Book Review, Islam, Non-Fiction, Religion, Research, Translation

157-فرشتوں کی تاریخ از یاسر جواد

نام کتاب: فرشتوں کی تاریخ
تحقیق و ترجمہ: یاسر جواد
صنف: نان فکشن، تحقیقی، مذہبی
سن اشاعت: 2013
ناشر: نگارشات پبلشرز
صفحات:175

Farishton ki tareekh by Yasir Jawad

کتابستان کی طرف سے نئے سال کی مبارکباد پیشِ خدمت ہے۔ ہر آنے والا سال اپنے ساتھ ڈھیروں امیدیں لے کے آتا ہے۔ ہماری دعا ہے کہ یہ سال خوشیوں، آسانیوں اور محبتوں کا سال ہو۔ ہماری امیدیں پوری ہوں اور دنیا میں امن و سلامتی کا راج ہو۔ ہماری یہ بھی دعا ہے کہ یہ سال اور آئندہ آنے والے کئی سال دنیا کے لئے صحت یابی اور فراوانی کے سال ہوں اور مجموعی طور پہ انسانیت پھلے اور پھولے۔ آمین۔ اس نئے سال کو ہم کتابستان میں بھی خوش آمدید کہتے ہیں۔ اس موقع پہ کتابستان ایک اور کتاب کے تعارف کے ساتھ حاضر ہے جس کا عنوان ہے : فرشتوں کی تاریخ۔ اس کتاب کی تحقیق اور ترجمہ جناب یاسر جواد صاحب کا ہے جن کا نام تراجم کی دنیا میں جانا پہچانا ہے۔ یہ کتاب نگارشات پبلشرز کی مابعد الطبیعاتی سیریز کا حصہ ہے۔ اس سیریز کے تحت اب تک کئی کتابیں پیش کی جا چکی ہیں جن کے عنوانات میں خدا کی تاریخ، فرشتوں کی تاریخ، جادو کی تاریخ، روح کی تاریخ، شیطان کی تاریخ وغیرہ شامل ہیں۔ ان میں سے ایک کتاب شیطان کی تاریخ کا ہم کتابستان میں پہلے ذکر کر چکے ہیں ۔ کتابستان کے سالوں کے تجربے کے بعد ہمیں یہ علم ہوا ہے کہ قارئین کی ایک بڑی تعداد ماورائی، مابعد الطبیعاتی، مافوق الفطرت اور جادوئی موضوعات میں دلچسپی رکھتی ہے۔ ہماری سائٹ پہ تلاش کے دوران آنے والے افراد کی ایک کثیر تعداد ان موضوعات کی کتب ڈھونڈتے ہوئے یہاں تک پہنچتی ہے۔ اس لئے ان موضوعات پہ پیش کردہ کتب چاہے وہ فکشن ہوں یا نان فکشن، قارئین کا ایک حلقہ رکھتی ہیں اور پڑھی جاتی ہیں۔

فرشتوں کی تاریخ علمی اور معلوماتی انداز میں لکھی گئی ایک تحقیقی کتاب ہے۔ یہ تحقیق گرچہ یاسر جواد صاحب کی اپنی نہیں لیکن پیش کش انہی کی ہے، مختلف بین الاقوامی محققین کے کام کو اکھٹا کرنا اور پھر انہیں اردو ذبان میں منتقل کرکے کتابی شکل دینا جیسے کام انہوں نے سرانجام دئے ہیں۔ کتاب کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کام انہوں نے محنت اور توجہ کے ساتھ کیا ہے۔کتاب میں جا بجا ایسے نام اور کرداروں کا ذکر ہے جو اردو ذبان میں عمومی طور پہ موجود نہیں۔ کئی کردار جو مغربی دنیا اور دیگر اقوام میں عام ہیں ہمارے لئے اجنبی ہیں۔ان کے اردو نام مستعمل نہیں۔ ایسے کرداروں کے نام اردو ذبان و لغت میں تلاش کرکے کتابی متن میں شامل کرنا اپنے آپ میں ایک محنت طلب کام ہے اور یہ وہی شخص کر سکتا ہے جو ناصرف خود بھی ان موضوعات میں دلچسپی رکھتا ہو بلکہ اس ضمن میں محنت سے بھی نہ گھبرائے۔ ہم یاسر جواد صاحب کی محنت کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے یہ معلومات اردو زبان کے قارئین تک پہنچائیں اور نہ صرف یہ ایک کتاب بلکہ مابعد الطبیعیاتی موضوعات کی ایک پوری سیریز طبع کی ہے

مابعد الطبیعاتی موضوعات مغربی کتابوں کا عام موضوع ہیں لیکن ہمارے ہاں ابھی تک ان موضوعات پہ علمی انداز میں کام نہیں ہو سکا اور جتنا ہوا ہے وہ بہت کم ہے۔ کچھ عرصہ قبل ہم نےوادئ سندھ میں انسانی ارتقاء کے موضوع پہ سندھ ارتقاء کا گھر  کتاب کا مطالعہ پیش کیا تھا جس کے مصنف نے زمینی اور آفاقی دلائل دے کے اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ زمین پہ زندگی کا آغاز سندھ کی سرزمین سے ہوا تھا۔ لیکن انہوں نے اپنی کتاب میں اس بات پہ افسوس کا اظہار کیا تھا کہ مقامی طور پہ تحقیقی کام معطل ہے۔ ہمارے مؤرخ لاتعلق ہیں۔ ہم بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ تحقیقی کتب کے زمرے میں اتنا کام نہیں ہو رہا جتنا ہونا چاہئے۔ لیکن بہر حال پھر بھی کام ہو رہا ہے، رُکا ہوا نہیں ہے۔ فرشتوں کی تاریخ کے لئے تحقیق کی بنیاد مذاہب عالم میں فراہم کی گئی معلومات پہ رکھی گئی ہے۔ دنیا کے تین بڑے الہامی مذاہب اسلام، عیسائیت اور یہودیت میں پیش کردہ معلومات کو اکھٹا کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ غیر الہامی مذاہب جیسے بدھ مت، ہندو مت میں موجود قریب ترین معلومات بھی شامل کی گئی ہیں۔ اس کتاب کے متعلق جناب یاسر جواد صاحب لکھتے ہیں؛
“اگرچہ فرشتوں کا تصور ہماری روز مرہ زبان، ضرب المثال، محاوروں اور شاعری کے علاوہ آرٹ میں بھی موجود ہے لیکن اردو زبان میں ان کے حوالے سے کوئی جامع تحریر موجود نہیں۔ انٹرنیٹ پر انگریزی کی کوئی ایسی کتاب بھی نہیں مل سکی جس میں مخلتف مذاہب اور تہذیبوں میں فرشتوں کے تصور اور کردار کی وضاحت کی گئی ہو حالانکہ تینوں بڑے وحدانیت پرست مذاہب اور (بالخصوص اسلام) میں ملائکہ خدا کے قاصد ہونے کے ناتے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ آسمان پہ بیٹھے خدا اور زمین پر بسنے والے انسانوں کے درمیان فرشتے ہی واحد وسیلہ ہیں۔ وہ مختلف مذہبی تجربات، رویا، مکاشفات، خوابوں، معجزات، کرشمات، غیبی امداد کے واقعات کی بہت سی کہانیوں اور الف لیلہ کے علاوہ اولیا کے قصوں میں بھی ملتے ہیں۔ ہم نے تمام ایسی نیم الوہی، نیم انسانی لطیف “ہستیوں” کو فرشتوں میں شمار کیا ہے جنہوں نے مختلف مذاہب اور تہذیبوں میں بطور تصور ترقی و مقبولیت پائی”۔

کتاب میں کل سات ابواب ہیں، تاہم کتابت کی غلطی کی وجہ سے فہرست میں ساتویں باب کو بھی چھٹا باب نمبر دے دیا گیا ہے۔ ان ابواب کے عنوانات ہیں:فرشتوں کا تصور۔۔۔ ایک تاریخی جائزہ، بابل اور زرتشت مت، بائبلی دور اور یہودیت، عیسائیت کے فرشتے، اسلام کے ملائکہ، فرشتوں کا تعارف اور متفرق موضوعات( ادب، آرٹ، فن تعمیر وغیرہ)۔

ابواب کی فہرست سے اندازہ ہوتا ہے کہ قدیم بابلی مذاہب سے لے کے تین بڑے الہامی مذاہب میں موجود فرشتوں کے تصورات کو علیحدہ علیحدہ قلم ذد کیا گیا ہے تاہم دیگر غیر الہامی مذاہب جیسے بدھ مت یا ہندو مت کے لئے کوئی علیحدہ باب مقرر نہیں کیا گیا ہے۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ کثیر دیوتاؤں پہ مشتمل مذاہب میں دیوتا خود ہی انسانی دنیا میں ظاہر ہوئے اور کسی وسیلے کو استعمال نہیں کیا اس لئے فرشتوں کا تصور ان مذاہب میں اس طرح موجود نہیں جیسا کہ دیگر الہامی مذاہب میں مذکور ہے۔ کتاب میں مذکور ہے؛
“فرشتوں کا اصل مقصد خدا اور انسان کے درمیان حائل فاصلے کو پاٹنا ہے۔ زرتشت مت میں یہ فاصلہ (دیوتاؤں کے مابین) اس قدیم لڑائی کا نتیجہ تھا جس نے انسان کو ایک اجنبی دنیا میں بےسہارا اور بےیار و مددگار چھوڑ دیا۔ یہودیت، عیسایت اور اسلام میں یہ دوری انسان کے گناہ اور بہشت بدری کا نتیجہ تھی”۔
نیز؛
“عبرانی صحائف میں دو رئیس الملائکہ کا ذکر موجود ہے، میکائل یا مائیکل (خدا جیسا) آسمانی لشکروں کا جنگجو سردار اور جبرائیل یا گابرئیل (خدا کا انسان) آسمانی قاصد”۔
اسی بارے میں مصنف مزید معلومات فراہم کرتے ہیں ؛
“عبرانی صحائف میں فرشتوں کے دو سلسلے بھی موجود ہیں۔ چھ پروں والے سیرافیم جو الوہی تخت کے گرد منڈلاتے اور خدا کی مدح سرائی کرتے رہتے ہیں اور دوسرے کرو بین جن کے متعلق حزقی ایل نے بیان کیا ہے”۔
کروبین یا کرو بیان نامی فرشتوں کے سلسلے کے متعلق اردو ادب میں بھی ذکر ملتا ہے۔ بقول شاعر
درد دل کے واسطے پیدا کیا انساں کو
ورنہ اطاعت کے لئے کم نہ تھے کرو بیاں
اس شعر میں کرو بیاں سے مراد فرشتوں کے اس گروہ سے ہے جس کے ذمے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرنا ہے۔ فرشتوں کے ان گروہوں کا ذکر دیگر الہامی مذاہب میں بھی ہے جیسا کہ ابھی ہم نے عبرانی مذاہب سے متعلق صحائق یا یہودی مذہب سے متعلق پیش کیا ہے۔

قدیم بابلی اور زرتشت مذہب کا باب مختصر ہے اس کی وجہ یقیناً اس مذہب کی قدامت اور موجودہ زمانے میں معدومیت ہے جس کے باعث اس کے متعلق تفصیلات موجود نہیں۔ تاہم مترجم رقم طراز ہیں؛
“بابلی فرشتے بائبل کے روحانی قاصد ہیں، وہ اپنے خدا کی منشا کا اعلان کرتے ہیں اور اس کے ایما پر وظائف انجام دیتے ہیں”۔

بائبلی دور اور یہودیت کے عنوان کے تحت تحریر کردہ باب میں مصنف نے یہودی مذہب میں فرشتوں کے تصور کے متعلق معلومات فراہم کی ہیں جن میں فرشتوں کی ظاہری شکل سے لے کر بائبلی بیانات کی تفسیر و تحلیل، فرشتوں کے نام، تعداد، ان کے جوہر، وظائف، علم الملائکہ اور قبالہ میں فرشتوں کے تصورات پیش کئے گئے ہیں۔ مصنف لکھتے ہیں؛
“فرشتے کے لئے بائبلی نام کا مطلب محض “قاصد” بنتا ہے۔ خدا کے نام (ایل) کا اضافہ کرنے سے ہی اینجل بنا، یعنی خدا کا فرشتہ”ـ
زبور کے تصور کے مطابق فرشتے غیر مادی ہیں اور زمان و مکان کے پابند نہیں۔ ماورائے انسان ہونے کے باوجود فرشتے انسانی شکل میں نمودار ہوتے ہیں ان کے ہاتھوں میں شمشیر یا کوئی تباہ کن ہتھیار ہو سکتا ہے اور وہ گھوڑوں پہ سفر کرتے ہیں۔
“فرشتوں کا حوالہ خصوصی مشنوں کے سلسلے میں آیا ہے۔ مثلاً نجات دلانے والا فرشتہ، تباہ کرنے والا فرشتہ، میثاق کا قاصد، اور لڑائی کے فرشتوں کا ٹولہ”۔
یہودیت کے حوالے سے مترجم مزید بتاتے ہیں ؛
“فرشتے خدا کی قدرت اور ارادے کے وسیلے کے طور پر اور اس کے مقاصد پورے کرنے کی خاطر انسان پہ ظاہر ہوتے ہیں۔ وہ افراد کے ساتھ ساتھ پوری کی پوری قوم پر بھی ظاہر ہوئے، تاکہ آئندہ اچھے یا برے واقعات کا اعلان کریں اور انہیں انجام تک پہنچائیں۔ فرشتوں نے ابرہام کو اسحاق، Manoah کو شمعون کی پیدائش اور ابراہام کو سدوم کی تباہی کے متعلق پیشگی خبردار کر دیا”۔
تاہم یہودیت میں فرشتے خطا سے پاک اور معصوم نہیں؛
“اگرچہ وہ ہمیشہ خداوند کی عبادت کرتے اور حکم سماعت تک پہنچنے سے پہلے ہی اسے بجا لانے کو تیار ہو جاتے ہیں لیکن وہ بے خطا نہیں۔ راندۂ درگاہ فرشتے موجود ہیں۔ دو فرشتوں کو 138 سال کے لئے بہشت سے نکالا گیا کیونکہ انہوں نے سدوم کی تباہی کا حکم قبل از وقت افشا کر دیا تھا”۔
نیز یہودیت کے مطابق؛
“روح فرشتے کو، فرشتے کروبیم کو اور کروبیم خدا کو انسانی معاملات سے آگاہ کرتے ہیں”۔

عیسائیت کے فرشتے کے باب میں مترجم لکھتے ہیں کہ عیسائی عہدنامہ قدیم کو بھی مانتے ہیں اس لئے ان کے ہاں فرشتوں کے متعلق پائے جانے والے عقائد یہودیت سے زیادہ مختلف نہیں۔ کتاب کا یہ باب بھی مختصر ہے غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ زیادہ تر تصورات و عقائد یہودیت سے مشترکہ ہونے کے باعث یہودیت کے باب میں ہی پیش کر دئے گئے ہیں۔
عیسائیت میں فرشتوں کے سلسلۂ مراتب کے متعلق لکھا گیا ہے؛
” سینٹ تھامس نے Summa theological میں سینٹ ڈینس کی پیروی کرتے ہوئے فرشتوں کو تین سلسلہ ہائے مراتب میں تقسیم کیا: ہر ایک سلسلے میں تین فرشتے۔ ہستی مطلق کے ساتھ قربت اس تقسیم کی بنیاد ہے۔ وہ پہلے درجے میں سیرافیم، کروبیم اور Thrones کو رکھتا ہے؛ دوسرا درجہ Dominations, virtues اور powers پر مشتمل ہے۔ تیسرے درجے میں Principalities، رئیس الملائکہ اور ملائکہ شامل ہیں۔ صحائف میں صرف تین فرشتوں کے نام آئے ہیں: رافیل، میکائل اور جبرائیل”۔
مصنف لکھتے ہیں؛
“اس طرح تین تین کی منڈلیوں والے کل تین طبقے بن گئے۔ ان طبقوں میں اعلیٰ ترین سیرافیم، کروبیم اور تخت شامل ہیں۔ ان کا کام خدا کا مراقبہ کرنا بتایا گیا ہے۔ رعیتوں، نیکیوں اور طاقتوں پر مشتمل دوسرا طبقہ کائنات پر حکمران ہے۔ جبکہ جاگیروں یا اقالیم، رئیس الملائکہ اور ملائکہ پہ مشتمل تیسرے طبقے کا کام دو بالاتر طبقات کے احکامات کو لانا اور لے جانا ہے”۔

اسلام میں ملائکہ کے عنوان کے تحت اسلامی تعلیمات اورتاریخ میں فرشتوں کے کردار اور تفصیلات پہ روشنی ڈالی گئی ہے۔ اسلام میں فرشتے دیگر الہامی مذاہب کے مقابلے میں زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ ان پہ یقین رکھنا ایمان کا جزو ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق فرشتے معصوم اور خطا سے پاک ہیں۔ عیسائی تصورات کے برعکس اسلامی فرشتے جنس مذکر سے تعکق رکھتے ہیں۔ وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا میں مشغول رہتے ہیں اور اللہ کے حکم سے ہی زمین پہ آتے ہیں۔ ان میں سے کچھ کے ذمے روحیں قبض کرنا ہے، کچھ جنگوں کے دوران مجاہدین کی مدد کے لئے نمودار ہوئے، کچھ فرشتے دوزخ پہ نگہبان ہیں۔ ان تمام فرشتوں میں سب سے افضل حضرت جبرائیل علیہ السلام ہیں جن کے ذمے وحی لانے کی ذمہ داری ہے۔ آپ جتنی اہمیت کسی بھی دوسرے فرشتے کو حاصل نہیں ہے۔ انسان کی تخلیق کے وقت اللہ تعالیٰ نے زمین کی مٹی لانے کے لئے بھی اپنے فرشتوں کو بھیجا۔
“اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے گفتگو کے بعد جبرائیل علیہ السلام کو زمین پر بھیجا تاکہ وہاں سے مٹی لائے۔ لیکن زمین نے اعوذ باللہ کہہ کر معذرت چاہی تو اللہ نے میکائیل فرشتے کو بھیجا، لیکن جب زمین نے اس سے بھی معذرت طلب کی تو ملک الموت عزرائیل کو بھیجا گیا۔ زمین بولی کہ خدا کی پناہ۔ میں اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کر سکتی۔ چنانچہ حضرت عزرائیل نے زمین سے سیاہ، سرخ اور سفید مٹی لی اور اللہ کے حضور حاضر ہوئے”۔

فرشتوں کا تعارف کے باب کے اندر مختلف مذہبوں، تہذیبوں اور قصوں میں مزکور انفرادی فرشتوں کا تعارف اور ذکر حروف تہجی کی ترتیب کے لحاظ سے پیش کیا گیا ہے۔ یہ اس کتاب کا سب سے تفصیلی باب ہے جس میں مترجم نے مختلف فرشتوں کے متعلق معلومات اکھٹی کی ہیں۔ اس ضمن میں کئی فرشتوں کے نام اور تعارف شامل کئے گئے ہیں۔ چند کے نام یوں ہیں؛ آرکن، ابادون، ابلیس، ارئیل، اسرافیل، امن کا فرشتہ، اہرمن، بودھستو، جبرائیل، جن، حفاظہ، دیوداسی، ڈیمی ارج، رافیل، سروش، سوفیا، سیرافیم، عزازیل، عزرائیل، کروبیم، کیوپڈ، گاندھرو، گوبلنز، مالک، میٹاٹران، میکائیل، نیفیلئم، ورچوز، یازاتا وغیرہ۔ اس کے علاوہ دور جدید کے حوالے سے بھی فرشتوں کا تعارف پیش کیا گیا ہے جیسا کہ ٹریفک کے فرشتے۔ مترجم نے جنوں کا تعارف بھی شامل کیا ہے۔ ابلیس کے تعارف میں ضمنی طور پہ مترجم لکھتے ہیں؛
“مسلمان صوفیا نے ابلیس کی نافرمانی کو خدا سے محبت پر محمول کیا اور کہا کہ وہ خدا کے سوا کسی اور چیز کو سجدہ کرنے پر تیار نہ تھا۔ بہ الفاظ دیگر آدم کو سجدہ کرنے کی صورت میں وہ خدا کا شریک تسلیم کر لیتا۔ اس تفسیر کی رو سے ابلیس اپنی حرکت کے نتائج سے آگاہ تھا، لیکن اس نے خدا کے ساتھ محبت میں مخلص رہنے کو ترجیح دی”۔
بدھ مت میں فرشتوں کے تصور کے متعلق مترجم کہتے ہیں؛
“مشرق کے ایک اہم مذہب بدھ مت میں تعلیم دی گئی ہے کہ مذہبی زندگی کا حتمی مقصد جنم مرن کے چکر (سمسار) سے نجات پا کر نروان (مطلق مسرت) کی حالت تک پہنچنا ہے۔ بدھ مت کے بانی گوتم بدھ نے تعلیم دی کہ انسانوں کو جنم مرن کے چکر سے نکلنے کے لئے اپنی روحانی صلاحیتوں پر انحصار کرنا چاہئے۔ اس کی ابتدائی تعلیمات میں فرشتے یا فرشتہ صفت مخلوقات نہیں ملتیں”۔
بعد ازاں بدھ مت میں بودھستو کا تصور متعارف کروایا گیا۔
“بودھستو (دانش مند ہستی) ایسی ہستی ہے جس نے نروان کی راہ پر پہلی منزل طے کر لی ہو لیکن دکھ ذدہ انسانیت کے لئے جذبہ ہمددردی کے باعث نروان کو موخر کرکے دنیا میں ہی رہنے اور دوسروں کو حصول نجات میں مدد دینے کی راہ اختیار کی ہو۔ بودھستو زمینی اور خالصتاً روحانی دنیا کے درمیان کسی جگہ اپنی خود تخلیق کی ہوئی اقلیم میں رہتا ہے اور مادے کی حد سے ماورا ہو جاتا ہے”۔
اسی طرح ٹریفک کے فرشتوں کے زمرے میں مذکور ہے کہ یہ ان واقعات سے متعلق ہے جن میں ڈرائیوروں کو معجزانہ طور پہ کسی نے بچا لیا یا کوئی آواز ان کی جان بچانے کا سبب بن گئی۔ میدان جنگ کے فرشتوں کے زمرے میں بیان ہے کہ جنگ کے دوران اکثر سپاہی مقدس ہیولے دیکھتے ہیں۔ کئی دفعہ یہ فرد واحد کو نظر آتے ہیں اور کئی مرتبہ بہت سے لوگوں کو نظر آتے ہیں۔
نیز یہ کہ انفردای فرشتوں کے علاوہ نسلوں کے محافظ فرشتے بھی ہوتے ہیں۔ پرتگال دنیا کا واحد ملک ہے جو اپنے محفافظ فرشتے کے اعزاز میں سالانہ ضیافت کا اہتمام کرتا ہے۔

کتاب کا آخری باب ادب، آرٹ، فن تعمیر وغیرہ میں فرشتوں کی موجودگی کے بارے میں ہے۔ فرشتوں کا ذکر کئی ادبی تحاریر اور شاعری میں ملتا ہے۔ مصوروں نے اپنے تخلیات کا استعمال کرتے ہوئے ان کی تصویر کشی کی ہے۔ تصاویر میں فرشتوں کی پہچان ان کے سر پہ موجود نورانی ہالے سے کی جاتی ہے جو ان کے تقدس اور پاکیزگی کے اظہار کے طور پہ استعمال ہوتا ہے۔ فرشتوں کو ہمیشہ خوبصورت انسانی جسموں اور چہروں کے ساتھ پینٹ کیا گیا ہے وہ کبھی بوڑھے نہیں دکھائے گئے۔ مصوری کے ساتھ ساتھ فن تعمیر میں بھی فرشتوں کی شبیہوں کو سجاوٹ کے لئے استعمال کیا گیا ہے ایسا مغربی ممالک میں بطور خاص ہے۔ موجودہ زمانے میں فرشتوں کو اڑن طشتریوں اور خلائی مخلوق کے طور پہ پیش کئے جانے کا رجحان بھی رہا ہے۔ نیز نفسیات کی مدد سے لاشعور کی کھوج کرکے بھی فرشتوں کے تصور کی وضاحت کی کوشش کی جا رہی ہے۔

فرشتوں کی تاریخ غیر جانبدارانہ انداز میں فرشتوں کے متعلق مذاہب عالم اور تاریخی طور پہ موجود معلومات کو پیش کرتی ہے۔ کتاب کا انداز علمی ہے اور غیر ضروری لفاظی اور طوالت سے گریز کیا گیا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ مترجم نے مختلف مقامات پہ موجود معلومات کو اکھٹا کر دیا ہے لیکن کسی قسم کا نتیجہ نکالنے سے یا اپنی رائے حتمی طور پہ بیان کرنے سے گریز کیا ہے۔ اس طرح قاری آسانی کے ساتھ معلومات کا مطالعہ کرتا جاتا ہے۔ اس موضوع پہ بلاشبہ اردو زبان میں یہ ایک اہم کتاب ہے۔ ہماری طرف سے مترجم اس کاوش پہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔


تشریف آوری کے لئے شکر گزار ہوں۔ ہمیشہ خوش رہیں اور اپنی نیک دعاؤں میں یاد رکھیں۔
آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔
اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔
نوٹ: بلاگ میں نیلا رنگ کتاب سے لئے گئے اقتباسات کو ظاہر کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔

ملتی جلتی تحریریں

تعارف حضرت جبرائیل علیہ السلام از مولانا محمد صدیق ملتانی

مابعد الطبیعاتی سیریز

شیطان کی تاریخ

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s