Book Review, Islam, Non-Fiction, Religion, Research, Translation

141- قرآن آخری معجزہ از احمد دیدات

quran-aakhari-mojza-by-ahmed-deedat”اس پر انیس تعینات ہیں۔“

اوپر بیان کی گئی سطر، قرآن مجید فرقان حمید کے انتیسویں (29) پارے کی سورۃ المدثر کی تیسویں (30) آیت کا ترجمہ ہے۔ یہی لائن، زیر گفتگو کتاب، قرآن آخری معجزہ، کے پانچویں باب کا عنوان بھی ہے۔ یہی لائن اس کتاب کا مرکزی موضوع ہے یعنی اس بات کی وضاحت کی جائے کہ قرآن پاک کی آیت میں بیان کئے گئے لفظ انیس سے کیا مراد ہے، ”یہ انیس کیا ہے؟

قرآن آخری معجزہ، جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے مبلغ احمد دیدات کی تصنیف ہے جو نظام الدین خان صاحب کے ہاتھوں ترجمہ ہو کے اردو ذبان کے قارئین تک پہنچی ہے۔ کتاب کے اختتام پہ دئے گئے آپ کے تعارف کے مطابق آپ کی پیدائش 1918 میں انڈیا کے شہر گجرات کی ہے۔ آپ کے والد ترک مکانی کرکے جنوبی افریقہ آباد ہو گئے۔ وہاں عیسائی پادری مسلمانوں میں عیسایت کی تبلیغ کرتے تھے۔ اس صورتحال سے عہدہ برأ ہونے کے لئے احمد دیدات نے قرآن پاک کا گہرا مطالعہ کرنا شروع کر دیا اور تبلیغ کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا۔ آپ کی خدمات کے صلے میں آپ کو شاہ فیصل ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ آپ وہ پہلے افریقی ہیں جنہیں اس ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔

کتاب کے مترجم جناب نظام الدین خان صاحب نے اپنی بات میں اس کتاب کے بارے میں لکھا ہے کہ احمد دیدات صاحب ڈاکٹر راشد خلیفہ کی ایک کتاب سے بہت متاثر ہوئے تھے جو قرآن کے حروف کی کمپیوٹر سے حاصل کردہ معلومات پہ مبنی تھی۔ ڈاکٹر موصوف کا تعلق مصر سے تھا اور وہ علم کیمیا میں ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کرنے امریکہ گئے تھے اور اسی دوران انہوں نے کمپیوٹر کے ذریعے قرآن کریم کے حروف کی گنتی کا صبر آزما اور محنت طلب کام سرانجام دیا۔ وہ اس کے حیرت انگیز نتائج پہ مبنی معلومات کے لئے بہت مشہور ہوئے۔

کتاب کا آغاز احمد دیدات نے اس سوال سے کیا ہے جو ہر زمانے میں بنی نوع انسان، اللہ کے پیغمبروں اور رسولوں سے کرتے آئے ہیں۔ یعنی اگر تم سچ میں اللہ کے نبی ہو تو کوئی معجزہ دکھاؤ۔ یہی سوال حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ان کی قوم نے کیا، یہی مطالبہ اہل عرب نے حضور صلی اللہ علیہ وصلعم سے کیا جب انہوں نے اپنی بعثت کا اعلان کیا تھا۔ آپ صلعم کا یہی جواب تھا کہ قرآن جو اللہ کا کلام ہے، یہی معجزہ ہے، معجزوں کا معجزہ۔

قرآن پاک میں بہت سارے مقامات ایسے ہیں جہاں ایسے دلائل دئے گئے ہیں جو شرک کرنے والے ذہن کی تشفی کراتے ہیں۔ کئی ایسی آیات ہیں جو سائنسی حقائق کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں اور کئی مسلمان علما اور مفکر اس موضوع پہ کتب تحریر کر چکے ہیں۔ کتاب میں مصنف معجزے کی تعریف یوں کرتے ہیں، ایک ایسا عمل جو انسانی طاقت سے ماورا ہو۔“

کتاب کے پہلے دو ابواب میں کتاب کے پس منظر اور قرآنی الہامات کے سائنسی ثبوت پیش کرنے کے بعد، تیسرے باب سے کتاب اپنے موضوع یعنی انیس کی طرف چلی جاتی ہے۔ مصنف لکھتے ہیں،

”قرآن کا اعجاز دیکھئے کہ اس کو محسوس کرنے، چھونے اور جانچنے کے لئے کسی امریکی، چینی، روسی، افریقی یا ایشیائی کے لئے قرآن کی زبان عربی کا جاننا یا اس پہ عبور حاصل کرنا ضروری نہیں ہے۔ لازمی شرط صرف یہ ہے کہ اس کے پاس دیکھنے کے لئے آنکھیں ہوں اور کم از کم 19 تک گننے کی استعداد ہو۔“

مزید مصنف اس بات کئی غیر مسلم مفکرین کے حوالے اور رائے پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنی تصانیف میں قرآن پاک کے الہامی کتاب ہونے کی تصدیق کی ہے۔ ان حوالوں کے ذریعے وہ منکرین کے اس اعتراض کا جواب دیتے ہیں جو قرآن پاک کی زبان میں یوں بیان کیا گیا تھا، ”یہ کچھ نہیں بلکہ بشر کا کلام ہے۔“

کتاب کے پانچویں باب کا عنوان سورت المدثر کی آیت کے ترجمے پہ رکھا گیا ہے اور یہیں سے لفظ ”انیس“ کی وضاحت کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ احمد دیدات کہتے ہیں،

”یہ انیس کیا ہے؟

ماضی کے ہمارے ممتاز مفسرین نے بہت اچھے قیاس لگائے ہیں کہ اس انیس سے کیا مراد ہے؟ بعض کا کہنا ہے کہ یہ ان انیس فرشتوں کی طرف اشارہ ہے جو دوزخ پہ نگران ہیں۔ دوسروں نے کہا کہ یہ انیس انسان کی انیس مضمر قوتوں کی طرف اشارہ ہے جبکہ اوروں نے اسے اسلام کے اہم ستونوں اور احکام الٰہی کی طرف اشارہ بتایا ہے۔ لیکن ہر مفسر نے اپنے قیاس کو اپنی اس تشریح پہ ختم کیا ہے ”لیکن اللہ بہتر جانتا ہے“۔ ہمارے کسی مفسر نے بھی جسارت کے ساتھ یا بطور استدلال اس کا دعویٰ نہیں کیا۔ لیکن اللہ ہی بہتر طور پر کیوں جانتا ہے؟ وجہ یہ ہے کہ ہمارے نبی صلعم نے انیس کے عدد کے حقیقی مفہوم کی وضاحت نہیں کی اگر آپ صلعم اس کی تشریح فرما دیتے تو قیاس کرنے کی کوئی وجہ نہیں رہ جاتی“

قرآنی وحی کے تاریخ وار مطالعے سے ہمیں یہ معلوم ہوا کہ سورہ مدثر کی 30 ویں آیت آخری آیت ہے جو حضرت جبرائیل علی السلام نے حضرت محمد صلعم کو اپنی چوتھی آمد پہ دی تھی۔ جبرائیل امین یہاں ٹھہر کر بجائے اس کے کہ سورہ کی باقی ماندہ 26 آیات اور پہنچائیں تاکہ سورت مکمل ہوتی انہوں نے سورۃ 96 جو پہلی وھی تھی کی باقی ماندہ آیات تلاوت فرمائیں۔ اس موقع پہ آپ کو مزید 14 آیات تلاوت کرائی گئیں۔ پہلی وحی کے موقع پر صرف 05 آیات تلاوت کرائی گئی تھیں جس میں اب مزید 14 آیات کا اضافہ کیا گیا۔ اس طرح یہ کل کتنی آیات ہو گئیں؟ اس کا جواب انیس ہے۔ یہ کیسے ہوا کہ مندرجہ بالا وحی میں انیس کا عدد کہنے کے فوراً بعد ایک سورۃ انیس آیات سے پوری ہو گئی۔“

مصنف مزید لکھتے ہیں؛

”پہلی وحی کی پہلی پانچ آیات میں ٹھیک انیس الفاظ ہیں۔ یہ کیونکر ہوا۔ ان انیس الفاظ میں ٹھیک 76 حروف ہیں جو کہ انیس کا حاصسل ضرب ہے۔ یہ کس طرح ہوا۔ یہ 96 ویں سورۃ، اگر ہم آخری سورۃ جو 114 ویں ہے سے الٹی گنتی گننا شروع کریں یعنی 113، 112، 111، علی ھذا القیاس، تو جب ہم سورۃ 96 پہ آئیں گے ہمیں معلوم ہوگا کہ یہ آخری سے 19 ویں سورۃ ہے۔ یہ کس طرح ہوا کہ یہ سورۃ جس میں 19 آیات ہیں، آخری سورۃ سے انیسویں مقام پہ واقع ہو گئی۔“

مصنف کہتے ہیں کہ ان سوالوں کا متوقع جواب ”اتفاق“ ہے یعنی یہ باتیں اتفاقاً وقوع پذیر ہو گئی ہیں لیکن ایسا نہیں ہے۔ مصنف کہتے ہیں کہ منکرین یہ الزام تو لگاتے ہیں کہ یہ خدانخواستہ قرآن پاک حضور صلعم کی اپنی تصنیف ہے لیکن وہ یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ ایک امی شخص نے ایک ایسی کتاب لکھی ہے جس کے ثبوت کے لئے حسابی استدلال موجود ہے۔

مزید حسابی دلائل کے طور پہ مصنف بسم اللہ کا ذکر کرتے ہیں اور اسے قرآن پاک پہ اللہ کی مہر قرار دیتے ہیں۔ آپ کہتے ہیں کہ قرآن پاک میں 114 سورتیں ہیں اور 114 ہی بسم اللہ موجود ہیں۔ 114 کا نمبر انیس سے تقسیم ہو جاتا ہے۔ اسی بات سے آپ پھر استدلال دیتے ہیں کہ قرآن پاک کا مصنف کوئی انسان نہیں تھا۔ مزید آپ نے حروف مقطعات کے بھی ریاضیاتی پہلو پیش کئے ہیں۔ ان دلائل کے باعث احمد دیدات کہتے ہیں کہ قرآن پاک ایک پیچیدہ ریاضی نظام میں گندھا ہوا ہے۔ اور اس نظام کو بنانا کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے یہ یقینی طور پہ اللہ کا کلام ہے۔ اس سلسلے میں مزید مطالعے میں دلچسپی رکھنے والے افراد کو وہ ڈاکٹر راشد خلیفہ کی کتاب The Perpetual Miracle of Muhammad پڑھنے کا مشورہ دیتے ہیں جو اس ریاضیاتی معجزے کے دریافت کنندہ ہیں۔

قرآن آخری معجزہ، ایک حیران کن کتاب ہے۔ یہ اتنی ہی حیران کن ہے جتنا حیران کن اس میں بیان کیا گیا معجزہ ہے۔ یہ کتاب بنیادی طور پہ منکرینِ اسلام کے اس اعتراض کا جواب دیتی ہے جو انہوں نے قرآن پاک کے الہامی ہونے کے بارے میں کیا تھا اور اسے انسانی کلام قرار دیا تھا۔ اسلامی علماء اس اعتراض کا ابتدا سے ہی جواب دیتے آئے ہیں۔ ایسے میں احمد دیدات اس اعتراض کا جواب ریاضی سے دے رہے ہیں اور قرآن پاک کے ریاضیاتی معجزے کی وضاحت کرکے اس کو اللہ پاک کی کتاب اور رسول پاک صلعم کا معجزہ قرار دے رہے ہیں۔ احمد دیدات کی تمام تر بحث اور گفتگو کا نچوڑ یہ ہے کہ قرآن پاک ایک ریاضیاتی معجزہ ہے اور اس کی آیات، حروف اور سورتیں یا تو انیس کے عدد ہی مبنی ہیں یا اس کا حاصل ضرب ہیں۔ یہ قرآن پاک کے بارے میں پیش کی گئی حیرت انگیز معلومات ہے جو بیسویں صدی اور کمپیوٹر کی ایجاد سے پہلے کسی کے علم میں نہیں تھی۔ ریاضی میں انیس کا عدد، ایک مفرد نمبر ہے جو یا تو خود پہ تقسیم ہوتا ہے یا ایک نمبر پہ۔ اس وجہ سے یہ ایک انتہائی مشکل نمبر ہے، ایسے میں ایسی کتاب (قرآن پاک) لکھنا جس کے آیات ، حروف وغیرہ انیس کے کسی طرح حاصل ضرب ہوں، یہ کسی عام انسان کے بس کی بات نہیں، ایک ایسی تحریر لکھنا جو اپنا پیغام دینے کے ساتھ ساتھ، ریاضیاتی حساب میں بھی کسی خاص نمبر کو پورا کر رہی ہو کسی سپر کمپیوٹر کے لئے بھی مشکل ہے۔ یقیناً یہ غیر انسانی تحریر ہے۔ یہ انیس قرآن پاک کے اللہ کے کلام ہونے کے دلیل ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی حفاظت کے ذمہ دار بھی ہے، یعنی اگر کسی مقام پہ حساب انیس کے علاوہ ہو جائے تو یہ نشاندہی کرے گا کہ وہاں کلام پاک میں تحریف (خدانخواستہ) ہوئی ہے، لیکن الحمد للہ ایسا نہیں ہے اور یہ کتاب پڑھنے کے بعد اپنے قاری کو ایک انتہائی سرشاری کی کیفیت سے دوچار کرتی ہے اور وہ اللہ کی حکمت اور بڑائی ایک بار پھر سے، دل کی گہرائی سے اور پختہ یقین کے ساتھ محسوس کرتا ہے اور سینے میں ایمان کی گرمی محسوس کرتا ہے۔ مصنف احمد دیدات کیونکہ ایک مبلغ ہیں، اس لئے یہ کتاب تبلیغٰ انداز سے لکھی گئی ہے، جس میں مصنف پہلے ایک سوال پیش کرتے ہیں اور پھر اس کا جواب پیش کرتے ہیں۔ کتاب میں کئی مقامات پہ جہاں انیس کے عدد کی وضاحت کی گئی ہے وہیں ایسے نقشے اور حساب پیش کئے گئے ہیں جس سے مصنف اپنے دعوے کو واضح کرتے ہیں۔ ہم نے یہاں چند مثالیں پیش کی ہیں، مکمل ریاضیاتی معجزے جاننے کے لئے مکمل کتاب کا مطالعہ مفید رہے گا۔

کتاب کی تفصیلات یوں ہیں؛

نام کتاب: قرآن آخری معجزہ

مصنف: احمد دیدات

مترجم: نظام الدین خان

صفحات: 131

ناشر: الرحمٰن پبلشنگ ٹرسٹ، کراچی

 

آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے شکر گزار ہوں۔ ہمیشہ خوش رہیں۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s