124-رقصِ جنوں (جزام) از بشریٰ سعید

رقصِ جنوں (جزام) از بشریٰ سعید

Raqs-e-junoon-by-bushra-saeedمصنفہ: بشریٰ سعید

صنف: ناول، پاکستانی ادب

صفحات: 182

ناشر: القریش پبلی کیشنز، لاہور

بشریٰ سعید صاحبہ کی تحاریر کی خاص بات ان کی منفرد اور گہری سوچ ہے۔ آپ معاملات کو ظاہری انداز سے نہیں دیکھتیں بلکہ ان کے اندر اتر کے ان کی اصلیت ڈھونڈ کے لاتی ہیں اور اس کے لئے چاہے پاتال میں ہی کیوں نہ جانا پڑے۔ یہی گہرا پن آپ کی تحریروں کو ان کا منفرد روپ دیتا ہے۔ آپ کے ناول ڈائجسٹ میں چھپنے کے باوجود معنویت کا پہلو لئے ہوتے ہیں۔ آپ کی سوچ کا انداز کہیں کہیں عمیرا احمد صاحبہ کی سوچ سے جا ٹکراتا ہے ایسا شاید مذہب کو موضوع بنانے کی وجہ سے محسوس ہوتا ہے۔

رقصِ جنوں، جاثیہ کی کہانی ہے۔ ناول کا آغاز ایک پجارن کے قصے سے ہوتا ہے جو اپنے دیوتا کو منانے کے لئے دیوانہ وار رقص کر رہی تھی۔ اسی رقص کی بنیاد پہ ناول کا عنوان رکھا گیا ہے۔ پجارن کے رقص کی وجہ سے دیوتا اپنے سنگھاسن سے اتر آیا، اور جب وہ نیچے اترا تو پجارن کو معلوم ہوا کہ وہ ایک عام انسان ہے اور انسانوں سے تو خوف کھاتے ہیں۔ ناول میں مصنفہ نے جاثیہ کی مماثلت اسی پجارن سے کی ہے۔ جاثیہ ایک بیوہ استانی کی بیٹی ہے۔ اس کی ماں نے اس کی تربیت نیک خطوط پہ کی تھی۔ لیکن جب اونیل، جاثیہ کے سامنے آٰیا تو وہ سب کچھ بھول گئی یہاں تک کہ یہ بھی کہ اس کے مذہب میں غیر مسلم مرد سے شادی کرنا ممنوع ہے۔ اونیل ایک یہودی شخص تھا جو پاکستان کے شہر اوکاڑہ میں ایک ہوٹل کی تعمیر کروا رہا تھا۔ اونیل کا خاندان جرمنی میں آباد تھا۔ اونیل نے جاثیہ سے کہا کہ وہ اس کی محبت پانے کی خاطر اپنا مذہب تبدیل کر لے گا۔ جاثیہ کی والدہ نے اپنی بیٹی کو اس بات کی اجازت نہیں دی اور نتیجتاً جاثیہ اپنا گھر چھوڑ کے بھاگ گئی۔

کہانی کا ایک اور کردار ایک کوڑھ زدہ بوڑھی عورت کا ہے جو کہانی کے دوران جاثیہ کو وقتاً فوقتاً ملتی رہتی تھی۔ جاثیہ اس عورت سے گھن کھاتی تھی اور اسے دیکھ کے خوف محسوس کرتی تھی لیکن وہ عورت جاثیہ کو خبردار کرتی رہتی تھی۔ اس کوڑھ زدہ بوڑھی عورت کی مماثلت عمیرا احمد کے ناول شہرِ ذات کے ایک کردار سے ملتی ہے اور ان دونوں کرداروں کے تانے بانے قدرت اللہ شہاب صاحب کی تصنیف شہاب نامہ میں بیان کئے گئے اس واقعے سے ملتے ہیں جس کے مطابق شہاب صاحب کی ملاقات ایک غریب پھل فروش سے ہوئی تھی اور وہ اس کی ریڑھی پہ رکھے سارے گلے سڑے پھل خرید لیتے ہیں۔

اونیل نے جاثیہ سے شادی کر لی، انہوں نے شہر چھوڑ دیا اور اوکاڑہ آ گئے۔ یہاں جاثیہ نے اپنی مسلمان ہونے کی شناخت چھوڑ دی اور اونیل کے مشورے پہ ایک عیسائی نام سے مقامی کالج میں داخلہ لے لیا۔ اونیل کے کزن کی حیثیت سے اس کی شناخت ہوگئی اور لوگوں نے اسے عیسائی سمجھنا شروع کر دیا۔ جاثیہ یہ سمجھتی رہی کہ اونیل مسلمان ہو چکا ہے لیکن اپنے ہوٹل پراجیکٹ کی وجہ سے وہ اس بات کا اعلان نہیں کر رہا، لیکن حقیقت یہ نہیں تھی، اونیل نے جھوٹ در جھوٹ کا ایک جال بچھایا تھا اور جاثیہ اس میں پھنستی چلی گئی تھی۔ یہ حقیقت معلوم ہونے پہ جاثیہ کو اپنا آپ کوڑھ زدہ محسوس ہوا۔ اس نے ایک پجارن کی طرح اپنے دیوتا کو منانے کے لئے ہر جتن کیا تھا لیکن جب دیوتا اپنے سنگھاسن سے اترا تو ایک عام آدمی ہی نکلا۔

ناول کا دوسرا اہم کردار یعنی اونیل، ایک مسٹری کی طرح ہے۔ اس کردار کے بارے میں مصنفہ نے زیادہ تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ صرف وہی باتیں پیش کی گئی ہیں جو کہانی کی ضرورت تھیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اگر دیوتا کے طور پہ اگر کسی غیر ملکی کردار کی بجائے کوئی روایتی وڈیرہ، جاگیردار یا بگڑا ہوا امیر زادہ بھی ہوتا تو کہانی کے خیال پہ کوئی فرق نہیں پڑتا۔ محبت کسی پاکستانی عیسائی سے بھی ہو سکتی تھی۔ یہاں ایسا بیان کرنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ اونیل کے متعلق پیش کی گئی وضاحتیں اس کے کردار کے حساب سے پوری اترتی محسوس نہیں ہوتیں، جیسے اونیل کا پورا پاکستان چھوڑ کے اوکاڑہ جیسے دور دراز علاقے میں ہوٹل کھولنا بہت ناقابل یقین محسوس ہوتا ہے۔ اگر اونیل کسی جاسوسی مشن پہ تھا، تو مصنفہ کا قلم اس بارے میں خاموش ہے۔ اسی طرح ایک غیر ملک میں ایک لڑکی کے تھپڑ پہ ریپ جیسے واقعے میں ملوث ہوجانا بھی عجیب محسوس ہوتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کردار کے بارے میں مصنفہ کا ہوم ورک مکمل نہیں تھا۔ پاپولر فکشن کے مصنفین بھی اب بہت تحقیق کرکے اپنے کردار اور کہانیاں تخلیق کرتے ہیں۔ ایسے مصنفین میں ایک اہم مصنف ڈین براؤن ہیں، جن کی کتب پہ کتابستان میں بات کی جا چکی ہے۔ لیکن پاکستانی مصنفین میں ابھی اس کی روایت نہیں پڑ سکی۔

جاثیہ کی کہانی بہت تکلیف دہ ہے۔ مصنفہ نے اس کے کردار کو عمدگی سے پیش کیا ہے۔ ناول کا موضوع اتنا منفرد ہے کہ یہ قاری کی توجہ اپنی جانب کھینچے رکھتا ہے اور انجام پہ اسے اداس کر دیتا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ مستقبل میں مصنفہ اپنے ناولوں کے سیکنڈری کرداروں پہ بھی اتنی ہی توجہ دیں گی جتنا کہ مرکزی کردار پہ۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے جیورجیٹ ہیر کی کتاب “ریجن سی بک* ” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

Regency buck by Georgette Heyer

***************

بشریٰ سعید کے قلم سے مزید

سفال گر از بشریٰ سعید

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s