120-اداس نسلیں از عبداللہ حسین

اداس نسلیں از عبداللہ حسین

Uddas Naslainمصنف: عبداللہ حسین

صنف: ناول، پاکستانی ادب

صفحات: 512

سن اشاعت:

قیمت: 750 روپے

ناشر: سنگ میل پبلی کیشنز

ISBN-10: 969-35-0073-3
ISBN-13: 978-969-35-0073-8

عبداللہ حسین صاحب اردو ادب کے جانے مانے اور مشہور مصنف ہیں۔ آپ کی تصنیف “اداس نسلیں” اردو زبان کے شاہکار ناول کا درجہ رکھتی ہے۔ اداس نسلیں، آگ کا دریا کے بعد اردو زبان کا دوسرا بڑا شاہکار ناول تصور کیا جاتا ہے۔ اس ناول کا اسلوب، بیان، کردار سازی، منظر نگاری، غرض ہر پہلو پہ نقاد بحث کر چکے ہیں اور یہ ناول متفقہ طور پہ پسندیدگی کی سند حاصل کر چکا ہے۔ اس لئے اس ناول کے محاسن پہ بات کرنے کی یہاں ضرورت نہیں ہے۔ تاہم ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ اپنے قارئین کو اس ناول سے متعارف کروائیں جس نے اردو دنیا میں بےپناہ مقبولیت حاصل کی ہے۔

ناول کی کہانی کا آغاز اس وقت سے ہوتا ہے جب برصغیر پہ انگریز راج تھا اور برٹش انڈیا کہلاتا تھا۔ ناول کے ابتدا میں روشن پور نامی ایک گاؤں کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ اس گاؤں کا نام نواب روشن علی خان کے نام پہ رکھا گیا تھا۔ روشن علی خان صاحب خاندانی نواب نہیں تھے۔ ایک انگریز کو بلوائیوں سے بچانے کے انعام کے طور پہ انہیں روشن خان کی جاگیر دی گئی تھی۔ اس طرح اس گاؤں کا نام روشن پور پڑ گیا۔ اس گاؤں کا کہانی سے گہرا تعلق ہے۔ ناول کے مرکزی کردار نعیم کا تعلق اسی گاؤں سے تھا۔

نعیم کے والد کو بچپن میں آتشین ہتھیار بنانے کے جرم میں سزا ہو گئی تھی۔ نعیم کو اس کے چچا دہلی شہر لے آئے جہاں انہوں نے اس کی تعلیم و تربیت کو خاص توجہ دی۔ نواب روشن کا خاندان بھی دہلی میں منتقل ہو چکا تھا۔ ایک تقریب میں نواب روشن صاحب کی دختر عذرا، نعیم کو پسند آ گئیں۔ نعیم اپنے والد کی رہائی پہ گاؤں واپس آ گیا اور ان کے ساتھ کھیتی باڑی میں ہاتھ بٹانے لگا۔ نعیم کی زندگی بہت تغیر و تبدل کا شکار رہی۔ اسے انگریزی فوج میں بھرتی کرکے محاذ پہ بھیج دیا گیا جہاں اس نے موت کو بہت قریب سے دیکھا۔ جنگ کے دوران اس کا ایک ہاتھ ضائع ہو گیا اور وہ لکڑی کا ہاتھ استعمال کرنے لگا۔ نعیم نے عذرا سے شادی کر لی۔ عذرا کے ساتھ گرچہ اس کی محبت کی شادی تھی لیکن رفتہ رفتہ اس رشتے سے محبت ختم ہوتی چلی گئی۔ نعیم نے کانگریس میں شمولیت اختیار کر لی۔ اس کی زمین ضبط کر لی گئی اور اسے جیل بھیج دیا گیا۔ جیل سے باہر آنے کے بعد نعیم اپنے سسرال آ کے رہنے لگا، اور وہیں اس نے سرکار کی نوکری کر لی۔ نعیم کا ایک سوتیلا بھائی بھی تھا لیکن وہ عرصے سے اس سے لاتعلق رہا۔ تقسیم کے وقت جب ہندو مسلم فسادات شروع ہوئے تو عذرا اپنے خاندان والوں کے ساتھ پاکستان چلی گئی۔ نعیم بھی ایک قافلے میں شامل ہو کے پاکستان کی طرف روانہ ہو گیا۔ اس قافلے میں نعیم کی ملاقات اپنے بھائی کے ساتھ ہوئی تاہم وہ پاکستان نہیں پہنچ سکا۔

ناول کا اختتام اداس کر دینے والا ہے، تاہم اس میں امید کی ایک کرن بھی موجود ہے جو علی کے کردار سے پھوٹتی ہے جب وہ بانو کے بیٹے کو اپنانے کے لئے رضامند ہو جاتا ہے۔ مجموعی طور پہ پورے ناول کی ہی فضا اداس ہے۔

ہمیں امید ہے کہ قارئین اس کتاب کے مطالعے کو مفید پائیں گے۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے خالد حسینی کی کتاب “دی کائٹ رنر ” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s