126- نکلے تیری تلاش میں از مستنصر حسین تارڑ

نکلے تیری تلاش میں از مستنصر حسین تارڑ

Nikle Teri Talash Meinمصنف: مستنصر حسین تارڑ

صنف: سفر نامہ، اردو ادب

صفحات: 368

قیمت: 450 روپے

ناشر: سنگ میل پبلی کیشنز

ISBN-10: 969-35-0016-4

ISBN-13: 978-969-35-0016-5

مستنصر حسین تارڑ کا نام اردو ادب میں ایک الگ اور اہم مقام رکھتا ہے۔ آپ مشہور سفرنامہ نگار، ناول نگار، ڈرامہ رائٹر اور ٹی وی میزبان ہیں۔ ادب کی اتنی صنفوں سے تعلق اور ٹیلی ویژن سے وابستگی کی وجہ سے شائد ہی کوئی ایسا قاری ہو جو آپ کے نام سے واقف نہ ہو۔ کتابستان میں مصنف کے ناولوں پہ تفصیلی بات ہو چکی ہے آج ہم آپ کے سفرنامے “نکلے تیری تلاش میں” کو موضوع بنائیں گے۔ یہ مستنصر صاحب کا پہلا سفر نامہ ہے۔ اردو سفرنامہ نگاری میں آپ کے لکھے ہوئے سفرناموں کو ایک ممتاز حیثیت حاصل ہے۔ آپ کے سفرناموں میں ایک مخصوص رومانوی اور افسانوی فضا موجود ہوتی ہے جو انہیں نا صرف رپورتاژ بننے سے بچاتی ہے بلکہ قاری پوری توجہ کے ساتھ سفرنامے میں محو ہو جاتا ہے۔ سفرنامہ حال کے ساتھ ساتھ ماضی میں بھی سفر کرتا جاتا ہے اور قاری کو مقام کی صرف ظاہری سیاحت نہیں کراتا بلکہ اس مقام کی تاریخی اہمیت سے بھی روشناس کراتا ہے۔ ایسے میں مستنصر صاحب کا قلم سفرنامے پہ ایک ایسا فسوں بکھیر دیتا ہے جو قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے اور وہ ایک ان دیکھی جگہ کے رومان میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ مستنصر کے کم و بیش تمام سفرنامے ان تمام خصوصیات کے حامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ قارئین میں عام مقبول ہیں اور ایک طویل عرصے کے بعد بھی پڑھے جا رہے ہیں۔

“نکلے تیری تلاش میں” مستنصر صاحب کے یورپ کے دورے کا احوال ہے۔ اس سفر کی خاص بات یہ ہے کہ یہ سفر انہوں نے ہوائی جہاز کے ذریعے سے طے نہیں کیا بلکہ زمینی رستہ اختیار کیا۔ بقول مصنف:

” جہاز کا سفر زمین سے تمام ناطے منقطع کر دیتا ہے اور مجھے یہ جدائی پسند نہیں تھی۔ میں نے سوچا، میں دوبارہ واپس آؤں گا لیکن شیشے اور ایلومینیم کے ساختہ اڑن کھٹولے میں قید ہو کے نہیں بلکہ دھرتی کے سینے کے ساتھ لگ کر تاکہ مجھے وسعتوں اور فاصلوں کا احساس ہو، صرف خلاؤں کا نہیں۔”

اس سفر کا آغاز کابل کی طرف روانگی سے ہوا جو بذریعہ بس طے کیا گیا۔ کابل، افغانستان کی تاریخ، افغانیوں کے طور طریقے سب ہی مستنصر کی نگاہ سے دیکھنے میں جادو اثر معلوم ہوتے ہیں۔ افغانستان کے بعد اگلا پڑاؤ ایران کا تھا۔ مصنف نے ایران کی سیاحت کے دوران وہاں موجود زیارتوں کی عمدہ منظر کشی کی ہے۔ ایران کے بعد اگلی منزل استنبول تھی سفر بذریعہ ریل طے کیا گیا۔ جہاں رستے میں کوہ آرارات کا سحر انگیز پہاڑ بھی مصنف کی نظروں سے گزرا۔ یہ وہی پہاڑ ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہاں حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی آ کے ٹھہری تھی۔ قاری مصنف کی نظر سے کوہ آرارات دیکھ کے آگے بڑھتا ہے اور بازنطائن، قسطنطیہ اور استنبول کی سیر کو نکل جاتا ہے۔ حال ہی میں ترک ڈراموں کے اردو ورژنوں کی وجہ سے آج قارئین ترکی کے شہروں کے بارے میں بخوبی جانتے ہیں۔ ترک تاریخ کے ایک اہم حصے کو میرا سلطان نامی ترک ڈرامے میں دکھایا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے سفر نامے میں موجود ترکی کی سیاحت پہ مبنی حصہ قاری کی خصوصی دلچپسی حاصل کر لیتا ہے۔ ترکی کا سفرنامہ ایک انجان دیس کی بجائے ایک جانی پہچانی جگہ کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ مسلم تاریخ کے گمشدہ اوراق سے نکال کے لائے ہوئے اقتباسات قاری کی روح کو گرما دیتے ہیں۔

ترکی سے آگے یورپ کا سفر جاری و ساری رہتا ہے۔ پیرس، کوپن ہیگن، فرینکفرٹ، سٹاک ہوم سے ہوتے ہوئے سفر کی آخری منزل لندن کا شہر ہے۔ ان تمام شہروں کی سیر مستنصر نے اپنے مخصوص انداز میں پیش کی ہے جس کے اہم اجزاء ہیں ان کا سفری خیمہ، کسی راہ چلتی گاڑی سے لفٹ، اور کسی انگریز حسینہ کا ان پہ فریفتہ ہو جانا۔

اس سفرنامے کا ایک باب “اپاہج وینس” کے عنوان سے ہے۔ یہ باب ایک علیحدہ ناول کی صورت میں بھی موجود ہے، ہمیں امید ہے کہ بہت سے قارئین اس کو پہچان گئے ہوں گے، جی ہاں مستنصر صاحب کا لکھا ہوا مقبول ترین ناول “پیار کا پہلا شہر” بھی اس کتاب کے ایک باب کی صورت میں موجود ہے۔

سفرناموں میں دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لئے یقیناً یہ کتاب دلچسپی کی حامل ہے۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے پال کیرس کی کتاب “شیطان کی تاریخ ” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

The History of the Devil and the Idea of Evil by Paul Carus

***************

مستنصر حسین تارڑ کے قلم سے مزید

پیار کا پہلا شہر از مستنصر حسین تارڑ

جپسی از مستنصر حسین تارڑ

بہاؤ از مستنصر حسین تارڑ

Advertisements

One thought on “126- نکلے تیری تلاش میں از مستنصر حسین تارڑ”

  1. موصوف نے صفحہ نمبر 50 پر جو لکھا ہے یہ اس کا جواب ہے۔

    اول تو انہیں بہت بڑا مغالطہ ہوا ہے… کیونکہ امام کے قدموں میں مامون کی نہیں ہارون کی قبر ہے…. اور پھر یہ تو چاہتا تھا کہ امام کو ہارون کے پیروں میں دفن کرے مگر اس طرف زمین کھودنے پر چٹانی پتھر نکل آیا اور مجبورا امام کو ہارون کے سرہانے دفن کیا گیا…. اور اول تو اس بات کے کیا شواہد ہیں کہ یہ قبہ مامون نے امام کی محبت میں بنوایا…. ؟ دوم اگر اس نے بنوایا بھی تب بھی کیونکہ اس میں پہلے سے اس کا باپ دفن تھا اس لیے بنایا نہ کہ امام کے لیے…
    اور یہ جو کہا کہ زائرین اس کی قبر پر تھوکتے ہیں تو میں یہی کہوں گا کہ یہ جملہ لکھتے وقت تارڑ صاحب کی عقل تھوک سے آٹا گوند رہی تھی…. کوئی ایک شخص ایسا دکھا دیجیے جو حرم امام میں ایسی بے آدبی کرے… کئوں کو تو معلوم بھی نہیں کہ یہاں بھی وہی حساب ہے کہ ایک رحمت اللہ کے پہلو میں کوئی لعنت اللہ گڑا ہوا ہے…. اور ان صاحب کو سب کچھ تو یاد رہا ولی عہد بنانا ، وغیرہ وغیرہ… میں سوال کرتا ہوں یہ کون سی محبت تھی کہ میلوں دور سے اٹھا کر اپنے پاس بلوا لیا اور گھر والوں سے دور کر دیا جبکہ خود اپنے خانوادہ کے ساتھ رہتا رہا… اور مجھے تو تاریخ میں یہ نہیں ملا کہ مامون کی کسی بیٹی کی شادی امام رضا سے ہوئی ہو…. بلکہ امام تقی کی شادی ام الفضل بنت مامون سے ہوئی تھی اس شخص کو یہی نہیں معلوم کہ اصل کس کی شادی کس سے ہوئی تھی…
    اور یہ جو بچپن کی دوستی کا انوکھا راگ الاپا ہے اسے نہیں معلوم کس تان پر چڑھا کر ڈھالا گیا ہے…. مامون ساری زندگی بغداد میں رہا امام مدینے میں… لیکن پھر بھی بچپن کی دوستی…. اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی….

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s