Book Review, Fiction, Islam, Pakistani, Pakistani literature, Romance, Suspence, Thriller, Urdu

140- نمل از نمرا احمد

تبصرہ

موجودہ دور میں خواتین مصنفات کی ایک بڑی تعداد سامنے آئی ہے۔ ان میں کچھ اپنے قارئین میں دیگر کی نسبت زیادہ مقبول ہیں اور ان کے لکھے ناول اور افسانے عمومی مقبولیت حاصل کرتے ہیں۔ ایسی ہی ایک مصنفہ نمرا احمد ہیں، جو خواتین کے لئے چھپنے والے ماہانہ رسالوں کی جانی مانی لکھاری ہیں۔ آپ کے کریڈٹ پہ کئی طویل ناول موجود ہیں جن میں حالم، نمل، مصحف، سانس ساکن تھی، جنت کے پتے وغیرہ شامل ہیں۔ بک اسٹورز پہ آپ کے ناول بالکل سامنے سجائے جاتے ہیں اور ہاتھوں ہاتھ فروخت ہو جاتے ہیں۔

image.jpegنمرہ جی کی مقبولیت یقیناً ان کے منفرد کام کی وجہ سے ہے۔ آپ کی ہیروئن روتی ہوئی ایسی مظلوم حسینہ نہیں ہوتی جو یا تو سوتیلے خاندان کے ظلم و ستم کا شکار ہوتی ہے یا پھر ظالم ساس یا شوہر کے ہتھے چڑھی ہوتی ہے۔ آپ کے ناولوں میں پایا جانے والا ماحول روایتی ماحول سے مختلف ہے جہاں ہیروئن پڑھی لکھی ہونے کے ساتھ ساتھ باہمت اور سمجھدار ہوتی ہے اور خود سے فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ خوش آئند بات ہے۔ روایتی ناولوں کی بھیڑ چال میں ایسے ناول تازہ ہوا کے جھونکے کی طرح محسوس ہوتے ہیں جو قاری کو نئی دنیا اور نئے کرداروں سے روشناس کراتے ہیں۔

نمرہ جی کی لکھائی کی ایک خاص بات ان کا اپنی تحریر پہ تحقیق کرنا ہے۔ وہ اپنی تحاریر میں کیونکہ نئے موضوعات، نئے جہاں، علاقے، رواج وغیرہ کو شاملِ تحریر کرتی ہیں اس لئے لکھنے سے پہلے وہ ان کے بارے میں مکمل تحقیق بھی کرتی ہیں، کم از کم اس حد تک کہ ناول کے قاری کو سمجھنے میں دشواری پیش نہ آئے یقیناً یہ آپ کی ناول نگاری کا ایک مثبت پہلو ہے جس کی طرف بہت سے مصنفین توجہ نہیں دیتے۔

نمرہ جی کی تحریروں کے مطالعے کے دوران ان کے سگنیچر اسٹائل کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ آپ کے متعلق مشہور ہے کہ آپ اپنے ناولوں کی انسپیریشن بین الاقوامی ناولوں اور ڈراموں سے لیتی ہیں۔ جن لوگوں نے آپ کے لکھے ہوئے ناول پڑھے ہیں وہ اس بات سے اتفاق کریں گے کہ آپ کا کینوس بہت وسیع ہے تاہم بہت سارے کردار دیسی ہونے کے باوجود بدیسی رنگ لئے ہوتے ہیں۔ ایسا ان کی انسپیریشن کی وجہ سے ہے جس کے باعث وہ ایسے کردار بھی اپنے ناولوں میں شامل کرتی ہیں جس کسی غیر ملک یا قوم میں تو عام سے ہو سکتے ہیں لیکن ہمارے ماحول میں اجنبی اور نامانوس محسوس ہوتے ہیں جو اپنے ارد گرد ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے۔ جیسے مصحف ناول میں کے آغاز میں ملنے والی افریقن لڑکی یا پھر ہاشم کاردار کے گھر میں کام کرنے والی فلپائنی خادمائیں۔ گرچہ نمرہ جی بہت تحقیق کرکے ناول لکھتی ہیں پھر بھی بہت سے کردار سطح پہ ہی رہ جاتے ہیں اور گہرائی میں نہیں جا پاتے۔

بین الاقوامی ناولوں اور ڈراموں سے انسپیریشن کے معاملے کو ہم نے مختلف لوگوں سے ڈسکس بھی کیا ہے اور ان کی آراء بھی لی ہے۔ کئی قارئین ایسے ہیں جو ناولوں کی حد درجہ طوالت اور زمینی حقائق سے دوری کی بنا پہ آوازاری محسوس کرتے ہیں۔ ساتھ ہی قارئین کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جس کا ماننا یہ ہے کہ انگریزی ذبان میں لکھے ناول پڑھنا یا فلمیں دیکھنا، ہر کسی کے بس کی بات نہیں، ایسے میں اگر کوئی ان تخلیقی کاموں کو آسان انداز میں دیسی رنگ کے ساتھ پیش کردے تو اس سے زیادہ لوگ لطف اندوز ہو سکتے ہیں اور وہ عوامی پسندیدگی کا درجہ بھی حاصل کر لیتے ہیں۔ نمرہ جی اسی کیٹیگری کے قارئین کے لئے لکھتی ہیں یعنی وہ دور دیسوں کی باتیں عام فہم انداز میں قارئین تک پہنچاتی ہیں اور قارئین کی ایک بڑی تعداد ان ناولوں کا مطالعہ کرتی ہے۔

نمرہ احمد کا ایک اور سگنیچر اسٹائل مذہبی تبلیغ ہے۔ آپ کے کئی ناولوں میں قرآن پاک کی تفسیر کو ناولوں کا باقاعدہ حصہ بنایا گیا ہے۔ اس سے جہاں آپ کے مذہبی رجحان کا اندازہ ہوتا ہے وہیں قارئین کی ایک بڑی تعداد کے مذہبی علم میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے باوجود بہت سے مواقع پہ مذہبی حوالے کہانی کے اتار چڑھاؤ میں مددگار نہیں ہوتے اور کہانی سے الگ محسوس ہوتے ہیں۔ مصنفہ کی مذہبی دلچسپی کی وجہ سے آپ کا قلم بھی بہت باپردہ ہے۔ ایک طرف جہاں آپ کے موضوعات اور کینوس میں بہت وسعت اور جدت ہے وہیں انسانی تعلقات کی عکاسی کے معاملے میں آپ کا قلم باجھجھک ہے جو کسی کسی مقام پہ کہانی کے بہاؤ میں رکاوٹ کی طرح محسوس ہوتا ہے۔ تاہم لفظوں کا باحجاب ہونا قابل قدر ہے جو قاری کے ذہنی بہاؤ کو فوکس رکھتا ہے اور توجہ کہانی کی طرف رہتی ہے اور غیر ضروری ہیجان خیزی نہیں پیدا ہوتی۔

ان تمام خوبیوں کے باوجود ہمیں نمرہ جی کی تحریروں میں وہ فلسفہ اور گہرائی نہیں ملتی جو ان کی کئی ہم عصر مصنفات کے ہاں پائی جاتی ہے۔ آپ کی تحریریں پڑھتے ہوئے ہمیں ارنسٹ ہمنگ وے کا وہ بوڑھا مچھیرا یاد آتا ہے جسے اپنے ماہی گیری کے کیرئر کی بہترین مچھلی ابھی پکڑنی تھی۔ ہمیں غلام باغ کا کبیر بھی یاد آتا ہے جسے اپنے قلمی کیرئر کی بہترین تحریر ابھی لکھنا تھی۔ اپنی تمام تر کامیابی اور مقبولیت کے باوجود نمرا جی کو ابھی وہ تحریر لکھنا باقی ہے جو انہیں کامیاب لکھاریوں کی فہرست سے نکال سے عظیم لکھاریوں کی فہرست میں کھڑا کرے گی۔ ایک ایسی تحریر جس کی انسپیریشن ان کے اندر جنم لے گی، جس کے کرداروں کو وہ خود جئیں گی، خونِ جگر سے ان کی پرورش کریں گی، ان کی خوشیوں اور دکھوں کو خود پہ بیتا ہوا محسوس کریں گی۔ ان کے ساتھ ہنسیں گی اور ان کے ساتھ روئیں گی۔ اس تحریر کے لئے انہیں کسی ریسرچ کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ان کے خیالات اور قلم رواں ندی کی طرح بہتے جائیں گے اور قلم کی نوک گہرائی میں اترتی جائے گی۔ اس کڑی تپسیہ کے بعد جو تخلیق وجود میں آئے گی وہ شاہکار ہو گی اور اسے لکھنے کے بعد خود نمرا جی بھی محسوس کریں گی کہ انہوں نے اپنی بہترین تحریر لکھ لی ہے۔

نمل، نمرا احمد کا لکھا ہوا ایک طویل ناول ہے جس نے پسندیدگی کے ریکارڈ قائم کئے ہیں۔ یہ ناول کئی مہینوں تک ڈائجسٹ میں شائع ہونے کے بعد علم و عرفان پبلشرز کی طرف سے کتابی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ اس ناول کی فضا اور کردار خواتین کے لئے لکھے جانے والے ناولوں کے روایتی ماحول اور کرداروں سے مختلف ہیں۔ آغاز کسی سسپنس تھرلر ناول کے جیسا ہے۔ جیسے جیسے ناول کی کہانی بڑھتی ہے ناول کے کرداروں سے تعارف بھی ہوتا جاتا ہے۔ ناول کی خاص بات اس کے غیر معمولی کرداروں کے ساتھ ساتھ کرداروں کی بہتات بھی ہے۔ ناول میں اتنے کردار ہیں ابتدا میں بار بار مختلف کرداروں کے بارے میں کنفیوژن ہو جاتی تھی۔

مصنفہ کا کہنا ہے،
نمل میں آپ کو مختلف اقسام کے لوگ ایک جگہ نظر آئیں گے اور وہ سب ہماری زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے کی ترجمانی کرتے ہیں۔ ان سب میں برائیاں اور اچھائیاں دونوں موجود ہیں۔ نمل کے کردار اتنے اچھے نہیں ہیں اور برے کردار مکمل طور پہ برے نہیں ہیں۔ آپ نے ان سرمئی کرداروں کی اچھائیوں کو اپنانا ہے اور برائیوں سے سبق سیکھنا ہے۔

چودہ سو سے زائد صفحات پہ محیط اس ناول میں تیس ابواب ہیں جن کو مصنفہ کی طرف سے عنوانات بھی دئے گئے ہیں۔

مصنفہ نے پیش لفظ میں پائریسی کا بھی ذکر کیا ہے،
یہاں میں بک پائریسی کا بھی ذکر کرنا چاہوں گی کہ وہ کس طرح ہمارے ادارے اور رائٹرز کے لئے زہر قاتل ثابت ہو رہی ہے۔

ہم بھی اس بات سے متفق ہیں۔ ہم کتاب کو خرید کے پڑھنے کی حمایت کرتے ہیں تاکہ مصنف اور پبلشرز کو ان کی محنت کا صلہ مل سکے۔ یہ ہم سب کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔

ناول کے اہم کردار یوں ہیں:
زمر: پیشے کے اعتبار سے وکیل۔ ایک فائرنگ کے نتیجے میں زمر کے دونوں گردے ضائع ہوگئے جس کے بعد اسے عطیہ شدہ گردہ لگایا گیا ہے۔ اسی وجہ سے اس کی منگنی ٹوٹ گئی اور پھر اس نے شادی نہیں کی۔
سعدی: زمر کا بھتیجا، دونوں کی عمروں میں دس سال کا فرق ہے۔

فارس غازی: سعدی کا ماموں، جو قتل کے الزام میں جیل میں قید ہے۔ زمر کے گردے اسی کی فائرنگ سے ناکارہ ہوئے تھے۔

ھاشم کاردار: ناول کا ولن؛ ایک امیر بزنس مین، جو ایک بیٹی کا باپ ہے اور جس کی اپنی بیوی کے ساتھ علیحدگی ہو چکی ہے
جواہرات: ہاشم کاردار کی ماں، ایک بااثر و رسوخ خاتون
نوشیرواں: ہاشم کا چھوٹا بھائی، لاپرواہ اور بےفکر
حنین: سعدی کی چھوٹی بہن، ایک ذہین لڑکی
ناول میں بہت سارے کردار ہیں اور بیک وقت کئی کہانیاں چل رہی ہیں، تاہم اختتام تک یہ سب ایک نقطے پہ آ کے جمع ہو جاتی ہیں۔ کہانی بہت گنجلک ہے اور کیونکہ یہ سسپنس تھرلر ٹائپ کا ناول ہے اس لئے اس کا خلاصہ پیش کرنے سے ان قارئین کی دلچسپی کم ہونے کا خدشہ ہے جنہوں نے ابھی تک اس کا مطالعہ نہیں کیا ہے۔ ناول کا ولن بہت مضبوط ہے اور اثر و رسوخ والا شخص ہے، تاہم ناول کی کہانی کے تمام ٹرنز سے گزرنے کے بعد جب انجام سامنے آتا ہے تو اس کے لئے افسوس محسوس ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ بھی زیادتی ہوئی ہے۔ مصنفہ کی یہ بات درست معلوم ہوتی ہے کہ ناول کے منفی کردار بھی مکمل منفی نہیں۔ ساتھ ہی یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ ناول کے کسی بھی کردار سے محبت بھی نہیں ہوتی۔

ناول کے اختتام پہ مصنفہ نے ناول کے بارے میں پوچھے گئے سوالات کے جوابات بھی دئے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا ہے کہ یہ ناول اب مکمل ہو چکا ہے اس کا دوسرا حصہ نہیں لکھا جائے گا۔

ناول کی تفصیلات یوں ہیں:
نام کتاب: نمل
مصنفہ: نمرا احمد
صنف: ناول، اردو، پاکستانی ادب
صفحات: 1488
ناشر: علم و عرفان پبلی کیشنز

آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے شکر گزار ہوں۔ ہمیشہ خوش رہیں۔

نمرا احمد کے قلم سے مزید

مصحف از نمرا احمد

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s