Book Review, Non-Fiction, Pakistani, Urdu

163-خاموش نظارے از کائنات بشیر

خواتین مصنفات کا مہینہ

خاموش نظارے از کائنات بشیر

نام کتاب: خاموش نظارے

مصنفہ: کائنات بشیر

صنف: نان فکشن، سفر نامہ

صفحات: 295

سن اشاعت: 2019

ناشر: انہماک انٹرنیشنل پبلی کیشنز

قیمت: 600   روپے

ISBN: 978-969-9783-119-7Khamosh nazare by Kainat Bashir خواتین مصنفات کے مہینے میں اب تک ہم نے فکشن سے انتخاب پیش کیا ہے۔ تاہم اس سلسلے کی آخری کتاب کے لئے ہم نے نان فکشن کتاب کا انتخاب کیا ہے۔ کتابستان کے لئے کتاب منتخب کرتے وقت ہمارے پیش نظر مصنف کی جنس نہیں بلکہ بذاتِ خود وہ کتاب ہوتی ہے جس پہ بات ہو رہی ہوتی ہے اور الحمد للہ کتابستان میں مرد مصنفین کے ساتھ ساتھ خواتین مصنفین کی کتابیں بھی ایک بڑی تعداد میں پیش کی گئی ہیں۔ خواتین مصنفین کے سلسلے کے لئے کتابیں منتخب کرتے ہوئے ہمیں یہ معلوم ہوا کہ خواتین کی بڑی تعداد فکشن نگاری کے میدان میں کام کر رہی ہے۔ ان میں زیادہ تر ناول نگاری اور افسانہ نویسی میں قلم آزمائی کر رہی ہیں۔ شاعرات بھی موجود ہیں۔ تاہم نان فکشن کی کیٹیگری میں کم ہی خواتین کا کام موجود ہیں اور جو کام موجود ہے اس میں زیادہ تر کک بکس ہیں یا چند دیگر کتب۔ کتابستان میں بھی گرچہ مصنفات کا کام باقاعدگی سے پیش ہوا ہے لیکن وہ بھی زیادہ تر ناولوں اور افسانوں پہ مشتمل ہے۔ خواتین کی لکھی ہوئی نان فکشن تحاریر کم ہی ہیں تاہم ان میں سے چند کو یہاں اور یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔ اس وجہ سے یہ ہمارے لئے اہم تھا کہ ہم اس سلسلے میں کم از کم ایک نان فکشن تحریر ضرور شامل کریں اور اس کے لئے ہم نے جس زمرے کا انتخاب کیا ہے وہ ہے سفر نامہ۔

سفر نامہ اردو ادب کی جانی مانی صنف ہے۔ مستنصر حسین تارڑ کے سفر ناموں نے اس صنف میں ایک روح پھونک دی ہے۔ کئی دیگر مصنفین نے بھی سفرنامے تحریر کئے ہیں۔ ساتھ ہی حج اور عمرے کے سفرنامے قلم بند کرنے کی طرف بھی اردو مصنفین متوجہ رہے ہیں۔ ایسے سفر نامے یہاں اور یہاں دیکھے جا سکتے ہیں۔ تاہم اس میدان میں خواتین خال خال ہی ہیں۔ مشہور کک کوکب خواجہ صاحبہ نے چند سفرنامے تحریر کئے ہیں۔ اس کے علاوہ چند اور خواتین نے اس صنف میں قسمت آزمائی ہے۔ جس سفرنامے کی ہم آج بات کر رہے ہیں اس کا عنوان ہے خاموش نظارے اور اس کی مصنفہ ہیں کائنات بشیر۔کائنات بشیر صاحبہ پاکستانی نژاد جرمن مصنفہ ہیں۔ خاموش نظارے آپ کی پہلی کتاب نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے آپ کی مائکرو فکشن پہ مبنی کتب زمزۂ ادراک، اور چاند اور صحرا بھی پبلش ہوچکی ہیں۔ خاموش نظارے آپ کے کینیڈا کے ذاتی سفر کی روئیداد ہے جسے آپ نے سفرنامے کا روپ دیا ہے۔ یہ سفر نامہ سپین کے پاک سہارا انٹرنیشنل میگزین میں تین سال تک باقاعدگی سے شائع ہونے کے بعد کتابی شکل میں بھی پیش کیا گیا ہے۔

کتاب کے سرورق پہ لینڈنگ کرتے ہوئے ایک ہوائی جہاز کی تصویر ہے جس کے نیچے شہر کی روشنیاں نظر آ رہی ہیں۔ غالباً اس سے مراد کینڈا میں آمد ہے کیونکہ اس سفر نامے کا آغاز مصنفہ کے کینیڈا کے سفر کی تیاریوں اور جرمنی سے کینیڈا کے ہوائی سفر سے ہی ہوتا ہے۔ اس کتاب کا انتساب مصنفہ اپنے اس شوق کے نام کیا ہے جو انہیں لوگوں، ملکوں اور فطرت کے درمیان لے جاتا ہے۔ حرفِ آغاز میں مصنفہ لکھتی ہیں؛

“سفر کرنا، دنیا کی خاک چھاننا، دنیا والوں کی تلاش میں نکلنا اور ان کے کام کاج سے آگاہی حاصل کرنا کچھ زندہ دل لوگوں کا من پسند پروگرام ہے جو اپنے بستر، تکیے کو چھوڑ کر نہ صرف خود کا ظرف آزماتے ہیں بلکہ نئی جگہوں، نئے لوگوں، منفرد ثقافت اور کہیں نہ کہیں فطرت سے جا جڑتے ہیں۔ کسی ایڈونچر، خوبصورتی کی آڑ میں خوب سے خوب تر کو پانے کی جستجو انہیں متحرک رکھتی ہے۔ پھر وہ اپنے دن اور رات تیاگ کر نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ سو کہیں نہ کہیں میں بھی انہی لوگوں کا حصہ ہوں”۔

خاموش نظارے مصنفہ کے کینیڈا کے ذاتی سفر کی روائیداد ہے۔ جس میں ان کے ہمراہ ان کے میزبان بھی موجود ہیں۔ اس سفر نامے میں جہاں ہمیں ہماری روایتی مہمان نوازی کی جھلک نظر آتی ہے جو بطور پاکستانی ہم سب کی گھٹی میں ہے وہیں ایک اچھے مہمان بننے کے اصول بھی قلم بند ہیں۔ ہمیں مصنفہ کی یہ بات خاص طور پہ پسند آئی کہ انہوں نے مہمان بننے کے اصول جگہ جگہ بیان کئے ہیں۔ یہ ہمارے لئے ایک آئی اوپنر کا کام دے سکتے ہیں۔ بہت دفعہ لوگ بےدھیانی میں میزبان کے لئے مشکل کا سبب بن جاتے ہیں اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں مہمان بننے کے آداب سکھائے نہیں جاتے۔ یہ ایسا موضوع ہے جس پہ شاید کبھی کسی کا دھیان بھی نہیں جاتا۔ لیکن اس سفرنامے میں ایسے اصول کھول کھول کر بیان کئے گئے ہیں جو مصنفہ کی باریک بینی اور توجہ سے کام کرنے کی صلاحیت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ جیسے ایک مقام پہ مصنفہ لکھتی ہیں؛

“ہم ان لوگوں میں نہیں آتے جو یہ سوچتے ہیں کہ خیر ہے تب کی تب دیکھی جائے گی۔ اور پھر بے تکلفی سے میزبان کی جرسی پہنے ہوتے، شال اوڑھے ہوتے اور اسی کے جوتے پہن کر اسی کے گھر دندناتے پھرتے۔بھئی۔۔۔ پھر اس طرح ہماری اپنی پہچان تو کسی طاق پہ جا پڑنی تھی نا۔ واللہ، یہ ہمیں قطعاً منظور نہ تھا”۔

نیز

“پھر ہم ان لوگوں کی فہرست میں بھی نہیں آتے جو میزبان کی رسمی سی آفر پر اپنے کپڑے استری کرنے کے لئے اس کے حوالے کر دیتے ہیں۔۔۔ شکر اوپر والے مولا کا، جس نے ہمیں یہ عقل و فراست سی کہ اپنے کام بندے کو خود کرنے چاہیں”۔

کتاب کا عنوان “خاموش نظارے” غالباً مصنفہ کی خاموشی سے آبزور کرنے کی صلاحیت سے لیا گیا ہے جس کا مظاہرہ اس سفر نامے میں جگہ جگہ ہے۔ ان کا مشاہدہ کمال کا ہے۔ مصنفہ واک کرنے اور کتابیں پڑھنے کی شوقین ہیں اس سفر نامے کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ایک خاتون کی نگاہ سے نظر آنے والے کینیڈا کی عکاسی ہے اس وجہ سے یہ دیگر سفر ناموں سے خاصا مختلف ہے۔ اس سفر نامے میں جہاں کینیڈا کی تاریخ ہے، جغرافیائی اہمیت کا بیان ہے، مشہور مقامات کا ذکر ہے وہیں اس کی خاص بات وہاں رہنے والی پاکستانی کمیونٹی کی زندگی کی تصویر کشی ہے۔ دیارِ غیر میں ان کی زندگیاں، معمولات، خوشیاں اور ثقافت سے جڑے رہنے کی کہانیاں ہیں۔ انہوں نے کینیڈا میں بسنے والے پاکستانیوں کی زندگی کی ایسی عمدہ منظر کشی کی ہے کہ یہ صرف سفر نامہ نہیں رہتا بلکہ کینیڈا جانے کے خواہشمند افراد کے لئے ایک گائیڈ کا روپ بھی دھار لیتا ہے۔اس سفر نامے میں گھریلو احساس ہے۔ یہ سفر نامہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی باہر سے نہ نظر آنے والی اس اندرونی زندگی کی تصویر ہے جو ایک ایسے سیاح کی نظر سے اوجھل رہتی ہے جو گھر، گھریلو زندگی اور اس کے جھمیلوں سے آزاد ہو۔ یہی اس سفر نامے کی انفرادیت ہے۔ روز مرہ زندگی کی عام سی باتیں جب مصنفہ کے قلم سے نکلتی ہیں تو جادوئی بن جاتی ہیں، جیسے ایک مقام پہ وہ ہائی رائز بلڈنگ کے اپارٹمنٹ اور ذاتی گھر کے تقابل کو یوں بیان کرتی ہیں؛

“یہاں اپنے گھروں میں رہنے والے لوگ بہت مطمئن اور خوش باش ہوں گے۔ آسودہ حال بھی ہوتے ہوں گے۔ لیکن بات وہی ہے کہ سب کو سب کچھ نہیں ملتا۔ وہ مانیں یا نہ مانیں، اپنے ذاتی گھروں میں رہ کر انہیں باربی کیو کا خوب مزا آتا ہوگا۔ بڑے بڑے گھر۔۔۔ پھولوں بھرے باغیچے۔۔۔ پر ایک ہائی بلڈنگ سے نظر آتے خوبصورت، دلکش، پیارے مناظر ضرور ان کی پہنچ سے دور ہو جاتے ہیں۔ وہ منظر جو شیشے کی وال ٹو وال ونڈو یا بالکونی سے ایک چائے کا کپ پیتے ہوئے نظر آئے، جس پر ایک پوری شام لٹائی جا سکتی ہو۔ وہ چاند جو اتنا قریب لگے کہ اسے ہاتھ بڑھا کر چھو لیا جائے۔ کھڑکی کے ذریعے کمرے میں اتر آئے۔ جس کی نرم ٹھنڈی چاندنی بستر پر آ کر تن من بھگو دے۔۔۔ پھر دور تک نظر آتی وہ روشنیاں جو ہر رات کو انوکھا منظر پیش کرتی ہیں۔ رات کی خاموشی جن پر اپنا سحر پھونکتی ہے۔ جب بارش بوندیوں کی صورت برستی ہے، تو ایسا لگتا ہے جیسے موتیوں کی لڑیاں ٹوٹ کر زمین کے تھال پہ بکھر رہی ہوں۔ رات میں بارش کی برستی بوندیں جس طرح منظر کو بھیگا بھیگا جھلملا دیتی ہیں۔۔۔ اس کا کوئی مول نہیں۔۔!”۔

کائنات صاحبہ کا انداز عام فہم ہے، جملے سادہ ہیں اور قلم میں روانی ہے۔ پڑھتے ہوئے کسی قسم کی ذہنی الجھن پیدا نہیں ہوتی اور چند ہی گھنٹوں میں سینکڑوں صفحات پڑھ لئے جاتے ہیں۔ کچھ جملے بہت ہی دلچسپ ہیں۔ جیسے ؛

“اللہ، کینیڈا۔۔۔کنیڈا۔۔۔کناڈا۔۔ کو اس کے امریکی ہمسائیوں کی نظروں سے بچائے۔ آمین”۔

مصنفہ کی خوش مزاجی تمام تحریر ہی حاوی ہے جس کے مطالعے کے بعد قاری کے مزاج پہ بھی اچھا اثر پڑتا ہے۔ وہ خود کو اس جادوئی دنیا کا حصہ سمجھنے لگتا ہے جس میں مصنفہ ہیں اور ان کے خوش مزاج میزبان ہیں۔ اس کتاب میں ایک سو سترہ چھوٹے چھوٹے ابواب ہیں جو غالباً میگیزین میں ہفتہ وار چھپنے والے مضامین ہیں جو تین سال کے عرصے میں لکھے گئے ہیں۔ یہ مصنفہ کی مستقل مزاجی کو ظاہر کرتا ہے جنہوں نے ایک طویل عرصے تک اس سفر نامے کو تحریر کیا ہے۔ ہمیں اس کتاب میں تصویروں کی کمی محسوس ہوئی اگر کائنات صاحبہ اس سفر نامے میں کچھ تصاویر بھی شامل کر دیتیں تو اس کی خوبصورتی میں چار چاند لگ جاتے۔ ہمیں امید ہے کہ یہ کتاب اپنے ہلکے پھلکے اور دلچسپ انداز کی وجہ سے اپنے قارئین میں ضرور پسند کی جائے گی۔

کتاب سے چند اقتباسات پیش ہیں؛

“ایر ہوسٹس ہر بار جو اچانک ناگہانی حالات سے نپٹنے کا مظاہرہ کرتی ہے وہ بھی اتنی بار دیکھ چکے ہیں کہ ازبر ہو چکا ہے۔ کبھی کبھی تو دل کرتا ہے کہ اسے کہہ دیں، “بی بی جو یہ تم بادل نخواستہ روبوٹ کی طرح کرکے دکھا رہی ہو۔ خوب تھک چکی ہوگی۔ کبھی ہمیں بھی موقع دو۔ آزما کر دیکھو۔ تم سے زیادہ جذبِ دل سے مسافروں کو کرکے دکھائیں گے”۔

مزید

“میں جہاں بھی جاؤں، جس ملک بھی جاؤں۔۔۔ جس طرح سورج، چاند، ستارے میرے سنگ چلتے ہیں۔۔۔ ویسے ہی مجھے فطرت بھی اپنے ہمراہ محسوس ہوتی ہے۔ نئی نئی جگہیں دیکھنے کو ملی ہیں اور مجھے انہیں قریب سے دیکھنے اور ان کے سنگ وقت گزارنے کا وافر موقع بھی ملا۔ سو مجھے لگتا ہے، پانی، پہاڑ، درخت، پھول، پودے، دریا، آسمان، سرسراتی ہوائیں، بادل، ان رنگوں کی اپنی ایک کہانی ہے، اپنا فسانہ ہے، جسے محسوس کرکے ان کی دلفریبی سے متاثر ہوا جا سکتا ہے اور روح کو وتسکین پہنچانے کا پورا ساماں موجود ہے۔ اگر ان پر ذرا سی بغور نظر ڈالی جائے تو یہ فطرت اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے اور فطرت سے جڑ کر بندہ کائنات اور پھر سیدھا اللہ کی ذات سے جا جڑتا ہے”۔

مزید،

“پلاسٹک کے پھول تو ایشیائیوں کی نشانی بن کر رہ گئے ہیں۔ جس میں بلاتفریق پاکستانی، انڈین، ایرانی، افغانی، بنگالی اور مختلف قومیتوں کے لوگ نظر آتے ہیں۔ جو اصل پھولوں کی خوشبو سونگھنے، آنکھوں کو ترواٹ دینے اور گھر کےا ندر اصل ہریالی کو ترجیح دینے کی بجائے پلاسٹک کے پھولوں سے سجا لیتے ہیں۔ سستی کے مارے، صرف اس لئے کہ اصل پھولوں پودوں کو پانی دینا پڑے گا، ان کی گوڈی کرنی پڑے گی، وقتاً فوقتاً نئی کھاد ڈالنی پڑے گی۔ کبھی کبھی کیڑا مار دوائی ان پر چھڑکنا ہوگی۔۔۔ کبھی ان کی تراش خراش کرنا ہوگی اور مرجھانے کی صورت میں ڈاکٹر کی طرح ان کی دیکھ ریکھ کرنی ہوگی۔ جبکہ خود ہمسائے کے باغیچے میں لگی رات کی رانی کی خوشبو سونگھتے پھریں گے”۔

اس کتاب کی پیش کش انہماک پبلی کیشنز کی ہے جو کتابت کی دنیا میں ایک جانا مانا نام ہے۔ تاہم اس کتاب میں چند جگہ غلطیاں ہیں۔ غالباً کی بورڈ کا حرف “ایس” صحیح کام نہیں کر رہا جس کی وجہ سے کائنات بشیر کا ای میل غلط معلوم ہوتا ہے۔ اسی طرح کتاب کی پچھلی سمت میں جہاں آئی ایس بی این نمبر لکھا گیا ہے وہاں بھی “ایس” موجود نہیں۔ اسی طرح کتاب کے عنوانات کی فہرست میں جہاں ہر عنوان کے بعد ایک لائن ہے وہیں کئی جگہوں پہ یہ لائن موجود نہیں۔ جس سے کتاب کا حسن متاثر ہوتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کتاب کی تیاری جلد بازی میں کی گئی ہے اور کتابت کی غلطیاں چیک کرنے میں کسر رہ گئی ہے۔ مطالعے کے دوران صفحات جلد ہی مڑنا شروع کر دیتے ہیں جس سے کاغذ کے ہلکے ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ نیز ہلکے کاغذ کی وجہ سے ایک صفحے کی لکھائی اس کی پچھلی سمت پہ بھی نظر آتی ہے۔ ایسا غالباً کتاب کی قیمت کم رکھنے کے لئے کیا گیا ہے تاکہ یہ عام قاری کی پہنچ میں رہے۔ گذشتہ کچھ سالوں سے جہاں مصنفات کی کتب چھپنے کا ایک بڑا رواج شروع ہوا ہے وہیں کتابت کے معیار میں بہت کمی آئی ہے۔ اب کتابوں کی دکانوں پہ کتابوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، ناشران کی تعداد میں ایک بڑا اضافہ سامنے آیا ہے وہیں کتابوں کے معیار میں کمی بھی دیکھنے کو ملی ہے۔ کتابت میں املأ کی اغلاط، صفحات نمبروں کی غلطیاں اور کاغذ کے معیار میں کمی عام دیکھنے میں آتی ہے۔ قسط وار شائع ہونے والے کئی ناول کتابوں میں بھی قسط وار کے ہی انداز سے شائع کر دئے جاتے ہیں جن میں ہر قسط کے اختتام پہ “بقیہ حصہ اگلے ماہ ملاحظہ کیجئے” جیسے جملے نکالنے کی زحمت بھی نہیں کی جاتی۔ ہر قسط صفحہ نمبر ایک سے ہی شروع کر دی جاتی ہے اور اس طرح ایک ہی کتاب میں صفحہ نمبر ایک کئی بار موجود ہوتا ہے اور صفحات نمبر دہرائے جاتے رہتے ہیں۔ یہاں ہمارا مقصد برائی پیش کرنا نہیں بلکہ توجہ دلانا ہے تاکہ بہتری کی سمت میں سفر کیا جا سکے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ناشران اپنی ذمہ داری توجہ سے نبھائیں گے اور کتابوں کے معیار کو بہتر کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

تشریف آوری کے لئے شکر گزار ہوں۔ ہمیشہ خوش رہیں اور اپنی نیک دعاؤں میں یاد رکھیں۔

آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

نوٹ: بلاگ میں نیلا رنگ کتاب سے لئے گئے اقتباسات کو ظاہر کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s