Non-Fiction, Pakistani, Urdu

136- ہمہ یاراں دوزخ از صدیق سالک

تاثرات

Hama Yaaran Dozakh by Siddique Salikاردو زبان کے قارئین کے لئے صدیق سالک کا نام انجان نہیں۔ آپ کا تعلق پاکستان فوج سے تھا جہاں آپ جرنیل کے عہدے تک پہنچے۔ آپ کئی کتب کے مصنف ہیں آپ کی تحریروں میں مزاح نگاری اور تنقید کا عنصر غالب ہے۔ آپ کی یادداشتوں میں سقوط ڈھاکہ کے واقعے کی تفاصیل پہ مبنی کتب بھی شامل ہیں جن میں آپ نے ان حالات و واقعات کا بیان کیا ہے جو اس سانحے کا سبب بنے۔
سانحہ مشرقی پاکستان، ہماری ملکی تاریخ کا ایسا سانحہ ہے جس کے گھاؤ آج بھی پاکستانی اپنے دل میں محسوس کرتے ہیں۔ اس واقعے کے اسباب، سیاسی حالات، زمینی حقائق اوار ہمسایہ ملک کا کردار جیسے پہلوؤں پہ کئی مصنفین نے قلم اٹھایا ہے اور اپنے اپنے نقطہ نظراور تجزیے پیش کئے ہیں۔ کتابستان میں جو کتاب آج زیر نظر ہے وہ بھی اس حادثے کے متعلق ہے۔ تاہم جو بات اس کتاب کو منفرد بناتی ہے وہ سقوط ڈھاکہ کے بعد دوران اسیری پیش آنے والے واقعات کا تذکرہ ہے ۔ مصنف کا تعلق کیونکہ پاکستانی فوج سے تھا اور سقوط ڈھاکہ کے بعد وہ بھی اسیران جنگ میں شامل تھے اس لئے یہ کتاب اسی اسیری کے دوراں پیش آنے والے حالات و واقعات پہ مشتمل ہے جو دسمبر 1971 سے لے کر اکتوبر 1973 میں آپ کی رہائی تک کےعرصے کے دوران پیش آئے۔ یہ یادداشتیں 1974 میں “ہمہ یاراں دوزخ“ کے نام سے شائع ہوئیں۔ کتاب کا عنوان بہت معنی خیز ہے اور نہ صرف مصنف بلکہ پوری قوم کے دلی احساسات کی ترجمانی کرتا ہے جس کے مطابق ہندوستانی اسیری کو دوذخ سے تشبیہہ دی گئی ہے۔

حرف اول میں مصنف کے الفاظ ہیں،

“داستان اسیری کے کئی سیاسی اور فوج پہلو بھی ہیں جن سے میں نے دانستہ طور پر دامن بچایا ہے کیونکہ میرے خیال میں سقوط ڈھاکہ کا اس وقت سیاسی اور فوجی تجزیہ قبل از وقت ہوگا چنانچہ میں نے اس کتاب کے نفس مضمون کی مناسبت سے اسے صرف اپنے تجربات، مشاہدات اور محسوسات تک محدود رکھا ہے۔“

مزید،

“نوے ہزار اسیران جنگ کے سفر کا بھی نقطہ آغاز اور انجام ایک تھا لیکن دوران اسیری ان کے راستے جدا جدا اور ان کی منزلیں الگ الگ تھیں۔ میں اپنے راستے اور اپنی منزلوں کی بات کرتا ہوں، وہ اپنے نقش قدم روشن کریں۔۔۔ اور یوں سب کی صناعی سے شاید اس دردناک سفر کی مکمل تصوری مرتب ہو سکے۔“

کتاب میں کل اکیس باب ہیں، جن کے عنوانات ہیں،
حرف اول، شمشیر سے زنجیر تک، ہتھیار برزمین شو، وی آئی پی، گوشے میں قفس کے، قیدی نمبر دس، منکر نکیر، نذرل سے غالب تک، قندِ مکرر، کیمپ نمبر چوالیس، حدیثِ دیگراں، سنٹرل جیل: دار الامراء، سنٹرل جیل: دار العوام، شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں، اسیری کا دوسرا سال، شمع ہر رنگ میں جلتی ہے، نفسیاتی جنگ، آئین جواںمردی، سحر قریب ہے یارو، غالب سے اقبال تک، دو مینار۔
ابواب کے عنوانات سے ہی اس سفر کی دردناکی کا احساس ہو جاتا ہے۔ ہم اپنے دل میں اپنی فوج کے لئے بےپناہ محبت رکھتے ہیں اور سانحہ ڈھاکہ کا غم اپنے سینے میں محسوس کرتے ہیں۔ ایسے میں اس کتاب کے مطالعے کا سفر، آنکھوں کو آبدیدہ اور دل کو بوجھل کر دیتا ہے۔ ہر چند صفحات کے بعد الفاظ دھندلے پڑ جاتے ہیں اور آنکھوں کو صاف کرنے کی نوبت آ جاتی ہے۔ تاہم مصنف نےیہ کتاب بہت حوصلےسے لکھی ہےاور بہت ساری باتیں ہلکے پھلکے انداز میں پیش کی ہیں تاہم ایک درد مند دل ان واقعات کے پیچھے چھپے کرب اور درد کو بخوبی محسوس کر سکتا ہے۔
ہم جناب صدیق سالک صاحب کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے یہ کتاب لکھ کر ان واقعات و حالات کو محفوظ کر لیا جس کی وجہ سے آئندہ آنے والی نسلیں بھی ان سے آگاہ ہو سکیں گی اور یہ واقعات کسی اندھیرے کا شکار نہیں ہوں گے۔

کتاب کی تفصیلات یوں ہیں:

مصنف: صدیق سالک
صنف: آپ بیتی، یادداشتیں
صفحات:304
ناشر:سرسز بک کلب، جی ایچ کیو، راولپنڈی
سن اشاعت: 1974

آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے شکر گزار ہوں۔ ہمیشہ خوش رہیں۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s