Book Review, Fiction, Horror, Pakistani, Supernatural

156-مسکن از انوار علیگی

نام کتاب: مسکن

مصنف: انوار علیگی

صنف: ناول، خوفناک، ماورائی، پاپولر فکشن

صفحات: 288

قیمت:  350 روپے

ناشر: مکتبہ قریش

Maskan by Anwar Alaigi

پاپولر فکشن کا ایک اہم حصہ ماورائی اور غیر فطری مخلوقات کے متعلق لکھا گیا ہے۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس قسم کی کہانیوں اور قصوں میں دلچسپی رکھتی ہے۔ ایسی کہانیاں باقاعدہ لکھی جاتی ہیں، چھپتی ہیں اور قاری انہیں پڑھتے ہیں۔ آج بھی ہم ایک ایسی ہی کہانی لے کے آئے ہیں جسے اسی کیٹیگری میں رکھا جا سکتا ہے۔ یہ کہانی انوار علیگی کی لکھی ہوئی ہے اور اس کا عنوان ہے مسکن۔ مسکن ابتدائی طور پہ ہفتہ وار رسالے اخبارِ جہاں میں قسط وار شائع ہوا تھا اور بعد ازاں اس کو کتابی شکل میں شائع کیا گیا۔

مسکن کا آغاز اسی سالہ ایک پراسرار عورت کے ذکر سے ہوتا ہے جس کا نام مائی پنکھی تھا۔ مائی پنکھی پراسرار شخصیت کی مالک تھی۔ محلے میں اس کے متعلق باتیں پھیلی ہوئی تھیں وہ محلے والوں کی لائی ہوئی کوئی چیز نہیں کھاتی تھی۔ اس کے پاس ایک بلی تھی جو اس کے لئے شکار کرتی تھی۔ مائی پنکھی پراسرار قوتوں کی حامل تھی۔ اس کے پاس عامل اور جادوگر لوگ ہر مہینے اکھٹے ہوتے اور اس سے اپنے معاملات میں مشورہ کرتے۔ پولیس مائی پنکھی کے پیچھے تھی۔ ان کا خیال تھا کہ وہ مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ لیکن وہ اس کے خلاف کچھ بھی حاصل نہیں کر پائے۔ ناول کا دوسرا اہم کردار عابر نامی نوجوان ہے جو ایک اچھے گھر سے تعلق رکھتا ہے۔ عابر زیادہ وقت موبائل فون پہ، دوستوں کے ساتھ ضائع کرتا تھا۔ وہ کوئی کام نہیں کرتا تھا۔ ایک شادی کی تقریب پہ عابر ایک ایسے خاندان سے متاثر ہوتا ہے جس کی کئی بیٹیاں تھیں۔ ان میں سے ایک عابر کو پسند آجاتی ہے۔ حالات اس طرح تبدیل ہوتے ہیں کہ وہ اپنے گھر والوں کو چھوڑ کے ملائکہ نامی اس لڑکی سے شادی کرکے گھر داماد بن جاتا ہے۔

ناول میں مائی پنکھی اور عابر کی کہانیاں ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ عابر شادی کے بعد زندگی کا اصلی رخ دیکھتا ہے جہاں اسے علم ہوتا ہے کہ اسے دھوکہ دیا گیا ہے اور جس خاندان میں اس نے شادی کی تھی وہ اخلاقی طور پہ پستی کا شکار تھے۔ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے کے واپس اپنے گھر آجاتا ہے۔ دوسری طرف مائی پنکھی اپنے شیطانی درجات میں ترقی حاصل کرکے مائی پنکھی سے رانی پنکھی بن جاتی ہے۔ اس موقع پہ اس کی مددگار غیر انسانی مخلوق بگا، اس کو اپنی بیوی بننے کی دعوت دیتی ہے لیکن رانی پنکھی انکار کر دیتی ہے۔ اس کا انکار بگا کو اس کا دشمن بنا دیتا ہے۔

 ناول میں ایک طرف مائی پنکھی کی پراسرار دنیا ہے، جہاں اس کی بلی ہے جو اجازت ملنے پہ انسانی روپ دھار لیتی ہے، پراسرار کوے ہیں، مائی پنکھی کی ماورائی صلاحیتیں ہیں۔ اسی ناول میں ایک طرف ایک ایسی لیبارٹری کا ذکر ہے جہاں انسانی یاداشتوں پہ تجربات کئے جاتے ہیں۔ جس کے لئے انسان مہنگے داموں خریدے جاتے ہیں۔ اسی ناول میں عابر ہے جسے زندگی میں صرف دھوکے ملے ہیں۔ اختتام پہ یہ بکھری ہوئی کہانیاں اکھٹی ہو جاتی ہیں اور ایک ہیپی اینڈنگ وجود میں آ جاتی ہے۔ مسکن ایک مختصر ناول ہے جسے چند نشستوں میں باآسانی مکمل کیا جا سکتا ہے۔ ناول کی کہانی پرپیچ نہیں۔ مائی پنکھی کے قصوں، جدید سائنسی لیبارٹری اور عابر کی کہانیوں میں کچھ بھی خاص اور چونکا دینے والا نہیں ہے۔ اس سے ملتے جلتے قصے کئی دیگر کہانیوں میں موجود ہیں۔ ناول میں زیادہ تر زندگی کے منفی تجربات کا ذکر ہے۔ جس سے ایسا لگتا ہے کہ دنیا میں کچھ بھی اچھا نہیں ہے۔ ناول کی زبان سادہ ہے اور غیر ضروری لفاظی موجود نہیں۔ مصنف نے کسی قسم کا فلسفہ پیش نہیں کیا۔ پڑھتے ہوئے کہانی کے بکھرے ہوئے ہونے کا احساس ہوتا ہے جیسے مصنف کو خود بھی واضح نہ ہو کہ وہ اس کہانی میں کیا لکھنا چاہتا ہے۔ اگر اس ناول کا مطالعہ نہ بھی کیا جائے تو قاری کچھ مِس نہیں کرے گا۔

ناول کے کچھ اقتباسات پیش ہیں:

”محبت کے بارے میں ہر شخص کا اپنا تجربہ ہوتا ہے۔ محبت صدیوں سے رائج کسی سکے کی طرح ہے لیکن محبت میں کھوٹا سکہ نہیں چلتا۔ کچھ کہتے ہیں، محبت ہو جاتی ہے۔ کچھ کہتے ہیں محبت کی جاتی ہے۔ محبت ہو جائے تو عشق بن جاتی ہے۔ محبت کی جائے تو بزنس ہو جاتی ہے جس میں نفع نقصان دیکھا جاتا ہے جبکہ ہو جانے والی محبت نفع نقصان سے مبرا ہوتی ہے“۔

مزید، 

”محبت کے معاملے میں مرد کے مقابلے میں عورت افضل ہوتی ہے۔ افضل یوں کہ اس کی محبت میں گہرائی ہوتی ہے۔ مرد محبت کے معاملے میں پہلے جسم ہوتا ہے، پھر روح جبکہ عورت محبت کے معاملے میں پہلے روح ہوتی ہے، پھر جسم۔ عورت کی محبت میں جنس کہیں بہت پیچھے ہوتی ہے جبکہ مرد کی محبت میں جنس سامنے ہوتی ہے اور روح کہیں بہت پیچھے۔ یہی وجہ ہے کہ عورت جب کسی کی محبت میں گرفتار ہوتی ہے تو اسے بھولتی نہیں، چاہے وہ اسے حاصل ہو یا نہیں ہو۔ مرد اپنی محبت کو بھولنے میں زیادہ دیر نہیں لگاتا، چاہے وہ حاصل ہی کیوں نہ ہو جائے“۔

تشریف آوری کے لئے شکر گزار ہوں۔ ہمیشہ خوش رہیں اور اپنی نیک دعاؤں میں یاد رکھیں۔ 

آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

نوٹ: بلاگ میں نیلا رنگ  کتاب سے لئے گئے اقتباسات کو ظاہر کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔

*****

انوار علیگی کے قلم سے مزید

بسیرا از انوار علیگی

 

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s