Islam, Non-Fiction, Religion, Research, Urdu

138- حجرت حبشہ از عبدالستار خان

حجرت حبشہ از عبدالستار خان
(اسلامی دنیا کے پہلے اہم واقعے کی مستند تاریخ)

واقعہ ہجرت حبشہ اسلامی تاریخ کا ایک اہم واقعہ ہے اور ہر مسلمان اس سے یقیناً واقف ہے۔ اسلامیات کے نصاب میں اس واقعے کے بارے میں ایک مضمون موجود ہے جس کے باعث بچپن سے ہی اس واقعے کی آگاہی حاصل ہو جاتی ہے۔ اس مضمون میں نجاشی بادشاہ کے مسلمانوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے اور حضرت جعفر طیار کی دربار نجاشی میں تقریر کا احوال درج ہے۔ یہاں ہم اس بات کا ذکر کرنا چاہتے ہیں کہ جہاں ہجرت حبشہ کی ابتدائی معلومات بچپن میں ہی حاصل ہو جاتی ہیں وہیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان میں مزید اضافہ نہیں ہوتا اور واقعے کی تفصیلات غیر معلوم ہی رہ جاتی ہیں۔ ہمیں اس حقیقت کا ادراک نہ ہوتا اگر ہمارے ہاتھوں میں جناب عبدالستار صاحب کی لکھی کتاب حجرت حبشہ نہ آئی ہوتی اور ہمیں اس کے مطالعے کا موقع نہ ملا ہوتا۔Hijrat-e-Habsha by Abdul Sattar Khan
مصنف نے کتاب کا پہلا جملہ یوں لکھا ہے،
“ہجرت حبشہ اسلامی تاریخ کا وہ باب ہے جس کی تفصیلات تاریخ دانوں پہ آج تک قرض ہے۔ تاریخ و سیر کی کتابوں میں اس مبارک ہجرت کی اجمالی کیفیت ضرور ہے مگر اس کی تفصیلات ناپید ہیں۔ یہی حال عربی ذخائر کا ہے، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اردو ذخائر کا کیا حال ہوگا۔“
مصنف اپنے دعوے میں درست ہیں اور حقیقتا اردو میں ہجرت حبشہ کے موضوع پہ کتب موجود نہیں۔ اس موضوع پہ یہ پہلی کتاب ہے جو ہمارے سامنے آئی ہے۔ عبدالستار صاحب کی لکھی یہ کتاب ایک تاریخی اور تحقیقی کتاب ہے جس میں مصنف نے مختلف عربی اور افریقی حوالوں کی مدد سے اپنے خیالات پیش کئے ہیں۔ انہوں نے جہاں جہاں اپنی رائے دی ہے وہیں اس کے بارے میں دلائل دے کر ساتھ ہی شافی بحث بھی کی ہے جو ایک تشنہ ذہن کی پیاس بجھانے میں کامیاب رہی ہے۔ مصنف نے بڑے جامع انداز میں ہجرت حبشہ کی تاریخ پیش کی ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے قاری کے سامنے کئی ایسے سوالات پیش کئے ہیں جن کے متعلق بحث اور معلومات اردو ذبان میں موجود نہیں۔ مصنف کے جوابات میں ان کی عقیدت بھی چھلکتی ہے اور ایک دیانت دار محقق کا رنگ بھی نظر آتا ہے جس کی تحریر میں جابجا مذہبی، تاریخی اور جغرافیائی حوالے ملتے ہیں۔
مصنف کو یہ کتاب لکھنے کی تحریک کیونکر ہوئی اس بارے میں وہ رقم طراز ہیں،
“جدہ میں ہمارے قدیم محلے کا نام “البغدادیہ“ ہے۔ اس کے ساتھ عماریہ محلہ ہے جہاں اماں حوا کا قبرستان ہے۔ دونوں محلوں کے درمیان ایک سڑک ہے جو بغدادیہ کو عماریہ سے الگ کرتی ہے۔ سڑک کے اس پار جہاں عماریہ ہے وہاں یہ قبرستان واقع ہے اور سڑک کی دوسری طرف جہاں بغدادیہ ہے وہاں شاورما کی مشہور دکانیں ہیں۔ شاورما کی دکانوں کے پیچھے جو بلاک ہے اسے “حارۃ الجمامہ“ کہا جاتا ہے۔ یعنی حجوم خاندان کا محلہ۔ جس سے متصل جو محلہ ہے اسے “حارۃ الحبوش“ کہتے ہیں۔ یعنی حبشیوں کا محلہ ہے۔ بچپن میں اس محلے میں کئی لڑکوں سے دوستیاں تھیں۔ ان لڑکوں میں سے بعض کے ساتھ بعد میں گہری دوستی ہوگئی اور پھر ان کے توسط سے حبشیوں کی طرزِ زندگی اور عادات و اطوار کا علم ہوا۔ یہ لڑکے اکثر و بیشتر فخریہ انداز میں کہتے تھے کہ ہمارے آباء و اجداد نے صحابہ کرام رض کو پناہ دی تھی۔

تاریخ کی کتابوں کے مطالعے کا شوق اور حبشی دوستوں کی باتوں کی وجہ سے بھی مزید ہجرت حبشہ کے بارے میں تفصیلات جاننے کا شوق ہوا پھر وقت گزرتا گیا۔ اس موضوع پر تحقیق کرنے کے لئے کبھی وقت میسر نہ ہوتا اور کبھی حالات مانع ہوتے۔ آخر کار ایک سال قبل میں نے اس موضوع پہ مواد جمع کرنا شروع کیا۔ پھر ان حبشی بزرگوں اور محققوں سے استفادہ کیا جنہوں نے اس موضوع پہ لکھا ہے یا ان کے پاس تحریری مواد موجود تھا۔ بالآخر یہ تحقیق ضبط تحریر میں لائی گئی جس میں اس مبارک ہجرت کے متعلق کئی اہم امور ہیں جو خود میرے علم میں پہلی مرتبہ آئے ہیں۔“
ہجرت حبشہ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث موجود ہے۔ آپ صلعم نے فرمایا،
“اگر تم حبشہ کی طرف نکل جاؤ، وہاں ایک عادل حکمران ہے جس کے ملک میں کسی پہ ظلم نہیں ہوتا“۔
رسول پاک صلعم کا فرمان حرفِ آخر ہے ہجرت کے لئے حبشہ کو ہی کیوں پسند کیا گیا۔ اس حکم کے پیچھے جو مصلحتیں ہو سکتی ہیں مصنف نے ان کے بارے میں انتہائی مفید معلومات دی ہیں جیسا کہ سرزمینِ عرب کے اردگرد کئی ممالک اور علاقے موجود تھے جہاں مسلمان ہجرت کرکے جا سکتے تھے جیسے عراق، شام، مصر وغیرہ۔ تاہم حبشہ کے انتخاب کے پیچھے جو مصلحتیں کارفرما تھیں مصنف نے انہیں مذہبی، تاریخی اور جغرافیائی پس منظر میں کھنگالا ہے اور وضاحت کی ہے۔
“حبشہ کی طرف مسلمانوں نے دو مرتبہ ہجرت کی، دوسری ہجرت پہلی ہجرت سے زیادہ مشکل تھی۔“
دوسری حجرت کے بارے میں مصنف رقم طراز ہیں،
“تاریخ و سیر کی کتابیں دوسری ہجرت حبشہ کے وقت وقوع کے بارے میں خاموش ہیں البتہ یہ بات طے ہے کہ پہلی ہجرت رجب میں بعثت نبوی کے پانچویں سال ہوئی۔ رمضان یا شوال میں افواہ پہنچنے پہ مہاجرین حبشہ واپس مکہ مکرمہ آ گئے اور پھر کچھ عرصے کے بعد جس کی مدت کی وضاحت نہیں، رسول اکرم صلعم کے حکم پہ دوبارہ حبشہ کی طرف ہجرت کرتے ہیں۔ بعض روایات میں ہے کہ یہ ہجرت بعثت کے ساتویں سال ہوئی۔“

حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے مہاجرین کی تعداد میں اختلاف ہے۔
“الرحیق المختوم اور ذاد المعیاد میں مہاجرین کی تعداد بارہ مرد اور چار خواتین لکھی ہے۔ ابنِ ہشام اور ابو نعیم نے گیارہ مرد اور پانچ خواتین کے نام لکھے ہیں۔ سیرت انسائیکلوپیڈیا میں دس مرد اور پانچ خواتین ہے۔“
“دوسری ہجرت میں مختلف صحابہ کرام رض انفرادی اور اجتماعی طور پر مہاجرت کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کی تعداد سو سے اوپر پہنچتی ہے۔“
شاہ حبشہ کی طرف لکھا ہوا رسول پاک صلعم کا خط بھی دوسری ہجرت کے موقع پہ تحریر کیا گیا تھا۔
“اریٹیریا کے معروف مفکر اور دانشور ڈاکٹر جلال الدین محمد صالح اپنی شہرہ آفاق کتاب “الحبشہ و البجہ“ میں لکھتے ہیں “انسانی تاریخ میں حبشہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہ دنیا کا پہلا خطہ ہے جس نے انسانیت کو سیاسی پناہ کے حق سے متعارف کروایا۔ یہ دنیا کا پہلا خطہ ہے جس نے دینی و نظریاتی اختلافات رکھنے کے حق کا اقرار کرتے ہوئے مخالف گروہ کو اپنے ملک میں عزت و وقار دیا۔ اسے آزادانہ طور پر اپنے دین پہ قائم رہنے کی نا صرف اجازت دی بلکہ مخالف گروہ کا حق قرار دیا۔ یہ انسانی تاریخ کا پہلا خطہ ہے جس نے اپنے اقتدار کو مذہبی عصبیت سے پاک کیا۔“

“ اس سوال کا جواب دینا ضروری ہے کہ صحابہ کرام رض حبشہ کے کس مقام میں رہے اور سکونت اختیار کی۔ اس سوال کا جواب تلاش کرنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ تاریخ حبشہ کے کسی مقام کا ذکر کرنے سے خاموش ہے۔ ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ اس وقت تین ممالک کے درمیان نزاع ہے اور ہر ایک کی کوشش ہے کہ اولین مہاجروں کو پناہ دینے کا اعزاز اسے حاصل ہو۔ یہ ممالک ایتھوپیا، اریٹیریا اور سوڈان ہیں جن میں سے ہر ایک کا دعویٰ ہے کہ اس کے اسلاف نے مہاجرین کو پناہ دی۔“
مصنف مزید لکھتے ہیں،
“مسئلہ اور بھی پیچیدہ اس وقت ہوتا ہے جب ہمیں معلوم ہوگا کہ حبشہ کسی خاص جغرافیائی خطے کا نام نہیں تھا بلکہ اس جگہ کی طرف اشارہ تھا جہاں حبش قوم آباد تھی۔ اس کی مثال برصغیر ہے جس طرح برصغیر کسی خاص جغرافیائی خطے کا نام نہیں بلکہ موجودہ دور کی جغرافیائی تقسیم کے مطابق متعدد ملکوں کے مجموعے کا نام ہے، اسی طرح حبشہ کسی ایک ملک کا نام نہیں بلکہ موجودہ جغرافیائی تقسیم کے مطابق متعدد ملکوں کا نام ہے۔“
مصنف نے اس سوال کے بارے میں مختلف محققین کی آراء اور بحث بھی پیش کی ہے تاکہ اندازہ لگایا جا سکے کہ حبشہ سے مراد کون سا جغرافیائی علاقہ ہے۔
نجاشی بادشاہ کے متعلق مصنف لکھتے ہیں،
“عدل و انصاف اور اعلیٰ اخلاق و کردار کی حامل یہ شخصیت اگرچہ رسول اللہ صلعم کا دیدار نہ کر سکی مگر اس کے باوجود سیرت نگاروں نے ان کا شمار صحابہ کرام رض میں کیا ہے۔“
لفظ نجاشی کے بارے میں البدایہ و النہایہ کے حوالے سے مصنف کہتے ہیں،
“نجاشی حبشی لفظ ہے جو قدیم جعزی عربی لفظ سے نکلا ہے۔ نجاشی کسی شخص کا نام نہیں بلکہ یہ حبشہ کے بادشاہ کا لقب ہے۔ جس طرح روم کے ہر بادشاہ کو قیصر، فارس کے ہر شہنشاہ کو کسریٰ، ترک کے ہر حکمران کو خاقان اور مصر پہ حکمرانی کرنے والے کو فرعون کہا جاتا ہے۔“
“نجاشی کا لفظ دراصل ہمارے پاس عربی لٹریچر سے آیا ہے اور جیسا کہ سب کے علم میں ہے کہ عربی حروف تہجی میں “گ“ نہیں وہ “گ“ کو “ج“ پڑھتے ہیں۔ نجاشی کا اصل اور صحیح تلفظ نگاشی ہے سو ہم آگے اس تحقیق میں بھی نجاشی کے بجائے نگاشی ہی لکھیں گے۔“
“اب جس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آخر وہ کون سا نگاشی تھا جس نے صحابہ کرام رض کو پناہ دی اور اسلام قبول کیا تھا۔ آیا وہ نگاشیوں کا نگاشی یعنی شہنشاہ حبشہ تھا یا کسی صوبے کا نگاشی؟ اس حوالے سے دو نظریات ہیں اور دونوں کے پاس اپنے دلائل ہیں۔ ایک نظریہ یہ ہے کہ وہ نگاشیوں کا نگاشی تھا جو اکسوم میں آباد تھا اور دوسری رائے یہ ہے کہ وہ اریٹیریا کے تاریخی شہر “درباوا“ کا نگاشی تھا۔“
مصنف نے نگاشی کے اصل تک پہنچنے کے لئے بہت تحقیق کی ہے۔ مختلف محققین کی آراء سے استفادہ کیا ہے اور سیر حاصل بحث کی ہے۔
ہم نے اس تعارفی مضمون میں کتاب کے کئی اقتباسات شامل کئے ہیں کیونکہ یہ کتاب اس بات کی متقاضی ہے کہ اس میں پیش کئے گئے پیغام کو آگے پہنچایا جائے اور اس مبارک ہجرت کے ان پہلوؤں پہ روشنی ڈالی جائے جو اکثر افراد کے علم میں نہیں ہے۔ اس ضمن میں ہم نے کتاب کا خلاصہ اپنے الفاظ میں پیش کرنے کی بجائے مصنف کے الفاظ کا سہارا لیا ہے تاکہ بحث کی اصل خوبصورتی ماند نہ پڑ جائے۔
گو یہ ایک مختصر کتاب ہے جو صرف ایک سو چھتیس صفحات پہ مشتمل ہے تاہم یہ تمام صفحات اعلیٰ پائے کی تحقیق، مدلل بحث، تاریخی و جغرافیائی، مذہبی، زمانی و زمینی حقائق پہ بھر پور روشنی ڈالتے ہیں اور ہجرت حبشہ کے ان پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہیں جو اردو ذبان کے قارئین تک ابھی تک نہیں پہنچ سکے۔ اپنے موضوع کے حساب سے یہ انتہائی منفرد کتاب ہے اور مصنف نے موضوع کا بھر پور حق ادا کیا ہے۔ کتاب انتہائی مدلل انداز میں لکھی گئی ہے جس میں تمام مواد ٹو دی پوائنٹ ہے اور کتاب کے حجم کو غیر ضروری بڑھانے کی کوشش نہیں کی گئی۔
اپنے موضوع کی انفرادیت اور اس کو پیش کرنے کی وجہ سے یہ ایک بہترین کتاب ہے۔ مصنف یقیناً مبارک باد کے مستحق ہیں جنہیں اللہ نے اس موضوع کو روشنی میں لانے کے لئے منتخب کیا اور ان کے ذریعے سے یہ معلومات آگے پہنچیں۔
یہ کتاب پیپر بیک کور کے ساتھ پرنٹ کی گئی ہے اور خاصی کم قیمت ہے۔ اس میں چند مقامات پہ اہم تاریخی جگہوں کی رنگین تصاویر بھی شامل کی گئی ہیں جو دلچسپی میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔ کتاب کی طباعت عمدہ ہے اور املاء کی اغلاط موجود نہیں۔

مصنف: عبدالستار خان
صنف: اسلامی تاریخ، تحقیق
صفحات: 136
قیمت: 130 روپے
ناشر: نیشنل بک فاؤنڈیشن
سن اشاعت: جون 2017
ISBN: 978-969-37-1018-2

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔


Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s