Book Review, Classic, Fiction, Pakistani, Pakistani literature, Urdu

146-خالی پنجرہ از انتظار حسین

نام کتاب: خالی پنجرہ
مصنف: انتظار حسین
صنف: افسانے، اردو ادب، پاکستانی ادب، کلاسک اردو ادب
صفحات: 141
قیمت: 500 روپے
ناشر: سنگ میل پبلی کیشنز
ISBN-10: 969-35-2143-96

ISBN-13: 978-969-35-2143-6

Khali Pinjra by Intezar Hussainانتظار حسین صفِ اول کے پاکستانی مصنف ہیں۔ آپ کے لکھے ہوئے افسانے، ناول، سفرنامے اور دیگر کام، اردو زبان میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔ آپ کا کام اپنے ہم عصروں سے بہت مختلف اور انوکھا ہے جو نقادوں اور قارئین دونوں سے ہی شرفِ قبولیت حاصل کر چکا ہے۔ آپ کے کام کا انگریزی ذبان میں ترجمہ بھی ہو چکا ہے سن 2013 میں آپ کو بکر پرائز کے لئے نامزد بھی کیا گیا تھا۔ یہ آپ کے کام کی اہمیت کا بین الاقوامی سطح پہ اعتراف ہے۔ آپ کو حکومت پاکستان کی طرف سے تمغہ امتیاز سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ ہمیں یہاں یہ بتاتے ہوئے انتہائی افسوس ہو رہا ہے کہ سن 2016 میں انتظار حسین صاحب ہمارا ساتھ چھوڑ کے دوسرے جہاں کی طرف چلے گئے۔ دعا ہے کہ اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے لئے اگلے جہانوں کی منزلیں آسان فرمائے۔ آمین۔ آپ کے جانے سے اردو دنیا ایک اہم لکھاری سے محروم ہو گئی ہے۔ آپ کے جداگانہ کام کی وجہ سے اردو ادب میں آپ کی الگ جگہ ہے، اس جگہ کو بھرنا اور آپ کے پائے کا کام پیش کرنا کسی بھی دوسرے مصنف کے لئے بہت مشکل ہے۔ آپ کی تحریروں کی خاص بات ان کا دیو مالائی انداز، پرانے زمانے کی فضا اور قدیم زمانے سے چلی آ رہی مذہبی اور دیگر روایات کو یکجا کرکے پیش کرنا ہے۔ قدیم روایات چاہے کسی آسمانی صحیفے میں بیان کئی گئی ہوں، یا توریت یا بائیبل میں ان کا ذکر ہو، قرآنی قصہ ہو یا پھر مہابھارت میں بیان کیا گیا ہو، انتظار حسین صاحب کی گرفت ان تمام روایات اور قصوں پہ مضبوط ہے۔ وہ اپنے افسانوں میں بنا ناصح بنے کے ان روایتوں کو اپنے اسلوب میں پیش کرتے ہیں جو ناصرف اپنے آپ میں منفرد   پیش کش ہے بلکہ دلچسپ بھی ہے۔ یہ روایات بےحد پرانی ہونے کے باعث موجودہ دور کی مصروف زندگی میں کہیں بہت پیچھے رہ گئی ہیں۔ تاہم انتظار حسین ان روایات کے گرد طاری زمانوں کی گرد جھاڑ کے اسے دورِ جدید کے قاری کے سامنے اس طرح پیش کرتے ہیں کہ وہ ان کے سحر میں کھو جاتا ہے۔ اگر ان پرانی روایتوں سے قاری کی آگاہی ہو تو ان افسانوں کا لطف دو چند ہو جاتا ہے۔

کتابستان میں آج ہم جس کتاب پہ بات کر رہے ہیں وہ آپ کے لکھے ہوئے افسانوں پہ مبنی ہے جس کا عنوان ہے خالی پنجرہ۔ پیش لفظ میں انتظار صاحب لکھتے ہیں؛
باقی یہ لازم تو نہیں ہے کہ اب جو آپ نے لکھا ہے اس کا حرف حرف پچھلے لکھے ہوئے پر فوقیت رکھتا ہو۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی قاری اتنا سنگدل اورا تنا انصاف پسند بھی ہو کہ لگی لپٹی رکھے بغیر کہہ دے کہ اس زمانے کی لکھی ہوئی فلاں کہانی سے بہتر تو فلاں کہانی ہے جو اب سے پاؤ صدی پہلے لکھی گئی تھی مطلب یہ ہے کہ لکھنے والے کو اپنی رائے پہ بہت بھروسہ نہیں کرنا چاہئے اور یہ طے کرکے نہیں بیٹھ جانا چاہئے کہ اس نے وقت کے ساتھ فکر و فن کی سطح پر بہت منزلیں مار لی ہیں اور اس لئے پہلے کے مقابلے میں اب زیادہ مستند ہے اس کا فرمایا ہوا۔ کچھ کام قاری کے لئے بھی چھوڑ دینے چاہیئں کہ آخری فیصلہ تو اسی کے ہاتھ میں ہے۔
انتظار حسین صاحب کا لکھا ہوا بجا ہے یہ پیغام مصنفین کے لئے بہت اہم ہے اور یہاں پیش کرنے کا مقصد ایک طرح سے یاد دہانی ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ بہتری کا عمل جاری رہتا ہے، کبھی بھی خود کو یا اپنے کام کو کامل نہیں سمجھنا چاہئے، بہتری کی گنجائش ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ یہاں ہم یہ بھی کہنا چاہتے ہیں کہ بطور قاری ہمیں انتظار صاحب کا کام پسند ہے اور ہمارا فیصلہ ان کے حق میں ہے۔

خالی پنجرہ میں جو افسانے شامل ہیں ان کے عنوانات ہیں؛
پچھتاوا، نرالا جانور، تعلق، خالی پنجرہ، اختر بھائی، مشکند، گونڈوں کا جنگل، بندر کہانی، طوطے مینا کی کہانی، بخت مارے، داغ اور درد، تزکرہ ٔ رستخیز بےجا المعروف بہ فسانۂ عبرت۔


پچھتاوا ایک ایسے کردار کی کہانی ہے جسے اپنی پیدائش پہ پچھتاوا ہے۔ وہ پیدا نہیں ہونا چاہتا تھا لیکن ہو گیا۔ پیدائش کے بعد اسے اس بات پہ پچھتاوا ہوا کہ وہ کیوں پیدا ہو گیا اور اسی پچھتاوے کے زیر اثر اس کی زندگی کیسے آگے چلی یہی اس افسانے کا موضوع ہے۔ افسانے کا خیال دلچسپ ہے اور کہانی کسی پرانے زمانے کا قصہ سناتی ہوئی محسوس ہوتی ہے جس میں رشی، سادھو، اور اپسرا جیسے کردار موجود ہیں۔
نرالا جانور ایک ایسے راجہ کا قصہ ہے جس کے دل میں یہ پھانس ہے کہ اس کے پرکھ کیوں لڑائیوں میں کٹ کٹ کے مر گئے، آخر انہیں کیوں یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ جنگ میں جیت ہار سے مبرا، تباہی ہر کسی پہ آتی ہے۔ ایسے میں ویاس جی نے اسے اس سوال کا جواب دیا کہ ہونی ہو کر رہتی ہے۔ مت ماری جاتی ہے اور آنکھوں پہ پردے پڑ جاتے ہیں۔ راجہ نے کہا کہ میں چوکنا رہوں گا اور پھر ہونی نہیں ہو سکے گی۔ ویاس جی اسے ہونی کے متعلق بتا دیتے ہیں لیکن انجام وہی ہوتا ہے یعنی ہونی ہو کر رہتی ہے۔

یہاں ہم کچھ افسانوں سے اقتباسات پیش کرتے ہیں؛
بندر کہانی سے اقتباس؛
میں استرے سے زیادہ خوف زدہ ہوں۔ چھری، چاقو، کلہاڑی، تلوار یہ سب استرے ہی کی اولاد ہیں۔ آدمی نے پہلے استرا ایجاد کیا۔ اس سے اس نے اپنا سر مونڈا۔ پھر کلہاڑی بنائی جس سے درخت کاٹے۔ پھر تلوار بنائی جس سے اس نے اپنے بھائیوں کے گلے کاٹے۔ آدمی کے ہاتھ میں استرا آیا تو اس نے یہ کیا۔ بندر کے ہاتھ میں استرا آئے گا تو وہ کیا کچھ نہیں کرے گا۔ اے بندرو خدا سے ڈرو اور آدمی کے اثر سے بچو ورنہ یاد رکھو کہ ایک دن وہ آئے گا کہ تمہاری دمیں غائب ہو جائیں گی اور تم دو ٹانگوں پر چلو گے۔

طوطے مینا کی کہانی سے اقتباس؛
نیل کنٹھ اداسی سے ہنسا اور بولا”پودنے، کیا تو نے اس کوے کی کہانی نہیں سنی جس نے آدمی کو عقل سکھانے کی کوشش کی تھی۔“
اور نیل کنٹھ نے انہیں کہانی یوں سنائی کہ اب سے بہت پہلے ایک آدم تھا، سمجھو کہ اس دھرتی پہ پہلا پرش۔ اس کے دو بیٹے تھے۔ ایک بیٹے نے جو کہ بہت مورکھ تھا دوسرے کی ہتیا کر دی۔ کرنے کو تو کر دی پر اس بےچارے کی سمجھ میں نہ آیا کہ اس کی لاش کا کیا کرے۔ اس مورکھ نے بھائی کی لاش کو کمر پہ لادا اور چل پڑا۔ ساری دھرتی کھوند ڈالی، پر مت ایسی ماری گئی کہ سمجھ میں نہ آیا کہ اسے کہاں ٹھکانے لگائے۔ اس کی کمر دکھنے لگی۔ ایک کوے نے اسے اس حال میں دیکھ کر ترس کھایا اور کہا کہ عقل کے اندھے، بھائی کی لاش کو کمر پہ لادے کب تک پھرے گا۔ اس نے دکھی ہو کرکہا کہ پھر کیا کروں اور کیسے اس بوجھ کو اتاروں۔ کوے نے کہا کہ گڑھا کھود اور اس میں اسے داب دے۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ کوے نے جب اپنے باپ کو یہ بات سنائی تو اس نے سر پیٹ لیا۔ پتر یہ تو نے کیا کیا۔ کوا بہت سٹپٹایا کہ آخر اس نے ایسا کون سا پاپ کر دیا۔ ”ارے پاپ سا پاپ“ کوے کا باپ بولا ”ہم اجلے پنکھوں کے ساتھ پیدا ہوئے تھے۔ اب اس کارن ہمارے پنکھ کالے پڑ جائیں گے۔“

”باپ ہمارے پنکھ کس کارن کالے پڑ جائیں گے۔ میں نے تو اس مورکھ کو عقل کی بات بتائی تھی جو اس کے بھلے میں تھی۔ “
”بھولے بیٹے، مورکھ کو عقل کی بات بتانا ایسے ہے جیسے بندر کے ہاتھ میں استرا دے دیا جائے۔ اب یہ مورکھ پتہ ہے کیا کرے گا۔ سدا پاپ کرے گا اور تیری بتائی ہوئی ترکیب سے پاپ کو چھپایا کرے گا۔ وبال اس کا ہم پہ پڑے گا کہ ہمارے اجلے پر کالے ہو جائیں گے۔“

افسانوں اور کلاسیک ادب میں دلچسپی رکھنے والے اس کتاب سے ضرور لطف اندوز ہوں گے۔


انتظار حسین کے قلم سے مزید
آخری آدمی از انتطار حسین


کیا آپ اس کتاب کو پڑھنا چاہتے ہیں، یا اگر پڑھ چکے ہیں تو آپ کی کیا رائے ہے۔ اپنے خیالات ہمارے ساتھ شیئر کریں۔
اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔
تشریف آوری کے لئے شکر گزار ہوں۔ ہمیشہ خوش رہیں۔

نوٹ: بلاگ میں نیلے رنگ کا ٹیکسٹ کتاب سے لئے گئے اقتباسات کو ظاہر کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s