ہم اپنے قارئین کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ یہ نیا سال ہر ایک کے لئے خوشیوں، مسرتوں اور آسانیوں سے بھرپور ہو۔ اس نئے سال کے موقع پہ ہم ایک نئے مصنف کی کتاب آپ کے لئے لائے ہیں جن کا نام ہے اسرار عالم۔ اسرار عالم صاحب کوئی نئے مصنف نہیں ہیں، آپ ایک معروف مفکر ہیں جنہوں نے موجودہ دور میں عالم اسلام کو درپیش مسائل کے بارے میں قلم اٹھایا ہے۔ آپ کے قلم سے کئی کتب نکل چکی ہیں اور مذہبی حلقوں کے ساتھ ساتھ عام قارئین میں بھی پسند کی جا رہی ہیں۔ آپ کی کتب میں اسلام اور اکیسویں صدی کا چیلنج، امت کا بحران، معرکہ دجال اکبر، عالم اسلام کی سیاسی صورتحال وغیرہ شامل ہیں۔

کتاب کے پیش لفظ میں مصنف تحریر کرتے ہیں،

“اندوہناک صورتحال سے زیادہ کرب کی بات یہ ہے کہ امت مسلمہ، جو دنیا کی وہ واحد گروہ ہے جسے ماضی، حال اور مستقبل کا کافی علم دیا گیا، آج حیران اور ناواقف راہ بھٹک رہی ہے اور دنیا کی تاریکیوں سے روشنی کی بھیک مانگ رہی ہے۔ چودہ صدیوں بعد اب آثار قیامت کے ظاہر ہونے کی رفتار تیر تر ہوئی ہوئی محسوس ہوتی ہے گویا کوئی ہار ٹوٹ جائے اور یکے بعد دیگرے دانے گرنے لگیں۔
Continue reading 118- عالم اسلام کی روحانی صورتحال از اسرار عالم

114-Doomsday and life after death by Sultan Bashir Mehmood

Doomsday and life after death by Sultan Bashir Mehmood

قیامت اور حیات بعد الموت از سلطان بشیر محمود

Doomsday and life after deathمصنف: سلطان بشیر محمود

نام ترجمہ: قیامت اور حیات بعد الموت

مترجم: میجر (ر) امیر افضل خان

صنف: نان فکشن، اسلام اور سائنس، تحقیق

صفحات: 570

سن اشاعت: 1987

ناشر: القرآن الحکیم ریسرچ فاؤنڈیشن، اسلام آباد

ڈومز ڈے اینڈ لائف آفٹر ڈیتھ، جس کا اردو ترجمہ “قیامت اور حیات بعد الموت” کے عنوان سے کیا گیا ہے، سلطان بشیر محمود صاحب کی تصنیف ہے۔ بشیر صاحب کا تعارف ہم کتابستان میں پیش کی گئی ان کی ایک اور کتاب کے تعارف کے دوران کروا چکے ہیں۔ اس بلاگ کے آخر میں اس کتاب کا ربط موجود ہے جہاں سے قارئین اس تعارف تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس کتاب کے آغاز میں کتاب کے تعارف کے طور پہ درج ہے،

“قرآن حکیم، فرمودات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور جدید سائنسی دریافتوں کی روشنی میں تخلیق کائنات، مومن کا فلسفہ حیات، کائنات میں انسان کا مقام اور مقاصد تخلیق، زندگی، موت، جسم، نفس، روح، ملائکہ اور جنات کے حقائق، قیامت عالم قبور،عالم برزخ، آخرت، روز محشر، جزا و سزا، جنت و دوزخ کے حالات یعنی یہ کتاب زمان و مکان میں ابتدا سے انتہا تک انسانی سفر کی داستان پہ ایک حقیقی مدلل اور سائنٹیفک تجزیہ ہے”۔ Continue reading 114-Doomsday and life after death by Sultan Bashir Mehmood

110-زاویہ سوم از اشفاق احمد

زاویہ سوم از اشفاق احمد

Zavia-3مصنف: اشفاق احمد

صنف: پاکستانی ادب، نان فکشن

صفحات: ۳۲۰

ناشر: سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور

ISBN: 969-35-1885-3

زاویہ اول اور زاویہ دوم کے بعد اب پیش خدمت ہے زاویہ سوم کا تعارف ۔ زاویہ سوم، زاویہ سیریز کی آخری کتاب ہے۔ حصہ اول اور حصہ دوم کی طرح یہ بھی اشفاق احمد صاحب کے ٹیلی ویژن پروگرام زاویہ کی اقساط کے متن پہ مشتمل ہے۔ اس پروگرام کا نام زاویہ کیوں رکھا گیا، اس بارے میں اشفاق احمد صاحب فرماتے ہیں،

’فرض کریں ماڈرن دنیا میں کسی قسم کا ایک ڈیرہ ہو، جس میں سائیکاٹرسٹ بیٹھا ہو، یا سائیکالوجسٹ ہو لیکن وہ فیس نہ لے، اس کے پاس وہ بنچ نہ ہو جس پہ لٹا کر انالسس کرتے ہیں بلکہ بچھانے کے لئے صف ہو۔ ایسا سامان ہو کہ آمنے سامنے بیٹھ کر بات کر سکیں تو ان ڈیروں کو، ان تکیوں کو شمالی افریقہ میں، الجزائر میں، تیونس میں ’زاویے‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان کو ’زاویہ‘ کہتے ہیں۔ کچھ رباط بھی کہتے ہیں لیکن زاویہ زیادہ مستعل ہے۔ حیران کن بات ہے ، باوجود اس کے کہ زاویہ ایک خاص اسم طرف مکان ہے شمالی افریقہ کا، لیکن اندلس کے زمانے میں اندلس کی سرزمین پر زاویے نہیں تھے۔ تیونس، الجزائر میں رباط تھے۔ یہاں صوفی لوگ بیٹھ کر لوگوں کو، آنے جانے والوں کو ایک چھت فراہم کرتے تھے۔ وہنے کے لئے جگہ دیتے تھے۔ کھانے کے لئے روٹی پانی دیتے تھے۔ کچھ دیر لوگ بیٹھتے تھے، دکھی لوگ آتے تھے، اپنا دکھ بیان کرتےتھے اور ان سے شفا حاصل کرکے ڈائیلاگ کرتے تھے۔ سچ مچ! سائیکالوجسٹ جوکہا کرتے ہیں، وہ مہیا کرتے تھے، ہم نے بھی اسی تقلید میں پروگرام کا نام زاویہ رکھا ہے۔ اس لحاظ سے تو مجھے تھوڑی سی شرمندگی ہے کہ یہ اصل زاویہ نہیں ہے ۔ نقل بمطابق اصل ہے لیکن روح اس کی وہی ہے۔ کوشش اس کی یہی ہے کہ اس طرح کی باتیں یہاں ہوتی رہیں اور طبیعیت کا بوجھ جو پروگراموں میں کالموں اور کتابوں سے دور نہیں ہوتا وہ کسی طور یہاں دور ہو سکے۔‘ Continue reading 110-زاویہ سوم از اشفاق احمد

105- Evidence of afterlife: The science of near death experiences by Jeffrey Long, MD with Paul Perry

Evidence of afterlife: The science of near death experiences by Jeffrey Long, MD with Paul Perry

evidence_of_the_afterlifeمصنف: جیفرے لانگ، پال پیری

صنف: نان فکشن، تحقیقی ، سائنسی

صفحات: ۲۳۴

ناشر: ہارپر کولنز ای بکس

سن اشاعت: ۲۰۱۰

موت انسانی زندگی کی ایک اٹل حقیقت ہے۔ اس دنیا میں آنے والی ہر روح کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ ہر زندگی اپنی پیدائش سے شروع ہوتی ہے اور موت پہ جا کے اس کا اختتا م ہوتا ہے۔ موت کے بعد کیا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا حتمی جواب کسی کے پاس نہیں، کیونکہ مرنے والا کبھی لوٹ کے واپس نہیں آیا۔ موت کی حقیقت کے بارے میں دنیا کے مختلف عقائد کے ماننے والوں کے مختلف خیالات ہیں۔ کچھ عقائد میں مرنے کے بعد دوسرے جنم کا تصور ہے۔ ان لوگوں کا ماننا ہے کہ مرنے والا ایک نیا جنم لے کے دنیا میں واپس آجاتا ہے۔ اس نئے جنم میں اسے کس طرح کی زندگی ملے گی اس کی بنیاد اس کے گزشتہ جنم میں کئے گئے اعمال پہ ہو گی۔ اور یہ سلسلہ اس روح کے سات جنموں تک چلتا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مرنے کے بعد کوئی زندگی نہیں، کوئی نیا جنم نہیں لیا جاتا، یہ دنیا کی زندگی ہی ہے جو سب کچھ ہے، مرنے کے بعد کچھ نہیں۔ تاہم یہ اعتقادات کی باتیں ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سائنس بھی اس موضوع میں دلچسپی رکھتی ہے وہ بھی اس سوال کا جواب لگانے کی کوشش کر رہی ہے کہ مرنے کے بعد کیا ہوتا ہے، یا موت کیا ہے، کیا یہ زندگی کا اختتام ہے یا سفر کی ایک منزل کی طرف روانگی ہے۔ کتابستا ن میں آج اسی موضوع کے بارے میں بات کرنے کے لکھی گئی ایک سائنسی تحقیقی کتاب منتخب کی گئی ہے۔ اس کتاب کا اردو عنوان ’حیات بعدالموت کے شواہد‘ ہو سکتا ہے۔ یہ کتاب میڈیکل ڈاکٹر جیفرے لانگ صاحب کی تحریر کردہ ہے اور اس کام میں ان کی مدد پیری پال نے کی ہے۔
کتابستان میں اس موضوع پہ پہلے بھی کچھ کتب پیش کی جا چکی ہیں جن میں موت کی حقیقت مذہبی نقطہ نظر سے پیش کی گئی ہے۔ ان کتب کے عنوانات ہیں:
Continue reading 105- Evidence of afterlife: The science of near death experiences by Jeffrey Long, MD with Paul Perry

101-زاویہ دوم از اشفاق احمد

زاویہ دوم از اشفاق احمد

مصنفZavia_2_Ashfaq_ Ahmed: اشفاق احمد

صنف: پاکستانی ادب، نان فکشن

صفحات: 320

ناشر: سنگ میل پبلی کیشنز لاہور

زاویہ دوم، اشفاق احمد مرحوم صاحب کے ٹی وی پروگرام زاویہ کے متن کا دوسرا حصہ ہے۔ یہ پروگرام پاکستان ٹیلی ویژن سے ہفتہ وار پیش کیا جاتا رہا ہے۔ ہر پروگرام ایک مختلف موضوع پہ ہوتا تھا جس میں اشفاق احمد صاحب اپنی زندگی کے تجربات سے حکمت، ہدایت اور نصیحت کی باتیں پیش کیا کرتے تھے۔ اس پروگرام نے بہت مقبولیت حاصل کی تھی اور ایک لمبے عرصے تک پیش کیا جاتا رہا۔ مقبولیت کا یہ عالم رہا کہ اس پروگرام کے بند ہونے کے بعد اس کو کتابی شکل میں بھی پیش کیا گیا تاکہ اس کا پیغام دور دراز تک پھیل سکے۔ اس ضمن میں تین کتابیں پیش کی گئی ہیں جن کے عنوانات بالترتیب زاویہ اول، زاویہ دوم اور زاویہ سوم ہیں۔ زاویہ اول پہ پہلے بات ہو چکی ہے، آج کا ہمارا موضوع زاویہ دوم ہے۔ ان شاء اللہ آنے والے دنوں میں زاویہ سوم بھی موضوع بنے گا۔ Continue reading 101-زاویہ دوم از اشفاق احمد

096-بری عورت کی کتھا از کشور ناہید

بری عورت کی کتھا از کشور ناہید

BURI_AURAT_KI_KATHAنام مصنفہ: کشور ناہید

صنف: سوانح عمری، پاکستانی ادب

صفحات: 174

قیمت: 250 روپے

سن اشاعت: 2008

 ناشر: سنگ میل پبلی کیشنز لاہور

ISBN-10: 969-35-0628-6

ISBN-13: 978-969-35-0628-0

کشور ناہید صاحبہ کا ذکر گزشتہ صفحات پہ پہلے بھی ہو چکا ہے۔ آپ ایک معروف شاعرہ اور دانشور ہیں۔ آپ کی شاعری کے کئی مجموعے منظر عام پہ آ چکے ہیں۔ آپ کے انٹرویو اکثر اخبارات، اور جرائد کی زینت بنتے ہیں۔ آپ نے مختلف بین الاقوامی مضامین کے تراجم بھی کئے ہیں جو گاہے بہ گاہے سامنے آتے رہے ہیں۔ Continue reading 096-بری عورت کی کتھا از کشور ناہید

092- علٰمٰت از پروفیسر احمد رفیق اختر

علٰمٰت از پروفیسر احمد رفیق اختر

Alamatمصنف: احمد رفیق اختر

صفحات: 287

قیمت: 400 روپے

سن اشاعت: 2010

ناشر: سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور ISBN: 969-35-1965-5

پروفیسر احمد رفیق اختر کی کتب پہ پہلے بھی بات ہو چکی ہے۔ پروفیسر صاحب کا تعارف بھی پیش کیا جا چکا ہے۔ آپ کی سوچ اور وہ نقطہ نظر جو آپ کے فلسفے اور پیغامات کے پیچھے ہے اس پہ بھی ہم کتابستان میں بات کر چکے ہیں۔ پروفیسر صاحب موجودہ دور کے عالم ہیں جو جدید ذہن میں مذہب سے متعلق اٹھنے والے سوالات اور کنفیوژن کے جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ پروفیسر صاحب کی زیادہ تر کتب ان کی تقاریروں کے متن پہ مشتمل ہیں جو ان کے مصاحبوں کی کاوشوں کی وجہ سے شائع کی گئی ہیں۔ کتابستان کا آج کا موضوع بھی ایسی ہی ایک کتاب ہے۔ کتاب کا عنوان ہے علٰمٰت۔ یہ کتاب کلثوم اسمٰعیل صاحبہ کی مرتب کردہ ہے اور اس کا پیش لفظ بھی انہی کا تحریر کردہ ہے۔ کتاب کو اللہ تعالیٰ کے لئے منسوب کیا گیا ہے جس کی یاد سے دل سکون پاتے ہیں۔ Continue reading 092- علٰمٰت از پروفیسر احمد رفیق اختر

091- جنگ سنڈے میگزین

جنگ سنڈے میگزین

Jang sunday magazineناشر: روزنامہ جنگ

پاکستان میں ماہانہ کئی ہرچے شائع ہوتے ہیں جو ادبی اور غیر ادبی دونوں طرح کے قارئین کے ذوق کی بھر پور تسکین کرتے ہیں۔ ملک میں کئی اخبارات بھی شائع ہوتے ہیں۔ یہ اخبارات روزانہ کی خبروں کے علاوہ اپنے ہفتہ وار میگزین بھی پیش کرتے ہیں۔ ان میگزین میں مختلف موضوعات پہ مضامین اور تحاریر شامل کی جاتی ہیں۔ یہ میگزین عوام میں خاصے مقبول ہیں۔ کتابستان میں آج ہم روزنامہ جنگ کے زیر اہمتام شائع ہونے والے ہفت روزہ میگزین کی بات کریں گے۔ یہ میگزین “جنگ سنڈے میگزین” کے نام سے ہر اتوار کو جنگ اخبار کے ساتھ شائع ہوتا ہے۔ Continue reading 091- جنگ سنڈے میگزین

088- کشور ناہید کی نوٹ بک از کشور ناہید

کشور ناہید کی نوٹ بک از کشور ناہید

Kishwer Naheed ki notebookمصنفہ: کشور ناہید

صنف: سوانح حیات

صفحات: 92

قیمت: 300 روپے

سن اشاعت: 2014

ناشر: سنگ میل پبلی کیشنز لاہور

ISBN-10: 969-35-2732-1

کشور ناہید، آج کے دور کی ایک معروف دانشور اور ادیب ہیں۔ آپ نے خواتین کے حقوق اور تحفظ لئے بہت کام کیا ہے۔ آپ ایک معروف شاعرہ ہیں اور آپ کی شاعری کی کئی کتب شائع ہو چکی ہیں۔ آپ کو اردو ادب کی خدمت میں نمایاں کام کرنے پہ حکومت پاکستان کی طرف سے تمغہ امتیاز سے نوازا جا چکا ہے۔ آپ کی کتب میں دشت قیس میں لیلیٰ، بری عورت کی کتھا، بےنام مسافت، لیلیٰ خالد، سیاہ حاشیے میں گلابی رات وغیرہ شامل ہیں۔ Continue reading 088- کشور ناہید کی نوٹ بک از کشور ناہید

083- دلچسپ حکایاتِ رومی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ

دلچسپ حکایاتِ رومی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ

Hikatay-e-Roomiمرتب: ابن علی

صفحات: 157

قیمت: 85 روپے

ناشر: مشتاق بک کارنر، اردو بازار لاہور

مولانا رومی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کے بارے میں کون نہیں جانتا۔ آپ ایک مشہور صوفی بزرگ اور شاعر تھے۔ آپ کی شاعری مثنوی روم کے نام سے موجود اور مشہور ہے اور آج بھی پڑھی جاتی ہے۔ اس کا ترجمہ دنیا کی کئی زبانوں میں ہو چکا ہے جس کی وجہ سے مولانا کے کلام سے کئی زبانوں کے لوگ مستفید ہو چکے ہیں اور ہو رہے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ہم نے ایک ترکی مصنفہ کی لکھی ہوئی کتاب ” فورٹی رولز آف لو” کا ذکر کیا تھا۔ اس کتاب میں حضرت شمز تبریز اور مولانا روم کی ملاقات، دوستی اور محبت کی کہانی ایک ناول کی شکل میں پیش کی گئی ہے۔ “فورٹی رولز آف لو” کی مصنفہ نے مثنوی روم پڑھنے کے بعد ہی ناول لکھنے کا ارادہ کیا تھا اور ان کے ناول کے کئی واقعات مثنوی سے ہی لئے گئے ہیں۔ آج جس کتاب کی ہم بات کر رہے ہیں یعنی دلچسپ حکایات رومی بھی مثنوی روم سے ہی ایک انتخاب ہے۔ Continue reading 083- دلچسپ حکایاتِ رومی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ

075- مرد ابریشم از بانو قدسیہ

مرد ابریشم از بانو قدسیہ
Mard-e-Abresham

مصنفہ: بانو قدسیہ

صفحات: 157

ناشر: سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور

“مرد ابریشم” بانو قدسیہ کے قلم سے نکلی ہوئی ایک نان فکشن تحریر ہے جس کا موضوع “قدرت اللہ شہاب” ہیں۔ قدرت اللہ شہاب صاحب کے تعارف کے بارے میں بتانے کی ہمیں ضرورت نہیں، آپ اپنا تعارف آپ ہیں۔ لیکن اگر کوئی قاری ان سے ناآشنا ہیں تو آپ کی لکھی ہوئی کتاب شہاب نامہ آپ سے واقفیت حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اور اگر مزید تعارف چاہئے تو بانو جی کی “مرد ابریشم” کا مطالعہ بھی مددگار ثابت ہوگا۔ Continue reading 075- مرد ابریشم از بانو قدسیہ

066- زاویہ (اول) از اشفاق احمد

زاویہ اول از اشفاق احمد

zaviaمصنف: اشفاق احمد

جس طرح بانو قدسیہ صاحبہ کے تعارف کے لئے یہ بتانا ضروری نہیں ہے کہ آپ اشفاق احمد صاحب کی شریک حیات ہیں، اسی طرح اشفاق احمد صاحب کے تعارف کے لئے بھی یہ بتانا ضروری نہیں کہ آپ بانو قدسیہ صاحبہ کے مجازی خدا ہیں۔ زاویہ اول، اشفاق احمد صاحب کے ٹیلی ویژن پروگرام زاویہ کے متن پہ مبنی کتاب ہے۔ اشفاق احمد صاحب کا یہ پروگرام پاکستان ٹیلی ویژن سے پیش کیا گیا اور اپنی منفرد پیشکش اور اشفاق احمد صاحب کی میزبانی کی وجہ سے بےحد مقبول ہوا، یہاں تک کہ اس کو کتابی شکل میں بھی پیش کیا گیا ہے۔ زاویہ نامی اس کتابی سلسلے کے تین حصے ہیں، زاویہ اول، زاویہ دوم اور زاویہ سوم۔ آج اس کے پہلے حصے یعنی زاویہ اول کے بارے میں بات ہو رہی ہے۔ Continue reading 066- زاویہ (اول) از اشفاق احمد

059- اسرار حیات از سید فیاض بخاری

اسرار حیات از سید فیاض بخاری

مصنف: سید اسرار بخاری
صفحات: 238
قیمت: 270 روپے
سن اشاعت: 2003
ناشر: فیض الاسلام پرنٹنگ پریس، راولپنڈی
ISBN: 969.8768

سید فیاض بخاری صاحب کی لکھی ہوئی کتاب اسرار حیات، زندگی کے بھیدوں سے پردہ اٹھاتی ہے۔ مصنف سے ہماری پہلی واقفیت اس کتاب کے ذریعے ہی ہوئی ہے۔ غالباً یہ ان کے قلم سے نکلی ہوئی پہلی کتاب ہے۔ تاہم کتاب کے موضوع سے مصنف کی سنجیدگی اور کائنات کے پراسرار بھیدوں میں ان کی دلچسپی آشکار ہوتی ہے۔ کتاب کے آغاز میں کچھ احباب کی رائے بھی شامل کی گئی ہے اور ان تمام نے مصنف کی اس کاوش کو وقت کی ضرورت قرار دیا ہے۔ Continue reading 059- اسرار حیات از سید فیاض بخاری

057- Princess by Jean Sussan پرنسس از جین ساسون

Princess by Jean Sasson

پرنسس از جین ساسون

نام کتاب: پرنسس
مصنفہ: جین ساسون
نام ترجمہ: پرنسس
مترجم: محمد احسن بٹ
صفحات: 216
قیمت: 250 روپے
سن اشاعت: 2012
ناشر: نگارشات پبلشرز، 24 مزنگ روڈ لاہور

جین ساسون ایک امریکی مصنفہ ہیں۔ آپ کے کام کا زیادہ تر حصہ مشرق وسطیٰ کی خواتین کے بارے میں ہے۔ آپ کے قلم سے ایسی کتب نکل چکی ہیں جن میں آپ نے عرب خواتین کی حالت زار اور مسائل پہ روشنی ڈالی ہے۔ آپ کے قلم سے نکلی ہوئی کتب میں The Rape of Kuwait، Princess: A True Story of Life Behind the Veil in Saudi Arabia، Princess Sultana’s Daughters، Mayada: Daughter of Iraq اور دیگر کتب شامل ہیں۔

کتابستان میں آج آپ کی جو کتاب شامل ہو رہی ہے اس کا عنوان ہے پرنسس، یعنی شہزادی۔ کتاب کا ترجمہ بھی “پرنسس” کے نام سے ہی پیش کیا گیا ہے۔ پرنسس، جیسا کہ عنوان سے واضح ہے کہ ایک شہزادی کے بارے میں ہے۔ یہ ایک سعودی شہزادی “سلطانہ” کی آپ بیتی ہے جو انہوں نے کتاب کی مصنفہ جین ساسون سے بیان کی ہے۔ کتاب میں شہزادی کا نام سلطانہ بتایا گیا ہے تاہم یہ بات شروع میں ہی بتا دی گئی ہے کہ یہ شہزادی کا اصلی نہیں بلکہ ایک فرضی نام ہے جو ان کی اصل شناخت کو چھپانے کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ Continue reading 057- Princess by Jean Sussan پرنسس از جین ساسون

049- ماہنامہ گلوبل سائنس

ماہنامہ گلوبل سائنس

صفحات: 63
قیمت: 65 روپے

ماہنامہ گلوبل سائنس، کراچی سے شائع ہونے والا ایک سائنسی جریدہ ہے۔ پاکستان میں یہ واحد جریدہ ہے جو مکمل طور پہ سائنسی مضامین پہ مشتمل ہے اور اردو زبان میں شائع ہوتا ہے۔ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں کچھ سائنسی جرائد ہیں جو اردو زبان میں شائع ہوتے ہیں تاہم وہ پاکستان میں دستیاب نہیں اور انٹر نیٹ پہ بھی موجود نہیں۔ ایسے میں اردو زبان میں ایک سائنسی قحط سا محسوس ہوتا ہے۔ ماہنامہ گلوبل سائنس اسی قحط کو دور کرنے کی ایک کوشش ہے۔ یہ رسالہ کئی سالوں سے ہر ماہ باقاعدگی سے شائع ہو رہا ہے۔ تاہم اس نے کئی گرم اور سرد دور دیکھے ہیں۔ پاکستان میں سائنسی جریدہ شائع کرکے اس سے مالی مفاد حاصل کرنا کسی دیوانے کے خواب سے کم نہیں۔ Continue reading 049- ماہنامہ گلوبل سائنس

047- Manhunt by Peter L.Bergen

Manhunt by Peter L.Bergen

نام کتاب: مین ہنٹ
مصنف: پیٹیر ایل برجن
ترجمہ: روزنامہ امت اخبار

9/11 سے کیا مراد ہے؟ اس سوال کا جواب دینے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ واقعہ ہر کسی کے علم میں ہے۔ اسامہ بن لادین کون ہے؟ یہ سوال پوچھنے کی کسی کو ضرورت نہیں ہے۔ آج کے دور میں ذرائع ابلاغ اتنی ترقی کر چکے ہیں اور دنیا ایک ایسے چھوٹے گاؤں کی صورت اختیار کر چکی ہے جہاں ہر بات فوراً ہی سب تک پہنچ جاتی ہے۔ 9/11 موجودہ صدی کے آغاز میں پیش آنے والا ایک ایسا واقعہ ہے جس میں کئی امریکی شہری مارے گئے۔ امریکی حکومت نے اس واقعے کا ذمہ دار اسامہ بن لادین کو قرار دیا اور اس کی زندہ یا مردہ تلاش کو نئے دور کی صلیبی جنگ قرار دیا۔ کتابستان میں آج جس کتاب پہ بات ہو رہی ہے اس کا موضوع اسامہ بن لادین کی تلاش ہے۔ Continue reading 047- Manhunt by Peter L.Bergen

046- پیا رنگ کالا از بابا محمد یحییٰ خان

پیا رنگ کالا از بابا محمد یحییٰ خان

Piya Rang Kala By Baba yahya Khanمصنف: بابا محمد یحییٰ خان
صفحات: 722

بابا محمد یحییٰ خان موجودہ دور کے بابا ہیں۔ آپ ممتاز مفتی اور اشفاق احمد کے قبیل سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کو اپنا مرشد مانتے ہیں۔ بابا جی کے بارے میں کئی لوگ جانتے ہوں گے۔ زیر گفتگو کتاب “پیا رنگ کالا” بظاہر بابا محمد یحییٰ خان کی آپ بیتی ہے۔ بظاہر کا لفظ یہاں اس لئے استعمال کیا ہے کہ اس کتاب میں بہت ساری ایسی ماورائی اور بعید از عقل باتیں موجود ہیں جن کی حقیقت کی سند دینا بہت مشکل ہے۔ ایسی باتوں کی موجودگی کی بنا پہ عقل پسند لوگ اس کتاب کو ناول کا درجہ دیتے ہیں اور اگر انہی کی بنیاد پہ کئی ماننے والے بابا جی کو “علم” والے بندے کا درجہ دے دیتے ہیں۔ تاہم حقیقت کیا ہے Continue reading 046- پیا رنگ کالا از بابا محمد یحییٰ خان

044- لبیک از ممتاز مفتی

لبیک از ممتاز مفتی

مصنف: ممتاز مفتی

ممتاز مفتی کا نام اردو ادب کے قارئین کے لئے نیا یا انجان نہیں ہے۔ آپ کے قلم سے کئی افسانے اور ناول نکل چکے ہیں۔ تاہم دو کتب ایسی ہیں جو آپ کی بھر پور مقبولیت کا سبب ہیں، علی پور کا ایلی اور الکھ نگری۔ اردو ادب کے ہر شائق نے ان دو کتابوں یا ان میں سے کسی ایک کتاب کا ضرور مطالعہ کیا ہو گا۔ کتابستان میں آج آپ کے قلم سے نکلی ہوئی ایک اور کتاب کا ذکر ہو رہا ہے جس کا عنوان ہے لبیک۔

لبیک، کوئی ناول یا افسانہ نہیں ہے۔ یہ آپ بیتی ہے، سفر نامہ ہے۔ یہ ممتاز مفتی صاحب کے حج کے سفر کی روداد ہے۔ یہ حج انہوں نے قدرت اللہ شہاب کے ساتھ ادا کیا تھا اور کتاب میں جگہ جگہ ان کے بارے میں معلومات موجود ہیں۔ ممتاز مفتی صاحب کا اپنے بارے میں یہ دعویٰ ہے کہ وہ کوئی مذہبی شخصیت نہیں ہیں۔ Continue reading 044- لبیک از ممتاز مفتی

040۔ تذکرہ حسین بن منصور حلاج از ڈاکٹر شاہد مختار

تذکرہ حسین بن منصور حلاج از ڈاکٹر شاہد مختار

Picture1مصنف: ڈاکٹر شاہد مختار
صفحات: 223

کتابستان کا آج کا موضوع حسین بن منصور حلاج کے بارے میں لکھی گئی ایک کتاب ہے جس کا عنوان انہی کے نام پہ ہی ہے۔ حسین منصور بن حلاج ہماری تاریخ کا ایک ایسا کردار ہیں جن کی وجہ شہرت اناالحق یعنی “میں خدا ہوں” کا نعرہ ہے۔ یہی نعرہ انہیں کسی کی نظر میں کافر بنا دیتا ہے، کوئی انہیں گمراہ قرار دے دیتا ہے اور کوئی انہیں صوفی کا درجہ دے دیتا ہے۔ اپنے خیالات کی وجہ سے انہیں پھانسی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ کئی لوگ آپ کو مظلوم شہید قرار دیتے ہیں۔ بہت سے لوگوں کے خیال میں آپ کا معاملہ اللہ پہ ہی چھوڑ دینا چاہئے۔ مختلف لوگوں کا یہی رویہ انہیں ایک متنازعہ شخصیت بنا دیتا ہے۔ ڈاکٹر شاہڈ مختار نے اسی متنازعہ شخصیت کے بارے میں قلم اٹھایا ہے۔ تذکرہ حسین بن منصور حلاج میں منصور حلاج کی زندگی اور اس کے واقعات کے بارے میں تفصیلات موجود ہیں۔

کتاب کے آغاز میں منصور حلاج کا ایک قول بیان کیا گیا ہے،
“میں نے ادیان کے بارے میں گہرے تفکر میں تحقیق کی Continue reading 040۔ تذکرہ حسین بن منصور حلاج از ڈاکٹر شاہد مختار

036۔ اور لائن کٹ گئی از مولانا کوثر نیازی

اور لائن کٹ گئی از مولانا کوثر نیازی

14784_AZ7968مصنف: مولانا کوثر نیازی
صفحات: 171
قیمت: 250 روپے
ناشر: احمد پبلی کیشنز لاہور

گزشتہ مہینے پاکستان میں عام انتخابات منعقد ہوئے۔ یہ انتخابات اس لحاظ سے اہم تھے کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی جمہوری حکومت نے اپنی مدت مکمل کی تھی اور اقتدار انتخابی عمل کے ذریعے سے نئی حکومت کو منتقل ہونے والا تھا۔ اس عمل کے دوران ملک کی تمام اہم سیاسی جماعتوں نے بھر طور طریقے سے حصہ لیا اور اسمبلیوں میں آنے کے لئے بھرپور کوشش کی۔ اس موقع پہ کتابستان ماضی کے اوراق سے نکال کے ایک کتاب لایا ہے جس میں پاکستان کے ایک سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خاتمے، انتخابات اور جناب ضیا الحق کے لگائے گئے مارشل لاء سے پہلے کے حالات کو موضوع بنایا گیا ہے۔ اور لائن کٹ گئی، مولانا کوثر نیازی کی لکھی ہوئی کتاب ہے۔ آپ ذوالفقار بھٹو کے دور حکومت میں مذہبی امور کے وزیر تھے۔ اس لحاظ سے بھٹو صاحب سے آپ کی میل ملاقات بھی ہوتی رہتی تھی اور اس دور میں پیش آنے والے دیگر واقعات بھی آپ کی نظروں سے گزرتے رہے تھے۔ Continue reading 036۔ اور لائن کٹ گئی از مولانا کوثر نیازی

034۔ قدم بہ قدم از مسعود الحسن ضیاء

قدم بہ قدم از مسعود الحسن ضیاء

مصنف: مسعود الحسن ضیا

صفحات: 224

قیمت: 250 روپے

ناشر: پورب اکادمی، اسلام آباد

کتابستان کے آج کے بلاگ کا موضوع مسعود الحسن ضیاء کی لکھی ہوئی کتاب قدم بہ قدم ہے۔ مسعود الحسن ضیاء صاحب کی غالباً یہ پہلی کتاب ہے کیونکہ ان کی لکھی ہوئی کسی دوسری کتاب کا باوجود تلاش کے علم نہیں ہو سکا (اپ ڈیٹ: یہ کتاب مسعود الحسن صاحب کی پہلی تصنیف نہیں ہے۔ آپ کی پہلی تصنیف اور دیگر کتب کے بارے میں جاننے کے لئے اس بلاگ کے نیچے ان کا تبصرہ ملاحظہ کریں۔ شکریہ)۔ کتاب کے آغاز میں کئی لوگوں کی کتاب کے بارے میں رائے بھی پیش کی گئی ہے جن میں بانو قدسیہ صاحبہ، پروفیسر ڈاکٹر سلطان الطاف علی، فرحین چوہدری، پروفیسر ڈاکٹر سید شاہد حسن رضوی، اور ڈاکٹر مزمل بھٹی شامل ہیں۔ بانو قدسیہ صاحبہ کے خیالات پڑھ کے اندازہ ہوتا ہے کہ مسعود صاحب بھی اسی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں جس سے ممتاز مفتی صاحب رکھتے تھے Continue reading 034۔ قدم بہ قدم از مسعود الحسن ضیاء