Book Review, Fiction, Horror, Pakistani literature, Romance, Supernatural, Urdu

161-کھجور کا درخت از وجیہہ سحر

خواتین مصنفات کا مہینہ

کھجور کا درخت از وجیہہ سحر

نام کتاب: کھجور کا درخت
مصنفہ: وجیہہ سحر
صنف: ناول، رومانوی، غیر مرئی، خوفناک
ناشر: حق پبلی کیشنز، لاہور

Khajoor-Ka-Darakht-By-Wajiha-Sehar
انسان اس زمین پہ رہنے والی واحد مخلوق نہیں ہے۔ چرند پرند، درخت بھی ہیں جو انسان کے ساتھ ہی اس دنیا میں آباد ہیں۔ اسی طرح کائنات میں زندگی کے اور روپ بھی موجود ہیں۔ قرآن پاک میں انسانوں کے علاوہ فرشتوں اور جنوں کا بھی ذکر موجود ہے جو ماورائی اور غیر مادی مخلوقات کی موجودگی کی تصدیق کرتا ہے۔ فرشتے خطا سے معصوم ہیں جبکہ جنات میں اچھے بھی ہیں اور شرارتی بھی۔ ہمارے ہاں اکثر اس طرح کی باتیں سننے میں آتی ہیں جن کے مطابق کسی لڑکی یا عورت پہ جن عاشق ہو گئے ہوں۔ جدید میڈیکل سائنس کی مدد سے اکثر اس طرح کے معاملات کی عقلی توجیہہ کی جا سکتی ہے۔ دنیا بھر کے قصوں میں غیر مرئی مخلوقات کےصنفِ نازک پہ عاشق ہونے کی کہانیاں موجود ہیں۔ کسی جگہ یہ ظالم دیو ہوتے ہیں، کسی جگہ شیطان اور کہیں کوئی بدروح۔ بہت سے مواقع پہ یہ نیک روح اور نیک جن بھی ہو سکتے ہیں۔ اسی لئے فینٹسی تحاریر میں اس طرح کے قصے ملتے ہیں جن میں غیر مرئی کردار ہوتے ہیں۔کتابستان میں خواتین مصنفات کے مہینے میں آج ہم جو کتاب لے کے آئے ہیں وہ اسی زمرے سے تعلق رکھتی ہے اس کا عنوان ہے کھجور کا درخت اور اسے وجیہہ سحر نے تحریر کیا ہے۔ یہ ناول ہفت روزہ فیملی میگزین میں شائع ہونے کے بعد کتابی شکل میں بھی پیش کر دیا گیا۔ کچھ تو ہم نے تعارفی پیراگراف میں بتا دیا ہے اور کچھ پردہ کشائی کتاب کے سرورق سے ہو جاتی ہے جہاں وضاحت سے اس کے خوفناک اور پراسرار ہونے کا ذکر ہے۔ یعنی ناشر اور مصنفہ اس کو ڈراؤ نے اور خوفناک ناولوں کے زمرے میں رکھ رہے ہیں۔ تاہم ہمارے نزدیک یہ ایک رومانوی ناول ہے جس کا ایک فریق غیرزمینی ہے ۔

ناول کے دیباچے میں مصنفہ لکھتی ہیں،
“میرے ناول کی ہیروئن حجاب جو دل میں سچی اور بےلوث محبت رکھتی ہے، محبت کی مشعل لے کر راہ زیست پر نکلی ہے۔ اسے اس محبت کے بدلے میں کیا ملتا ہے اس کے لئے یہ ناول پڑھیں۔ ایک طرف تو مطلب پرست رشتوں کی کہانی ہے اور دوسری طرف ایک آسیب اذہاد کے عشق کی جو ماورائی قوتوں اور آتشی جسم کے حامل ہونے کے باوجود حجاب کے لئے ہر وہ روپ دھارتا ہے، جس کی جب جب حجاب کو ضرورت ہوتی ہے۔ جو شعور سے لے کر لاشعور تک اس کی روح میں حلول ہو جاتا ہے۔ یہ ناول پڑھ کے شاید آپ تھوڑی دیر کے لئے اس دنیا سے بےخبر ہو جائیں۔ کہیں سنسناہٹ کے جھٹکے آپ کو خوفزدہ کر دیں گے اور کہیں اذہاد کے رومانوی کردار میں آپ خود ہی کھو جائیں گے”۔

ناول کے اہم کردار یہ ہیں؛
حجاب: یہ ناول کی ہیروئن ہے جو تین بہنوں میں سب سے بڑی ہے۔ وہ گھر کے باہر جامن کے درخت پہ بندھے جھولے کو جھولنے کی شوقین ہے۔ اپنے والد کے انتقال کے بعد حجاب گھر کی ذمہ داریاں اٹھانے کے لئے سکول میں ملازمت اختیار کر لیتی ہے۔
اذہاد: یہ ناول کا ہیرو ہے اور غیر مرئی مخلوق ہے۔ یہ مخلوق حجاب پہ عاشق ہے۔
ناول کے دیگر کرداروں میں حجاب کی والدہ، اس کی بہنیں اور دیگر شامل ہیں۔

ناول کا عنوان “کھجور کا درخت” دراصل وہ جگہ ہے جہاں یہ غیر مرئی یا آسیبی مخلوق رہتی تھی۔ یہ ایک قدیم کھجور کا درخت تھا جس کے متعلق طرح طرح کی کہانیاں مشہور تھیں۔ یہ درخت، حجاب کے جھولے سے ذرا ہی دور تھا۔ یہیں سے اذہاد کا حجاب کے لئے عشق شروع ہوا۔ جس کے نتیجے میں حجاب کے ساتھ پراسرار واقعات پیش آنے لگتے ہیں اور وہ ایک خواب بار بار دیکھنے لگ جاتی ہے۔ اس خواب کی تفصیل ناول میں یوں بیان کی گئی ہے؛
“حجاب نے قوالی پڑھنے والوں کی طرف دیکھا تو اس کے جسم میں ارتعاش کی لہر دوڑ گئی۔ سفید قمیض میں ملبوس ایک نوجوان قوالی کی دھن پر گھٹنوں کے بل بیٹھا اپنے سر کو گھماتے ہوئے جھوم رہا تھا۔ اس کے بال اس کے شانوں تک تھے۔ وہ اس قدر مست جھوم رہا تھا کہ کوئی اس کو مسلسل دیکھے تو خود چکرا جائے۔
اس نوجوان نے حجاب کی طرف نہیں دیکھا۔ وہ تو بس مست تھا لیکن اس میں کچھ ایسی بات تھی کہ حجاب کھنچتی ہوئی اس کی طرف چلی گئی۔ حجاب اس کے پاس کھڑی ہوگئی۔ وہ نوجوان ساکت ہو گیا۔ اس نے سر اٹھا کر حجاب کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں طلسم تھا، عقیدت کا نور تھا، کسی جنون کی چمک تھی، ایسی گہرائی تھی کہ انسان ان میں کھو کے دنیا تیاگ دے۔
گورے چہرے میں بےترتیب گرے ہوئے سیاہ بالوں میں وہ بہت خوبصورت دکھائی دے رہا تھا۔ حجاب کی نظریں اس کے چہرے پر ہی ٹھہر گئی۔
دیکھنے میں تو کسی ریاست کا شہزادہ لگتا ہے اور کس طرح فقیر کی طرح مست ہے۔ حجاب نے من میں کہا۔ نوجوان نے اپنے دونوں ہاتھ کشکول کی طرح حجاب کے آگے پھیلا دئیے”۔

حجاب کی والدہ ان پراسرار واقعات کو محسوس کرتے ہوئے حجاب کے روحانی علاج کی طرف توجہ کرتی ہیں۔ وہ یہ جاننے میں کامیاب ہو جاتی ہیں کہ حجاب پہ ایک آسیب عاشق ہے لیکن وہ اس آسیب کے خلاف کچھ نہیں کر پاتیں۔ اسی دوران والد کے انتقال کے بعد حجاب پہ پورے گھر کی ذمہ داریاں آ جاتی ہیں۔ وہ دن رات کرکے گھر کا خرچہ پورا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔اذہاد انسانی روپ اختیار کرکے ان کے گھر میں کرائے دار بن جاتا ہے۔ اس کا برتاؤ بالکل گھر کے ایک فرد کی طرح تھا اور وہ ایک بیٹے کی طرح حجاب کی والدہ کی مدد کرتا ہے۔ حجاب اذہاد سے انسیت محسوس کرتی ہے اور اسے اپنا اچھا دوست سمجھتی ہے۔ کچھ واقعات کے نتیجے میں اذہاد کے جن ہونے کی اصلیت کھل جاتی ہے۔ حجاب کی والدہ ایک پیر صاحب کو بلاتی ہیں تاکہ وہ اس معاملے میں ان کی مدد کریں۔ پیر صاحب انہیں بتاتے ہیں کہ وہ جن اصل میں ان کے خاندان کی مدد کر رہا ہے۔لیکن وہ کہتی ہیں کہ اس جن کو ان کے خاندان سے دور کر دیا جائے۔
پیر سبحان نے اس کے قریب جا کر پوچھا۔
“کون ہو تم؟”
حجاب پیر سبحان کو گھورے جا رہی تھی۔ اس نے کوئی جواب نہ دیا۔
پیر سبحان ایک بار پھر گرج دار آواز میں چلائے۔
“میں پوچھ رہا ہوں کہ کون ہو تم۔۔۔؟”
حجاب مردانہ آواز میں بولی۔
“اذہاد”۔
“اذہاد، میں تمہیں کسی قسم کی اذیت دینا نہیں چاہتا۔۔۔”۔
ابھی بات سائیں کے منہ میں ہی تھی کہ حجاب چلائی۔
“تم مجھے حجاب کے بدن میں کیوں لائے، کیسے عامل ہو، کیا نہیں جانتے کہ حجاب گھائل ہو جائے گی”۔

اذہاد، حجاب سے سچی محبت کرتا تھا اور اسے اس بات کا احساس تھا کہ حجاب کے وجود کو اس کے جسم سے نقصان پہنچ سکتا ہے اس لئے وہ اس پہ قابض نہیں تھا۔ اور اس نے حجاب کو کسی طرح کا نقصان نہیں پہنچایا تھا۔ حجاب کو اچھی تنخواہ پہ ایک دوسرے شہر میں نوکری ملی تو وہ وہاں چلی گئی اور ہاسٹل میں رہنے لگی۔ اس پہ بہنوں کی شادی کی ذمہ داری تھی۔اس وجہ سے اس کی اپنی شادی کی بات پیچھے رہ گئی۔ لیکن اس کی بہنوں کو اس کی قربانی کا بالکل احساس نہیں تھا۔ وہ خود غرض اور بےحس تھیں۔ انہیں صرف ان پیسوں سے غرض تھی جو حجاب کماتی ہے۔ حجاب اس صورتحال پہ کبھی کبھی دل برداشتہ ہوجاتی۔ ایسے مواقع پہ وہ دل سے اذہاد کو یاد کرتی اور وہ انسانی روپ اختیار کرکے اس سے ملنے آتا۔ وہ اس کا بہترین دوست تھا۔ حالات کے پیچ و خم میں حجاب اپنی شادی کے لئے ہاں کہہ دیتی ہے۔ اذہاد اسے منع کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ وہ رشتہ اس کے قابل نہیں۔ لیکن حجاب نہیں سنتی۔ اس پہ اذہاد ناراض ہو جاتا ہے اور اپنا انسانی روپ ترک کرکے اپنے آبائی قبیلے میں واپس چلا جاتا ہے۔

وجیہہ سحر صاحبہ کا یہ پہلا ناول ہے جو ہم نے پڑھا ہے۔ یہ سادے انداز میں لکھا گیا ہے جس میں غیر ضروری لفاظی، تصویر کشی، کردار نگاری وغیرہ موجود نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے یہ کچھ کچھ بے رنگ اور پھیکا محسوس ہوتا ہے۔ تاہم مصنفہ کے قلم میں روانی ہے۔ سادگی کی وجہ سے یہ ناول عام فہم ہے کہانی ذہن کے کینوس پہ پھسلتی چلی جاتی اور کسی بھی مرحلے پہ سمجھنے میں دشواری نہیں ہوتی۔ ابتدا میں اذہاد کا روپ کچھ خوفناک اور خطرناک دکھایا گیا ہے۔ قاری ناول کے ابتدائی حصے میں پیش آنے والی دو اموات کا تعلق اذہاد سے جوڑتا ہے لیکن جیسے جیسے ناول آگے بڑھتا ہے اذہاد کے جذبے کی سچائی سامنے آتی جاتی ہے جو کسی بھی قسم کی نفسانی خواہش سے پاک تھا۔ وہ محتاط تھا کہ اس کا ناری وجود حجاب کو جھلسا نہ دے اس لئے وہ کبھی اس کے جسم میں داخل نہیں ہوا۔ اتنے محتاط اور خیال کرنے والے اذہاد کے بارے میں یہ سوچنا مشکل ہے کہ وہ ناول کے ابتدائی دو قتل میں ملوث ہے۔ تاہم مصنفہ کا قلم اس بارے میں خاموش ہے اور قاری اندازے لگاتا رہ جاتا ہے۔ مصنفہ کے دعوے کے برخلاف یہ ناول دہشتناک اور خوفناک بھی نہیں ہے بلکہ محبت سے بھر پور ہے۔ لیکن یہ رومان ہوس و خواہشات کے حصول کی رو میں نہیں بہتا بلکہ سچا اور بےلوث رہتا ہے۔ جہاں اذہاد، حجاب پہ قبضہ جمانے کی کوشش نہیں کرتا وہیں حجاب، اذہاد کی طاقتوں کو دنیاوی دولت و آسائشیں حاصل کرنے کے لئے استعمال نہیں کرتی، یعنی مختلف دنیاؤں سے تعلق رکھنے کے باوجود دونوں مرکزی کردار کھرے اور سچے تھے اور یہی اس ناول کی خاص بات ہے۔ اس ناول کو پڑھتے ہوئے ہمیں کورس کی کتاب میں پڑھی ہوئی رابرٹ براؤننگ کی نظم “ون وے آف لو” یاد آئی جس میں عاشق اپنے معشوق کی محبت کے حصول کے لئے بہت کوشش کرتا ہے وہ اس کے راستے میں پھولوں کی پنکھڑیاں بچھاتا ہے اور اس خطرے کے باوجود کہ پھول مرجھا جائیں گے، یا عین ممکن ہے کہ وہ اس راستے سے گزرے ہی نا، وہ پھر بھی پھول بچھاتا ہےکہ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ یہ پھول اس کی محبوبہ کی نظر میں آجائیں۔ المختصر شاعر نتیجہ ملے بغیر کوششیں کرنے پہ یقین رکھتا ہے(مکمل نظم بلاگ کے اختتام پہ تحریر ہے)۔ ساتھ ہی ہمیں عبداللہ ناول کا جن یاقوط یاد آیا جس کی انسانی محبت اسے حاصل نہیں ہو سکتی تھی لیکن پھر بھی اسے گھر کے آنگن میں لگے پیڑ پہ رہنے کی اجازت دے دی گئی تھی جہاں سے وہ اپنے محبوب کا دیدار کر سکتا تھا۔ کھجور کا درخت بھی یہی کہانی ہے کہ جن اور انسان کی محبت میں وصل نہیں ہو سکتا تھا لیکن اس جن نے ہر طریقے سے اپنی محبت کا ساتھ دینے اور مدد دینے کی کوشش کی۔ یہ عشق خوفناک اور تباہ کن نہیں بلکہ قدم قدم پہ ساتھ دینے اور اپنے محبوب کو ہر حال میں مقدم رکھنے والا عشق تھا۔

ناول سے چند اقتباسات پیش ہیں؛
کہتے ہیں جہاں بچپن گزرتا ہے وہ گھر کبھی نہیں بھولتا”۔ بات کرتے ہوئے حجاب کی نظر کھڑکی کی طرف تھی جہاں سے جامن کا درخت دکھائی دے رہا تھا چاند کی روشنی پھیلی ہوئی تھی جس سے جامن کے درخت کے ساتھ لٹکا ہوا جھولا بھی دکھائی دے رہا تھا۔
حجاب کیا بات کر رہی تھی، بھول گئی۔ اس کی ساری توجہ جھولے کی طرف مرکوز ہو گئی۔ ایک درخت سے دوسرے درخت تک وہ جھولا اس طرح جھول رہا تھا جیسے کوئی اس پر بیٹھا پینگھ جھول رہا ہو۔ لیکن جھولا خالی تھا، اس پر کوئی نہیں تھا۔

مزید،
موسم میں حبس تھا، درخت کے پتوں میں معمولی لرزش تک نہ تھی۔ یہ ہوا کا کیسا جھونکا تھا۔ جس نے حجاب کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس احساس نے حجاب کو خوفزدہ کر دیا۔ آج چاند کی چودھویں رات تھی۔ چاندنی کی ٹھنڈی ٹھنڈی روشنی نے رات کی سیاہی کو ختم کر دیا تھا۔ صحن میں سکوت چھایا تھا۔ حجاب اندر جانے لگی تو صحن میں بکھرے خشک پتوں پر کسی کے قدموں کی چاپ نے اس کے قدم روک دئیے۔
ایک پل میں وہ کسی کے اپنے قریب ہونے کے احساس سے کانپ کے رہ گئی۔ وہ بےساختہ چیخ اٹھی جس کے ساتھ ہی اس کے قدموں کے پاس سے کوئی پرندہ پھڑپھڑانے کی آواز پر حجاب کی نظریں چھت تک چلی گئیں۔ اس کا سپاٹ چہرہ خوف سے فق ہو گیا۔ چھت کی منڈیر کے قریب سفید کپڑوں میں ملبوس کوئی کھڑا تھا جسے دیکھ کر حجاب کو اپنا خواب یاد آ گیا۔ وہی سراپا، وہی قد و قامت، ویسے ہی کندھوں تک لمبے بال، چاند کی چودھویں میں چمکتا ہوا چہرہ۔ یہ ویسا ہی نوجوان تھا جو حجاب کو خواب میں بار بار کسی مزار میں مست دکھائی دیتا تھا۔ حجاب جب بھی اس کی طرف دیکھتی تھی وہ اپنی آنکھیں جھپکنا بھول جاتی تھی۔ وہ ساحر اسے ایسی اپنی کسی جادوئی قوت میں جکڑ لیتا تھا۔

مزید،
اس جگ میں جینا مجبوری ہے، جہاں وفا کے بدلے حقارت اور خلوص کے بدلے ٹھوکریں ملتی ہیں۔

مزید،
“میں جب بھی تنہا ہوتی ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے کوئی میرے ساتھ ہے، میرے بہت قریب۔۔۔ لیکن جب یہ بات سوچتی ہوں جو اکثر کتابوں میں پڑھا ہے کہ جب بھی ہم تنہا ہوتے ہیں، ان لمحوں میں ہم اپنے آپ سے ملتے ہیں اور اپنے کسی کے قریب ہونے کا احساس ہماری اپنی ہی ذات کا کوئی روپ ہوتا ہے، جو ہم کلام کرنا چاہتا ہے۔ میرا بھی اپنے قریب کسی کو محسوس کرنا میرا وہم ہی ہوگا۔ میں ٹھیک کہہ رہی ہوں نا”۔

مزید،
کون تھا کہ جو کبھی مجھے خواب میں دکھائی دیتا اور کبھی اس کا سراپا وجود مجھے اپنے قریب محسوس ہوتا۔ میں جتنا اس خواب سے ڈرتی، اتنی ہی اس خواب کو باربار دیکھنے کی چاہ ہوتی۔ اس دنیا میں شاید ہی کوئی اس قدر خوبصورت ہو جیسا کہ وہ تھا۔ اس کی جھیل جیسی آنکھوں میں ایسی گہرائی تھی کہ کوئی ان میں کھوئے تو دنیا تیاگ دے۔ قوالی کے سروں پر وہ وجود کی کیفیت میں کس طرح جھوم رہا تھا۔ وہ بار بار میرے آگے کشکول پھیلا کر میری طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتا تو ایک لمحہ کے لئے دل میں آتا کہ اسے سرشار کر دوں۔ لیکن وہ کچھ بولتا بھی تو نہیں تھا اور جو اس کی آنکھیں کہتی تھی وہ سوچ کر میری روح کانپ اٹھتی تھی۔

مزید،
پیر سبحان گویا ہوئے۔ ” صباحت! تمہاری بیٹی بالکل تندرست ہے۔ آسیب زدہ انسان تو ایسا ہوتا ہے جیسے کسی نے اس کا خون نچوڑ لیا ہو۔ تمہاری بیٹی آسیب زدہ نہیں ہے بلکہ وہ آسیب اس کے حسن کے قفس میں گرفتار ہے۔ اس نے اس کو ذرا سی بھی اذیت نہیں دی اور خود اس کے لئے اذیتیں لے رہا ہے۔” بابا کی اس بات پر حجاب کی خاموشی ٹوٹ گئی۔
” بابا! آپ کو کیسے پتا کہ وہ اذیتیں اٹھا رہا ہے”۔
“اگر کوئی آسیب کسی آدم زادی کی زلف کا اسیر ہو جائے تو وہ اکثر اس کے جسم پر قابض ہو جاتا ہے اس سے آسیب کی طاقت بحال رہتی ہے لیکن وہ لڑکی دن بدن کمزور ہوتی جاتی ہے جب کہ اذہاد ایک عفریت ہونے کے باووجود ایک انسان کے روپ میں تمہارے آس پاس رہتا ہے۔ اس کا یہ مادی وجود ہماری آب و ہوا میں کسی بھی قسم کی تبدیلی سے زخمی ہو جاتا ہے جیسے اس روز جب وہ تمہارے ساتھ قبرستان آیا تو میرے چلے کی وجہ سے اس کا وجود جگہ جگہ سے جھلس گیا تھا”۔

مزید،
سوچوں کے اس سلسلے میں اس کا دل وہ لمحے یاد کرنے لگا جو اس نے اذہاد کے ساتھ گزارے۔ وہ فقیر کے بھیس میں شہزادہ جو زانوں بیٹھ کے اس کے آگے کشکول پھیلاتا تھا اس کا کشکول سکوں کے لئے نہیں تھا۔ اس کی ویران آنکھوں میں چاہے جانے کی حسرت تھی۔

تشریف آوری کے لئے شکر گزار ہوں۔ ہمیشہ خوش رہیں اور اپنی نیک دعاؤں میں یاد رکھیں۔
آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔
اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔
کیا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ خواتین مصنفات کے مہینے میں ہمارا اگلا انتخاب کون سی مصنفہ کی کتاب ہو گی؟
نوٹ: بلاگ میں نیلا رنگ کتاب سے لئے گئے اقتباسات کو ظاہر کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔

One Way of Love

All June I bound the rose in sheaves.
Now, rose by rose, I strip the leaves
And strew them where Pauline may pass.
She will not turn aside?
Alas! Let them lie. Suppose they die?
The chance was they might take her eye.
How many a month I strove to suit
These stubborn fingers to the lute!
To-day I venture all I know.
She will not hear my music? So!
Break the string;
Fold music’s wing:
Suppose Pauline had bade me sing!
My whole life long I learned to love.
This hour my utmost art prove
And speak my passion—heaven or hell?
She will not give me heaven? It’s well!
Lose who may—I still can say,
Those who win heaven, blest are they!

2 thoughts on “161-کھجور کا درخت از وجیہہ سحر”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s