Book Review, Fiction, Pakistani, Pakistani literature, Romance, Urdu

147-سانس ساکن تھی از نمرا احمد

نام کتاب: سانس ساکن تھی

مصنفہ: نمرا احمد

صنف: ناول، اردو، پاکستانی ادب

صفحات: 248

ناشر: علم و عرفان پبلی کیشنز

Saans sakin the by Nimra Ahmedسانس ساکن تھی، نمرا احمد صاحبہ کا تحریر کردہ ناول ہے۔ نمرا جی کے رائٹنگ اسٹائل پہ ہم پہلے ہی تفصیلی گفتگو کر چکے ہیں جسے یہاں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ سانس ساکن تھی، نمرا جی کے ابتدائی دور کا ناول ہے جس کے بارے میں وہ پیش لفظ میں لکھتی ہیں؛

”سانس ساکن تھی“ کہانی میری ان تحریروں میں سے ایک ہے جب میں نے لکھنا شروع کیا۔ اس تحریر کی اشاعت سے مجھے حوصلہ ملا اور مزید لکھنے کی خواہش پیدا ہوئی۔ یقیناً آپ کو اس کہانی میں بہت سی غلطیاں اور خامیاں نظر آئیں گی۔ مگر اس کے باوجود بہت سے لوگوں نے میری اس تحریر کو بہت پسند فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اردو پاپولر فکشن میں ایک مقام عطا کیا۔ میں خواتین ڈائجسٹ کی ایڈیٹر امت الصبور کی بےحد مشکور ہوں جنہوں نے میری تحریر کو اپنے ڈائجسٹ میں جگہ دے کر میری حوصلہ افزائی کی“۔

مصنفہ کی یہ بات ایک نئی مصنفہ کے طور پہ بہت اہم ہے۔ ایک بچہ جب چلنا شروع کرتا ہے تو وہ ابتدا میں لڑکھڑاتا ہے، بار بار گرتا ہے۔ لیکن والدین اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور ہر نئے قدم پہ رہنمائی کرتے ہیں اور یوں ایک لڑکھڑاتا بچہ اپنے پیروں پہ کھڑے ہونے اور چلنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ یہی صورتحال ایک تخلیق کار کے ساتھ درپیش ہوتی ہے۔ کسی بھی تخلیق کو پنپنے کے لئے تخلیق کار کی حوصلہ افزائی ضروری ہوتی ہے تاکہ وہ اپنی تخلیق کو دنیا کے سامنے پیش کر سکے۔ یہ تخلیق کار صرف مصنفین نہیں ہوتے بلکہ مصور، شاعر،مجسمہ ساز وغیرہ ہو سکتے ہیں۔ ہم اخبارات و جرائد میں اکثر فنکاروں کا یہ شکوہ سنتے ہیں کہ ان کی حوصلہ افزائی نہیں ہوتی۔ یہ حوصلہ افزائی کسی بھی فن و تخلیق کار کے لئے آکسیجن کا کام دیتی ہے اور اس کی تخلیق کی نشو نما کے لئے ضروری ہے۔ کسی نئے اور انجان تخلیق کار کے لئے یہ حوصلہ افزائی اور بھی اہم ہو جاتی ہے کہ اس صورت میں یہ نا صرف اسے دنیا میں کھڑے ہونے کی ہمت دیتی ہے بلکہ خود کی نظروں میں بھی اوپر اٹھانے کا سبب بنتی ہے۔ ایسے میں نمرا احمد جی کی امت الصبور صاحبہ کی طرف سے حوصلہ افزائی ان کے لئے یقیناً آکسیجن کی طرح ہوگی۔ ہم بھی امت صاحبہ کے شکر گزار ہیں کہ ان کی وجہ سے ہمیں نمرا احمد جی جیسی غیر روایتی ناول لکھنے والی مصنفہ کے کام سے متعارف ہونے کا موقع ملا جن سے ہمیں بڑی توقعات وابستہ ہیں۔ امت الصبور صاحبہ ڈائجسٹس کی دنیا میں ایک معتبر نام ہیں جنہوں نے کئی نئی مصنفات کو متعارف کرایا ہے۔ اس موقع پہ ہم ان کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے خواتین مصنفات کو آگے آنے اور اپنے موضوعات پیش کرنےکا موقع دیا۔

سانس ساکن تھی، نمرا احمد جی کا تحریر کردہ ناول ہے جو ڈائجسٹ میں قسط وار چھپنے کے بعد کتابی شکل میں بھی پیش کیا گیا ہے۔ نمرا جی کے لکھے دیگر ناولوں جیسے حالم، نمل، جنت کے پتے وغیرہ کے برعکس یہ زیادہ طویل نہیں ہے۔ دلچسپی قائم ہونے کی صورت میں یہ چند نشستوں میں باآسانی مکمل کیا جا سکتا ہے۔ سانس ساکن تھی، ایک رومانوی ناول ہے اس کے رومان کا تانا بانا کرکٹ، انٹرنیشنل میچز، کھلاڑیوں کی مشکلات اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے اردگرد بنا گیا ہے۔ یہ نمرا جی کے ابتدائی ناولوں میں سے ہے تاہم اس میں بھی انہوں نے تحقیق کرکے کرکٹ کے بارے میں خاصی تکنیکی معلومات شامل کی ہیں۔

سانس ساکن تھی، ریان کی کہانی ہے۔ ریان، جو چار بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر پہ ہے، اس کے علاوہ اس کی ایک رضاعی بہن بھی ہے۔ ریان کے والد بزنس مین ہیں اور گھر میں دولت کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ریان کی والدہ رانیہ ہیں جو فرانس سے تعلق رکھتی ہیں، شادی کے بعد انہوں نے اسلام قبول کر لیا ہے اور فیشن ڈیزائننگ کا کام کرتی ہیں۔ ریان کی فطرت لا ابالی ہے اور وہ لندن میں اپنے ننھیالی کزنز کے ساتھ مقیم ہے جو غیر مسلم ہیں۔

سانس ساکن تھی، الماس کی کہانی ہے۔ الماس ایک غریب مزدور کی بیٹی ہے جسے کبھی کام ملتا ہے اور کبھی نہیں۔ اس کی ماں کپڑے سی کر گھر چلانے کی کوشش کرتی ہے۔ الماس کی رنگت گوری، آنکھیں بڑی اور کالی اور دماغ میں ذہانت ہے لیکن حالات کی گرد نے سب پہ میل جما دیا ہے۔ الماس کو اچھے کپڑے سینے کا شوق ہے۔

کہانی کے پیچ و خم کے دوران دونوں کردار اس وقت قریب آتے ہیں جب اپنے ماں باپ کی وفات کے بعد الماس کسی طرح رانیہ کے گھر پہنچتی ہے اور اس کے گھر میں رہائش اور بوتیک میں نوکری حاصل کرتی ہے۔ یہاں الماس کی فون پہ ریان سے بات ہو جاتی ہے جب اس نے لندن سے اپنے گھر فون کیا لیکن گھر میں کوئی موجود نہیں۔ ریان کو الماس کی باتیں دلچسپ لگتی ہیں اور یہاں سے ان کے درمیان فون پہ باتوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ الماس اس وقت ساڑھے پندرہ سال کی اور ریان اٹھارہ سال کا ہے۔ پاکستان آنے کے بعد جب ریان نے الماس کو دیکھا تو اسے مایوسی ہوئی اسے اس میں کچھ بھی خاص بات نظر نہ آئی۔ واپس جانے کے بعد اس نے الماس سے یہ کہہ کر تعلق توڑ لیا۔

”تم نے تو مجھے اپنے بارے میں بہت کچھ بتایا تھا۔ مگر تم تو بالکل بھی ویسی نہیں ہو۔ تم تو، تم تو بالکل بھی خوبصورت نہیں ہو اور حسن میری کمزوری ہے۔ نہیں الماس بی بی! تم محض ایک میلی کچیلی ، نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والی لڑکی ہو، جسے نہ بات کرنے کا ڈھنگ آتا ہے، نہ پہننے اوڑھنے کا۔ تم میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے جو مجھے اٹریکٹ کر سکے۔ انسان کے بارے میں دوچیزوں سے پتہ چلتا ہے، ایک ڈریس اور ایک ایڈریس اور تمہارا لباس اور بات کرنے کا انداز، کچھ بھی میرے طبقے کے لوگوں جیسا نہیں ہے۔ تم ایک غریب، فضول اور خوابوں خیالوں کی دنیا میں رہنے والی لڑکی ہو، مجھے نفرت ہے تم سے، الماس آئی ہیٹ یو“۔

الماس ریان کی باتوں سے ہرٹ ہوئی اور اپنی ہی نظروں میں گر گئی۔ اس نے ریان کے لئے بد دعائیں کیں اور ساتھ ہی خود کو بدلنے کی کوششیں شروع کر دیں۔ ریان کے اگلی دفعہ گھر آنے کے موقع پہ وہ اس گھر سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چلی گئی ہے۔ گرچہ اس کے پاس رہنے کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا لیکن قسمت اسے لاہور لے گئی جہاں اسے آنٹی عفت کے پاس جگہ مل گئی ہےجن کا دنیا میں کوئی نہیں۔ یہاں سے ریان اور الماس کی راہیں جدا ہو گئیں۔ الماس نے اپنا نام امل رکھ لیا اور ریان نے اپنی شناخت کے لئے کرکٹ کا کھیل منتخب کر لیا ہے۔ کہانی مزید آگے کس طرح بڑھی، اس کے لئے ناول کا مطالعہ کرنا پڑے گا۔

سانس ساکن تھی، ایک فیری ٹیل کی طرح ہے۔ خصوصاً الماس کی زندگی کے حالات جس طرح تبدیل ہوئے وہ ایلس کی طرح معلوم ہوئی اور اس کے اردگرد کی دنیا ایک ونڈر لینڈ۔ الماس اور ریان کے کردار کو واضح پیش کرنے کے باوجود ان کے رویے، انداز اور ری ایکشنز کئی مقامات پہ اجنبی ،غیر حقیقی اور کنفیوژن کا شکار معلوم ہوئے۔ ناول میں کئی دیگر کردار بھی ہیں جیسے رمیز، وہ پولیس والا جس نے الماس کی مدد کی۔ لیکن اس کے کردار کو واضح کرکے کہیں پہ بھی نہیں پیش کیا گیا ہے یہ کردار بھرتی کا معلوم ہوتا ہے جس کی نفسیات اور شخصیت کھولنے کی طرف توجہ نہیں دی گئی۔ اسی طرح رانیہ جو ایک کنورٹڈ مسلمان ہے اور غیر ملکی ہے، اس کا کردار بھی حیران کن ہے۔ اس کو کردار کا اچھا دکھایا گیا ہے لیکن وہ اتنی اچھی کیوں تھی یہ کہانی میں کہیں بھی پیش نہیں کیا گیا۔ آیا وہ قدرتی اچھی فطرت کی مالک تھی یا پھر اسلام قبول کرنے کے بعد وہ اسلامی رنگ میں ڈھل گئی یہ واضح نہیں۔ ناول میں کئی مقامات پہ مصنفہ عمیرا حمد جی سے متاثر نظر آئیں۔ کئی جملوں پہ عمیرا احمد کے لکھے جملوں کا گمان ہوا۔ جیسے

”کسی نے بہت اونچے درجے پہ جا کے سفارش کی تھی“۔

ناول بہت زیادہ ایمبیشئس ہے جیسے ریان کا اپنے کرکٹ کیریر میں پہلی گیند پہ ہی وکٹ لے لینا جو کافی غیر حقیقی اور بچگانہ سوچ معلوم ہوتی ہے۔ ناول میں کچے پن کا احساس ہے، جیسے لکھنے کے بعد اسے دوبارہ پڑھ کے ٹھیک نہ کیا گیا ہو، اس کے جملوں کو، پیراگرافس کو، بیان کو کسا نہ گیا ہو۔ ماضی میں چلتے ہوئے ناول میں کہیں کہیں حال میں بھی جملے لکھے گئے ہیں جو ناہمواری کا تاثر دیتے ہیں۔ کردار سازی کمزور ہے، کرداروں کی نفسیات واضح نہیں، کرداروں کے افکار اور افعال آپس میں میچ نہیں کر رہے جس کی وجہ سے کرداروں سے تعلق بنانا اور انہیں سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ نمرا جی کے بعد کے ناولوں میں ان چیزوں کی طرف توجہ دی گئی ہے اور وہ کافی بہتر ہیں۔ اس کے باوجود اگر آپ نمرا احمد جی کے فین ہیں تو اس ناول کا ضرور مطالعہ کیجئے۔

ناول سے کچھ دلچسپ اقتباسات پیش ہیں؛

”تم کنسلٹنٹ کیوں نہیں بن جاتے؟ مجھے وہ بات بتا رہے ہو جو مجھے پتا ہے“۔

مزید،

”یاد رکھو! خواص ہمیشہ عوام میں سے نکلتے ہیں اور وہ ویسے ہی ہوتے ہیں جیسی عوام ہوتی ہے۔ اگر حکمران کرپٹ ہے تو قوم بھی کرپٹ ہے اور اگر قوم بے ایمان اور جھوٹی، سست اور کاہل ہے تو یہ تمام وصف حکمران میں بھی موجود ہوں گے۔ ایک قوم پر ہمیشہ ویسا ہی سردار مسلط کیا جاتاہے جیسی وہ ہوتی ہے۔ تم گورنمنٹ کو الزام نہیں سے سکتے، ریان!“۔

آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے شکر گزار ہوں۔ ہمیشہ خوش رہیں۔

نمرا احمد کے قلم سے مزید

مصحف از نمرا احمد

نمل از نمرا احمد

نوٹ: بلاگ میں نیلا رنگ  کتاب سے لئے گئے اقتباسات کو ظاہر کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔

Advertisements

1 thought on “147-سانس ساکن تھی از نمرا احمد”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s