Book Review, Brazilian Literature, English, Fiction, Inspirational, international literature, Romance, Translation

153- The Zahir by Paulo Coelho

دی ظاہر از پاؤلو کوئیلہو

الظاہر مترجم نور الدین نور

نام کتاب: دی ظاہر

مصنف: پاؤلو کوئیلہو

نام ترجمہ: الظاہر

مترجم: نور الدین نور

صنف: ناول، فکشن، برازیلین ادب

سن اشاعت: 2005

اشاعت ترجمہ:2012

صفحات: 223

ناشر ترجمہ: سٹی بک پوائنٹ

The Zahir by Paulo Coelho

پاؤلو کوئیلہو موجودہ دور کے مشہور مصنف ہیں جنہیں اپنی لکھی کتاب الکیمسٹ سے دنیا بھر  میں شہرت حاصل ہوئی۔ آپ کا تعلق برازیل سے ہے۔ آپ کے قلم سے کئی ناول نکل چکے ہیں اور ان ناولوں کا  کئی زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے جس کی وجہ سے قارئین کی ایک بڑی تعداد تک آپ کا کام پہنچ سکا ہے۔ کتابستان میں ہم آپ کی کچھ کتب کا پہلے ذکر کر چکے ہیں اور ان شاء اللہ آگے بھی پیش کریں گے۔ آج ہم جس کتاب پہ بات کر رہے ہیں اس کا نام ہے ” دی ظاہر“ اور اس کا اردو ترجمہ الظاہر کے عنوان کے تحت کیا گیا ہے۔ یہ ایک ناول ہے کوئیلہو کے دیگر ناولوں کی طرح یہ ناول بھی بیسٹ سیلر رہا ہے۔ عنوان کے متعلق تعارف میں مترجم نور صاحب لکھتے ہیں؛

”ناول کے انگریزی نام کو برقرار رکھا گیا ہے۔ عربی زبان میں لفظ ”الظاہر“ کے معنی نمایاں، موجود اور مستقل توجہ حاصل کرنے والی شے یا شخص ہوتا ہے جو ایک بار نظر یا رابطے میں آ جائے تو وہ دھیرے دھیرے انسانی خیالات و حواس پہ اس طرح چھا جاتا ہے کہ کچھ اور یاد نہیں رہتا۔ اسی حالت کو جذب کی انتہا یا جنون کہا جا سکتا ہے“۔

ناول کی کہانی ایک مشہوراور کامیاب  مصنف کے گرد گھومتی ہےجو  فرانس میں مقیم ہے اور اپنی گمشدہ بیوی کی تلاش میں ہے۔ اس کی بیوی ایستھر ایک صحافی ہےاور جنگی علاقوں میں رپورٹنگ کے لئے جاتی ہے۔ وہ حال ہی میں عراق سے واپس آئی ہے۔ عراق میں اسے ایک شخص ملتا ہے۔ ایستھر اس شخص کو اپنی زندگی کا اہم شخص قرار دیتی ہے اور اس کے چند روز بعد وہ غائب ہو جاتی ہے۔ وہ شخص جس سے ایستھر ملی تھی ایک اجنبی شخص ہے جس کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں اس کی شناخت کے لئے کچھ بھی موجود نہیں۔ پولیس گمشدگی کی تفتیش شروع کر دیتی ہے اور ان کا پہلا شک مصنف پہ ہی ہوتا ہے۔ لیکن مصنف سے انہیں کچھ معلوم نہیں ہوتا اور وہ اسے چھوڑ دیتے ہیں۔

مصنف کے لئے اس کی بیوی کا چلے جانا کئی سوالوں کا سبب بن جاتا ہے ۔ وہ اس سوچ میں پڑ گیا کہ اس کی بیوی اسے کیوں چھوڑ گئی ہے؟ کیا اسے اغوا کر لیا گیا ہے؟ کیا اس نے کسی اور پہ یقین کر لیا ہے؟ کیا وہ کسی کے جال میں پھنس گئی ہے؟ لیکن ایک کے بعد ایک وہ یہ تمام وجوہات رد کرتا چلا گیا کہ اس کی بیوی کے غائب ہونے کے پیچھے ان میں سے کوئی بھی وجہ نہیں تھی۔ بالآخر وہ اس نتیجے پہ پہنچا کہ اس کی بیوی کا چلے جانا اس کے لئے ایک پیغام تھا کہ وہ چھوڑ کے جا رہی ہے۔ کیوں جا رہی ہے؟ اس لئے کہ اس میں مصنف کی اپنی نااہلی تھی وہ اپنی بیوی کو اپنے ساتھ نہیں رکھ سکا تھا۔ مصنف کو خیال آیا کہ اس نے اپنی بیوی سے اس اجنبی شخص کی بابت کچھ بھی سوال نہیں کیا تھا۔ اس کی معلومات اس شخص کے بارے میں صفر تھیں جس کو اس کی بیوی نے ایک اہم شخصیت قرار دیا تھا۔ وہ اس سوال کا شکار تھا کہ ایستھر اچھی تھی یا بری؟ اور یہ کہ وہ لوگوں کو یہ کیسے بتائے کہ اس کی بیوی نے اسے چھوڑ دیا ہے؟

اس صورتحال نے مصنف کو تنہائی کی طرف دھکیل دیا۔ لیکن اس نے محسوس کیا کہ لوگوں کو اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ آہستہ آہستہ مصنف ”ظاہر“ کا شکار ہوتا گیا۔ ظاہر وہ ہستی تھی جس کے بارے میں وہ محبت و نفرت سے سوچتا لیکن وہ اس کی روح میں پیوست ہوتی جاتی۔ وہ ہر عورت میں ایستھر کو تلاش کرتا۔ ایستھر ہی مصنف کا ظاہر تھی۔ مصنف کا ادبی سفر جاری رہا۔ اس کی کتابیں چھپتی رہیں، لوگ پڑھتے رہے، وہ کتابوں پہ دستخط کرکے بھیجتا۔ نقاد اس کی تحریروں پہ تنقید کرتے اور سلسلہ چلتا رہا۔

ایک تقریب میں مصنف کی ملاقات میخائل سے ہوتی ہے جو اسے یہ بتاتا ہے کہ اس کی بیوی خیریت سے ہے۔ مصنف کو لگتا ہے کہ میخائل اسے اس کی بیوی تک پہنچنے میں مدد دے سکتا ہے۔ مزید ملاقاتوں میں میخائل اسے اپنے فرقے اور اطوار کے متعلق بتاتا ہے۔ وہ اسے بتاتا ہے کہ وہ قوت کائنات سے رابطے میں ہے اور خدا اس کی روح سے گزرتا ہے۔ لیکن مصنف اس بات کا مطلب سمجھنے سے قاصر رہتا ہے۔ وہ اس سے دریافت کرتا ہے کہ اس کی بیوی اسے کیوں چھوڑ کے گئی ہے؟ جواب میں میخائل کہتا ہے کہ وہ چھوڑ کے نہیں گئی ہے بس کچھ دنوں کے لئے نظروں سے اوجھل ہو گئی ہے اور ہم سب کو ان کا احترام کرنا چاہئے۔ بالآخر مصنف یہ فیصلہ کرتا ہے کہ اسے اپنے ظاہر کو تلاش کرنا ہے۔ وہ پیرس سے قزاقستان کا سفر کرتا ہے۔ جہاں اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی بیوی ”خود“ کی تلاش میں اسے چھوڑ گئی تھی اور اب وہ قالین بافی کے ذریعے اپنی تلاش کر رہی ہے۔

الظاہر صیغہ واحد متکلم میں لکھا گیا ہے۔ اس میں مصنف کی زبانی اس کی اندرونی کیفیات، سوچیں اور خیالات پیش کئے گئے ہیں۔ ناول کا زیادہ تر حصہ مصنف کی خود کلامی اور خود احتسابی پہ مبنی ہے جس میں وہ ایستھر اور اپنے متعلق خود اندازے لگاتا ہے، اور خود ہی ان کو مسترد کر دیتا ہے۔ خود ہی سوال اٹھاتا ہے اور خود ہی جواب دیتا ہے۔ ناول کی کہانی پرپیچ نہیں ہے، اس میں سسپنس اور جذباتی اتار چڑھاؤ نہیں۔ مصنف کی خارجی سے زیادہ داخلی کیفیات کا بیان ہے۔ یہ ناول اس سوال کے جواب کی تلاش ہے کہ مصنف کی بیوی کہاں گئی؟ اس جواب کی تلاش نے اسے خود کو، اپنے رویے کو اور اپنے انداز کو کھرے انداز سے پرکھنے پہ مجبور کر دیا۔ میاں بیوی کا رشتہ کیسا ہونا چاہئے یہ ناول اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ناول کہتا ہے کہ رشتے میں محبت اور آزادی ہونی چاہئے جس میں کوئی انسان خود کو نہ کھوئے۔ ناول کا مرکزی خیال غیر معمولی ہے۔ ہمارے ہاں ایسا ہونا کہ بیوی خود کی تلاش میں شوہر کو چھوڑ کے چلی جائے، بہت ہی ناقابل یقین بات ہے۔ ہمارا معاشرہ ایسی تلاش کی اجازت نہیں دیتا۔ دوسری طرف ایسے شوہر بھی ہمارے ہاں نہیں پائے جاتے جو بیوی کے چھوڑ جانے پہ اس کی تلاش میں اتنا لمبا سفر طے کریں۔ اس کے باوجود ناول کا پیغام کہ رشتوں میں محبت اور آزادی ہونی چاہئے دنیا کے ہر رشتے پہ لاگو ہوتا ہے۔

ناول سے کچھ اقتباسات ذیل میں پیش ہیں؛

”میں نے کیفے، وہاں بیٹھنے والے رائٹروں اور دانشوروں اور ثقافتی سرگرمیوں کی بنا پہ پیرس منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔ جا کر مجھے معلوم ہوا کہ وہاں ایسا کچھ نہیں تھا۔ کہنے میں سیاحوں اور تصویریں اتارنے والوں کی بھیڑ تھی۔ وہاں زیادہ تر لکھنے والے موضوع سے زیادہ اسلوب سے سروکار رکھتے تھے۔ طبع زاد تخلیقات کے لئے کوشش تو ضرور کرتے تھے لیکن کوئی چونکا دینے والی تحریر پیش کرنے میں ناکام تھے۔ وہ اپنی محدود دنیا میں مگن تھے۔ نوازشات کا بدلہ چکانا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے ”من تیرا حاجی بگویم تو مرا ملا بگو“ تم میری کتاب کی تعریف کرو، میں تمہاری کتاب کی تعریف کروں۔ اس طرح ایک نئی ثقافتی زندگی وجود میں آئے گی ایک ادبی انقلاب آئے گا ایک نیا فلسفہ جنم لے گا۔ ہمیں اس لئے نقصان اٹھانا پڑتا ہے کہ ہمیں کوئی سمجھتا نہیں ہے۔ ماضی میں سارے جینئس کے ساتھ یہی ہوا“۔

مزید،

”تمہیں تین اہم باتوں کی واقفیت حاصل ہوگی۔ پہلی بات، جیسے ہی کوئی مسئلہ سامنے آتا ہے لوگوں کو یہ پتہ چلتا ہے کہ ان کے اندر حل کرنے کی وہ صلاحیت موجود نہیں جو وہ پہلے سمجھتے تھے۔ دوسری بات، ساری صلاحیت اور سارا علم اس نامعلوم ذریعہ سے حاصل ہوتا ہے جسے عام طور پہ خدا کہا جاتا ہے۔ میں نے اپنی زندگی کی راہ جب سے متعین کی ہے اس وقت سے میری یہی کوشش رہی ہے کہ اس قوت کا احترام کروں، اس کی نشانیوں کی پیروی کروں اور سیکھنے کے لئے عمل کی سوچ سے نہیں، بلکہ خود عمل سے سیکھوں۔ تیسری بات، دنیا میں کوئی بھی دکھ اور پریشانی سے مبرا نہیں۔ اور یہی حقیقت ہمیں چیلنجوں سے مقابلے کرنے کا حوصلہ دیتی ہے“۔

مزید،

”فرض کرو کہ آگ بجھانے والے دو افراد ایک جنگل میں لگی آگ بجھانے جاتے ہیں۔ بعد ازاں وہ لوٹ کر ایک ندی کا رخ کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک کا چہرہ دھوئیں سے کالا ہو گیا ہے جبکہ دوسرے کا چہرہ صاف ہے۔ یہاں میرا سوال یہ ہے ان میں سے کون اپنا چہرہ دھوئے گا؟“۔ ”بے معنی سا سوال ہے۔ ظاہر ہے کہ کالک لگا چہرے والا دھوئے گا“۔ ”نہیں، کالک لگا چہرے والا آدمی اپنے ساتھی کا صاف چہرہ دیکھے گا اور محسوس کرے گا کہ اس کا اپنا چہرہ صاف ہوگا اور صاف چہرے والے کا خیال اس کے برعکس ہوگا۔ لہٰذا وہ اپنا چہرہ صاف کرنا چاہے گا“۔

مزید،

”آپ غربت کے متعلق کیا جانتے ہیں؟“۔ لمبے قد کے مضبوط آدمی نے سیدھے میری طرف دیکھتے ہوئے سوال کیا۔ اس نے وودکا زیادہ پی رکھی تھی۔ ”کیا آپ واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ غربت کا تعلق پیسوں کے نہیں ہونے سے ہے؟ کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم پریشان بدحال محض اس وجہ سے ہیں کہ ہم دولت مند لکھاریوں اور احساس گناہ کے مارے جوڑوں سے یا پیرس آنے والے ٹورسٹ یا آورش وادی نوجوان لوگوں سے بھیک مانگتے ہیں جو بزمِ خود یہ سمجھتے ہیں کہ وہ دنیا کو بچا سکتے ہیں؟ آپ جیسے لوگ مفلس ہیں۔ آپ لوگوں کو اپنے وقت پہ کنٹرول نہیں ہے۔ آپ جو چاہتے ہیں وہ کر نہیں سکتے ہیں۔ آپ لوگوں کو ان قوانین کی پابندی کرنی پڑتی ہے جو آپ نے نہیں بنائے ہیں اور نہ سمجھتے ہیں“۔

مزید،

”ناقدین اپنے آپ کو بےحد غیر محفوظ پاتے ہیں۔ انہیں واقعتاً یہ معلوم نہیں ہوتا ہے کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔ سیاست میں ڈیموکریٹک ہوتے ہیں اور ثقافت میں فسطائی۔ وہ یہ تو مانتے ہیں کہ عوام اپنے حکمرانوں کو چننے کی قابلیت رکھتے ہیں لیکن یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی ہے کہ عوام یہی صلاحیت فلم، کتاب اور موسیقی کے انتخاب کے لئے بھی رکھتے ہیں“۔

مزید،

”اس کے سب ساتھی کہتے ہیں۔ وہ خوش نصیب ہے! لیکن وہ جانتا ہے کہ خوش نصیبی اپنے چاروں طرف دیکھنے کا نام ہے اور یہ دیکھنے کا نام ہے کہ اس کے دوست کہاں کہاں ہیں کیونکہ یہ ان کے الفاظ ہوتے ہیں جو فرشتوں کی زبان تک پہنچتے ہیں“۔

مزید،

”آپ صرف اپنی بیوی کی تلاش میں دلچسپی رکھتے ہیں؟“۔ ” میں اب بھی رکھتا ہوں لیکن میں نے اسی وجہ سے صرف قزاقستان کے میدانی علاقہ کا دورہ نہیں کیا۔ اس کی وجہ سے مجھے اپنی گزری ہوئی زندگی کا سفر طے کرنا پڑا ہے۔ میں نے دیکھا میں کہاں غلط تھا۔ میں کہاں رہ گیا۔ مجھے وہ لمحہ بھی دیکھنا پڑا جب ایستھر کو کھو دیا اور وہ لمحہ بھی جب ”ہار مان لی“ والی کیفیت طاری ہوئی۔ میرے تجربات میں وہ ساری باتیں بھی آئیں جن کا میں تصور بھی نہیں کر سکتا“۔

تشریف آوری کے لئے شکر گزار ہوں۔ ہمیشہ خوش رہیں اور اپنی نیک دعاؤں میں یاد رکھیں۔ 

آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

نوٹ: بلاگ میں نیلا رنگ  کتاب سے لئے گئے اقتباسات کو ظاہر کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔

*****

پاؤلو کوئیلہو کے قلم سے مزید

مکتوب از پاؤلو کوئیلہو

الکیمسٹ از پاؤلو کوئیلہو

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s