Islam, Non-Fiction, Pakistani, Research

154-تعارف حضرت جبرائیل علیہ السلام از مولانا محمد صدیق ملتانی

 نام کتاب: تعارف حضرت جبرائیل علیہ السلام

مصنف: مولانا محمد صدیق ملتانی

صنف: اسلامی، معلوماتی، نان فکشن

صفحات: 352

اشاعت اول: 2011

ناشر: البغداد پرنٹرز فیصل آبادTaaruf Hazrat Jibraeel by Allama Siddique Multani

 بحیثیت مسلمان ملائکہ پہ یقین رکھنا ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ ہر مسلمان اقرار کرتا ہے کہ وہ ایمان لایا ہے اللہ پہ، اس کے فرشتوں پہ اور اس کی کتابوں پہ اور اس کے رسولوں پہ اور قیامت کے دن اور مرنے کے بعد پھر زندہ ہونے پہ اور تقدیر پہ کہ اس کی بھلائی اور برائی سب اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے۔ اسلام میں فرشتے آسمانوں پہ رہنے والی برگزیدہ اور بابرکت ایسی مخلوق ہے جو خطا سے پاک اور معصوم ہے۔ ان کی پیدائش انسانوں سے پہلے ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تخلیق نور سے کی ہے۔ وہ اللہ کی حمد و ثنا بیان کرتے ہیں اور اسکی طرف سے عائد مختلف ذمہ داریوں پہ معمور ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا پیغام انسانوں تک پہنچانا انہی کے ذمے ہے۔ فرشتوں کی تعداد انسانوں سے بہت زیادہ ہے۔ اکثر روایات کے مطابق ان کی اصل تعداد کا علم صرف اللہ پاک کی ذات کو ہے۔ ان فرشتوں میں مشہور فرشتے چار ہیں جن کے اسمائے گرامی ہیں، جبرائیل، میکائیل، اسرافیل اور عزرائیل۔ حضرت جبرائل علیہ السلام تمام فرشتوں سے مقدم اور اہم ہیں۔ آج ہم انہی کے بارے میں لکھی گئی کتاب کا ذکر پیش کر رہے ہیں جس کا عنوان ہے تعارف حضرت جبرائیل علیہ السلام اور یہ مولانا محمد صدیق ملتانی صاحب نے تحریر کی ہے۔ مولانا صاحب نے اس کے علاوہ بھی کئی کتب لکھی ہیں جن میں چند کے عنوانات ہیں؛ خدا کی ہستی کے دلائل، کتاب التنویر، ستر ہزار فرشتے، حیات یوسف علیہ السلام اور دیگر۔

 تعارف حضرت جبرائیل علیہ السلام میں کل آٹھ باب ہیں جن کی تفصیل یوں ہے؛

باب الملائکہ، اس باب میں فرشتوں کی پیدائش، تعداد اور کام کا ذکر پیش کیا گیا ہے۔

باب الخدمت، اس باب میں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام خادم مصطفیٰ ﷺ ہیں۔

باب العقائد، اس باب میں بتایا گیا ہے کہ حضرت جبرائیل ؑ کے وہی عقائد ہیں جو مسلمانوں کے ہیں۔

باب الانبیاء علیہ السلام ، اس باب میں حضرت جبرائیل ؑ اور دیگر انبیاء کرام کے ساتھ ملاقاتوں کی تفصیلات ہیں۔

باب الصحابہ، اس باب میں حضرت جبرائیلؑ اور صحابہ کرام کے واقعات کا تذکرہ ہے۔

باب الصالحات، اس باب میں حضرت جبرائیلؑ کی ملاقات کا شرف حاصل کرنے والی نیک عورتوں کا احوال ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت جبرائیلؑ  حسبِ ضرورت عورتوں تک بھی اللہ تعالیٰ کا پیغام لے کے آئے۔

باب الولایت، اس باب میں حضرت جبرائیلؑ اور اولیا کرام کا احوال ہے۔

باب الامت، اس باب میں بیان کیا گیا ہے کہ کس کس موقع پہ حضرت جبرائیلؑ رسول پاک ﷺ کی خدمت میں امت کے لئے بشارت لے کر حاضر ہوئے۔

ابواب کی فہرست سے اندازہ ہوتا ہے کہ کتاب تفصیلی انداز میں لکھی گئی ہے جس میں حضرت جبرائیل ؑ سے متعلق ہر ممکنہ پہلو زیر تحریر لایا گیا ہے۔ سببِ تالیف میں مصنف لکھتے ہیں کہ حضرت مولانا احمد رضا خان نے ایک رسالہ لکھا تھا جس میں آپ نے یہ ثابت کیا تھا کہ حضرت جبرائیلؑ حضور پاک ﷺ کے خادم ہیں۔ مصنف کہتے ہیں کہ انہوں نے اس رسالے کو تلاش کرنے کی بہت کوشش کی لیکن کامیابی نہیں ہوئی۔ انہیں شوق تھا کہ اس رسالے کو پڑھیں تاکہ ان کے علم و دلائل میں اضافہ ہو۔ پھر ایک دن اللہ پاک نے ان کے دل میں یہ بات ڈالی کہ اس پہ بھروسہ کرکے خود کتابوں سے علم اکھٹا کرو۔ اس کے بعد مصنف نے تقریباً تین مہینے تک مواد اکھٹا کیا اور یہ کتاب وجود میں آ گئی۔

 کتاب سے چند اقتباسات ہم ذیل میں پیش کرتے ہیں؛

”حضرت عبدالرحمٰن ابن سابط فرماتے ہیں کہ معاملات دنیا کا انتظام کرنے والے چار فرشتے ہیں۔ حضرت جبرائیلؑ، حضرت میکائیلؑ، حضرت عزرائیلؑ اور حضرت اسرافیلؑ ہیں۔ حضرت جبرائیلؑ ہواؤں اور لشکر پر مقرر ہیں اور حضرت میکائیلؑ بارش اور نباتات پر مقرر ہیں اور حضرت عزرائیلؑ قبض ارواح پہ مقرر ہیں اور حضرت اسرافیلؑ ان تینوں فرشتوں کو ان کے امور کی اطلاع دیتے ہیں“۔

 ”حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہہ‘ فرماتے ہیں حضرت جبرائیلؑ کا معنی عبداللہ ہے اور میکائیلؑ کا معنی عبید اللہ ہے اور اسرافیلؑ کا معنی عبدالرحمٰن ہے ہر وہ جو ایل کے ساتھ منسلک ہو وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والا ہے۔ ص 165/8 فتح الباری“۔

 مصنف لکھتے ہیں کہ قرآن پاک میں تین مقامات پہ حضرت جبرائیلؑ کا نام آیا ہے اور بعض مقامات پہ روح القدس اور روح الامین کہا گیا ہے۔ علامہ ابوالفضل شہاب الدین السید محمود آلوسی بغدادی کے حوالے سے آپ لکھتے ہیں؛

”خدا تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن حکیم میں جتنی تعریف حضرت جبرائیلؑ کی بیان کی ہے اتنی تعریف کسی اور فرشتے کی بیان نہ فرمائی“۔

 مزید

 ”حضرت جبرائیلؑ کے چھ سو پر ہیں جو موتی کے ہیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا حضرت جبرائیلؑ کے دونوں کندھوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے کہ ایک تیز رفتار پرندہ پانچ سو سال کے سفر کے برابر اڑے تو پھر طے کرے۔ ص 35 الحبائک فی اخبار الملائک“۔

 باب الخدمت میں حضرت جبرائیلؑ کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے ایک جگہ مصنف لکھتے ہیں؛

”خدا تعالیٰ نے سورہ بقرہ کے شروع میں فرمایا ”الم“ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے تفسیر عزیزی میں ص 76/1 پر لکھاکہ (الف) سے مراد ہے اللہ اور ل سے مراد ہےجبرائیلؑ اور م سے مراد ہے محمدﷺ۔ علماء فرماتے ہیں زمانہ قدیم میں اہل عرب میں یہ رواج تھا کہ کسی کے نام کا پہلا حرف لے کر اس کی ذات مراد لیتے تھے اور جہاں یہ رواج تھا وہاں یہ بھی رواج تھا کہ آقا کے نام کا پہلا حرف لیتے اور غلام کے نام کا آخری حرف لیتے تاکہ آقا اور غلام کا فرق واضح ہو جائے۔ اب ”الم“ کا مفہوم یہ ہو گیا کہ (الف) سے مراد اللہ اور م سے مراد محمد ﷺ یعنی اللہ کے لفظ میں پہلے الف ہے م سے مراد محمدﷺ کیونکہ لفظ محمد میں پہلے م ہے لہٰذا اللہ بھی آقا اور محمد بھی آقا اور باقی رہ گیا ل اور یہ لفظ جبرائیلؑ کا آخری حرف ہے جو اس طرف اشارہ کرتا ہے جبرائیلؑ خدا کا بھی غلام ہے اور مصطفیٰ کا بھی غلام ہے“۔

 باب الصالحات میں والدہ رسول بی بی آمنہ سلام اللہ علیہ کی حضرت جبرائیلؑ سے ملاقات کے ذیل میں مصنف تحریر کرتے ہیں؛

”محدث ابن جوزی نے لکھا ہے کہ سیدہ آمنہ فرماتی ہیں پھر میرے سامنے ایک عظیم پرندہ نمودار ہوا اور ایک نرم و نازک جوان کی صورت اختیار کر لی اور وہ جبرائیلؑ تھے اور اس کے ہاتھ میں ایک پیالہ تھا جس میں ایک مشروب تھا جو دودھ سے زیادہ سفید تھا شہد سے زیادہ شیریں تھا اور مشک سے زیادہ خوشبودار تھا اس نے مجھے وہ پیالہ دیا اور کہا اسے پی لو میں نے اسے پی لیا پھر اس نے مجھ سے کہا سیر ہو کر پی لو میں نے خوب سیر ہو کر پیا پھر اس نے کہا اور پیو میں نے اور پیا پھر اس نے اپنا مبارک ہاتھ میرے شکم اطہر پر پھیرا اور عرض کی یا سید المرسلین یا ختم النبین جلوہ فرما ہو جائیے یا رحمتہ للعالمین قدم رنجہ فرمائیے یا نبی رونق افروز ہو جائیے یا رسول اللہﷺ تشریف لائیے یا خیر الخلق جہاں کو منور فرمائیے یا نور من نور اللہ جلوہ فرما ہو جائیے بسم اللہ یا محمد بن عبداللہ تشریف لائیے پھر حضور اکرم چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتے ہوئے جہاں میں رونق افروز ہوئے جبرائیلؑ نے عرض کی الصلوٰۃ والسلام علیک یا رسول اللہ۔ (میلاد النبوی ص33) (ص 77 الصلوٰۃ والسلام علیک یا رسول اللہ)“۔

 باب الامت میں شب قدر کے موقع پہ حضرت جبرائیلؑ کے زمین پہ نازل ہونے کے متعلق مصنف لکھتے ہیں؛

”حضرت جبرائیلؑ تمام مومنوں سے مصافحہ کرتے ہیں اس کی نشانی یہ ہے کہ رونگھٹے جسم پہ کھڑے ہو جائیں، دل نرم پڑ جائے آنکھیں بہہ نکلیں اس وقت آدمی کو سمجھ لینا چاہئے کہ اس وقت میرا ہاتھ حضرت جبرائیلؑ کے ہاتھ میں ہے“۔

 کتاب کی اچھی بات یہ ہے کہ اس میں شامل مواد اور تفصیلات کے حوالہ جات ساتھ ساتھ شامل کئے گئے ہیں اور کوئی بھی بات بنا حوالے کے پیش نہیں کی گئی جس کے باعث اس کا علمی معیار  بہتر ہے۔ کتاب کی زبان سادہ اور عام فہم ہے اس میں عربی اور فارسی الفاظ کی بھر مار نہیں ہے جس کے باعث اردو زبان کے عام قاری کے لئے مطالعے میں بہت آسان ہے۔ تاہم چند ایک مقام پہ مصنف مسلکی بحث کا شکار ہوگئے جو ہمارے نزدیک اس کتاب اور موضوع کے شایان شان نہیں ہے کیونکہ مسلک سے بالاتر ہو کے ہر مسلمان ملائکہ پہ ایمان لاتا ہے۔الحمد اللہ دین اسلام سے متعلق معلومات اور تفاصیل پہ سینکڑوں کتب موجود ہیں۔ ملائکہ کے متعلق بھی مفسرین اور محققین نے  ابواب لکھے ہیں۔ اس کے باوجود حضرت جبرائیلؑ سے متعلق آیات، احادیث و روایات کو اکھٹا کرکے کتابی شکل میں پیش کرنا مصنف کا ایک کارنامہ ہے جس سے اس مقدس فرشتے کے بارے میں یکسوئی سے جاننے میں مدد ملتی ہے جو انسان کے ساتھ روزِ اول سے وابستہ ہے۔ حضرت آدم ؑ سے لے کر حضور پاک ﷺ تک انبیاء کرام تک اللہ پاک کا پیغام پہنچانا آپ ہی کے ذمے رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہر سال لیلتہ القدر کی رات آپ ؑ اپنے فرشتوں کے ساتھ زمین پہ اترتے ہیں اور اللہ کے نیک بندوں تک بھلائی اور خیر پہنچاتے ہیں۔ آپ تمام فرشتوں میں برتر اور بزرگ ہیں، کوئی بھی دوسرا فرشتہ آپ کی برابری نہیں کر سکتا۔ آپ رسول پاک ﷺ کے محبوب، دوست، ہمدرد اور مددگار ہیں۔ ہم سب مسلمان بھی آپ سے محبت کرتے ہیں۔ ہم مصنف کے لئے دعا گو ہیں جن کے توسط سے یہ معلومات ہم سب تک پہنچی۔

تشریف آوری کے لئے شکر گزار ہوں۔ ہمیشہ خوش رہیں اور اپنی نیک دعاؤں میں یاد رکھیں۔ 

آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

نوٹ: بلاگ میں نیلا رنگ  کتاب سے لئے گئے اقتباسات کو ظاہر کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔

 

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s