Fiction, Pakistani, Pakistani literature, Romance, Socio-reformal, Urdu

137- ماہی ماہی کوک دی میں از ہما کوکب بخاری

تاثرات

Mahi mahi by Huma Kokabماہی ماہی کوک دی میں، ایک رومانوی ناول ہے۔ اس کا مرکزی خیال محبت کے گرد گھومتا ہے، محبت کی اس داستان کی سرزمین پرانی روایات، عزت دار خاندان، جھوٹی انا اور نفرتوں کے بیجوں سے بھری پڑی ہے۔ یہ محترمہ ہما کوکب بخاری صاحبہ کا پہلا ناول ہے جو تین سال تک خواتین ڈائجسٹ میں قسط وار شائع ہونے کے بعد کتابی شکل میں بھی پیش کیا گیا ہے۔ ناول بہت تفصیلی ہے، کہانی اور کرداروں کو صراحت کے ساتھ پیش کیا گیا ہےجس کے باعث اس کی ضخامت کافی زیادہ ہے اور یہ دوحصوں میں شائع کیا گیا ہے۔


ناول کے پیش لفظ میں مصنفہ کے الفاظ ہیں،
“اس ناول کو لکھتے ہوئے میں نے کوشش کی تھی کہ اس میں ممکنہ حد تک زندگی کے حقیقی رنگ بھروں۔ اس کے کردار وہی ہوں جنہیں آپ اپنے اردگرد چلتے پھرتے دیکھ سکتے ہوں، وہی رویے ہوں جنہیں آپ محسوس کر سکتے ہوں اور وہی کہانی ہو جو آپ کے گرد کہیں موجود دہو لیکن زندگی کی ہماہمی میں شاید آپ نے اسے نظر انداز کر دیا ہو۔ اس ناول میں یہ سبھی کچھ ہے لیکن حقیقت کے ساتھ ساتھ زیب داستاں کے لئے کچھ افسانہ بھی ہے۔ “


ناول کے اہم کردار یہ ہیں:
زرینہ: گاؤں کے مولوی صاحب کی باپردہ بیٹی
رضیہ: زرینہ کی بہن
پیرصاحب جلال الدین: گاؤں کے باعزت سید گھرانے کے سربراہ اور قدیم روایتوں کے امین
رجب علی شاہ: پیر صاحب کا بڑا بیٹا، گدی نشین، برطانیہ سے واپس آیا ہو ارئیسں زادہ
حیدر علی شاہ: پیر صاحب کا چھوٹا بیٹا، برطانیہ سے تعلیم یافتہ، مہذب اور باکردار۔ حیدر علی اورزرینہ ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہیں
مہرالنسا: پیر صاحب کی بڑی بیٹی
زیب النسا: پیر صاحب کی بیٹی
ماہ بانو: رضیہ کی بیٹی، آرٹس کالج کی طالبہ ایک باعتماد شہری لڑکی
اُما: ماہ بانو کی کالج کی دوست، ایک ہندو لڑکی
عبداللہ: حیدر علی شاہ کا بیٹا
ریشماں: زرینہ اور رجب علی شاہ کی بیٹی اور عبداللہ کی منگیتر
اباجی: ماہ بانو کے والد اور پیشے کے اعتبار سے ایک کمہار

ناول کا آغاز چوبیس سال قبل زرینہ کی کہانی سے ہوتا ہے ۔ زرینہ اور حیدر علی ایک دوسرے کی محبت میں مبتلا ہو گئے،تاہم حالات اور واقعات زرینہ اور علی کی محبت کی حمایت میں نہیں تھے اور حالات ایسے بنے کہ زرینہ کی شادی حیدر علی کے بھائی رجب علی سے ہوگئی ۔ناول میں مصنفہ ہمیں دو نسلوں پہ مبنی اس محبت کے سفر پہ لے جاتی ہیں۔ جہاں محبت اور نفرت ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ اس سفر کے مختلف موڑوں پہ ہمیں کہیں زرینہ کی ہنسی سنائی دیتی ہےاور کہیں ریشماں کے آنسو، کہیں رواجوں کی موٹی زنجیریں نظر آتی ہیں تو کہیں نشاط عیش و عشرت، کہیں ماہ بانو کے بنائے مٹی کے برتن ہیں اور کہیں پیر صاحب کا مکافاتِ عمل۔ پیر صاحب کی حویلی صدیوں پرانی روایتواں میں جکڑی ہوئی تھی۔ اور کہانی آہستہ آہستہ کھلتی ہے۔


کیونکہ مصنفہ ایک خاتون ہیں اور یہ ناول لکھا بھی خواتین قارئین کے لئے گیا ہے اس لئے یہ سفر نسوانی تناظر سے پیش کیا گیا ہے۔ تاہم مصنفہ نے کہانی پیش کرتے ہوئے توازن اور عقل کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ خواتین قارئین کے لئے لکھے جانے کے باوجود ناول کے مرد کرداروں سے نفرت نہیں ہوتی بلکہ یہ نفرت اس فرسودہ نظام سے محسوس ہوتی ہے جس کو اس بنا پہ صدیوں سے چلایا جا رہا ہے کہ وہ بزرگوں کی روایات ہیں۔ نفرت ان روایات سے ہوتی ہے جن میں انسانی احساسات و محبت و خواہشات کی جھوٹی انا کے سامنے کوئی حیثیت نہیں۔ ناول میں جہاں خواتین کرداروں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی تصویر کشی ہے وہیں مرد کرداروں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیاں بھی پیش کی گئی ہیں۔ ناول میں ظالم اور انا پسند مردوں کے ساتھ ساتھ مددگار، ہمددر اور سلجھے ہوئے مرد کردار بھی موجود ہیں۔ جہاں مظلوم ریشماں ہے وہیں باہمت ماہ بانو بھی ہے۔ہم ناول کی مصنفہ کو اس بات کا کریڈٹ ضرور دیں گے کہ انہوں نے کرداروں میں توازن اور انصاف برقرار رکھا ہے اور مرد کرداروں کو نشانے پہ لینے والی بھیڑ چال کا شکار نہیں ہوئیں جس کے تحت ایسی غیر حقیقی اور غیر متوازن تصویر کشی جاتی ہے جو معاشرے میں ذہنی ابتری پھیلانے میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔


محبت کی تعریف مصنفہ نے زرینہ کی ذبانی یوں پیش کی ہے؛
“کچھ باتیں کہنے کے لئے نہیں ہوتیں، صرف محسوس کرنے کے لئے ہوتی ہیں۔ کیا تم روشنی کو قید کر سکتی ہو، خوشبو کو مٹھی میں بند کر سکتی ہو؟ نہیں تم صرف ان کا وجود محسوس کرتی ہو۔ تم جانتی ہو کہ یہ چیزیں ہیں، بغیر کسی سے کچھ کہے سنے، لیکن تم ان کے گرد حصار قائم نہیں کر سکتیں۔ محبت بھی روشنی، خوشبو اور ہوا کی طرح ہے، یہ محسوس کرنے کے لئے ہوتی ہے، زبان جھوٹ بولتی ہے لیکن جذبہ جھوٹ نہیں بولتا۔ “


پیر صاحب کی حویلی کے اندرونی حالات ان کی بیٹی زیب النسا کی ذبانی اس طرح بیان کئے گئے ہیں،
“یہ گھر کب ہے علی، یہ تو حویلی ہے حویلی۔ “
” پیر صاحب کی حویلی اور ہم عام پردہ دار لڑکیاں نہیں۔ پیر صاحب جلال الدین کی سید زادی بیٹیاں ہیں۔ ہمارا مقام و مرتبہ بہت بلند ہے۔ ہمیں یہ زیب نہیں دیتا کہ اپنی حویلی سے نکل کر کسی کے گھر ملنے جائیں۔ یہ ہم سے کم تر لوگوں کا فرض ہے کہ وہ ہمیں سلام کرنے آئیں۔
علی، آسمان سے بھی زمین کا منظر دکھائی تو دیتا ہے۔ لیکن ہمیں عظمت کے ایسے آسمان پہ بٹھا دیا گیا ہے جہاں سے کچھ دکھائی نہیں دیتا سوائے دیواروں کے۔ ان دیواروں میں سانس لینے تک کے لئے کوئی روزن نہیں ہے۔ یہاں کی دیواریں اتنی بلند ہیں کہ باہر سے اندر کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ اتنی موٹی ہیں کہ دم گھٹنے سے نکلنے والی چیخیں بھی کسی کو سنائی نہیں دیتیں اور اتنی مضبوط ہیں کہ ان میں نقب نہیں لگ سکتا۔ “

خاندانی روایتوں کی تلخ حقیقت ناول میں یوں بیان کی گئی ہے؛
“بالکل بالکل اس گھر کی ہر چیز پہ پہلا حق آپ دونوں کا ہے “، وہ بولے۔
“ہم دونوں کا؟ “مہرالنسا یہ سوچ کر دل ہی دل میں ہنس پڑی۔
” اس سے بڑا مذاق بھی کوئی ہو سکتا ہے۔ گدی بھائی کی، جائداد بھائی کی، زمینیں ان کی، حویلیاں ان کی، سب دولت ان کی، گھی کے چراغ ان کے اور بالآخر یہ سب کچھ ان کی اولاد کا۔ ہمارا کیا ہے یہاں؟ زندگی مین دو کمرے اور مرنے کے بعد اپنے ٓبائی قبرستان میں دو، دو گز زمین۔ پھر ہمارے یہی کمرے بھائی جان کی بیٹیوں کے حصے میں آ جائیں گے جیسے ہم سے پہلے اس خاندان میں گزرنے والی عورتوں کے کمرے ہمارے حصے میں آئے ہیں۔ ہاں قبر کے لئے سب کا حصہ اپنا اپنا ہے۔ “


پیر صاحب کے خیالات بھی جاننے لائق ہیں؛
“بیٹی بیاہی جاتی ہے تو جائداد تقسیم ہوتی ہے اور یہ بیٹیاں جہیز میں صرف زمینیں، مزارعے اور خدمتگار ہی نہیں، باپ اور بھائیوں کی عزت بھی ساتھ لے جاتی ہیں، پھر یہ ان سسرال والوں کی مرضی ہوتی ہے کہ وہ اس عزت کو ماتھے پہ سجا کے رکھیں یا اپنے قدموں میں رول دیں اور علی بیٹیاں جو عزت ساتھ لے کر جاتی ہیں انہیں ماتھے پہ سجانا کم ہی نصیب ہوتا ہے اس لئے بہتر یہی ہوتا ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کے گھر عزت اور سکون کی زندگی گزار دیں۔ “
پیر صاحب کہ رہے تھے،
“اس گدی پر بیٹھنے والے ہمارے آباؤ اجداد میں سے کسی کی بیٹی کبھی بیاہی نہیں گئی۔ کیونکہ یہ اس گدی کے منصب اور شان کے خلاف ہے۔صدیوں کی عزت کو محض اپنی بیٹیوں اور بہنوں کی خاطر کسی نے خاک میں آلودہ کرنا گوارہ نہیں کیا، ہم بھی یہ نہیں کر سکتے۔ “


ناول کی کہانی مضبوط ہے۔ اس میں چند بہت مضبوط کردار ہیں، کچھ مظلوم کردار ہیں جو بدقسمتی یا صدیوں پرانے رواجوں کا شکار ہو گئے ہیں۔ یہ دو نسلوں کی کہانی ہے۔ ایک مظلوم نسل اور ایک خود سے کچھ کر گزرنے کا جذبہ رکھنے والی نسل۔ مصنفہ نے قلم کا بہادری سے استعمال کیا ہے اور ایک ہندو لڑکی کا کردار بھی شامل کیا ہے جس کے ذریعے انہوں نے دوسرے جنم کا تصور بھی کہانی میں شامل کیا ہے۔ تاہم ناول کا اختتام مصلحت پسندی کا شکار ہو گیا ہے۔ معلوم نہیں یہ مصنفہ کی ذہنی رکاوٹ تھی یا کردار کا تقاضہ کہ آخر میں ایک عورت نے قربانی دے کے معاشرے میں رائج بوسیدہ اور انا پسند نظام ڈھے جانے سے بچا لیا۔ یقینا یہ ڈھے جانے کا عمل اپنے ساتھ بہت تخریب کاری لے کے آتا اور تباہی و بربادی کی ایک نئی داستان رقم ہوتی اور اسی سے بچنے کے لئے عورت نے ایک بار پھر قربانی کا رستہ اختیار کر لیا اور ایک ایسی نئی زندگی شروع کی جس کی بنیاد محبت نہیں بلکہ سمجھوتہ اور مصلحت پسندی تھی۔ ناول کی کہانی بہت مربوط اور مضبوط تھی لیکن اس کا انجام اتنا مضبوط نہ ہو سکا۔ مصنفہ اپنی ہیروئن کو وہ ہمت نہ دے سکیں جو اسے نظام اور معاشرے سے لڑنے کی راہ پہ چلاتی بلکہ وہ نظام کی پیچیدگیوں کا شکار ہو گئی۔ کبھی کبھی زندگی میں ایسی ناممکن صورتحال سامنے آ جاتی ہے جس میں اپنی ذاتی خواہش کی راہ پہ چلنے سے بہت سے وابستہ لوگوں کی زندگیوں میں پریشانیاں پیدا ہو جاتی ہیں، کبھی کبھی ایسی صورتحال ہو جاتی ہے جس میں ایک بڑی تباہی کو وقوع پذیر ہونے سے بچانے کے لئے کسی نہ کسی کو لازمی قربانی دینی پڑتی ہے اور اس ناول میں یہ قربانی اس کی ہیروئن نے دی۔


ناول کے مطالعے کے دوران ہماری خواہش تھی مصنفہ اس مشکل صورتحال کا کوئی بہتر حل نکال لیں۔ ہیروئن اختتام پہ کمزور کرداروں کو ہمت دلاتی کہ وہ اپنی زندگی کی باگ دوڑ اپنے ہاتھ میں لے کے اپنے مستقبل کے بارے میں بہتر فیصلے کریں۔ تاہم یہ ناول دہائیوں پہلے لکھا گیا ہے اور جن رسومات کا اس ناول میں تذکرہ ہے وہ صدیوں پرانی ہیں اور ایک جھٹکے میں توڑی نہیں جا سکتیں۔ مصنف معاشرے کا مصور ہوتا ہے، اس کا کام تصویر کشی کرنا ہے پھر تصویر چاہے خوش رنگ ہو یا کریہہ۔ تاہم مصنف معاشرے کا رہنما بھی ہوتا ہے۔ اپنے تخیلات کی ذرخیزی کے باعث وہ ایسے اندیکھے رستے بھی ڈھونڈ نکالتا ہے جو کہیں موجود نہیں ہوتے۔ اس ناول میں مصنفہ نے مصور کا کام کیا ہے انہوں نے کریہہ تصویر سامنے پیش کی ہے۔ مصنفہ نے کہانی کے تانے بانے عمدہ بنے ہیں اور کہانی وضاحت سے پیش کی ہے تاکہ قاری کے ذہن میں کسی بھی پل الجھن پیدا نہ ہو۔ تاہم ہماری خواہش ہے کہ ہمارے مصنفین خصوصا مصنفات اپنی قوت متخیلہ استعمال کرکے خواتین کے ذہنوں کو وسعت دینے میں مدد کریں۔ انہیں ایسے رستے دیکھنے میں مدد دیں جو انہیں ہمت دیں اور مضبوط بنائیں۔ ہمیں ایک ایسے معاشرے کی طرف سفر کرنا ہے جہاں کسی کی حق تلفی نہ ہو اور جہاں روایات کے پیچھے کسی مرد یا عورت کو اپنی خواہشات کی قربانی نہ دینی پڑے یا انہیں ایسا کرنے پہ مجبور نہ کیا جائے۔


ناول کے اختتام کے بارے میں مصنفہ خود کہتی ہیں،
“نفرتوں کے آکٹوپس نے سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔۔۔۔ ایسے نازک وقت میں ایک نازک سی لڑکی نفرت اور دشمنی کی ٓگ کو بجھانے کا عزم کرتی ہے اور اتنی بڑی قربانی دیتی ہے جس کا کوئی عورت تصور بھی نہیں کر سکتی۔ یہی اس کہانی کا کلائمکس ہے۔ “


مصنفہ: ہما کوکب بخاری
صنف: ناول، رومانوی، پاکستانی ادب
صفحات: حصہ اول 608
حصہ دوم 589


آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔
اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔
تشریف آوری کے لئے شکر گزار ہوں۔ ہمیشہ خوش رہیں۔

ملتی جلتی تحریریں
کفر از تہمینہ درانی

 

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s