Islam, Non-Fiction, Pakistani, Religion, Urdu

134- والی ساحل از حاجیانی صبا ٹوانہ ماروی

والی ساحل از حاجیانی صبا ٹوانہ ماروی
(سوانح حیات سیدنا حضرت عبداللہ شاہ غازی الاشتر رحمتہ اللہ علیہ)

(تعارف و تبصرہ)

Wali-e-Sahil by Saba Tawanaمصنفہ: حاجیانی صبا ٹوانہ ماروی
صنف: سوانح حیات
صفحات: 96
قیمت: 200 روپے
ناشر:سٹی بک پوائنٹ کراچی
سن اشاعت: 2017

والی ساحل کراچی کے مشہور مزار کے صاحب جناب عبداللہ شاہ غازی کی سوانح حیات ہے۔ یہ ایک مختصر کتاب ہے جو ہارڈ کور کے ساتھ شائع کی گئی ہے۔ کتاب کی مصنفہ حاجیانی صبا ٹوانہ صاحبہ کی یہ پہلی کتاب ہے جو ہمارے سامنے آئی ہے تاہم کتاب کے اختتام پہ دئے گئے تعارف کے مطابق یہ آپ کی پہلی تصنیف نہیں۔ آپ کا تعارف کچھ یوں پیش کیا گیا ہے۔

“حاجیانی صبا ٹوانہ ماروی یہ وہ نام ہے جس نے بیس سال کی عمر میں اپنی شاعری کی کتاب لکھ کر پاکستان میں کم عمر شاعرہ کا اعزاز حاصل کیا اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی، سابق وزیر اعظم پاکستان سید یوسف گیلانی سے پرائم منسٹر ٹیلنٹڈ ایوارڈ حاصل کیا۔ اور اب انہوں نے پاکستان میں اردو میں مناقب لکھنے والی پہلی خاتون کا اعزاز بھی اپنے نام کر لیا۔ اب تک حاجیانی صبا ٹوانہ ماروی کی بیشتر کتابیں شائع ہو کر عوام میں پذیرائی حاصل کر چکی ہیں۔“

مزار عبداللہ شاہ غازی کراچی شہر میں ساحل سمندر پہ واقع ہے۔ کراچی کو پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہونے کا اعزاز حاصل ہے جو بحیرہ عرب کے کنارے آباد ہے۔ اس شہر کا لیول سمندر کے لیول سے نیچا ہے جس کی وجہ سے اس کے زیر آب آنے کا خطرہ موجود ہے۔ تاہم کراچی شہر اللہ کے فضل سے نہ صرف محفوظ ہے بلکہ پھل پھول بھی رہا ہے۔ علاوہ ازیں گزشتہ دہائیوں میں جب سونامی طوفان سے دنیا کے کئی ساحلی علاقے اور شہر شدید تباہی سے دوچار ہوئے، شہر کراچی اللہ کے فضل سے بالکل محفوظ رہا، اور اس کا بال بھی باکا نہیں ہوا۔ یقیناً یہ اللہ پاک کی مہربانی، رحم اور عنائیت ہے جو ہر مشکل سے بچانے والی ہے۔ اور اس ذات اقدس کے نیک بندے ہیں جو پوری دنیا میں بھلائی اور نیکی پھیلانے میں مشغول ہیں۔ ایسے ہی ایک نیک بندے عبداللہ شاہ غازی ہیں۔ کراچی شہر کے محفوظ رہنے کو کئی لوگ آپ کے روحانی فیض کا کرشمہ قرار دیتے ہیں۔ جس کے باعث سمندر کا پانی ایک حد تک ٹھہرا ہوا ہے اور اس حد سے آگے بڑھ کے شہر میں داخل نہیں ہوتا۔ آپ کے مزار شریف کے ساحل پہ واقع ہونے کی وجہ سے ہی مصنفہ نے اس کتاب کا عنوان “والی ساحل“ رکھا ہے۔

کتاب کی ابتدا میں لکھے گئے حرف گفتنی میں مصنفہ کہتی ہیں،“اولیا کرام پہ کچھ تحریر کرنا کافی مشکل اور محنت طلب کام ہے۔ یہ میرے لئے بڑے اعزاز کی بات ہے کہ میں اولیائے کرام میں سے ایک ہستی پہ کچھ تحریر کر سکی جو سادات میں سے ہیں۔“
“سیدنا عبداللہ شاہ غازی الاشتر کا روضہ مبارک سرزمین سندھ میں سب سے قدیم تصور کیا جاتا ہے۔
تاریخ میں سیدنا عبداللہ شاہ غازی الاشتر پہ انتہا ئی اختصار سے لکھا ہوا ہے۔ اس سلسلے میں، میں نے مختلف کتابوں سے مواد اکھٹا کیا ہے اور وہ باتیں جو سینہ بہ سینہ چلی آ رہی ہیں تحریر کی ہیں۔ اس کتاب میں سیدنا عبداللہ شاہ غازی الاشتر کے حالات زندگی، ان کی دین اسلام کے فروغ کی اشاعت کے سلسلے میں کارنامے تحریر ہیں۔“

کتاب میں اسی سے زیادہ چھوٹی چھوٹی ہیڈنگز یا سرخیاں موجود ہیں جن کے تحت مصنفہ نے عبداللہ صاحب کی سوانح پیش کی ہے۔ کتاب کا آغاز آپ کے اسم گرامی سے ہوتا ہے۔ آپ کی کنیت، لقب، والد اور دادا کے نام پیش کئے گئے ہیں۔ آپ کا سلسلہ نسب بھی درج کیا گیا ہے جس کے مطابق آپ پانچویں پشت میں جا کے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے جا ملتے ہیں۔

مصنفہ نے قبیلہ قریش سے احوال کا آغاز کیا ہے اور ابو سفیان کے قبول اسلام کے واقعے کو پیش کیا ہے۔ اس کے بعد تسلسل سے اسلامی تاریخ میں پیش آنے والے اہم واقعات کا بیان ہے اور وہ تاریخی واقعات قلم بند کئے گئے ہیں جو حضرت عبداللہ کے سندھ میں آمد کا سبب بنے ہیں۔ مصنفہ کے مطابق آپ کی سندھ آمد کے سلسلے میں دو بیانات ملتے ہیں۔

“پہلابیان۔۔۔ آپ کے والد نے دعوت خلافت کے سلسلے میں بحیثیت نقیب آپ کو سندھ کی جانب روانہ کیا۔ آپ ایک تاجر کے روپ میں سندھ آئے۔“
“دوسرا بیان۔۔۔ آپ تبلیغ اسلام کے لئے سندھ مین تشریف لائے۔ کیونکہ آپ کو خلافت سے زیادہ اسلام کی تبلیغ عزیز تھی۔ جس کی خاطر آپ نے اپنے وطن کو خیر باد کہہ کر ہجرت کرکے بارہ سال تک سرزمین سندھ میں اسلام پھیلانے کے لئے تمام تر کوشش جاری رکھی۔“

عبداللہ شاہ غازی نے سندھ میں تبلیغ کا کام جاری رکھا تاہم خلافت عباسیہ نے آپ کو اپنے لئے ایک خطرہ سمجھا۔ سن 151 ہجری میں ایک خون ریز معرکے میں آپ کی شہادت ہوگئی۔ میت کی بےحرمتی کے خوف سے آپ کے مریدوں نے ایک دور دراز پہاڑی پہ آپ کو سپرد خا ک کر دیا۔ اس وقت آپ کی عمر ترپن سال تھی۔ آپ کی شہادت کے بارے میں مصنفہ نے مختلف بیانات پیش کئے ہیں تاہم ان کا کہنا ہے،
“یہاں ہم دثوق سے کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ تاریخ میں سید موصوف کے بارے میں انتہائی اختصار سے لکھا ہوا ہے۔“

کتاب کے اختتامی عنوانات میں مصنفہ نے شہر کراچی میں موجود آپ کے مزار اور آپ کی کرامات کا ذکر کیا ہے۔ آپ کے عرس اور دربار کی رسموں کا تذکرہ ہے۔ اختتام پہ کچھ مناقب بھی پیش کئے گئے ہیں۔

والی ساحل ایک معلوماتی کتاب ہے۔ جس میں مختلف موجود حوالوں کی مدد سے مصنفہ نے حضرت عبداللہ شاہ غازی کے حضرت علی سے شروع ہونے والے شجرہ نسب کے تحت آپ کے بزرگوں کو پیش آنے والے واقعات سے لے کر آپ کی سندھ آمد، سندھ آنے کے بعد کے حالات، آپ کی شہادت اور موجودہ دور میں آپ کے مزار اور اس کے فیوض قلم بند کئے گئے ہیں۔ کتاب کے آخر میں مصںفہ نے ان حوالہ جات کی فہرست بھی پیش کی ہے جن سے انہوں نے استفادہ کیا ہے۔

عبداللہ شاہ غازی کے بارے میں یہ پہلی کتاب ہے جو ہمارے سامنے آئی ہے تاہم یہ انتہائی مختصر ہے۔ ہم مصنفہ کی کوششوں کو خراج تحسین بہر حال پیش کرنا چاہتے ہیں کہ انہوں نے والی ساحل کے بارے میں موجود معلومات اکھٹی کرکے انہیں کتابی شکل میں محفوظ کر لیا، تاہم تشنگی کم ہونے کی بجائے مزید بڑھ گئی ہے۔ ہم اس سلسلے میں مصنفہ کی مشکل کو سمجھتے ہیں کہ اتنی قدیم معلومات حاصل کرنا بہت مشکل ہے۔ تاہم یہ ضرورت محسوس ہوتی ہےکہ اس موضوع پہ مزید کام کیا جائے۔ اور اگر قدیم معلومات موجود نہیں، تو کم از کم ان روایات اور باتوں کو جدید انداز سے مرتب کرنے کی ضرورت ہے جو آپ سے متعلق مشہور ہیں۔ اس کے باوجود ہم مصنفہ کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے اس موضوع پہ قلم اٹھایا اور گم گشتہ معلومات بہم پہنچائیں۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے شکرگزار ہوں۔


Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s