Fiction, History, Pakistani, Urdu

139- رضیہ سلطانہ از خان آصف

تاثراتی مضمون

ہندوستان اور پاکستان دونوں کے تخیلیق کاروں نے اپنی تخلیقات کا موضوع رضیہ سلطان کی زندگی کو بنایا ہے۔ ان کی زندگی کی داستان قلم بند بھی کی گئی ہے اور کیمرے کی نظر سے پیش بھی کی گئی ہے۔ پاکستان میں خان آصف نے آپ کی زندگی کو ایک ناول کی شکل میں پیش کیا ہے۔ یہ ناول1993 میں ہفتہ وار میگزین اخبار جہاں میں قسط وار شائع ہوتا رہا ہے جسے بعد ازاں آپ کی صاحبزادی اسماء خان آصف نے کتابی شکل میں شائع کروایا ہے۔ کتابستان کے گزشتہ صفحوں میں ہم نے خاں آصف کی دیگر کتب کا بھی تزکرہ کیا ہے جن کی تفصیلات اس مضمون کے آخر میں مل سکتی ہیں۔

Razia Sultan by Khan Asifسلطانہ رضیہ، رضیہ سلطانہ یا پھر رضیہ سلطان اسلامی اور خصوصاً برِصغیر پاک و ہند کی تاریخ کا ایک اہم نام ہے۔ آپ ترک نسل سےتھیں اور بادشاہ شمس الدین التمش کی صاحبزادی تھیں۔ آپ وہ واحد خاتون ہیں جنہیں سلطنتِ دہلی کی حکمرانی کا اعزاز حاصل ہے۔ آپ تاریخ کی ان چند بہادر اور باہمت خواتین میں شامل ہیں جنہوں نے ایک بڑی سلطنت پہ حکومت کی اور اسی وجہ سے “سلطان“ کہلائیں۔ رضیہ سلطان کو نہ صرف تخت دہلی کی واحد اور پہلی خاتون حکمران ہونے کا اعزاز حاصل ہے بلکہ آپ کی زندگی میں کئی فلمسسازوں، ڈرامہ نگاروں اور مصنفین کی دلچسپی رہی ہے جنہوں نے حقیقت اور فسانے کو ملا کے کئی شاہکار تخلیق کئے ہیں۔

ناول میں کہانی کا آغاز سلطان التمش کے بیٹے ناصر الدین کی وفات کے واقعے سے ہوتا ہے۔ ناصر الدین تخت کا وارث تھا اور شہزادی رضیہ کا حقیقی بھائی تھا۔ التمش کی دوسری بیوی ترکان شاہ کی خواہش تھی کہ تخت کا وارث ناصر الدین نہیں بلکہ اس کا بیٹا ہو۔ اسی خواہش نے اسے سازشیں کرنے کی راہ پہ گامزن کر دیا۔ اس کی کوششوں کے نتیجے میں تقریبا ڈیڑھ سال کے بعد ناصر الدین کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ جس سے جہاں پورے دہلی میں صفِ ماتم بچھ جاتی ہے وہیں ترکان شاہ کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں رہا۔ لیکن سلطان التمش نے تخت کے وارث کے طور پہ شہزادی رضیہ کا انتخاب کیا کیونکہ وہ ان میں چھپی صلاحیتوں سے بخوبی واقف تھے اور جانتے تھے کہ ان کے دیگر شہزادے حکومت کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی صلاحیتیں نہیں رکھتے۔ انہوں نے شہزادی رضیہ کی جنگی امور، حکممت عملیوں اور فنون کی تربیت شروع کروا دی تاکہ وہ مختلف جنگی فنون جیسے گھڑ سواری اور تلوار بازی وغیرہ میں ماہر ہو جائیں۔ جہاں ایک طرف سلطان التمش نے شہزادی رضیہ کی تربیت کا انتظام کیا وہیں ساتھ ساتھ دوسری طرف انہوں نے ان ریشہ دوانیوں اور سازشوں کے جالوں کا بھی مقابلہ کیا جو ہندوستان کے ہندو ان کے خلاف رچا رہے تھے تاکہ کسی طرح مسلمانوں کی حکومت کو نقصان پہنچایا جا سکے۔ اسی صورتحال کے دوران سلطان التمش نے جلال الدین یاقوت نامی حبشی غلام کی وفاداری سے متاثر ہو کے اسے ترقی دے دی۔ یہ بات سلطنت کے ترک امرا اور سرداروں کو پسند نہیں آئی کہ ایک غلام حبشی ذادے کو ان پہ فوقیت دی جائے اور اسے ان کے برابر کا مقام ملے۔ ساتھ ہی کئی ترک سردار اس بات کے بھی خلاف تھے کہ تخت کی وارث ایک عورت کو قرار دیا جائے۔ ایسے عورت مخالف خیالات کو فروغ دینے میں ترکان شاہ کا بڑا ہاتھ تھا، جو یہ چاہتی تھی کہ کسی طرح تخت کا وارث اس کے بیٹے کو بنایا جائے، لیکن سلطان التمش کے آگے اختلاف کرنے کی ہمت کسی میں نہیں تھی۔ ایسی صورتحال میں پس پردہ تہہ در تہہ محلاتی سازشوں کا جال بچھتا چلا گیا اور یہاں تک کہ شہزادی رضیہ کے کردار پہ کیچڑ اچھالنے سے بھی گریز نہیں کیا گیا۔ التمش نے گو شہزادی رضیہ کو اپنا جانشین اور ولی عہد سلطنت مقرر کیا تھا لیکن ان کی وفات کے بعد کے ان کی اس وصیت کی پروا نہیں کی گئی اور ترک سرداروں نے شہزادی رضیہ کی بجائے شہزادے رکن الدین کو تخت حکومت پہ بٹھایا۔ رکن الدین ایک قابل حکمران ثابت نہ ہو سکا اور جلد ہی ترک سرداروں کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا جس کے بعد شہزادی رضیہ کی تاجپوشی کر دی گئی۔ تاجپوشی کے بعد رضیہ نے اپنے لئے سلطان کا لقب منتخب کیا۔ بطور سلطان، رضیہ کا دور حکومت کم مدت کا تھا، لیکن اس کم عرصے میں بھی رضیہ سلطان نے عوام کی بھلائی کے لئے کئی کام کئے، اس کا دور بھی ریشہ دوانیوں اور سازشوں کا شکار رہا اور اس کا اختتام اس کے قتل پہ ہوا اور یہی اس ناول کا اختتام بھی ہے۔

ناول میں پیش کئے گئے زیادہ ترواقعات رضیہ سلطان کی زندگی کے حقیقی واقعات سے لئے گئے ہیں لیکن ان کی تفصیلات اور کہانی کے تانے بانے مصنف کی اپنی اختراع اور تخلیقی صلاحیتوں کا مجموعہ ہیں۔ یہ ناول ان ریشہ دوانیوں اور سازشوں کی داستان ہے جو رضیہ سلطان کو بطورِ خاص اور ہندوستان میں مسلمان حکومت کو عمومی طور پہ پیش آئے۔ دشمنوں، غداروں، سازشیوں اور وفاداروں کے جھرمٹ میں گھرے زندگی کے شب و روز کا احوال ہے اور اس بہادری، جوانمردی اور ذہانت کا تذکرہ ہے جس کے ساتھ شہزادی رضیہ نے صورتحال کا مقابلہ کیا۔
اسماء خان آصف صاحبہ کے مطابق ان کے والد نے یہ ناول خوبصورت اور سہل انداز میں تحریر کیا ہے اور ایسا ہی ہے ۔ ناول عمدگی اور روانی کے ساتھ لکھا گیا ہے۔ مصنف کےالفاظ ذہن پہ پھسلتے جاتے ہیں اور کہانی کے بہاؤ میں کسی قسم کی رکاوٹ محسوس نہیں ہوتی۔ ناول میں زیبِ داستاں کے لئے افسانہ طرازی کی گئی ہے جو دلچسپی بنائے رکھتی ہے۔ اس ناول کو ہم رومانوی ناول کے زمرے میں نہیں رکھیں گے۔ گو کہ پاپولر فکشن کے تحت لکھے گئے ناولوں کی اکثریت کا مرکزی خیال یا پہلو رومانیت اور رومان پسندی کے گرد گھومتا ہے تاہم رومان اس ناول کا مرکزی خیال نہیں۔ ناول کی کہانی لکھتے ہوئے مصنف نے شہزادی کو ایک باوقار، سمجھدار اور اپنی عزت و ناموس کی حفاظت کرنے والی ہستی کے طور پہ پیش کیا ہے جس کی زندگی معاشقوں سے تعبیر نہیں۔ گو کہ یہ موضوعات پاپولر فکشن کا اہم جز ہو سکتے ہیں لیکن ایک اعلیٰ مقام رکھنے والی شہزادی کی زندگی کا حصہ نہیں۔ ہم اس بارے میں مصنف کی تعریف کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی تصنیف کو مقبول بنانے کے لئے ایسے کسی قصے کو بڑھاوا نہیں دیا جو شہزادی کے مقام اور رتبے کے شایان شان نہیں۔اور ہر ہر جملے میں احترام کو ملحوظ رکھا ہے۔

یہ ناول ایک خوبصورت تاریخی ناول ہے۔ پیش لفظ میں رضیہ سلطان کے بارے میں تحریر ہے،
تاریخ کا یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے کہ بڑے بڑے انسانی رشتے اقتدار کی ہوس کا شکار ہوئے، سیاست کا یہ بدترین طرزِ عمل آج بھی جاری ہے، رضیہ سلطان جیسی ہوشمند اور دلیر عورت کو بھی اپنوں کے فریب اور منافقت نے شکست دی۔ مگر بحیثیت حکمران سردار بھی اس کے پائے استقامت میں کوئی فرق نہیں آیا اس نے بڑی بہادری کے ساتھ موت کو گلے لگایا، بلاشبہ وہ ایک بہت مضبوط اعصاب رکھنے والی عورت تھی۔ جنوبی ایشیا کی پہلی خاتون حکمران کا اعزاز بھی اسے حاصل تھا۔ اس کا نام تاریخ کی بہادر خواتین میں ہمیشہ نمایاں رہے گا۔

تاریخی ناولوں میں دلچسپی لینے والے قارئین یقینا اسے پسند کریں گے۔

ناول کی تفصیلات یوں ہیں:

رضیہ سلطانہ از خان آصف
مصنف: خان آصف
صفحات: 328
ناشر: القریش پبلی کیشنز

آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے شکر گزار ہوں۔ ہمیشہ خوش رہیں۔

خان آصف کے قلم سے مزید

اندھیروں کے قافلے از خان آصف

 

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s