137-قائم دین از علی اکبر ناطق

قائم دین از علی اکبر ناطق

Qain Deen-Ali Akber Natiqمصنف: علی اکبر ناطق

صنف: افسانے، اردو ادب، پاکستانی ادب

صفحات: 106

قیمت: 325 روپے

ناشر: آکسفورڈ یونیورسٹی پریس

سن اشاعت: 2012

ISBN: 978-0-19-906288-1

علی اکبر ناطق موجودہ دور کے شاعر اور نثر نویس ہیں۔ آپ نے شاعری، افسانہ نویسی اور ناول نگاری کے شعبوں میں قلم آزمائی کی ہے۔ اپنے کام کی وجہ سے آپ ادبی دنیا کا ایک روشن ستارہ شمار کئے جاتے ہیں۔ ناطق بنیادی طور پہ ایک معمار ہیں تاہم آپ کا اردو اور عربی زبان کا مطالعہ بہت وسیع ہے۔ آپ کے لکھے افسانوں کی پہلی کتاب ہی آکسفورڈ یونیورسٹی پریس سے شائع ہوئی ہے۔ ایک بین الاقوامی ادارے سے آپ کی کتاب کا شائع ہونا بذات خود آپ کے کام کی اہمیت اور معیار کی نشاندہی ہے۔ کتابستان کا آج کا موضوع آپ کے افسانوں کی یہی کتاب ہے جس کا عنوان ہے “قائم دین”۔ اس کتاب کے علاوہ آپ کا لکھا ناول “نو لکھی کوٹھی” بھی پسندیدگی کی سند لینے میں کامیاب رہا ہے۔

ناطق کا تعلق پنجاب کے دیہی علاقے سے ہے اور یہی رنگ آپ کی تحریروں پہ چھایا ہوا ہے۔ آپ کے افسانوں میں پنجاب کے دیہاتوں کی زندگی کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ دیہاتیوں کی روزمرہ کی زندگی، ان کے معاملات، دلچسپیاں، کھیل وغیرہ کا بیان آپ کے افسانوں میں ملتا ہے۔ یہ افسانے حقیقت نگاری کی مثال ہیں۔ ان میں کوئی فرضی اور تخیلاتی فضا موجود نہیں ہے۔ کردار عام سے ہیں جن کے مشاغل مرغ لڑانا، کبوتر بازی کرنا، میلوں ٹھیلوں میں شرکت کرنا وغیرہ ہیں۔ ناطق کی دنیا بیرونی دنیا کی چکا چوند سے دور ہے، لوگوں کی بڑی بڑی خواہشات نہیں ہیں۔ مرد عورت کا جھگڑا نہیں ہے۔ مذہب اور مسلک کی جنگ نہیں ہے۔ بڑے بڑے فلسفے نہیں ہے۔ یہ عام آدمی کی دنیا ہے جو اپنی زمین سے جڑا ہوا ہے۔ اس کے باوجود آپ کے افسانوں میں ایک خاص حساسیت ہے جو افسانے کے اختتام پہ قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ مصنف کی طرف سے کردار کے حق میں ایک لفظ بھی بولے بغیر قاری پہ افسانے کی ترسیل مکمل ہو جاتی ہے اور وہ افسانوی کردار سے ہمدردی محسوس کرتا ہے۔

کتاب میں درج ذیل افسانے شامل ہیں:

شریکا، شاہ مدار کی پازیبیں، بےچارگی، قائم دین، تابوت، شہابو خلیفہ کا شک، جودھ پور کی حد، کمی بھائی، نرینہ اولاد، معمار کے ہاتھ، اچھو بازی گر، مومن والا کا سفر، والٹر کا دوست، شیدے نے پگڑی باندھی اور مولوی کی کرامت۔

کتاب کا سرورق عمدہ ہے۔ یہ کتاب میں شامل افسانے قائم دین کے آخری منظر کی تصویر کشی ہے۔ افسانہ شائقین یقیناً اس کتاب سے محظوظ ہوں گے۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے سرفراز اے شاہ کی کتاب “ کہے فقیر ” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

***************

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s