123-The Man-eaters of Tsavo by John Henry Patterson

The Man-eaters of Tsavo by John Henry Patterson

تساوو کے آدم خور از جے۔ ایچ پیٹر سن

The man eaters of tsavoمصنف: جے۔ ایچ۔ پیٹر سن (جان ہنری پیٹر سن)

ترجم: تساوو کے آدم خور

مترجم: سید علاؤ الدین

صنف: نان فکشن، شکاریات

سن اشاعت: 1907

صفحات: 119

کتابستان میں شکاریات کے موضوع پہ آج سے پہلے ایک ہی کتاب پیش کی گئی ہے۔ یہ تبصرہ کتابستان کے ابتدائی دنوں میں پیش کیا گیا تھا اور یہ اس بلاگ پہ سب سے زیادہ پڑھی اور تلاش کی جانے والی کتابوں میں شامل ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قارئین شکاریات کے موضوع پہ کتابیں پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ہمارے لئے خوشی کا موقع ہے کہ ہم آج ایسے ہی قارئین کے لئے شکاریات کے موضوع پہ لکھی گئی کتاب پیش کر رہے ہیں۔ یہ کتاب انگریز مصنف جے ایچ پیٹر سن کے قلم سے نکلی ہوئی ہے اور سن 1907 میں پہلی بار شائع کی گئی۔ اس کتاب نے اپنے وقت میں ناصرف عوامی پسندیدگی حاصل کی بلکہ امریکی صدر روز ویلٹ اور برطانوی وزیراعظم سالسبری کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ اردو زبان کے قارئین کے لئے اس کتاب کا ترجمہ سید علاؤالدین صاحب نے تساوو کے آدم خور کے عنوان سے کیا ہے۔

تساوو کے آدم خور، مصنف جے ایچ پیٹر سن کی ذاتی زندگی سے لئے گئے ان واقعات پہ مبنی ہے جن کا انہیں اپنے تساوو میں قیام کے دوران واسطہ پڑا۔ تساوو، موجودہ افریقی ملک کینیا کا ایک شہر تھا جہاں مصنف ایک ریلوے لائن اور پل کی تعمیر کی نگرانی کے لئے مقرر کئے گئے تھے۔ آج سے سو سال قبل یہ علاقہ تہذیب و تمدن کے نام سے بھی ناآشنا تھا۔ کسی قسم کی انسانی ترقی کے آثار نہیں تھے بلکہ اس علاقے میں ریلوے کی آمد ہی انسانی تمدن کے وہاں پہنچنے کے لئے اٹھایا جانے والا پہلا قدم تھا۔یہ تمام علاقہ جنگل پہ مشتمل تھا جہاں جنگلی جانوروں کی بہتات تھی اور مقامی آبادی جنگلی قبائل پہ مبنی تھی جو بہت پسماندہ تھی۔ مصنف اور اس کے تین ہزار سے زائد کے معاون عملے کے رہنے کے لئے اس علاقے میں کوئی انتظام نہ تھا۔ ان کے رہنے کا انتظام خیمے بنا کے کیا گیا تھا۔ لیکن یہ انتظام ناکافی ثابت ہوا جلد ہی اس علاقے میں آدم خور شیر کی وجہ سے بے اطمینانی اور تشویش پھیل گئی۔ یہ شیر اتنا دلیر اور بےباک تھا کہ خیموں میں گھس کے مزدوروں کو اٹھا کے لے جاتا تھا۔ آئے دن ایسی خبریں سننے میں آ رہی تھیں۔ اس شیر کو روکنے کے لئے کئی طریقے کئے گئے۔ خیموں کے گرد باڑ کھڑی گئی، آگ لگائی گئی لیکن یہ آدم خوروں کو روکنے کے لئے ناکافی رہے۔ مزدوروں میں یہ بات پھیلنے لگی کہ یہ آدم خور شیر دراصل بدروحیں ہیں اسی لئے انہیں مارنے کی کوششیں ناکام ہو رہی ہیں اور یہ انسانوں کو شکار کرنے میں کامیاب ہو رہی ہیں۔

مصنف نے اپنی کتاب میں تذکرہ کیا ہے کہ ان حالات میں انہیں ناصرف شیروں کی وجہ سے مشکلات کا سامنا تھا بلکہ ان کے مزدور بھی کام کرنے سے انکاری تھے جس کی وجہ ریلوے لائن، جس کو بچھانے کے لئے انہیں اس علاقے میں تعینات کیا گیا تھا، کا کام تعطل کا شکار ہو رہا تھا۔ مزدور ان کی جان کے بھی دشمن ہو رہے تھے اور ان پہ قاتلانہ حملے کرنے کی پلاننگ ہونے لگی۔ ایسے میں مصنف نے تہیہ کیا کہ جو بھی ہو انہیں اس آدم خور شیر کا شکار کرنا ہے تاکہ وہ اپنے کام کو سکون سے آگے بڑھا سکیں اور جو توہم پرستی ان کے مزدوروں میں پھیل رہی ہے اس کا قلع قمع ہو سکے۔ تاہم ابتدائی کئی کوششوں میں انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم ایک رات جب وہ مچان لگائے اکیلے شیر کے منتظر تھے انہیں اپنے مقصد میں کامیابی حاصل ہوئی اور وہ اس آدم خور شیر کو شکار کرنے میں کامیاب رہے۔ اس شیر کی تصویر بھی مصنف نے اپنی کتاب میں شامل کی ہے۔ یہ ایک بڑا اور مضبوط جانور تھا اور اس کی لمبائی نو فٹ آٹھ انچ تھی۔ اس شیر کے شکار کے بعد مصنف مقامی علاقوں میں مقبول ہو گئے جنہوں نے انہیں اس عفریت سے نجات دلائی تھی۔ تاہم یہ ان کا پہلا اور آخری شکار نہیں تھا۔ اس علاقے میں شیروں کی بہتات تھی اور مصنف نے مزید کئی شیروں کے شکار کئے۔

کتاب میں ناصرف مصنف کے ہاتھوں شکاری ہونے والے آدم خور شیروں کے شکار کی کہانیاں شامل بلکہ دیگر جنگلی جانور جیسے گینڈے، ہاتھی، دریائی گھوڑے جیسے جانوروں کے مصنف سے ہونے والے سامنے کے احوال بھی شامل ہیں۔ مصنف نے ناصرف افریقہ کے اس علاقے میں رہنے والے جنگلی جانوروں کے بارے میں بیان کیا ہے بلکہ اس علاقے کے جنگلی قبائل کے بارے میں بھی معلومات پیش کی ہیں۔ پل کی تکمیل کے بعد جب مصنف وطن واپس جانے لگے تو ان کے حسن سلوک سے متاثر ہوکے ان کے مزدور اور علاقے کے دیگر لوگ بھی ان کے ساتھ جانا چاہتے تھے لیکن ایسا ممکن نہ تھا اس لئے مصنف نے ان سے معذرت کر لی۔

ہمیں امید ہے کہ شکاریات کے شوقین قارئین کو یہ کتاب پسند آئے گی۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتےبشریٰ سعید کی کتاب “رقصِ جنوں (جزام) ” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s