Adventure, Book Review, Fiction, Pakistani, Pakistani literature, Romance, Urdu

148-قراقرم کا تاج محل از نمرا احمد

نام کتاب: قراقرم کا تاج محل
مصنفہ: نمرا احمد
صنف: ناول، رومانوی، پاپولر فکشن
صفحات: 208
قیمت:700 روپے
ناشر:علم و عرفان پبلشرز
Karakrm-ka-Taj-Mahal-By-Nimra-Ahmedقراقرم کا تاج محل نمرہ احمد کا لکھا ناول ہے جو ابتدائی طور پہ ڈائجسٹ کے لئے لکھا گیا تھا اور بعد ازاں کتابی شکل میں پیش کیا گیا۔ یہ نمرہ احمد کا کتابی شکل میں چھپنے والا پہلا ناول ہے جو 2013 میں شائع کیا گیا۔ نمرہ احمد جی کے رائٹنگ اسٹائل کے بارے میں ہم تفصیلی گفتگو یہاں کر چکے ہیں۔ دیباچے میں نمرہ جی کہتی ہیں؛
”نوآموز لکھاریوں کے لئے، خواہ وہ کتنا ہی اچھا یا برا کیوں نہ لکھیں، اپنی جگہ بنانا آسان اور آرام دہ کام کبھی نہیں ہوتا، نہ ہی یہ جگہ لکھاری فوراً بنا سکتا ہے۔ پہچان بنانے میں وقت لگتا ہے۔ نئے رائٹر کو تسلیم کرنا قارئین کے لئے آسان نہیں ہوتا۔ جب بھی کوئی نیا نیا لکھنا شروع کرتا ہے، تمام قارئین مل کر اس کو اس کام سے باز رکھنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے جس بھی اچھے رائٹر کو پڑھ رکھا ہوتا ہے، وہ نئے رائٹر کا کام اس سے نقل شدہ، چوری شدہ، چھاپہ شدہ ثابت کرنے کے لئے ہر ممکن تگ و دو کرتے ہیں۔ دنیا کبھی بھی نئے رائٹر کی کہانی کو اوریجنل تسلیم نہیں کرتی۔ وہ ایک ایک سطر، ایک ایک مکالمے کا کنارہ کسی تجربہ کار لکھاری کی تحریر سے جوڑنے کی سعی میں لگی رہتی ہے۔“

ان چند لائنوں میں نمرہ جی نے اپنے دل کا دکھ بیان کیا ہے۔ فنکار اور تخلیق کار عموماً حساس ہوا کرتے ہیں۔ ان کی حساسیت ہی انہیں عام عوام سے الگ کرتی ہے اور اس قابل بناتی ہے کہ وہ اپنے ارد گرد موجود دنیا کے احساسات کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے سے سامنے لائیں۔ اور یہی حساسیت، ناقدری کی صورت میں ان کا دم گھونٹنے کا سبب بنتی ہے۔ کوئی بھی تخلیق، اپنے تخلیق کار کی اس وقت تک ہوتی ہے جب تک وہ دنیا کے سامنے پیش نہیں کر دی جاتی۔ ایک دفعہ منظر عام پہ آنے کے بعد وہ تخلیق کار کی نہیں رہتی بلکہ عوامی ملکیت بن جاتی ہے۔ عوام اس تخلیق کو کس گہرائی تک جان پاتے ہیں، آیا وہ اس سے کوئی تعلق بنا پاتے ہیں، تخلیق کار کے کرب کو محسوس کر پاتے ہیں، اس کو پسند کرتے ہیں یا پھر یک جنبش قلم رد کر دیتے ہیں، یہ تمام چیزیں تخلیق کار کے ہاتھ میں نہیں ہوتیں۔ جو عوام کسی بھی تخلیقی کام کو اپنا وقت، توانائی اور دولت دیتی ہے وہ عموماً بےرحمانہ تبصرے کیا کرتی ہے، اور یہی ان کا کام ہے۔ ان کے تبصرے اور باتیں ہی ایک تخلیق کار کو بتاتے ہیں کہ اس کی تخلیق کو وقت اور توجہ دی گئی ہے اور وہیں سے وہ اس میں بہتری کی جگہیں تلاش کر سکتا ہے۔ ایک قابل تخلیق کار اس تنقید میں بھی سیکھنے کا پہلو تلاش کر لیتا ہے اور اس تنقید کو آگے بڑھنے کی سیڑھی بنا لیتا ہے۔ بقول شاعر
تندیٔ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے
یقیناً نمرہ جی نے اس تنقید کو اپنی اونچی اڑان کے لئے ہی استعمال کیا ہے جیسا کہ ان کے بعد میں آنے والے ناولوں سے ظاہر ہے۔ ان کا کام بتدریج بہتر ہوا ہے اور اس بات کا ذکر ہم اپنے پرانے بلاگوں میں کر چکے ہیں۔ ایسے میں ہمیں لگتا ہے کہ اس کتاب کے دیباچے میں بھی تبدیلی ہونی چاہئے۔ یہ دیباچہ سن2013 میں لکھا گیا تھا۔ ہم نے 2018 کی شائع شدہ کتاب کا مطالعہ کیا ہے۔ گو کتاب میں یہ واضح نہیں کہ یہ اس ناول کا کونسواں ایڈیشن ہے تاہم ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس عرصے کے دوران نمرہ جی بھی اور ان کے قارئین بھی، کافی سفر طے کر چکے ہیں اور باہمی ہم آہنگی کے بہتر درجوں پہ ہیں۔ ایسے میں ایک نیا دیباچہ امید کی نئی کرنوں کو جگائے گا اور آگے کی طرف کے سفر کے رستوں کو روشن اور پرامید کرے گا۔ اس ناول کے آئندہ ایڈیشنز میں نمرا جی اور اس ناول کے پبلشر دیباچے کے ان حصوں کی طرف  توجہ دیں گے۔

دیباچے میں ہی آگے جا کے نمرہ احمد لکھتی ہیں جو ہمیں بہت پسند آیا ہے؛
”لٹریچر میں کہانیاں بس وہی پانچ دس ہی ہیں، ازل سے ابد تک انہی کو ری رائٹ کیا جا رہا ہے، ہر لکھاری ایک ہی کہانی کو اپنے طریقے سے لکھتا ہے۔ دو بھائیوں کا ایک ہی لڑکی سے محبت کرنا اور اس کے لئے جانی دشمن بن جانا، ہابیل قابیل کی کہانی ہے۔ دو بہنوں کا یکے بعد دیگرے ایک ہی آدمی سے شادی کرنا یعقوب علیہ السلام کی کہانی ہے۔ کسی عورت کا مرد کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں ناکامی کے بعد اس پہ الزام لگانا یوسف علیہ السلام اور عزیز مصر کی بیوی کی کہانی ہے۔ لوگوں کا کسی پاکدامن عورت کو کسی دوسرے مرد کے ساتھ سر راہ اتفاقیہ دیکھ لینا اور کچھ نہ ہونے کے باوجود بہتان لگانا حضرت عائشہ کی کہانی ہے۔ نجومی کا پیش گوئی کرکے کسی ایسے بچے کے پیدا ہونے کی خبر دینا جو بڑا ہو کر ظالم حکمران کا زوال بنے گا، آج ہیری پوٹر کی کہانی ہے، مگر درحقیقت موسیٰ علیہ السلام کی کہانی ہے“۔

قراقرم کا تاج محل ابتدائی طور پہ ڈائجسٹ کے لئے لکھا گیا تھا۔ ڈائجسٹوں میں شائع ہونے والے ناول اور افسانے زیادہ تر رومان اور معاشی و سماجی مسائل کے گرد گھومتے ہیں۔ قراقرم کا تاج محل بھی ایک رومانوی داستان ہے لیکن اس کی انفرادیت یہ ہے کہ یہ داستان قراقرم کے پہاڑوں کی کوہ پیمائی کے گرد بنی گئی ہے، ہیروئن کا پہاڑ کی چوٹی سر کرنے کی غرض سے پہاڑوں پہ جانا، ایسا پڑھنے کا اتفاق نہیں ہوا۔ یہی بات اس ناول کو غیر روایتی بنا دیتی ہے۔ عموماً دیکھا گیا ہے کہ مصنفین اپنی کتب میں جو اپنا تخیل پیش کرتے ہیں وہ کچھ عرصے بعد حقیقت بن جاتا ہے۔ اس ناول کے مطالعے کے دوران ہمارا یہی خیال تھا کہ پریشے جیسی کوہ پیما لڑکی مصنفہ کا تخیل ہے اور پاکستانی سوسائٹی ابھی جدیدیت کے اس مقام پہ نہیں پہنچی کہ خواتین، لڑکیاں یا بچیاں کوہ پیمائی جیسے مشکل شوق کے لئے گھروں سے نکل جائیں اور اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالیں۔ لیکن آج ہی ایک ایسی خبر پڑھنے کو ملی جس سے معلوم ہوا کہ نا صرف ہم غلط تھے بلکہ مصنفہ کا تخیل بھی حقیقت کا روپ دھار چکا ہے۔ یہ خبر پاکستان کی سب سے کم عمر کوہ پیما لڑکی سلینا خواجہ کے بارے میں ہے جس نے حال ہی میں 7027 میٹر بلند چوٹی سپانٹک سر کی ہے اور اگلے سال وہ ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں، ان شاء اللہ۔ ہماری نیک تمنائیں ان کے ساتھ ہیں۔

قراقرم کا تاج محل، پریشے اور افق ارسلان کی کہانی ہے۔ پریشے ایک پاکستانی لڑکی تھی جسے بچپن سے پہاڑ سر کرنے کا بہت شوق تھا۔ اپنے لندن کے قیام کے دوران اس نے کوہ پیمائی کی تربیت بھی حاصل کی تھی اور اپنے شوق کو زندہ رکھا تھا۔ تاہم اس کی والدہ کی وفات کے بعد وہ اپنے والد کے ساتھ پاکستان آ گئی تھی جہاں اس نے میڈیکل کی پڑھائی شروع کر دی، اس کی منگنی اس کے کزن کے ساتھ کر دی گئی جو اسے پسند نہیں تھا اور اس کا کوہ پیمائی کا کیریر ختم ہو چکا تھا۔ پریشے خوابوں میں رہنے والی لڑکی تھی وہ سوچتی تھی،
”کاش میرے لئے بھی ایک ایسا ہی شخص آئے، شہزادوں کی سی آن بان رکھنے والا، بہادر اور مضبوط، جو ظاہریت کے پجاریوں جیسا نہ ہو۔۔۔۔“۔
یہ کوئی کچی عمر کا سپنا نہیں تھا، ایک امید تھی، ایک وجدان تھا کہ کوئی ہے، جسے اس کے لئے تخلیق کیا گیا ہے۔ وہی جو دیس دیس کی خاک چھانتا کسی روز اس کے پرستان میں آ نکلے گا، جس کو دیکھ کے اس کا دل کہے گا کہ ہاں، ظالم دیو کی قید میں موجود اس پری نے صدیوں اسی کا تو انتظار کیا تھا۔۔۔ ہاں یہی تو ہے جس کی روح نے وجود میں آنے سے قبل عشق کیا تھا، جو اس کی ذات کا ٹوٹ کر بکھرنے والا ایک گم شدہ حصہ تھا“۔

افق ارسلان ترکی سے تعلق رکھنے والا ایک کوہ پیما تھا۔ وہ بنیادی طور پہ ایک انجینیر تھا اور کوہ پیمائی اس کا شوق تھا۔
”ہر سال؟ میں تو سال کے دس مہینے نگر نگر پھرتا ہوں۔ میں پیدائشی سیاح ہوں۔ مجھے دنیا کو ایکسپلور (دریافت) کرنے کا شوق ہے، اس کو گھوم پھر کے دیکھنے کا شوق ہے، اس کو گھوم پھر کے دیکھنے کا شوق ہے۔ سیاحت انسان کی زندگی بدل ڈالتی ہے۔ آپ ایک دفعہ پہاڑوں پہ نکل جائیں تو واپسی پہ آپ ویسے نہیں ہوتے، آپ بدل جاتے ہیں پہاڑوں کا سفر انسان کو بدل ڈالتا ہے۔ اس کے بعد لائف از نیور دی سیم اگین۔ میسز نے کہا تھا، اگر عالمی لیڈر چند دن کسی پہاڑ پہ اکھٹے چڑھتے گزار دیں تو دنیا کے تمام معاملات اور مسائل حل ہو سکتے ہیں اور اگر دو اچھے کوہ پیما بھی چند دن راکا پوشی پر ساتھ گزار دیں تو یقین کرو ان کے بھی سارے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔“ افق نے بڑی سنجیدگی بھری معصومیت سے کہا تھا“۔

انٹرنیٹ پہ موجود معلومات کےمطابق افق ارسلان کا کردار حقیقی زندگی کے دو انسانوں کی زندگی کو ملا کے بنایا گیا ہے۔ ایک افق ارسلان، جو ترکی کا باشندہ تھا اور دوسرا توماز ہومر جو سلوینیا کا کوہ پیما تھا۔ حقیقی زندگی کا افق ارسلان کوہ پیما نہیں تھا، وہ زلزلے کے بعد پاکستان آیا تھا امدادی کاموں میں مدد دینے کے لئے لیکن یہاں اس کا خیمہ میں لگنے والی آگ کی وجہ سے انتقال ہو گیا تھا۔ قراقرم کا تاج محل اصل میں توماز ہومر کی کہانی ہے جو اصل میں ویسٹرن رج کی طرف سے نانگا پربت سر کرنے آیا تھا۔ لیکن خراب موسم کی وجہ سے وہ وہاں پھنس گیا تھا اس کو بچانے کی کئی کوششیں ناکام ہوئیں اور آخر کار آٹھ دن بعد اسے بچا لیا گیا۔ توماز ہومر اس کے بعد کبھی پاکستان واپس نہیں آیا۔

ناول میں کوہ پیمائی کے بارے میں کئی تفصیلات موجود ہیں اور نمرا جی نے خاصی تحقیق کرکے اس ناول کو لکھا ہے۔ ہمیں نمرا جی کے کئی ناول پڑھنے کا اتفاق ہو چکا ہے جن میں سے کچھ پہ بلاگ آپ کتابستان میں پڑھ چکے ہیں اور دیگر پہ آنے والے دنوں میں پڑھیں گے۔ ان شاء اللہ۔ ان تمام ناولوں میں قراقرم کا تاج محل ہمارا پسندیدہ ہے۔ اس کی بنیادی وجہ غالباً انتہائی غیر روایتی ہونا ہے اور ساتھ ہی پہاڑوں کے بیک گراؤنڈ نے اس ناول کے رومان کو سحر زدہ بھی کر دیا۔ رومانوی ناول ہونے کے باوجود اس کے کردار ایک دوسرے سے فاصلے پہ ہیں۔ تنہائی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کبھی ہیرو نے ہیروئن کا ہاتھ پکڑنے کی بھی کوشش نہیں کی۔ اس کی بنیادی وجہ ایک تو نمرا جی کا قلم ہے، جس سے نکلے ہوئے کردار بہت تمیز دار اور حد میں رہنے والے ہوتے ہیں دوسرے کہانی کا فوکس مہم جوئی اور ایک دوسرے کی نفیسات سمجھنا رہا۔ دونوں کردار آخر تک اس الجھن میں رہے کہ آیا دوسرا بھی ان کے لئے جذبات رکھتا ہے یا نہیں۔ اس ناول میں مذہب سے متعلقہ تفصیلات اور تبلیغی حصہ موجود نہیں، اس لئے یہ ناول، صرف ناول سمجھ کے انجوائے کیا جا سکتا ہے۔

ناول سے کچھ اقتباسات پیش ہیں؛
”جس کی جستجو کی جائے اسے ازل سے علم ہوتا ہے، بے وقوف کوہ پیما۔ کھوجنے والا تو دربدر کی ٹھوکریں کھاتا ہے، مگر جنہیں کھوجا جاتا ہے ناں وہ ایک ہی راستے پہ صدیوں نگاہ جمائے انتظار کر رہے ہوتے ہیں“۔

”صحیح کہتی ہو، میں نے واقعی محبت نہیں کی تھی۔ میں محبت کر ہی نہیں سکا۔ حالانکہ کوشش بہت کی تھی صرف محبت کروں، مگر میں نے تم سے محبت نہیں کی تھی پری! میں نے تو تم سے عشق کیا تھا۔ محبت کی ہوتی تو شاید تمہیں اپنے باپ سے بغاوت کرنے پہ مجبور کر دیتا۔ محبت کی ہوتی تو شاید رہ لیتا، محبت کی ہوتی تو شاید اب واپس نہ آتا، مگر میں نے محبت ہی تو نہیں کی تھی“۔

آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے شکر گزار ہوں۔ ہمیشہ خوش رہیں۔

نمرا احمد کے قلم سے مزید

مصحف از نمرا احمد

نمل از نمرا احمد

سانس ساکن تھی از نمرا احمد

نوٹ: بلاگ میں نیلا رنگ  کتاب سے لئے گئے اقتباسات کو ظاہر کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s