135- ایک دن کی بات از عکسی مفتی

ایک دن کی بات از عکسی مفتی

Aik din ki baat- Aksi Muftiمصنف: عکسی مفتی

صنف: جدید حکایات، اردو ادب، پاکستانی ادب، مضامین

سن اشاعت: 2013

صفحات: 200

قیمت: 500 روپے

ناشر: الفیصل ناشران، اردو بازار لاہور

عکسی مفتی، مشہور مصنف ممتاز مفتی صاحب کے صاحبزادے ہیں۔ تاہم یہ آپ کی پہچان کا واحد حوالہ نہیں۔ ایک مشہور و معروف والد کی اولاد ہونے کے باوجود عکسی صاحب نے اپنی پہچان خود بنائی ہے اور اس کی انفرادیت برقرار رکھی ہے تاہم والد سے لکھنے کے جراثیم آپ کو ضرور منتقل ہوئے ہیں۔ آپ کی ایک اہم پہچان لوک ورثہ سے آپ کی وابستگی ہے آپ لوک ورثہ کے ڈائریکٹر رہ چکے ہیں۔ اسلامی اور پاکستانی ثقافت کو دنیا بھر میں متعارف کروانے کے لئے آپ کا کردار قابل تعریف ہے۔ آپ فلسفے اور نفسیات کے ماہر ہیں۔ اپنے والد کی طرح عکسی مفتی بھی اپنی زمین سے جڑے ہوئے ہیں۔ آپ کی تحریروں میں اسلامی تہذیب و ثقافت کا حوالہ و ذکر بار بار ملتا ہے۔ آپ کے قلم سے “تلاش” جیسی کتاب نکل چکی ہے جس کا موضوع “اللہ: ماورا کا تعین” ہے۔ یہ وہی تلاش ہے جس کا ذکر ممتاز مفتی کی تحریروں میں نظر آتا ہے اور اسی تلاش کا ذکر عکسی مفتی کی تحریروں میں چھلکتا ہے۔

عکسی مفتی کی خوش نصیبی رہی ہے کہ آپ کو اپنی زندگی میں کئی قد آور شخصیات کی قریبی صحبت، ساتھ اور رہنمائی حاصل رہی ہے جن میں قدرت اللہ شہاب، اشفاق احمد، بانو قدسیہ اور خود آپ کے والد شامل ہیں۔ ان تمام سمجھدار افراد کی صحبت سے عکسی نے جو فیض حاصل کیا ہے وہ آپ کی تحریروں میں نظر آتا ہے۔ “ایک دن کی بات” میں کئی جگہ ان بزرگوں کا ذکر موجود ہے۔

کتابستان میں آج کا موضوع عکسی مفتی کی کتاب “ایک دن کی بات” ہے۔ یہ باقاعدہ تحریر شدہ کتاب نہیں ہے بلکہ آپ کی یادداشتوں اور تجربات کا وہ بیان ہے جنہیں آپ کی شاگردہ سحر سجاد صاحبہ نے محفوظ کر لیا اور بعد ازاں اسے کتابی شکل میں پیش کر دیا۔ اس کتاب کے بارے میں عکسی کا کہنا ہے:

“ہمارے صوفی بزرگوں، اولیائے کرام اور مشرقی مفکروں نے اپنی بات خوبصورت اور سادہ عام فہم حکایت کے لبادے میں بیان کی ہیں۔ علم کا سمندر کوزے میں سمیٹنے کا فن ان ہی شہواروں کی وراثت ہے۔

میرے دل میں بھی خواہش ضرور تھی کہ میں بھی کسی طرح جدید حکایت میں بات کر سکوں لیکن نہ تو میں صوفی ہوں نہ ولی اللہ۔ کہاں مجھ جیسا نا چیز نفسیات کا طالبعلم اور کہاں ہمارے بزرگان دین۔

بس زندگی کے یہ چھوٹے چھوٹے ادھورے واقعات ہیں جو پیش کرنے کی جسارت کی ہے۔”

اس کتاب کے بارے میں اسلامک یونیورسٹی کے اردو ڈیپارٹمنٹ کی ڈاکٹر نجیبہ عارف رقم طراز ہیں:

“عکسی مفتی نے اس کتاب میں مشرقی ادبیات کی روایت سے رشتہ جوڑا ہے اور یوں اردو ادب کو ایک نیا اور شیریں ذائقہ دیا ہے۔ ملفوظات اور حکایات کی یہ روایت جدید لب و لہجے اور آہنگ کے امتزاج سے ایک جداگانہ طرز کی بنیاد رکھتی ہے۔”

کتاب میں کل چوالیس مضامین یا حکایتیں پیش کی گئی ہیں جن کے عنوانات یوں ہیں:

آپ کا اسم گرامی، نام میں کیا دھرا ہے، گندے حوض میں چاند، راجہ بازار، عکسی یار، سزا اور جزا، جسمانی سرکس، بڑی بات کی معافی، کچھ گانٹھ سے دے، مفتی جی کی لسٹ، پہلا سبق، محمد طفیل، شاہراہ ریشم، گھوڑے کا پیشاب، پہلی نوکری ، چیکو سلواکیہ، کومنیز کیہو ہاسٹل، چارلس یونیورسٹی، قدرت اللہ شہاب، ون ڈش، انرجی فیلئیر، امریکی کوکیز، غریب پاکستان امیر پاکستان، ٹلہ جوگیاں، کولاہی کوہستان، اللہ والی کی قومی دکان، جشن آئین، منفی چکر، بڑے بوٹوں والے، الیون پی ایم، ہامون مشکیل، نہاں ہاتھ، جیمز مارٹن اسکول، بخارا کا پلاؤ، دستر خوان، کوٹ کا بٹن، ویرٹی، لاہوری بوفے، سندھی کھچڑ، لیڈی نون کا پمپل، غریب ملک، دوئی کا عذاب، الہ دین کا چراغ، ممتاز مفتی۔

عکسی مفتی کی عکسی حکایتیں یا مضامین کے لکھنے کا انداز ممتاز مفتی کے لکھنے کے انداز سے کافی مماثل ہے۔ ان تحریروں میں وہی عاجزی، بےساختگی، اور معصومیت نظر آتی ہے جو ممتاز مفتی کا خاصہ ہیں۔ اپنے کام کے دوران آپ کو کئی ممالک کی سیر کا موقع ملا۔ اس کتاب میں ایسے کئی دوروں کے احوال موجود ہیں۔ ان مضامین میں عکسی نے کئی ایسی باتیں لکھی ہیں جودل کو چھو جاتی ہیں۔
“پہلی نوکری” میں عکسی کہتے ہیں:

“زیادہ ذہانت، زیادہ اہمیت، زیادہ توجہ اور زیادہ کامیابی سے جس قدر مقبولیت اور داد ملتی ہے اس سے کہیں بڑھ کے دشمنی، حسد، جلن اور بےوجہ بغض کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ذہین ہونا کامیابی کی ضمانت نہیں، ذہانت کو معاشرے کی عمومی روایات میں چھپا کے رکھنا ہی بہتر ہے۔ اس سے بھی بہتر یہ ہے کہ عقل کو شفقت، دلی خلوص اور انسانی محبت کے تابع رکھا جائے ورنہ عقل ایک راکھشس ہے جو انسانیت کو کھا جاتی ہے۔”

“ون ڈش” میں عکسی کا کہنا ہے:

“بات ترجیحات کی ہے کہ ہم کس بات کو ترجیح دیتے ہیں۔ فوکس کس بات پہ ہے۔ بس یہی اہم ترین بات ہے۔ ذرا سا فوکس ہٹ جانے سے پوری زندگی متاثر ہو جاتی ہے۔ ساری بات ہی بدل جاتی ہے۔ نتائج بدل جاتے ہیں منزل بدل جاتی ہے، ساری بات ترجیحات کی ہے۔”

“چارلس یونیورسٹی” میں عکسی نے اپنے پی ایچ ڈی کے دور کا احوال بیان کیا ہے کہ کس طرح آپ تمام دن کمرہ بند کئے کتابوں کے مطالعے میں مشغول رہتے تھے۔ اس مضمون میں آپ نے ایک یہودی عبادگاہ یعنی سائناگوگ کے دورے کا قصہ بھی بیان کیا ہے۔ اس دورے میں آپ نے ایک جادو کی کتاب خریدی تھی۔ اس واقعے کو عکسی نے بنا کوئی نتیجہ نکالے جوں کا توں پیش کیا ہے۔ قارئین کی دلچسپی کے لئے اقتباس پیش خدمت ہے:

“اسی شام میرے کمرے کے دروازے پہ دستک ہوئی۔ جب دروازہ کھولا تو میرے سامنے ایک بلا کی حسین لڑکی کھڑی تھی۔ ایسا لگتا تھا اس کے چہرے سے روشنی چھن رہی ہو۔ بجلیاں برس رہی ہوں۔ میں اس کے حسن کو تکتا رہ گیا جیسے ہپناٹائز ہو گیا ہوں۔ اس نے غور سے مجھے دیکھا۔ دھیمی سی مسکراہٹ اس کے چہرے پہ آئی اور اپنی انگلی سے میرے نیم وا دروازے پہ کوئی عبارت تحریر کی اور چلی گئی۔ میں تکتا ہی رہا۔

اسی رات گہری شب کو ایک گرم پگھلے ہوئے شیشے جیسی طاقت بائیں ہاتھ کی انگشت شہادے سے میری دونوں آنکھوں کے درمیان جلتا ہوا، سلگتا ہوا باریک چھید کر گئی اور میرے جسم میں داخل ہو گئی۔

اس کے بعد روز کا معمول بن گیا وہی چیز سورج ڈھلتے مجھے قابو کر لیتی اور کئی طرح کی اذیت دیتی اور نازیبا حرکات کرواتی۔ میرا کوئی اختیار نہ ہوتا۔ بعض اوقات مجھے تمام شب سر کے بل کھڑا رکھتی اور صبح پو پھٹنے پہ مجھے نڈھال چھوڑ جاتی۔ شدید جاڑے کی رات برف باری میں مجھے کرتے شلوار میں ہاسٹل سے باہر نکال دیا جاتا۔ میں تمام رات شدید سردی میں پاگلوں کی طرح دو کھمبوں کے گرد گھومتا رہتا۔ صبح ہوتے ہی یہ پراسرار طاقت مجھے چھوڑ دیتی۔ یہ معمول کئی ہفتوں تک جاری رہا۔ میرا ذہن ماؤف ہو چکا تھا۔ میرا کام بند پڑا تھا۔ میرا شعور بیمار پڑ چکا تھا۔ میں پوری طرح بہک چکا تھا، فریب ذدہ تھا۔”

عکسی کے بقول ان کی یہ حالت یہودی عبادت گاہ کے دورے کے بعد والی رات سے شروع ہوئی۔ جن احباب کا الکھ نگری پڑھنے کا اتفاق ہوا ہوگا انہیں یقیناً یہ یاد ہوگا کہ اس میں قدرت اللہ شہاب پہ کئے گئے یہودی جادو کا ذکر موجود ہے۔ عکسی کی یہ حالت کسی یہودی جادو کی وجہ سے ہوئی یا اس کے پیچھے کیا وجہ تھی اس بارے میں انہوں نے کوئی تفصیلات نہیں پیش کیں، بس یہ واقعہ بیان کیا ہے اور یہ قاری کی صوابدید پہ چھوڑ دیا ہے کہ وہ اس سے کیا نتیجہ اخذ کرتا ہے۔

جن لوگوں کی ممتاز مفتی، قدرت اللہ شہاب، بانو قدسیہ، اشفاق احمد جیسے مصنفین کی تحریروں میں دلچپسی ہے انہیں یقیناً یہ کتاب بہت پسند آئے گی۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے نوال السعداوی کی کتاب “آخری مرد کی موت” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

***************

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s