Adventure, Book Review, Fiction, Inspirational, Pakistani literature, Romance, Suspence, Thriller

155- حالم ازنمرا احمد

حالم ازنمرا احمد

نام کتاب: حالم
مصنفہ: نمرا احمد
صنف: ناول، فکشن، رومان، ایڈونچر
سن اشاعت: 2019
قیمت حصہ اول:  1350 روپے
قیمت حصہ دوم:  1500 روپے
ناشر: علم و عرفان پبلشرز

Haalim by Nimra Ahmed

حالم، نمرا احمد کا لکھا تازہ ترین ناول ہے۔ کئی ماہ تک ڈائجسٹ میں قسط وار شائع ہونے کے بعد گزشتہ سال اس کو کتابی شکل میں بھی پیش کر دیا گیا ہے۔ حالم ایک طویل ناول ہے اس کے دو حصے ہیں، حالم حصہ اول اور حالم حصہ دوم۔ لفظ حالم کا مطلب ہے خواب دیکھنے والی۔ نمرا احمد کے ناولوں میں ایک کردار ہمیشہ چلبلی، نٹ کھٹ اور بہت کچھ کرنے کا عزم رکھنے والی لڑکی کا ہوتا ہے پھر چاہے وہ نمل کی حنین ہو یا قراقرم کا تاج محل کی پریشے، حالم کی تالیہ بھی مختلف نہیں ہے۔ ناول کا مرکزی کردار تالیہ مراد نامی ایک کان وومین* کا ہے یعنی پیشہ ور دھوکے باز۔ تالیہ اپنی ایک ساتھی کے ساتھ مل کے کان** کرتی ہے۔ اس پیشے میں ان کا موٹو یہ ہے کہ دوسرے کو دھوکہ اس طرح دو کہ اسے لگے کہ وہ اس کا اپنا خیال ہے نہ کہ کسی کا دھوکہ۔ تالیہ اپنے کان میں بہت کامیاب ہے اور اس نے اس دھوکہ دہی سے بہت زیادہ دولت بٹوری ہے۔ ناول کے ابتدائی حصے کو پڑھتے ساتھ ہی اس کی انسپیریشن سڈنی شیلڈن کے لکھے ناول اف ٹومارو کمز*** سے ملتی ہوئی محسوس ہوتی ہے جس کا مرکزی کردار بھی ایک کان وومین تھی جس نے اپنے کان سے بہت زیادہ کامیابی اور دولت حاصل کی تھی۔ سڈنی شیلڈن سے انسپیریشن ہمیں نمرا جی کے دوسرے ناولوں میں بھی ملتی ہے جیسا کہ ان کا لکھا ناول میرے خواب میرے جگنو۔ اس کی کہانی کا پلاٹ بھی سڈنی شیلڈن کے ایک ناول سے اٹھایا گیا ہے۔

Con  woman *

Con **

If tomorrow comes ***

 حالم کی سیٹنگ ملائشیا کی ہے۔ اس کے تمام مرکزی کردار بھی ملائشین ہیں۔ پاکستان سے اس کا تعلق بس اتنا ہے کہ ناول کی مرکزی کردار تالیہ مراد کو بچپن میں ایک پاکستانی خاندان گود لے لیتا ہے اور اس کی ابتدائی پرورش پاکستان میں ہوتی ہے۔ بڑے ہونے پر وہ ملائشیا واپس آجاتی ہے اور پھر کبھی پاکستان نہیں جاتی۔ تالیہ مراد ہی حالم ہے۔ بطور حالم وہ دوسروں کو دھوکہ دے کے اپنا کام نکالنا جانتی ہے۔ حالم کا ایمان پیسہ ہے، وہ ایک پروفیشنل ہے اور اپنے کام کی ماہر ہے۔  یہی حالم تالیہ مراد بھی ہے ایک نوجوان لڑکی جو زمانے بھر میں اکیلی ہے، جس کا کوئی خاندان نہیں ہے اور وہ اپنے اصل کی تلاش میں ہے۔ تالیہ ایک وژینری ہے اسے خواب نظر آتے ہیں جو عموماً سچے ثابت ہو جاتے ہیں۔ وہ کچھ عرصے سے اپنے متعلق خواب دیکھ رہی ہے جن کو ابھی سچ ہونا باقی ہے۔ اس کے خواب اسے ایک خزانے کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ اسے لگتا ہے کہ یہ خزانہ اس کا ہے اور اسے اس خزانے کو کھوجنا ہے۔ خزانے کی تلاش کرتے ہوئے تالیہ ماضی میں چھ سو سال پیچھے چلی جاتی ہے۔

ناول کے دیگر کرداروں میں شامل ہیں؛
وان فاتح: یہ ملائشین سیاست دان ہے جو وزیرِ اعظم کے عہدے کے لئے تیاری کر رہا ہے۔ یہ ناول کا مرکزی مرد کردار ہے۔ وان فاتح تالیہ کو ناپسند کرتے ہیں۔ تالیہ کے ساتھ ماضی کے سفر میں وان فاتح بھی ہمراہ تھے۔
ایڈم: یہ وان فاتح کا عارضی باڈی مین ہے جو صرف گیارہ دن کی نوکری کرنے آیا ہے لیکن حالات کا اتار چڑھاؤ اس طرح ہوا کہ وہ بھی تالیہ کے ساتھ خزانے کی تلاش میں ماضی کے سفر کا حصہ بن جاتا ہے۔ ایڈم ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتا ہے جس کی منگنی اس کے پاس نوکری نہ ہونے کے باعث ختم ہو گئی ہے۔
داتن: تالیہ مراد کی ساتھی ہے۔ داتن تالیہ کے ہر کان میں اس کی برابر کی حصے دار ہے اور اس کے ہر سکھ دکھ کی ساتھی ہے۔
عصریٰ محمود: یہ وان فاتح کی بیوی ہے۔ یہ آرٹ کلیکٹر ہے اور ایک نمائش کے ذریعے آرٹ کے نادر نمونوں کو فروخت کرکے پیسے کمانا چاہتی ہے۔

ماضی میں سفر، دوسرا جنم جیسے تصورات عمومی طور پہ ہمارے ادب کا موضوع نہیں ہیں۔ اس لحاظ سے نمرا احمد مبارکباد کی مستحق ہیں کہ انہوں نے ان  موضوعات کو اپنی تخلیق کا حصہ بنایا ہے۔ ناول کا ماضی کا لکھا ہوا حصہ بھی اتنا ہی دلچسپ ہے جتنا کہ حال میں چلتی ہوئی کہانی۔  ماضی میں پیش کیا گیا شاہی مؤرخ کا کردار اور اس کی لکھی ہوئی شاہی تاریخ بہت دلچسپ ہیں اور اس بات پہ روشنی ڈالتے ہیں کہ پرانے زمانے میں   لکھی تاریخ  اصل حقیقت سے کس قدر دور ہوتی تھی۔ حالم تالیہ کی زندگی کا سفر ہے۔ اس کے تالیہ دی اسکامر سے شہزادی تالیہ بننے کا سفر ہے۔ ساتھ ہی باڈی مین ایڈم سے نیوز اینکر ایڈم بننے کا سفر ہے اور وان فاتح کی سیاسی زندگی کا سفر ہے۔ ناول کا  پیغام یہ ہے کہ جو ہمیں آتا ہے وہ ہماری جان بچاتا ہے۔ وان فاتح کو سیاست آتی تھی اور اسی سیاست کو استعمال کرکے وہ ماضی سے مستقبل آنے میں کامیاب ہوئے۔ ایڈم کو آرمی ٹریننگ کے دوران نامساعد حالات میں سروائیو کرنا سکھایا گیا تھا اور اسی علم نے انہیں جنگل میں زندہ رہنے میں مدد دی۔ تالیہ دھوکہ دہی اور فراڈ کے فن میں ماہر تھی اور اسی صلاحیت کو استعمال کرکے وہ قید خانے سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئی۔ نمرا جی کے ناول وقت کے ساتھ ساتھ بہتر ہوتے جا رہے ہیں۔ حالم ان کے گزشتہ لکھے تمام ناولوں سے بہتر ہے۔ مصنفہ نے وقت کے سفر دوسرا جنم اور ماضی کی یادیں جیسے مشکل موضوعات پہ کھل کے قلم اٹھایا ہے، اپنے تخیل کو بہنے دیا ہے اور جھجک محسوس نہیں کی ہے۔ 

حالم ایک خوبصورت ناول ہے۔ قاری حالم کے کانز کے باوجود  اسے پسند کرنے لگتا ہے اور اس کے کردار کے ساتھ خود کو وابستہ پاتا ہے۔ اس کی خوشی میں خوش ہوتا ہے  اور اس کی تکلیف میں اداس ہو جاتا ہے۔ ساتھ ہی قاری وان فاتح سے متاثر ہوتا ہے اور ایڈم کی باتوں پہ ہنستا ہے۔ ناول میں ایک طرف جدید ملائشیا ہے جہاں زندگی بھرپور رفتار سے رواں دواں ہے دوسری طرف چھے سو سال قدیم ملاکہ ہے جہاں صاف تازہ ہوا ہے اور غلاموں سے کام لینے کا رواج ہے۔البتہ اقتدار کی خواہش اور اس کے حصول کے لئے سازشیں کرنا قدیم ملاکہ اور جدید ملائشیا دونوں میں مشترکہ ہے۔ ناول کا سب سے اہم خیال دوستی اور دوستوں کے درمیان کی بےغرض محبت ہے۔ نمرا احمد کے دیگر ناولوں کی طرح اس ناول میں بھی ہیرو ہیروئن ایک دوسرے سے فاصلے پہ ہیں اور موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کرتے۔ ہمارے خیال سے یہ نمرا احمد کے قلم کی جھجک ہے جو ان کے کرداروں کو کھل کے محبت کرنے سے روکتی ہے۔  ناول کا انجام چونکا دینے والا ہے۔ عین اس وقت جب سب ٹھیک ہونے لگتا ہے تو بازی پلٹ جاتی ہے۔ قاری ہکا بکا رہ جاتا ہے اور پھر تالیہ کے لئے افسوس محسوس کرتا ہے۔

لیکن نہیں۔۔۔!۔
یہ تالیہ کا انجام نہیں۔ حالم تالیہ کی خود سازی کی داستان ہے جس نے ہمیشہ اپنی زندگی میں محنت اور جدوجہد سے اپنے لئے راستے بنائے ہیں۔ جس کا کہنا یہ رہا ہے کہ جو ہمیں آتا ہے وہ ہماری جان بچاتا ہے تو حالات جیسے بھی ہوں تالیہ کی سیکھ اس کے ساتھ ہے اور اسی سیکھ کے بل پہ وہ زندگی کے ہر مسئلے کا حل نکال سکتی ہے۔ اس لئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مصنفہ نے اس مقام کے بعد ناول لکھنا بند کر دیا لیکن جس تالیہ سے انہوں نے اپنے قارئین کو متعارف کروایا ہے اس کی زندگی کا یہ انجام نہیں  پکچر ابھی باقی ہے۔ 

حالم بہت طویل ہے کئی جگہوں پہ ایسی تفصیلات اور واقعات ہیں جو کہانی کے آگے بڑھانے میں مددگار نہیں۔ کئی مواقع پہ اس کی طوالت قاری کی اکتاہٹ اور بیزاری کا سبب بنتی ہے۔ ایسا غالباً ڈائجسٹ میں قسط وار شائع ہونے کی وجہ سے ہے۔ کئی دفعہ مصنف قسط پوری کرنے کے لئے ایسی باتیں بھی شامل کر دیتے ہیں جو براہ راست کہانی سے متعلق نہیں ہوتیں۔ قسط وار ناول پڑھتے ہوئے اس بات کا اندازہ نہیں ہوتا لیکن جب مکمل ناول ایک ساتھ پڑھنے کی کوشش کی جائے تو وہ حصے بیزار کن محسوس ہوتے ہیں۔ حالم خوبصورت ناول ہے لیکن اس میں ایک کجی ہے، اور وہ کجی اس کا حد درجے طویل ہونا ہے۔ نمرا جی تفصیل سے لکھنے کی عادی ہیں، یہ اچھی بات ہے لیکن ہمارے خیال میں اس کے ساتھ ساتھ انہیں اختصار نویسی کی بھی مشق کرنی چاہئے جس سے انہیں کم از کم الفاظ میں زیادہ سے زیادہ مدعا پیش کرنے میں آسانی ہو۔ انہیں چاہیے کہ قسط لکھنے کے بعد اسے کسی غیر جانبدار فرد سے تصحیح کرا لیں تاکہ وہ اس میں سے غیر ضروری باتیں اور تفصیلات حذف کردے۔ ایسا کرنے سے ناول کی خوبصورتی میں اضافہ ہوگا، علمی قد بڑھے گا اور غیر ضروری طوالت سے بچا جا سکے گا۔ 

ناول میں ایک باب مصر کا ہے وہاں تالیہ کی جہاں سے ملاقات ہوتی ہے۔  جہاں، نمرا جی کے لکھے ایک ناول جنت کے پتے کا ہیرو ہے اور ایک جاسوس ہے۔ یہ باب ہمیں غیر ضروری محسوس ہوا۔ اگر مصنفہ نے یہ دکھانا تھا کہ تالیہ دوسروں کی مدد کے بغیر بھی سروائیو کر سکتی ہے تو یہ سارا کام اسے اپنے بل بوتے پہ کرنا چاہیے تھا نہ کہ جہاں کی مدد سے۔ یہاں پہ مصنفہ اپنا پوائنٹ پروف کرنے میں مکمل ناکام رہی ہیں۔

حالم کے اوریجن کے بارے میں ہم متذبذب ہیں۔ مطالعے کے دوران بارہا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم کوئی غیر ملکی ڈرامہ دیکھ رہے ہیں۔ انجینئرنگ میں ایک اصطلاح استعمال ہوتی ہے جسے ریورس انجینئرنگ کہتے ہیں یعنی کسی تیار شدہ چیز کو دیکھ کے اس کو دوبارہ سے تیار کرنا۔ اسی طرح غالباً یہ ناول کسی ریورس ڈرامے کے تحت ظابطہ تحریر میں لایا گیا ہے۔ ڈرامے کی  قسط کو ناول کی قسط کے طور پہ پیش کر دیا گیا ہے۔ غالباً ترکش، چینی اورا نگریزی ڈراموں کے کئی سیزنز* کو ملا کے ناول کی شکل دی گئی ہے جس کے باعث یہ غیر معمولی طور پہ طویل ہو گیا ہے۔ جیسے ڈرامے سین در سین چلتے ہیں ویسے یہ ناول واقعات در واقعات آگے بڑھتا گیا ہے۔ 

Seasons *

نمرا جی کی  تخلیقی صلاحیتیں غالباً  اسی طرح کام کرتی ہیں جس میں وہ انسپیریشن غیر ملکی ناولوں اور ڈراموں سے لیتی ہیں۔ ہمیں یہ بات تسلیم کر لینی چاہیے کہ ان کی کری ایٹیویٹی اسی طرح کام کرتی ہے جس میں وہ بین الاقوامی تخلیقات کو مقامی قالب میں ڈھال کے پیش کرتی ہیں۔ وہ خیالات و افکار جو ہمارے معاشرے کا حصہ نہیں وہ انہیں ہمارے ذہن کے کینوس تک لاتی ہیں اور دوسرے جہانوں کی  ان باتوں اور زندگیوں سے ملواتی ہیں جس کا تصور بھی ہمارے گمان میں نہیں ہوتا۔ نمرا جی نے متعدد بار اس بات پہ افسوس کا اظہار کیا ہے کہ ان کی اوریجنل تخلیقات کو نقل شدہ قرار دے دیا جاتا ہے۔کتابستان میں ان کے ناول پہ لکھے بلاگ میں ہم ان کا نقطہ نظر اور شکوہ پیش کر چکے ہیں۔ ہم ان کی تخلیقی کاوشوں پہ شک نہیں کرنا چاہتے ، ہمیں ان سے بہت توقعات ہیں لیکن ناول لکھنے کا انداز بالکل ایسا ہے جیسے ہم کسی غیر ملکی ڈرامے کو پڑھ رہے ہوں۔ ڈراموں میں ایکٹر، کردار کے جذبات اور نفسیات اپنی ایکٹنگ اور گیٹ اپ کے ذریعے سے پیش کرتے ہیں۔ یہ سہولت ناول میں موجود نہیں ہوتی، ناول میں ناول نگار کو کرداروں کے احساسات اور جذبات لکھ کے بیان کرنے پڑتے ہیں جس کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ یہی بات نمل اور جنت کے پتے کا مطالعہ کرتے ہوئے محسوس ہوئی جہاں ناول میں کرداروں کے جذباتی اور نفسیاتی ٹریٹمنٹ کی کمی محسوس ہوتی ہے۔   نمرا جی نے حالم کے لئے بہت محنت کی ہے لیکن بطور قاری ہم کنفیوژ ہیں کہ یہ نمرا جی کی اپنی تخلیق ہے یا نہیں۔ اور اس سوال کا جواب صرف نمرا احمد جی کے پاس ہی ہے۔ 

ناول سےہمارے کچھ پسندیدہ اقتباسات ذیل میں پیش ہیں؛

”وہ تمہارا دوست تھا“۔ توقف کیا۔ ”تمہارے نزدیک دوستی کیا ہے، تاشہ؟“۔
اس نے آنکھیں رگڑیں اور سادگی سے کہنے لگی۔
”کسی کی خوشی میں خوش، اس کے غم میں غمگین۔ اس کو اعتبار اور مان دینا۔ وفا نبھانا“۔
”اور محبت کیا ہوتی ہے؟“۔
تالیہ نے ہلکے سے شانے اچکائے۔ ”پتہ نہیں“۔
”میں بتاؤں؟“ مراد آگے کو جھکا اور اس کی آنکھوں میں جھانکا۔ ”محبت وہ دوستی ہوتی ہے جس سے آگ کی لپٹیں اٹھنے لگیں“۔

مزید، 

”مجھے فیری ٹیلز میں وہ شہزادیاں نہیں پسند ذوالکفلی صاحب جو ایک زہریلا سیب کھا کے مر جاتی ہیں۔۔۔ یا گھڑی کے بارہ بجاتے ہی خوابوں کی تقریب چھوڑ کے بھاگ جاتی ہیں۔ جنہیں کوئی بھی بھیڑیا دادی کے کپڑے پہن کے بےوقوف بنا سکتا ہے۔ مجھے تو وہ شہزادیاں پسند ہیں، جو زہر کی بو کو میلوں دور سے سونگھ سکیں۔۔۔ جو اپنی ہر شے کو برف بنا دینے کی صلاحیت سے خوف زدہ نہ ہوں۔۔۔۔ جو ونڈر لینڈ میں خود کو جان بوجھ کے گم کر لیں جب کہ ان کو سارے راستے آتے ہوں اور جب وہ کسی بیسٹ کے قلعے میں داخل ہوں تو ان کو اچھی طرح معلوم ہو کہ اندر کیا ان کا منتظر ہے“۔

مزید، 

”پلان کیا گیا گناہ کبھی آخری گناہ نہیں بن سکتا۔ جس جرم سے پہلے تم سوچ لو کہ اسے آخری دفعہ کرنے جا رہی ہو، وہ جرائم کی زنجیر کی محض اگلی کڑی ہوتا ہے۔ اگلی چوری، اگلا گناہ۔ اس کے بعد مزید ایک اور ہوگا۔ پھر مزید ایک اور۔ جو لوگ چھوڑتے ہیں نا گناہ وہ پچھلے گناہ کو آخری گردان کے چھوڑتے ہیں“۔

مزید، 

”جھوٹے لوگوں کے لئے جھوٹ چھوڑنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ ناممکن نہیں مگر بہت مشکل۔ اور جانتی ہو ان کی سب سے بڑی سزا کیا ہوتی ہے؟ جب وہ اپنی زندگی کا سب سے بڑا سچ بولنا چاہیں تو ساری دنیا ماننے سے انکار کر دے“۔

مزید، 

”ساری دنیا ختم ہو گئی تھی اور بس ہم رہ گئے تھے۔ جنگل کے ساتھی۔ محل کے ساتھی۔ قید خانے کے ساتھی۔ اور اب وہ اپنے محل میں واپس جا چکا ہے۔ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ۔ وہ اپنی بلندی پہ واپس جا چکا ہے اور میں پاتال میں پڑی ایک بھکارن کے سوا کچھ نہیں رہ گئی“۔

مزید، 

”ہما صرف خوش بختی یا حکومت کی علامت نہیں ہوتا۔ یہ اپنی راکھ سے دوبارہ جنم لینے والا پرندہ ہے۔ یہ ری برتھ کی علامت ہے۔ نئی زندگی کا نشان“۔

مزید، 

”ایک دن آئے گا جب وہ مجھے کہیں گے کہ میں ان کے ساتھ رہوں۔ ان کو میری ضرورت ہے۔ میں اس دن کے انتظار میں وہ وعدہ نبھا رہی ہوں جو ابھی انہوں نے مجھ سے لینا ہے“۔

مزید، 

”وفاداری آج بھی اپنا وجود رکھتی ہے وان فاتح۔ کچھ لوگ وفاداری کے ایسے وعدے کر لیتے ہیں کہ اس کے لئے آگ میں بھی کود پڑتے ہیں“۔

مزید، 

”سب سے زیادہ تنہائی تخت پہ بیٹھنے والے کے مقدر میں ہوتی ہے“۔

مزید، 

”انسان کو ہر وقت ناصح دوست نہیں چاہئے ہوتے سر۔ کبھی کبھی صرف غم بانٹنے اور ہر حال میں ساتھ دینے والے بھی چاہئے ہوتے ہیں“۔

مزید، 

”تم اسے ایماندار ی سے حاصل کرنا چاہتے تھے نا؟ ایمانداری میں مشقت ہے اور قیمتی انسان مشقت کے بغیر نہیں حاصل کئے جا سکتے“۔

 

تشریف آوری کے لئے شکر گزار ہوں۔ ہمیشہ خوش رہیں اور اپنی نیک دعاؤں میں یاد رکھیں۔
آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔
اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔
نوٹ: بلاگ میں نیلا رنگ  کتاب سے لئے گئے اقتباسات کو ظاہر کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔

*****

نمرا احمد کے قلم سے مزید

قراقرم کا تاج محل از نمرا احمد
مصحف از نمرا احمد
نمل از نمرا احمد
سانس ساکن تھی از نمرا احمد

*****

ملتی جلتی تحریر
چوتھی سمت از علیم الحق حقی 

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s