122-انسانی قیامت از علیم الحق حقی

انسانی قیامت از علیم الحق حقی

insani-qayamat_Aleem-ul-Haq_Haqqiمصنف: علیم الحق حقی

صنف: ناول، پاکستانی ادب

صفحات: 188

ناشر: علی میاں پبلی کیشنز، لاہور

سن اشاعت: 1998

پاکستان میں پاپولر فکشن لکھنے والے مصنفین میں غیر ملکی ناولوں کے تراجم کرنے کا رجحان کافی رہا ہے۔ عموماً یہ ترجمے لفظی یا بامحاورہ نہیں ہوتے بلکہ مصنفین کہانی کی فضا اور کرداروں کو مقامی یعنی پاکستانی ماحول کے مطابق ڈھال کے پیش کرتے ہیں تاہم کہانی کا اصلی متن وہی رہتا ہے۔ یہاں تک بات ٹھیک رہتی ہے لیکن ہمارے زیادہ تر مصنفین ان ناولوں کو اپنے ناموں سے پیش کرتے ہیں۔ ان ناولوں کو کہاں سے اخذ کیا گیا، ان کی انسپیریشن کس ناول سے لی گئی، اس بارے میں مصنف خاموش رہتے ہیں۔ ایسے ناول عوام میں انہی مصنفین (مترجمین) کے ناموں سے مشہور ہو جاتے ہیں اور ان کے اصل مصنف اور اصلی کتاب کا نام کم ہی سامنے آ پاتا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ فعل مناسب نہیں، اس ضمن میں جتنی غلطی مصنف کی ہے اتنی ہی ناشر کی بھی ہے۔ ایک ناشر کو چاہئے کہ وہ مترجم کو اس بات کی تحریک دے کہ وہ ناول کے اصل مصنف کا بھی ذکر کرے اور اس ناول کا بھی ذکر کرے جس سے کہانی اٹھائی گئی ہے۔ کتابستان میں ہماری کوشش رہتی ہے کہ ہم تراجم کے ساتھ اصل ناول اور مصنف کا حوالہ بھی دیں تاکہ حقائق درست رہیں، تاہم چند موقعے ایسے بھی رہے ہیں جب ہم اپنی کم علمی کے باعث اصل کتاب نہیں ڈھونڈ سکے۔ حقی صاحب کا موجودہ ناول بھی ایک ایسا ہی ناول ہے جس کے اصل مصنف کا انہوں نے ذکر نہیں کیا۔ تاہم اپنے قارئین کے لئے ہم یہ بتاتے چلیں کہ یہ امریکی مصنف گورے وڈال کے ناول “کالکی” سے ماخوذ ہے۔ انسانی قیامت، علیم الحق حقی صاحب کی تصنیف ہے۔ حقی صاحب کی تصنیفات پہ پہلے بھی بات ہو چکی ہے۔ اس ناول کی بنیاد ہندو مذہب کے ایک عقیدے کے گرد گھومتی ہے جس کے مطابق دنیا کے اختتام پہ سفید گھوڑے پہ کالکی اوتار کی آمد ہوگی جو بھگوان وشنو کا آخری اوتار ہوگا۔ اس اوتار کی آمد کے بعد دنیا کا خاتمہ ہو جائے گا۔

موجودہ ناول انسانی قیامت، کالکی اوتار ہونے کے دعوے دار ایک شخص کی کہانی ہے جو ایک امریکی پائلٹ خاتون تھیوڈور اوٹنگز کی زبانی پیش کی گئی ہے۔ تھیوڈور اوٹنگز کو ایک ایسے شخص کے انٹرویو کی ذمہ داری دی جاتی ہے جس نے کالکی ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ کالکی ہندوستان میں ایک آشرم چلا رہا تھا۔ اس کے چیلے مختلف لوگوں میں کنول کے پھول تقسیم کیا کرتے تھے اور وہ کسی سے کسی قسم کی مالی امداد نہیں لیا کرتے تھے اسی وجہ سے کالکی کئی لوگوں کی نظروں میں آ رہا تھا، لوگوں کا خیال تھا کہ اس کی مالی امداد منشیات سے وابستہ گروہ کر رہے ہیں۔ کچھ لوگ کالکی کے بارے میں مشکوک تھے اور ان کا خیال تھا کہ “کوئی طاقت مغربی دنیا کو سرنگوں کرنا چاہتی ہے۔ اس کی سب سے سادہ اور آسان ترکیب یہ ہے کہ مغرب کی نئی نسل کو نشے کی لت ڈال دی جائے۔ انہیں ایک ایسے مذہب سے روشناس کرایا جائے جو یہ بتائے کہ دنیا کا خاتمہ قریب ہے۔ ایسے مایوس اور نشے کے عادی لوگ لڑ سکتے ہیں کبھی، وہ تو جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی ہار جائیں گے۔”

ایسے میں تھیوڈور اوٹنگز، کالکی کے انٹرویو کے لئے ہندوستان پہنچ جاتی ہے، وہاں اس کی ملاقات کالکی کی بیوی سے ہوتی ہے، جو اپنے شوہر کے کالکی اوتار ہونے پہ مکمل یقین رکھتی تھی۔ اوٹنگز کو کالکی کا جہاز اڑانے کی ملازمت دے دی گئی، جس پہ وہ حیران تو ہوئی لیکن اس نے یہ ملازمت قبول کر لی۔ دوسری طرف کالکی کے چیلے کنول کے پھول دنیا بھر میں اس پیغام کے ساتھ تقسیم کر رہے تھے کہ دنیا ختم ہونے والی ہے، اپنے آپ کو پاک کر لیں۔ تاہم دنیا کا خاتمہ کس تاریخ کو ہونے والا تھا اور ایسا کس طرح ممکن ہونے والا تھا، اس بارے میں وہ کوئی معلومات فراہم نہیں کر رہے تھے، خود اوٹنگز بھی اس بارے میں ناواقف تھی۔ کالکی کے بیان کے بارے میں دنیا شک و شبہات میں مبتلا تھی، اور پھر کالکی نے دنیا کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔ اس اعلان کا کیا نتیجہ نکلا، آیا دنیا تباہ ہوئی یا نہیں، اس بارے میں جاننے کے لئے ناول کا مطالعہ بہتر رہے گا۔

علیم الحق حقی نے ایک بار پھر ایک مشکل موضوع پہ سلیس انداز میں ناول لکھا ہے جس کا سسپنس قاری کو صفحے پلٹنے پہ مجبور کر دیتا ہے اور وہ مکمل کہانی پڑھے بغیر کتاب چھوڑ نہیں سکتا۔ کالکی اوتار کا کردار قاری کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ قاری بڑی بےچینی سے کہانی مکمل کرتا ہے تاکہ کالکی کی اصلیت جان سکے اور یہ جان سکے کہ آیا وہ انسانی قیامت بپا کرنے میں کامیاب رہا یا نہیں۔ اور یہ بھی کہ آیا وہ واقعی وشنو کا آخری اوتار تھا یا پھر ایک فراڈ شخص۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے جان ہنری پیٹر سن کی کتاب “دی مین ایٹرز آف تساوو * ” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

The Man-eaters of Tsavo by John Henry Patterson *

***************

علیم الحق حقی کے قلم سے مزید

کان کن از علیم الحق حقی

دجال از علیم الحق حقی

چوتھی سمت از علیم الحق حقی

Advertisements

2 thoughts on “122-انسانی قیامت از علیم الحق حقی”

  1. میں علیم الحق حقی کے انتخاب کا ہمیشہ سے معترف رہا ہوں۔ اُنھوں نے انگریزی ادب سے کئی شاہکار اور تجسس سے بھرپور دلچسپ کہانیاں اردو میں ایسے ڈھالی ہیں کہ وہ اردو زبان ہی میں لکھی گئی لگتی ہیں۔ تاہم، حقیقی مصنف کا نام نہ دینے کی روایت نے مجھے بھی خاصا تنگ کیے رکھا اور میں نے بڑی مشکلوں سے اس کا اصل ناول ڈھونڈ نکالا تھا۔ سنسنی اور ہیجان خیزی سے بھرپور اس ناول کو پڑھنا شروع کرنے کے بعد اختتام کرکے ہی سکون ملتا ہے۔ اس پر میرا تبصرہ درج ذیل ربط پر ہے:
    http://ibneziablog.blogspot.com/2014/05/review-insani-qayamat.html

    Like

  2. بہت خوب جناب۔ آپ بھی کتاب دوست معلوم ہوتے ہیں۔ حقی صاحب کے کام کے ہم سب فین ہیں۔ آپ کا تبصرہ عمدہ ہے۔ امید ہے آپ اپنے مطالعے سے مزید کتب بھی پیش کریں گے۔ تشریف آوری کا شکریہ۔

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s