128-The jewel of seven stars by Bram Stoker

The jewel of seven stars by Bram Stoker

زندہ ممی از مقبول جہانگیر

The jewel of seven stars by Bram Stokerمصنف: بریم اسٹوکر

ترجمہ: زندہ ممی

مترجم: مقبول جہانگیر

صنف: ناول، خوفناک ناول، انگریزی ادب

صفحات: 213

سن اشاعت: 1903

خوفناک کہانیوں کی جب بات کی جائے تو “ڈریکولا” سے سب ہی واقف ہوں گے۔ یہ ناول انگریزی ادب میں کلاسک کا درجہ رکھتا ہے۔ یہ مشہور ناول اور کردار آئرش مصنف “بریم اسٹوکر” کا تخلیق کردہ ہے۔ ڈریکولا کے علاوہ بھی اسٹوکر کے کریڈٹ پہ کئی ناول اور مختصر کہانیاں ہیں جن میں سے ایک پہ آج بات ہو رہی ہے۔ اس ناول کا عنوان ہے “دی جیول آف سیون اسٹارز” یعنی سات ستاروں کا زیور۔ اس ناول کا اردو زبان میں ترجمہ مقبول جہانگیر صاحب کی مہربانی سے ہم تک پہنچا ہے۔ اس ترجمے کا مطالعہ آج سے کوئی پندرہ سولہ سال قبل کیا گیا تھا، کتابستان کے لئے مضمون لکھتے ہوئے اسے دوبارہ پڑھنے کا موقع ملا اور اتنے طویل عرصے کے بعد پڑھنے کے بعد بھی اس ناول نے اتنا ہی لطف دیا جتنا کہ پہلی بار مطالعہ کے دوران محسوس ہوا تھا۔ یہ یقیناً مصنف کی مہارت اور موضوع کی دلچسپی ہے کہ یہ ناول کسی بھی زمانے میں پرانا محسوس نہی ہوتا وہیں یہ مترجم کی بھی کامیابی ہے کہ اس نے اردو زبان کے قالب ڈھالتے ہوئے ناول کی دلچسپی کم نہیں ہونے دی۔ Continue reading 128-The jewel of seven stars by Bram Stoker

Advertisements

119-The old man and the sea by Ernest Hemingway

The old man and the sea by Ernest Hemingway

بوڑھا اور سمندر از ارنسٹ ہمنگ وے

The old man and the seaمصنف: ارنسٹ ہمنگ وے

ترجمہ: بوڑھا اور سمندر

مترجم: ابن سلیم

صنف: ناول، امریکی ادب

سن اشاعت: 1952

ارنسٹ ہمنگ وے ایک نوبل انعام یافتہ امریکی مصنف اور صحافی تھے۔ آپ نے کئی ناول اور مختصر کہانیاں لکھی ہیں۔ “دی اولڈ مین اینڈ دی سی” جس کا اردو ترجمہ بوڑھا اور سمندر کے عنوان سے کیا گیا ہے، آپ کی لکھی ہوئی وہ تحریر ہے جس نے آپ کو نوبل انعام کا حقدار قرار دلوانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ آپ کا بہترین ناول شمار کیا جاتا ہے۔ اس ناول کو ادب کا پلٹزر انعام بھی دیا گیا ہے۔

بوڑھا اور سمندر ایک عمر رسیدہ مچھیرے کی داستان ہے۔ اس مچھیرے کا نام سان تیاگو تھا۔ ناول کی کہانی اس وقت شروع ہوتی ہے جب سان تیاگو سمندر میں مسلسل چوراسی دن تک ماہی گیری کرنے کے باوجود ایک بھی مچھلی پکڑنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ یہ انتہا درجے کی بدقسمتی تھی۔ اسی بدقسمتی کی وجہ سے اس کے شاگرد مینولن کے والدین نے اسے سان تیاگو کے ساتھ کام کرنے سے منع کر دیا تھا۔ Continue reading 119-The old man and the sea by Ernest Hemingway

109-یتی از کاشف زبیر

یتی از کاشف زبیر

Yatti by Kashif Zubairمصنف: کاشف زبیر

صنف: ناول، پاکستانی ادب

صفحات: ۱۳۲

ناشر: جاسوسی پبلی کیشنز لاہور، کتاب گھر ڈاٹ کام

یتی، بگ فٹ، آئس مین، برفانی آدمی یہ تمام نام ایک ہی مخلوق کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ انسانی نسل عرصے سے ایک ایسی مخلوق کی کہانیاں سنتی آئی ہے جو برفانی پہاڑوں پہ بستی ہے۔ بلند و بالا پہاڑوں کے نزدیک علاقوں میں رہنے والے کئی لوگوں نے برفانی آدمی کو دیکھنے کے واقعات کا ذکر کیا ہے خصوصاً کوہ ہمالیہ کے گرد و نواح میں رہنے والے لوگوں میں اس مخلوق کی کہانیاں بہت مشہور ہیں۔ برفانی انسان یا برفانی آدمی بین الاقوامی ادب میں ایک جانا مانا کردار ہے۔ بگ فٹ، یتی، آئس مین نامی کرداروں پہ مشتمل ایڈونچر، سسپنس تھرلرز وغیرہ اکثر منظر عام پہ آتے رہتے ہیں۔ پاپولر فکشن میں اس قدر مقبول ہونے کی وجہ سے سائنس دانوں اور ماہرین حیاتیات نے اس مخلوق کے سراغ کی بہت کوشش کی ہے لیکن تمام تر کوششوں کے باوجود ابھی تک برفانی انسان کی موجودگی کا کوئی حتمی ثبوت نہیں مل سکا۔ بہت سارے تحقیق کاروں کا خیال ہے کہ برفانی ریچھوں یا بھالوؤں کو ہی برفانی انسان سمجھنے کی غلطی کر لی جاتی ہے۔ یعنی برفانی انسان انسانی ذہن کی ایسی اختراع ہے جس کی ابھی تک تصدیق نہیں ہو سکی، اس کے باوجود بھی یتی کا کردار کہانیوں میں زندہ سلامت موجود ہے۔ جب برفانی انسان کے بارے میں دنیا بھر میں اتنی بحث جاری ہے تو ایسے میں پاکستانی مصنفین بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ کاشف زبیر ، جو ایک مشہور کہانی نویس ہیں، نے اسی موضوع پہ قلم اٹھایا ہے۔ انہوں نے اپنے ناول کا عنوان اسی مخلوق کے نام پہ رکھا ہے یعنی ’یتی‘۔ Continue reading 109-یتی از کاشف زبیر

106- کان کن از علیم الحق حقی

کان کن از علیم الحق حقی

Kankun_Aleem-ul-Haq Haqqiمصنف: علیم الحق حقی

صنف: ناول، اردو ادب، پاکستانی ادب

صفحات: 179

ناشر: مکتبہ القریش، لاہور

کان کن علیم الحق حقی صاحب کی تحریر ہے۔ علیم صاحب کی کتب پہ پہلے بھی بات ہوئی ہے۔ آپ کو اگر ایک عوامی مصنف کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ آپ کی تقریباً تمام کتب ہی عوامی پسندیدگی کی سند پاتی ہیں۔ حقی صاحب کی اکثر کتب بین الاقوامی کتب سے متاثر شدہ یا ان کا ترجمہ ہوتی ہیں لیکن آپ ان اجنبی کرداروں اور ماحول کو دیسی انداز میں ڈھال لیتے ہیں۔ آپ کے لکھنے کا انداز سادہ اور سلیس ہے جس کی وجہ سے کہانی ایک عام قاری کے ذہن پہ پھسلتی جاتی ہے اور اسے کہانی اور کرداروں سے تعلق بنانے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔کان کن بھی ایک ایسی ہی کتاب ہے، ہمیں اس کتاب کے اصل کے بارے میں علم نہیں، اگر کوئی قاری اس بارے میں معلومات دیں گے تو ہم اسے اپنے تبصرے میں شامل کر لیں۔ Continue reading 106- کان کن از علیم الحق حقی