142- آخری آدمی از انتظار حسین

آخری آدمی از انتظار حسین

Aakhri aadmi-Intezar Hussainمصنف:انتظار حسین

صنف: افسانے، اردو ادب، پاکستانی ادب

صفحات: 160

قیمت: 200 روپے

ناشر: سنگ میل پبلی کیشنز

ISBN: 969-35-2049-1

انتظار حسین موجودہ دور کے مشہور مصنف ہیں۔ آپ بیک وقت افسانہ نگار، ناول نگار اور کالم نویس ہیں۔ بستی، آگے سمندر ہے، ہندوستان سے آخری خط، شہرِ افسوس آپ کی کچھ تصانیف کے عنوانات ہیں۔ آپ کے ناولوں کا انگریزی زبان میں ترجمہ بھی کیا جا چکا ہے۔ سن 2013 میں آپ کو بکر پرائز کے لئے نامزد بھی کیا گیا تھا۔ یہ آپ کے کام کی اہمیت کا بین الاقوامی سطح پہ اعتراف ہے۔ آپ کو حکومت پاکستان کی طرف سے تمغہ امتیاز سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ اردو نثر میں انتظار حسین کا کام ان کے ہم عصروں سے مختلف اور جداگانہ ہے۔ آپ کی تحریروں کا ماحول کسی بچپن کی کہانی یا پرانے قصے جیسا ہے۔ آپ کی زبان پرانے عہد نامے اور داستانوں کی سلیس و سادہ زبان ہے جسے آپ نے اپنے مخصوص اسلوب میں پیش کیا ہے۔ آج کا ہمارا موضوع آپ کے افسانوں کی کتاب ہے جس کا عنوان ہے “آخری آدمی”۔ Continue reading 142- آخری آدمی از انتظار حسین

Advertisements

137-قائم دین از علی اکبر ناطق

قائم دین از علی اکبر ناطق

Qain Deen-Ali Akber Natiqمصنف: علی اکبر ناطق

صنف: افسانے، اردو ادب، پاکستانی ادب

صفحات: 106

قیمت: 325 روپے

ناشر: آکسفورڈ یونیورسٹی پریس

سن اشاعت: 2012

ISBN: 978-0-19-906288-1

علی اکبر ناطق موجودہ دور کے شاعر اور نثر نویس ہیں۔ آپ نے شاعری، افسانہ نویسی اور ناول نگاری کے شعبوں میں قلم آزمائی کی ہے۔ اپنے کام کی وجہ سے آپ ادبی دنیا کا ایک روشن ستارہ شمار کئے جاتے ہیں۔ ناطق بنیادی طور پہ ایک معمار ہیں تاہم آپ کا اردو اور عربی زبان کا مطالعہ بہت وسیع ہے۔ آپ کے لکھے افسانوں کی پہلی کتاب ہی آکسفورڈ یونیورسٹی پریس سے شائع ہوئی ہے۔ ایک بین الاقوامی ادارے سے آپ کی کتاب کا شائع ہونا بذات خود آپ کے کام کی اہمیت اور معیار کی نشاندہی ہے۔ کتابستان کا آج کا موضوع آپ کے افسانوں کی یہی کتاب ہے جس کا عنوان ہے “قائم دین”۔ اس کتاب کے علاوہ آپ کا لکھا ناول “نو لکھی کوٹھی” بھی پسندیدگی کی سند لینے میں کامیاب رہا ہے۔ Continue reading 137-قائم دین از علی اکبر ناطق

135- ایک دن کی بات از عکسی مفتی

ایک دن کی بات از عکسی مفتی

Aik din ki baat- Aksi Muftiمصنف: عکسی مفتی

صنف: جدید حکایات، اردو ادب، پاکستانی ادب، مضامین

سن اشاعت: 2013

صفحات: 200

قیمت: 500 روپے

ناشر: الفیصل ناشران، اردو بازار لاہور

عکسی مفتی، مشہور مصنف ممتاز مفتی صاحب کے صاحبزادے ہیں۔ تاہم یہ آپ کی پہچان کا واحد حوالہ نہیں۔ ایک مشہور و معروف والد کی اولاد ہونے کے باوجود عکسی صاحب نے اپنی پہچان خود بنائی ہے اور اس کی انفرادیت برقرار رکھی ہے تاہم والد سے لکھنے کے جراثیم آپ کو ضرور منتقل ہوئے ہیں۔ آپ کی ایک اہم پہچان لوک ورثہ سے آپ کی وابستگی ہے آپ لوک ورثہ کے ڈائریکٹر رہ چکے ہیں۔ اسلامی اور پاکستانی ثقافت کو دنیا بھر میں متعارف کروانے کے لئے آپ کا کردار قابل تعریف ہے۔ آپ فلسفے اور نفسیات کے ماہر ہیں۔ اپنے والد کی طرح عکسی مفتی بھی اپنی زمین سے جڑے ہوئے ہیں۔ آپ کی تحریروں میں اسلامی تہذیب و ثقافت کا حوالہ و ذکر بار بار ملتا ہے۔ آپ کے قلم سے “تلاش” جیسی کتاب نکل چکی ہے جس کا موضوع “اللہ: ماورا کا تعین” ہے۔ یہ وہی تلاش ہے جس کا ذکر ممتاز مفتی کی تحریروں میں نظر آتا ہے اور اسی تلاش کا ذکر عکسی مفتی کی تحریروں میں چھلکتا ہے۔ Continue reading 135- ایک دن کی بات از عکسی مفتی

126- نکلے تیری تلاش میں از مستنصر حسین تارڑ

نکلے تیری تلاش میں از مستنصر حسین تارڑ

Nikle Teri Talash Meinمصنف: مستنصر حسین تارڑ

صنف: سفر نامہ، اردو ادب

صفحات: 368

قیمت: 450 روپے

ناشر: سنگ میل پبلی کیشنز

ISBN-10: 969-35-0016-4

ISBN-13: 978-969-35-0016-5

مستنصر حسین تارڑ کا نام اردو ادب میں ایک الگ اور اہم مقام رکھتا ہے۔ آپ مشہور سفرنامہ نگار، ناول نگار، ڈرامہ رائٹر اور ٹی وی میزبان ہیں۔ ادب کی اتنی صنفوں سے تعلق اور ٹیلی ویژن سے وابستگی کی وجہ سے شائد ہی کوئی ایسا قاری ہو جو آپ کے نام سے واقف نہ ہو۔ کتابستان میں مصنف کے ناولوں پہ تفصیلی بات ہو چکی ہے آج ہم آپ کے سفرنامے “نکلے تیری تلاش میں” کو موضوع بنائیں گے۔ یہ مستنصر صاحب کا پہلا سفر نامہ ہے۔ اردو سفرنامہ نگاری میں آپ کے لکھے ہوئے سفرناموں کو ایک ممتاز حیثیت حاصل ہے۔ آپ کے سفرناموں میں ایک مخصوص رومانوی اور افسانوی فضا موجود ہوتی ہے جو انہیں نا صرف رپورتاژ بننے سے بچاتی ہے بلکہ قاری پوری توجہ کے ساتھ سفرنامے میں محو ہو جاتا ہے۔ سفرنامہ حال کے ساتھ ساتھ ماضی میں بھی سفر کرتا جاتا ہے اور قاری کو مقام کی صرف ظاہری سیاحت نہیں کراتا بلکہ اس مقام کی تاریخی اہمیت سے بھی روشناس کراتا ہے۔ ایسے میں مستنصر صاحب کا قلم سفرنامے پہ ایک ایسا فسوں بکھیر دیتا ہے جو قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے اور وہ ایک ان دیکھی جگہ کے رومان میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ مستنصر کے کم و بیش تمام سفرنامے ان تمام خصوصیات کے حامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ قارئین میں عام مقبول ہیں اور ایک طویل عرصے کے بعد بھی پڑھے جا رہے ہیں۔

“نکلے تیری تلاش میں” مستنصر صاحب کے یورپ کے دورے کا احوال ہے۔ اس سفر کی خاص بات یہ ہے کہ یہ سفر انہوں نے ہوائی جہاز کے ذریعے سے طے نہیں کیا بلکہ زمینی رستہ اختیار کیا۔ بقول مصنف: Continue reading 126- نکلے تیری تلاش میں از مستنصر حسین تارڑ

124-رقصِ جنوں (جزام) از بشریٰ سعید

رقصِ جنوں (جزام) از بشریٰ سعید

Raqs-e-junoon-by-bushra-saeedمصنفہ: بشریٰ سعید

صنف: ناول، پاکستانی ادب

صفحات: 182

ناشر: القریش پبلی کیشنز، لاہور

بشریٰ سعید صاحبہ کی تحاریر کی خاص بات ان کی منفرد اور گہری سوچ ہے۔ آپ معاملات کو ظاہری انداز سے نہیں دیکھتیں بلکہ ان کے اندر اتر کے ان کی اصلیت ڈھونڈ کے لاتی ہیں اور اس کے لئے چاہے پاتال میں ہی کیوں نہ جانا پڑے۔ یہی گہرا پن آپ کی تحریروں کو ان کا منفرد روپ دیتا ہے۔ آپ کے ناول ڈائجسٹ میں چھپنے کے باوجود معنویت کا پہلو لئے ہوتے ہیں۔ آپ کی سوچ کا انداز کہیں کہیں عمیرا احمد صاحبہ کی سوچ سے جا ٹکراتا ہے ایسا شاید مذہب کو موضوع بنانے کی وجہ سے محسوس ہوتا ہے۔

رقصِ جنوں، جاثیہ کی کہانی ہے۔ ناول کا آغاز ایک پجارن کے قصے سے ہوتا ہے جو اپنے دیوتا کو منانے کے لئے دیوانہ وار رقص کر رہی تھی۔ اسی رقص کی بنیاد پہ ناول کا عنوان رکھا گیا ہے۔ پجارن کے رقص کی وجہ سے دیوتا اپنے سنگھاسن سے اتر آیا، اور جب وہ نیچے اترا تو پجارن کو معلوم ہوا کہ وہ ایک عام انسان ہے اور انسانوں سے تو خوف کھاتے ہیں۔ ناول میں مصنفہ نے جاثیہ کی مماثلت اسی پجارن سے کی ہے۔ جاثیہ ایک بیوہ استانی کی بیٹی ہے۔ اس کی ماں نے اس کی تربیت نیک خطوط پہ کی تھی۔ لیکن جب اونیل، جاثیہ کے سامنے آٰیا تو وہ سب کچھ بھول گئی یہاں تک کہ یہ بھی کہ اس کے مذہب میں غیر مسلم مرد سے شادی کرنا ممنوع ہے۔ اونیل ایک یہودی شخص تھا جو پاکستان کے شہر اوکاڑہ میں ایک ہوٹل کی تعمیر کروا رہا تھا۔ اونیل کا خاندان جرمنی میں آباد تھا۔ اونیل نے جاثیہ سے کہا کہ وہ اس کی محبت پانے کی خاطر اپنا مذہب تبدیل کر لے گا۔ جاثیہ کی والدہ نے اپنی بیٹی کو اس بات کی اجازت نہیں دی اور نتیجتاً جاثیہ اپنا گھر چھوڑ کے بھاگ گئی۔ Continue reading 124-رقصِ جنوں (جزام) از بشریٰ سعید

122-انسانی قیامت از علیم الحق حقی

انسانی قیامت از علیم الحق حقی

insani-qayamat_Aleem-ul-Haq_Haqqiمصنف: علیم الحق حقی

صنف: ناول، پاکستانی ادب

صفحات: 188

ناشر: علی میاں پبلی کیشنز، لاہور

سن اشاعت: 1998

پاکستان میں پاپولر فکشن لکھنے والے مصنفین میں غیر ملکی ناولوں کے تراجم کرنے کا رجحان کافی رہا ہے۔ عموماً یہ ترجمے لفظی یا بامحاورہ نہیں ہوتے بلکہ مصنفین کہانی کی فضا اور کرداروں کو مقامی یعنی پاکستانی ماحول کے مطابق ڈھال کے پیش کرتے ہیں تاہم کہانی کا اصلی متن وہی رہتا ہے۔ یہاں تک بات ٹھیک رہتی ہے لیکن ہمارے زیادہ تر مصنفین ان ناولوں کو اپنے ناموں سے پیش کرتے ہیں۔ ان ناولوں کو کہاں سے اخذ کیا گیا، ان کی انسپیریشن کس ناول سے لی گئی، اس بارے میں مصنف خاموش رہتے ہیں۔ ایسے ناول عوام میں انہی مصنفین (مترجمین) کے ناموں سے مشہور ہو جاتے ہیں اور ان کے اصل مصنف اور اصلی کتاب کا نام کم ہی سامنے آ پاتا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ فعل مناسب نہیں، اس ضمن میں جتنی غلطی مصنف کی ہے اتنی ہی ناشر کی بھی ہے۔ ایک ناشر کو چاہئے کہ وہ مترجم کو اس بات کی تحریک دے کہ وہ ناول کے اصل مصنف کا بھی ذکر کرے اور اس ناول کا بھی ذکر کرے جس سے کہانی اٹھائی گئی ہے۔ کتابستان میں ہماری کوشش رہتی ہے کہ ہم تراجم کے ساتھ اصل ناول اور مصنف کا حوالہ بھی دیں تاکہ حقائق درست رہیں، تاہم چند موقعے ایسے بھی رہے ہیں جب ہم اپنی کم علمی کے باعث اصل کتاب نہیں ڈھونڈ سکے۔ حقی صاحب کا موجودہ ناول بھی ایک ایسا ہی ناول ہے جس کے اصل مصنف کا انہوں نے ذکر نہیں کیا۔ تاہم اپنے قارئین کے لئے ہم یہ بتاتے چلیں کہ یہ امریکی مصنف گورے وڈال کے ناول “کالکی” سے ماخوذ ہے۔ انسانی قیامت، علیم الحق حقی صاحب کی تصنیف ہے۔ حقی صاحب کی تصنیفات پہ پہلے بھی بات ہو چکی ہے۔ اس ناول کی بنیاد ہندو مذہب کے ایک عقیدے کے گرد گھومتی ہے جس کے مطابق دنیا کے اختتام پہ سفید گھوڑے پہ کالکی اوتار کی آمد ہوگی جو بھگوان وشنو کا آخری اوتار ہوگا۔ اس اوتار کی آمد کے بعد دنیا کا خاتمہ ہو جائے گا۔

موجودہ ناول انسانی قیامت، کالکی اوتار ہونے کے دعوے دار ایک شخص کی کہانی ہے جو ایک امریکی پائلٹ خاتون تھیوڈور اوٹنگز کی زبانی پیش کی گئی ہے۔ تھیوڈور اوٹنگز کو ایک ایسے شخص کے انٹرویو کی ذمہ داری دی جاتی ہے جس نے کالکی ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ کالکی ہندوستان میں ایک آشرم چلا رہا تھا۔ اس کے چیلے مختلف لوگوں میں کنول کے پھول تقسیم کیا کرتے تھے اور وہ کسی سے کسی قسم کی مالی امداد نہیں لیا کرتے تھے اسی وجہ سے کالکی کئی لوگوں کی نظروں میں آ رہا تھا، لوگوں کا خیال تھا کہ اس کی مالی امداد منشیات سے وابستہ گروہ کر رہے ہیں۔ کچھ لوگ کالکی کے بارے میں مشکوک تھے اور ان کا خیال تھا کہ “کوئی طاقت مغربی دنیا کو سرنگوں کرنا چاہتی ہے۔ اس کی سب سے سادہ اور آسان ترکیب یہ ہے کہ مغرب کی نئی نسل کو نشے کی لت ڈال دی جائے۔ انہیں ایک ایسے مذہب سے روشناس کرایا جائے جو یہ بتائے کہ دنیا کا خاتمہ قریب ہے۔ ایسے مایوس اور نشے کے عادی لوگ لڑ سکتے ہیں کبھی، وہ تو جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی ہار جائیں گے۔” Continue reading 122-انسانی قیامت از علیم الحق حقی

116- امر بیل از عمیرا احمد

امر بیل از عمیرا احمد

Amar bail- Umaira Ahmedمصنفہ: عمیرا احمد

صنف: ناول، پاکستانی ادب

صفحات: 760

امر بیل، عمیرا احمد صاحبہ کے قلم سے نکلا ہوا ایک شاہکار ناول ہے۔ یہ ایک رومانوی ناول ہے جس کے تانے بانے پاکستان کی سول سوسائٹی کی زندگی اور اطوار کے گرد بنے گئے ہیں۔ عمیرا صاحبہ کے زیادہ تر ناولوں کا موضوع مذہب یا عورت ذات رہی ہے تاہم امر بیل عمیرا احمد کے ان چند ناولوں میں ہے جس کا مرکزی خیال مذہب سے نہیں اٹھایا گیا۔ یہ ناول کئی ماہ تک ڈائجسٹ میں شائع ہوتا رہا ہے اور اس نے بہت مقبولیت حاصل کی۔ بعد ازاں اس کو کتابی شکل میں بھی پیش کر دیا گیا ہے۔ اس ناول پہ مبنی ڈرامہ بھی ٹیلی ویژن پہ آ چکا ہے۔ Continue reading 116- امر بیل از عمیرا احمد

115- بہاؤ از مستنصر حسین تارڑ

بہاؤ از مستنصر حسین تارڑ

Bahaoمصنف: مستنصر حسین تارڑ

صنف: ناول، پاکستانی ادب

صفحات:229

قیمت: 250 روپے

ناشر: سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور

ISBN: 969-35-0150-8

اردو ادب میں وادی سندھ کی گم گشتہ تہذیب کو کسی مصنف نے اپنے تخیل کا موضوع نہیں بنایا، یہی بات ہے جو بہاؤ کو موضوع کے حساب سے انتہائی منفرد ناول بنا دیتی ہے۔ مستنصر حسین تارڑ صاحب کی وجہ شہرت ان کے تحریر کردہ سفر نامے ہیں۔ ان کے لکھے سفر نامے گھر بیٹھے ہی قاری کو دور کے دیس میں لے جاتے ہیں جہاں چلتی برفیلی ہواؤں اور برف پوش چوٹیوں کی ٹھنڈک کو وہ اپنے گھر کے اندر ہی محسوس کر لیتے ہیں۔ تاہم بہاؤ میں تارڑ صاحب اپنے قاری کو کسی دور کے دیس میں نہیں لے جا رہے بلکہ بہاؤ قاری کو آج سے پانچ ہزار سال پرانی ایک ایسی بستی میں لے جاتا ہے جو دریائے سندھ کے کنارے آباد تھی اور اس کا زمانہ موہنجودڑو کی تہذیب کا ہم عصر زمانہ تھا۔ موہنجودڑو کے متعلق انسانی معلومات وہاں کھدائی کے دوران نکلنے والے کھنڈرات اور چند قدیم باقیات تک محدود ہے۔ یہ تارڑ صاحب کے مضبوط تخیل کا کمال ہے کہ انہوں نے اتنی کم معلومات کی بنیاد پہ موہنجودڑو کے نواح میں واقع ایک بستی پہ ایک بھر پور ناول لکھ دیا ہے۔ Continue reading 115- بہاؤ از مستنصر حسین تارڑ

113-Happy things in sorrow times by Tehmina Durrani

Happy things in sorrow times by Tehmina Durrani

Happy-Things-in-Sorrow-Timesمصنفہ: تہمینہ درانی

صنف: ناول، پاکستانی ادب

زبان: انگریزی

صفحات: ۲۰۴

سن اشاعت: ۲۰۱۳

قیمت: ۸۹۵ روپے

ناشر: فیروز سنز پرائیویٹ لمیٹڈ، لاہور ، راولپنڈی، کراچی

ISBN: 9789690024763

ہیپی تھنگز ان سورو ٹائمز، محترمہ تہمینہ درانی صاحبہ کا تحریر کردہ تازہ ترین ناول ہے، جو گزشتہ سال منظر عام پہ آیا ہے۔ یہ تہمینہ صاحبہ کی چوتھی تحریر ہے۔ اس سے قبل آپ اپنی سوانح عمری، جناب عبدالستار ایدھی صاحب کی سوانح حیات، اور ایک انگریزی ناول تحریر کر چکی ہیں۔ آپ کی سوانح حیات مائی فیوڈل لارڈ کے عنوان سے شائع ہوئی تھی۔ یہ اپنے وقت کی مشہور ترین کتاب تھی جس نے آپ کو شہرت کی بلندیوں پہ پہنچا دیا۔ Continue reading 113-Happy things in sorrow times by Tehmina Durrani

112-میرے ہمدم میرے دوست از فرحت اشتیاق

میرے ہمدم میرے دوست از فرحت اشتیاق

Merey hamdam merey dostمصنفہ: فرحت اشتیاق

صنف: ناول، پاکستانی ادب

میرے ہمدم میرے دوست، محترمہ فرحت اشتیاق صاحبہ کی تخلیق ہے۔ فرحت اشتیاق وہی مصنفہ ہیں جن کے لکھے ہوئے ناول ہم سفر پہ مبنی ڈرامے نے ناصرف ملک گیر شہرت حاصل کی بلکہ ہمسایہ ملک میں بھی اپنی پسندیدگی کے جھنڈے گاڑنے میں کامیاب ہوا۔ میرے ہمدم میرے دوست کی بھی ڈرامائی تشکیل کی گئی ہے اور اس کو بھی ڈرامے کی شکل میں حال ہی میں پیش کیا گیا ہے۔ فرحت اشتیاق صاحبہ خواتین کے لئے شائع ہونے والے ڈائجسٹس کی مشہور لکھاری ہیں۔ آپ ہلکے پھلکے رومانوی موضوعات پہ لکھتی ہیں۔ آپ کے ناولوں کا مرکزی کردار ناول کی ہیروئن ہوتی ہے اور ناولوں میں اس کی زندگی اور اس میں آنے والی تبدیلیاں اور حالات پیش کئے جاتے ہیں۔ زیادہ تر آپ کی ہیروئن ایک تعلیم یافتہ، خوددار اور باہمت لڑکی ہوتی ہے جو زندگی میں مشکلات پیش آنے پہ آنسو بہانے کے ساتھ ساتھ ہمت کا مظاہرہ کرتی ہے اور اپنے حالات کی بہتری کے لئے کوشش کرتی ہے۔ تاہم کہانی میں ایک زبردست سا ہیرو بھی ہمیشہ موجود ہوتا ہے۔ Continue reading 112-میرے ہمدم میرے دوست از فرحت اشتیاق

109-یتی از کاشف زبیر

یتی از کاشف زبیر

Yatti by Kashif Zubairمصنف: کاشف زبیر

صنف: ناول، پاکستانی ادب

صفحات: ۱۳۲

ناشر: جاسوسی پبلی کیشنز لاہور، کتاب گھر ڈاٹ کام

یتی، بگ فٹ، آئس مین، برفانی آدمی یہ تمام نام ایک ہی مخلوق کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ انسانی نسل عرصے سے ایک ایسی مخلوق کی کہانیاں سنتی آئی ہے جو برفانی پہاڑوں پہ بستی ہے۔ بلند و بالا پہاڑوں کے نزدیک علاقوں میں رہنے والے کئی لوگوں نے برفانی آدمی کو دیکھنے کے واقعات کا ذکر کیا ہے خصوصاً کوہ ہمالیہ کے گرد و نواح میں رہنے والے لوگوں میں اس مخلوق کی کہانیاں بہت مشہور ہیں۔ برفانی انسان یا برفانی آدمی بین الاقوامی ادب میں ایک جانا مانا کردار ہے۔ بگ فٹ، یتی، آئس مین نامی کرداروں پہ مشتمل ایڈونچر، سسپنس تھرلرز وغیرہ اکثر منظر عام پہ آتے رہتے ہیں۔ پاپولر فکشن میں اس قدر مقبول ہونے کی وجہ سے سائنس دانوں اور ماہرین حیاتیات نے اس مخلوق کے سراغ کی بہت کوشش کی ہے لیکن تمام تر کوششوں کے باوجود ابھی تک برفانی انسان کی موجودگی کا کوئی حتمی ثبوت نہیں مل سکا۔ بہت سارے تحقیق کاروں کا خیال ہے کہ برفانی ریچھوں یا بھالوؤں کو ہی برفانی انسان سمجھنے کی غلطی کر لی جاتی ہے۔ یعنی برفانی انسان انسانی ذہن کی ایسی اختراع ہے جس کی ابھی تک تصدیق نہیں ہو سکی، اس کے باوجود بھی یتی کا کردار کہانیوں میں زندہ سلامت موجود ہے۔ جب برفانی انسان کے بارے میں دنیا بھر میں اتنی بحث جاری ہے تو ایسے میں پاکستانی مصنفین بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ کاشف زبیر ، جو ایک مشہور کہانی نویس ہیں، نے اسی موضوع پہ قلم اٹھایا ہے۔ انہوں نے اپنے ناول کا عنوان اسی مخلوق کے نام پہ رکھا ہے یعنی ’یتی‘۔ Continue reading 109-یتی از کاشف زبیر

108- جو چلے تو جان سے گزر گئے از ماہا ملک

جو چلے تو جان سے گزر گئے از ماہا ملک

Jo chaley tou jaan sey guzer gayeمصنفہ : ماہا ملک

صنف: ناول، پاکستانی ادب

صفحات: ۱۶۳

ماہا ملک صاحبہ خواتین کے لئے چھپنے والے ڈائجسٹس کی ممتاز مصنفہ ہیں۔ آپ کے قلم سے کئی ناول نکل چکے ہیں اور ملک گیر شہرت حاصل کر چکے ہیں۔ آپ کے کئی ناولوں پہ ڈرامے بھی بنائے جا چکے ہیں۔’ جو چلے تو جان سے گزر گئے ‘ کی بھی ڈراماٹائزیشن ہو چکی ہے۔ یہ ماہا کے قلم سے نکلا ہوا کافی پرانا ناول ہے جس نےاس وقت مقبولیت کے بےپناہ ریکارڈ قائم کئے ۔ Continue reading 108- جو چلے تو جان سے گزر گئے از ماہا ملک

107-The reluctant fundamentalist by Mohsin Hamid

The reluctant fundamentalist by Mohsin Hamid

ReluctantFundamentalistمصنف: محسن حامد

صنف: ناول، پاکستانی ادب

زبان: انگریزی

صفحات: ۲۰۰

سن اشاعت: ۲۰۰۷

محسن حامد پاکستانی ادیب ہیں جنہیں سن ۲۰۰۰ میں لکھے اپنے پہلے انگریزی ناول ’موتھ اسموک‘ کی وجہ سے بہت شہرت حاصل ہوئی۔ آپ کا دوسرا ناول ’دی ریلکٹنٹ فنڈامینٹلسٹ‘ جو آج کا ہمارا موضوع ہے ، نے بھی کامیابی کے نئے جھنڈے گاڑے۔ گزشتہ سال آپ کا تیسرا ناول بھی منظر عام پہ آیا ہے اور اس نے بھی بہت مقبولیت حاصل کی ہے۔آپ کے ناولوں کو بکر پرائز کے لئے شارٹ لسٹ بھی کیا گیا ہے۔ ٓپ کے ناولوں پہ فلمیں بھی بنائی جا رہی ہیں ۔ محسن حامد نے اپنی آدھی سے زیادہ زندگی پاکستان اور خصوصاً لاہور میں گزاری ہے۔ تاہم آپ کا بچپن امریکی شہر کیلی فورنیا میں گزرا ہے۔ آپ نے ہاورڈ اور پرسٹن یونیورسٹی سے تعلیم بھی حاصل کی ہے۔ کتابستان آج آپ کی کتاب کا تعارف و تبصرہ پیش کرتے ہوئے خوشی محسوس کر رہا ہے۔ Continue reading 107-The reluctant fundamentalist by Mohsin Hamid

106- کان کن از علیم الحق حقی

کان کن از علیم الحق حقی

Kankun_Aleem-ul-Haq Haqqiمصنف: علیم الحق حقی

صنف: ناول، اردو ادب، پاکستانی ادب

صفحات: 179

ناشر: مکتبہ القریش، لاہور

کان کن علیم الحق حقی صاحب کی تحریر ہے۔ علیم صاحب کی کتب پہ پہلے بھی بات ہوئی ہے۔ آپ کو اگر ایک عوامی مصنف کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ آپ کی تقریباً تمام کتب ہی عوامی پسندیدگی کی سند پاتی ہیں۔ حقی صاحب کی اکثر کتب بین الاقوامی کتب سے متاثر شدہ یا ان کا ترجمہ ہوتی ہیں لیکن آپ ان اجنبی کرداروں اور ماحول کو دیسی انداز میں ڈھال لیتے ہیں۔ آپ کے لکھنے کا انداز سادہ اور سلیس ہے جس کی وجہ سے کہانی ایک عام قاری کے ذہن پہ پھسلتی جاتی ہے اور اسے کہانی اور کرداروں سے تعلق بنانے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔کان کن بھی ایک ایسی ہی کتاب ہے، ہمیں اس کتاب کے اصل کے بارے میں علم نہیں، اگر کوئی قاری اس بارے میں معلومات دیں گے تو ہم اسے اپنے تبصرے میں شامل کر لیں۔ Continue reading 106- کان کن از علیم الحق حقی

103- اندھیروں کے قافلے از خان آصف

اندھیروں کے قافلے از خان آصف

Andheron k kafleمصنف: خان آصف

صنف: تاریخی ناول، پاکستانی ادب، اردو ادب

صفحات: 455

قیمت: 600 روپے

ناشر: القریش پبلی کیشنز لاہور

ISBN: 9789696022114

خان آصف اسلامی تاریخ کے دریچوں سے کہانیاں نکال کے لانے کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔ آپ کے قلم سے کئی تاریخی ناول نکل چکے ہیں۔ آپ نے مسلمان اولیاء اور بزرگوں کی زندگی کے واقعات بھی دلچسپ کہانیوں کی صورت میں پیش کئے ہیں۔ آپ کی یہ تحاریر ہفت روزہ اخبار جہاں میں بڑی باقاعدگی سے چھپتی رہی ہیں جن میں سے اکثریت نے نا صرف بےپناہ مقبولیت حاصل کی بلکہ یہ دلوں میں ایمان کی گرمی جگانے کا باعث بھی بن گئیں۔ خان آصف صاحب کی مقبول کتب میں اللہ کے ولی، اللہ کے سفیر، دلوں کے مسیحا، سفیرانِ حرم، وغیرہ شامل ہیں۔ Continue reading 103- اندھیروں کے قافلے از خان آصف

100- سرخ فیتہ از قدرت اللہ شہاب

سرخ فیتہ از قدرت اللہ شہاب

Surkh Feetaمصنف: قدرت اللہ شہاب

صنف: افسانے، اردو ادب، پاکستانی ادب

صفحات: 239

کتابستان آج اپنے بلاگ پہ 100 ویں کتاب کا تعارف و تبصرہ پیش کرنے جا رہا ہے۔ یہ کتابستان کے سفر میں ایک سنگ میل ہے۔ اس سفر کے دوران ہماری کوشش رہی ہے کہ مختلف النوع کتب کے بارے میں بات کی جائے جو مذہب سے لے کے فکشن، بین الاقوامی ادب اور سائنس و ٹیکنالوجی کے میدانوں کی کتب کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ آج کے اس موقع پہ ہم آپ کے لئے ایک خاص کتاب پیش کر رہے ہیں جس کا عنوان ہے سرخ فیتہ اور یہ قدرت اللہ شہاب صاحب کی لکھی ہوئی ہے۔ Continue reading 100- سرخ فیتہ از قدرت اللہ شہاب

099-لگن از بشریٰ رحمٰن

لگن از بشریٰ رحمٰن

Lagan- Bushra Rehmanمصنفہ: بشریٰ رحمان

صفحات: 546

قیمت: 550 روپے

صنف: ناول؛ پاکستانی ادب

ناشر: خزینہء علم و ادب، لاہور

بشریٰ رحمٰن صاحبہ کے بارے میں پہلے بھی بات ہو چکی ہے۔ آپ ایک جانی مانی مصنفہ ہیں جن کے قلم سے کئی مشہور ناول اور افسانے نکل چکے ہیں۔ کتابستان میں آج جس کتاب کے بارے میں ہم بات کر رہے ہیں وہ آپ کا لکھا ہوا ایک مشہور ناول ہے جس کا عنوان ہے “لگن”۔ یہ وہی ناول ہے جس پہ پاکستان ٹیلی ویژن کے گولڈن زمانے میں ڈرامہ بنایا جا چکا ہے۔ اس دور میں اس ڈرامے نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کئے تھے جس میں ناول کی کہانی کا بڑا ہاتھ تھا۔ Continue reading 099-لگن از بشریٰ رحمٰن

098-من و سلویٰ از عمیرا احمد

من و سلویٰ از عمیرا احمد

manosalwa-titleمصنفہ: عمیرااحمد

صنف: ناول، پاکستانی ادب، اردو ادب

صفحات: 784

پاکستانی خواتین مصنفات کے ناولوں کا مطالعہ کرتے ہوئے موضوعات کی یکسانیت کا احساس ہوتا ہے۔ زیادہ تر کہانیاں کچھ موڑ مڑ کے ایک ہی رخ اور سمت اختیار کر لیتی ہیں۔ ناولوں کے پلاٹ میں نیا پن، کوئی اچھوتی بات کوئی منفرد کردار ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک فکری اور ذہنی جمود ہماری مصنفات کی تخلیقی صلاحیتوں پہ چھا چکا ہے اور دھند کی یہ لہر دبیز سے دبیز تر ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے فکری قحط کے دور میں کچھ مصنفات ایسی بھی ہیں جو بارش کے چھینٹے کی طرح ہیں۔ ان کا کام ایک تازہ ہوا کے جھونکے کی طرح ہے جو قاری کے دل اور روح کو جھنجوڑ دیتا ہے۔ اس کے دماغ کی تلاش کو مطمئن کر دیتا ہے۔ ہم گاہے بہ گاہے کتاباستان کے صفحات پہ ایسی خواتین مصنفات کا ذکر کرتے رہے ہیں۔ آج بھی ایک ایسی مصنفہ کی کتاب کا ذکر ہے جن کا نام ہی کافی ہے۔ عمیرا احمد، کتابستان میں سب سے زیادہ بات کی جانے والی مصنفہ ہیں۔ آپ کی کہانی منفرد اور اچھوتے موضوعات پہ مبنی ہیں۔ آپ کی سوچ اور فکر سے قارئین کو اختلاف ہو سکتا ہے تاہم یہ کسی بھی طرح آپ کے کام کی اہمیت کو کم نہیں کرتا۔ آج آپ کے جس ناول پہ بات ہوگی اس کا عنوان ہے “من و سلویٰ”۔ ہماری رائے میں من و سلویٰ عمیرا کا اب تک کا بہترین ناول ہے۔ بہت سے لوگ اس بات سے اختلاف کریں گے کیونکہ آپ کے لکھے ہوئے ناول “پیرِ کامل” کو عمومی پسندیدگی کی سند حاصل ہے اور ایسا ہونا بھی چاہئے، تاہم ایک مصنفہ کے طور پہ عمیرا صاحبہ من و سلویٰ میں اپنے فن کی بلندی پہ نظر آئی ہیں، آپ کی سوچ کا پختہ پن اس کہانی میں جھلک جھلک کے سامنے آیا ہے اور یہی ہماری رائے میں اس ناول کو آپ کے دوسرے ناولوں سے ممتاز کرتا ہے۔ Continue reading 098-من و سلویٰ از عمیرا احمد

097-Blasphemy by Tehmina Durrani

Blasphemy by Tehmina Durrani

کفر از تہمینہ درانی

Blasphemyنام ترجمہ: کفر

مصنفہ: تہمینہ درانی

مترجم: میجر آفتاب احمد

صنف: ناول، پاکستانی ادب

صفحات: 265

سن اشاعت:1999

ناشر: پینگوئن بکس، مطبوعہ فیروز سننز پرائیویٹ لمیٹڈ

تہمینہ درانی صاحبہ، پاکستان کے پہلے وزیر اعظم جناب لیاقت علی خان صاحب کی پوتی ہیں۔ آپ کا ادبی سفر آپ کی لکھی ہوئی کتاب “مائی فیوڈل لارڈ” سے شروع ہوا۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ “مینڈا سائیں” کے عنوان سے موجود ہے۔ یہ کتاب تہمینہ صاحبہ کی سوانح عمری ہے اس میں آپ نے اپنی شادی شدہ زندگی اور شوہر کے سلوک کی تفصیلات پیش کی ہیں۔ اس کتاب کو غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی اور آج بھی آپ کے حوالے کے طور پہ اس کتاب کا نام جانا جاتا ہے۔ تہمینہ نے اور کتب بھی لکھی ہیں جن میں جناب ایدھی صاحب کی سوانح حیات بھی شامل ہے۔ کتابستان میں آج جو کتاب شامل ہونے جا رہی ہے وہ سوانح حیات نہیں ہے بلکہ ایک ناول ہے۔ آپ نے یہ ناول انگریزی زبان میں لکھا تھا جو 1999 میں شائع ہوا۔ بعد میں اس کا اردو ترجمہ کفر کے عنوان میجر آفتاب احمد صاحب نے کیا اور یہ کتاب اب اردو زبان پڑھنے والے قارئین کے لئے بھی دستیاب ہے۔ Continue reading 097-Blasphemy by Tehmina Durrani

094- شہر دل کے دروازے از شازیہ چودھری

شہر دل کے دروازے از شازیہ چودھری

Shaher_e_dil_k_darwazeمصنفہ: شازیہ چودھری

صنف: ناول، اردو ادب، پاکستانی ادب

صفحات: 479

قیمت: 500 روپے

ناشر: مکتبہ عمران ڈائجسٹ، کراچی

کتابستان کا آج کا موضوع شازیہ چودھری صاحبہ کا تحریر کردہ ناول ہے۔ شازیہ چودھری صاحبہ کا بہت کم عمری میں انتقال ہو گیا، ہم ان کی مغفرت کے لئے دعا گو ہیں، یہی وجہ ہے کہ آپ کی زیادہ تحاریر موجود نہیں ہیں۔ شازیہ چودھری صاحبہ نے یہ ناول ایک ڈائجسٹ کے لئے لکھا تھا جس نے بےپناہ مقبولیت حاصل کی تھی، بعد ازاں اس ناول کو کتابی شکل میں بھی پیش کیا گیا ہے، ناول اخباری کاغذ پہ شائع کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اس کی قیمت زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ Continue reading 094- شہر دل کے دروازے از شازیہ چودھری

080-شب آرزو کا عالم از عنیزہ سید

شب آرزو کا عالم از عنیزہ سید

shab-e-arzoo ka alam by Aneez Syedمصنفہ: عنیزہ سید

صفحات: 138

صنف: ناولٹ، اردو ادب

عنیزہ سید صاحبہ کی کتب پہلے بھی کتابستان کی زینت بن چکی ہیں۔ آج بھی ہم ان کی ایک ایسی تصنیف لے کے آئے ہیں جس کی بنیاد انسانیت پہ رکھی گئی ہے۔ موجودہ نفسا نفسی کے اس دور میں مصنفہ نے اس کہانی اور اپنے کرداروں کے ذریعے انسانیت اور بھلائی پہ قاری کا یقین دوبارہ سے قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔

شب آرزو کا عالم ایک ناولٹ ہے جو ایک سے دو نشستوں میں باآسانی مکمل کیا جا سکتا ہے۔ یہ ناولٹ بھی ڈائجسٹ میں شائع شدہ ہے جسے بعد میں کتابی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ ناولٹ “کرن” کی کہانی ہے۔ Continue reading 080-شب آرزو کا عالم از عنیزہ سید

078- سفال گر از بشریٰ سعید

سفال گر از بشریٰ سعید

Safalgar-by-bushra-saeedمصنفہ: بشریٰ سعید

صنف: ناول، پاکستانی ادب

صفحات: 400

قیمت: 600 روپے

سن اشاعت: 2012

ناشر: القریش پبلی کیشنز، لاہور

ISBN: 978-969-602-046-2

بشریٰ سعید معروف لکھاری ہیں جن کے قلم سے نکلی ہوئی تحاریر باقاعدگی سے مختلف ڈایجسٹوں کی زینت بنتی رہتی ہیں۔ آپ کے قلم سے کئی ناول اور ناولٹ نکل چکے ہیں جن میں سفال گر کے علاوہ جذام، اماوس کا چاند، ہن بادل وار برس ڈھولا وغیرہ شامل ہیں۔ ہم نے کتابستان میں گزشتہ صفحات میں خواہش ظاہر کی تھی کہ پاکستانی خواتین مصنفات اپنے چند محدود موضوعات سے باہر نکلیں اور دیگر موضوعات کو بھی اپنا موضوع بنائیں۔ ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ ہم بشریٰ سعید صاحبہ کو ان مصنفات میں شامل کر سکتے ہیں جن کا لکھا ہوا، روایتی انداز سے ہٹ کے ہے۔ آپ کے موضوعات گرچہ مقامی ہیں لیکن ان کو پیش کرنے کا انداز بےحد عمدہ ہے۔ آپ کے معاملات کو دیکھنے کا نظریہ اور پیش کرنے کا انداز بہت منفرد ہیں اور یہی بات آپ کی تحریروں کو ایک ممتاز مقام دلاتی ہے۔ اور ہمیں امید ہے کہ مستقبل میں آپ ایک بڑی مصنفہ کے طور پہ مانی جائیں گی۔ Continue reading 078- سفال گر از بشریٰ سعید

077- جنت کی تلاش از رحیم گل

جنت کی تلاش از رحیم گل

Jannat-Ki-Talashمصنف: رحیم گل

صفحات: 440

صنف: ناول

رحیم گل مرحوم صاحب ایک معروف ادیب، اور ناقد تھے۔ آپ فلموں کی ہدایت کاری بھی کرتے رہے تھے۔ جنت کی تلاش آپ کے قلم سے نکلا ہوا آخری ناول ہے جس نے اپنے زمانے میں بہت مقبولیت حاصل کی۔ آج بھی ناول کی ہیروئن اپنے منفرد رویے کی بنا پہ کئی دلوں کی دھڑکن ہے۔

جنت کی تلاش، امتل کی کہانی ہے۔ امتل جسے مصنف نے ایک بےچین روح قرار دیا ہے۔ وہ ایک مضطرب لڑکی ہے جو ہر وقت سوالوں میں گھری رہتی ہے۔ ہر بات کی گہرائی میں جانا اور پھر وہاں سے ایک ایسا سوال نکال لینا جو سامنے والے کو لاجواب کر دے، امتل کے کردار کی بنیادی خوبی تھی۔ ناول کا دیباچہ احمد ندیم قاسمی صاحب نے لکھا ہے جو کسی بھی قسم کے تعارف کے محتاج نہیں۔ آپ نے اس ناول کو اپنے موضوع اور برتاؤ کی بنا پہ ایک منفرد ناول قرار دیا ہے۔ یہ بات کسی حد تک سچ بھی ہے۔ امتل کے کردار کی انفرادیت دراصل ناول کی انفرادیت ہے۔ مصنف نے اپنی زندگی کا نچوڑ اس کردار کی شکل میں پیش کیا ہے جو بیک وقت باریک بین بھی ہے اور ہر بات کی گہرائی میں اترنا بھی جانتا ہے۔ امتل اپنے دور کی ایک جینئس لڑکی ہے جو اپنے جینئس پن کی وجہ سے عام لوگوں میں مس فٹ ہو جاتی ہے۔ Continue reading 077- جنت کی تلاش از رحیم گل

074- دہشت گرد۔۔۔ ؟ از قمر عبداللہ

دہشت گرد۔۔۔ ؟ از قمر عبداللہ

Dehshat Gardمصنف: قمر عبداللہ

صفحات: 112

قمیت: 150 روپے

سن اشاعت: 2010

ناشر: ادارہ پنجابی لکھاریاں جیا موسیٰ شاہدرہ لاہور

قمر عبداللہ صاحب سے ہمارا پہلا تعارف اس کتاب کے ذریعے سے ہی ہوا ہے۔ تاہم کتاب میں آپ کے بارے میں ڈاکٹر اطہر قسیم صدیقی اور پروفیسر ارشد اقبال ارشد، ایڈیٹر ماہنامہ “لکھاری” لاہور کی رائے اور تعارف موجود ہے جسے پڑھ کے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ آپ کی پہلی تصنیف نہیں ہے بلکہ آپ کی مزید ادبی تخلیقات بھی موجود ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ جلد ہی ہمیں ان سے بھی آگاہی حاصل ہوسکے گی اور ہم کتابستان میں ان کے متعلق بھی گفتگو کر سکیں گے۔

دہشت گرد ایک ناولٹ ہے۔ 112 صفحات پہ مشتمل یہ ایک چھوٹی سی کہانی ہے جو ایک یا دو نشستوں میں باآسانی مکمل کی جا سکتی ہے۔ ناولٹ کا عنوان اس کے موضوع کے عین مطابق ہے۔ یہ آج کے دور کے سب سے سنگین مسئلے یعنی دہشت گردی سے متعلق ہے۔ تاہم عنوان کے ساتھ موجود سوالیہ نشان بہت اہم ہے کیونکہ یہ وہ سوال ہے جو مصنف اپنی کتاب کے قارئین سے کر رہے ہیں۔ ناولٹ میں ایک ایسے شخص کی کہانی پیش کی گئی ہے جسے میڈیا اور حکومت دہشت گرد قرار دے دیتے ہیں تاہم آیا وہ دہشت گرد تھا یا نہیں۔ اس کا فیصلہ قاری خود کرے گا۔ Continue reading 074- دہشت گرد۔۔۔ ؟ از قمر عبداللہ

073- چوتھی دنیا از احمد عقیل روبی

چوتھی دنیا از احمد عقیل روبی

Chauthi Dunyaمصنف: احمد عقیل روبی

صفحات: 143

چوتھی دنیا احمد عقیل روبی کے قلم سے نکلا ہوا ناولٹ ہے جس کو آپ نے ممتاز مفتی کے نام موسوم کیا ہے۔ احمد عقیل روبی ایک معروف ادیب ہیں۔ آپ مشہور قوال نصرت فتح علی کے بارے میں بھی کتاب لکھ چکے ہیں۔ آپ کے قلم سے نکلی ہوئی کتب سنجیدہ ادب کے زمرے میں آتی ہیں اس لئے عین ممکن ہے کہ کئی قارئین آپ کے کام سے ناواقف ہوں۔

چوتھی دنیا ایک ناولٹ ہے جس کا موضوع ایک ایسی جنگ عظیم جو دنیا سے انسانوں کے وجود کو ختم کردے، کے بعد کی صورتحال کی عکاسی ہے۔ آج کی دنیا میں تیسری دنیا کا ذکر کیا جاتا ہے یعنی موجودہ دور میں انسان پہلی، دوسری اور تیسری دنیا کی تقسیم میں بٹے ہوئے ہیں۔ تاہم اس قیامت خیز جنگ کے بعد جو دنیا بچے گی وہ چوتھی دنیا ہوگی۔ چوتھی دنیا طنزیہ انداز میں لکھا گیا ناول ہے۔ جس کے آغاز میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح پہلی اور دوسری دنیا نے ایک دوسرے کو تباہ کرنے کی خواہش میں دنیا ہی ختم کر دی۔ Continue reading 073- چوتھی دنیا از احمد عقیل روبی