119-The old man and the sea by Ernest Hemingway

The old man and the sea by Ernest Hemingway

بوڑھا اور سمندر از ارنسٹ ہمنگ وے

The old man and the seaمصنف: ارنسٹ ہمنگ وے

ترجمہ: بوڑھا اور سمندر

مترجم: ابن سلیم

صنف: ناول، امریکی ادب

سن اشاعت: 1952

ارنسٹ ہمنگ وے ایک نوبل انعام یافتہ امریکی مصنف اور صحافی تھے۔ آپ نے کئی ناول اور مختصر کہانیاں لکھی ہیں۔ “دی اولڈ مین اینڈ دی سی” جس کا اردو ترجمہ بوڑھا اور سمندر کے عنوان سے کیا گیا ہے، آپ کی لکھی ہوئی وہ تحریر ہے جس نے آپ کو نوبل انعام کا حقدار قرار دلوانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ آپ کا بہترین ناول شمار کیا جاتا ہے۔ اس ناول کو ادب کا پلٹزر انعام بھی دیا گیا ہے۔

بوڑھا اور سمندر ایک عمر رسیدہ مچھیرے کی داستان ہے۔ اس مچھیرے کا نام سان تیاگو تھا۔ ناول کی کہانی اس وقت شروع ہوتی ہے جب سان تیاگو سمندر میں مسلسل چوراسی دن تک ماہی گیری کرنے کے باوجود ایک بھی مچھلی پکڑنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ یہ انتہا درجے کی بدقسمتی تھی۔ اسی بدقسمتی کی وجہ سے اس کے شاگرد مینولن کے والدین نے اسے سان تیاگو کے ساتھ کام کرنے سے منع کر دیا تھا۔

مینولن روزانہ رات کو سان تیاگو سے ملنے آتا تھا، اس کے لئے کھانا بناتا اور وہ باتیں کرتے۔ سان تیاگو کا یہ خیال تھا کہ گرچہ وہ بوڑھا ہو گیا ہے لیکن ابھی تک اس نے وہ مچھلی نہیں پکڑی جو اس کی زندگی کی بہترین مچھلی ہو۔ اپنے تئیں وہ ایسے داؤ پیچ سے واقف تھا جو ایک عظیم الشان مچھلی کا شکار کرنے میں اس کے مددگار ہو سکتے تھے۔ اپنی بدقسمتی کے پچاسی ویں دن سان تیاگو سمندر کے سفر پر روانہ ہو گیا اس امید کے ساتھ کہ آج اس کی بدنصیبی کا آخری دن ہو گا۔ دوپہر تک وہ ایک مچھلی کو پکڑنے میں کامیاب ہو گیا۔ یہ ایک بڑی مچھلی تھی اور بآسانی قابو میں آنے والی نہیں تھی۔ سان تیاگو نے اپنا کانٹا ڈالے رکھا۔ وہ مچھلی اتنی طاقتور تھی کہ بجائے اس کے کہ سان تیاگو اسے اپنی کشتی کے ساتھ کھینچ لیتا، وہ مچھلی اسے کھینچ کے گہرے پانیوں میں لے جا رہی تھی۔ سان تیاگو نے مچھلی کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا۔ دو دن اور راتیں گزر گئیں، سان تیاگو سمندر میں مچھلی کے ساتھ رہا اور مچھلی اسے اپنے ساتھ کھینچے چلی گئی۔ سان تیاگو سخت پریشانی اور مشکل کے عالم میں تھا لیکن مچھلی کی عظمت کا وہ قائل ہو گیا۔ اس کا خیال تھا کہ اتنی عظیم مچھلی کو کسی انسان کی خوراک نہیں بننا چاہئے۔ تیسرے دن مچھلی نے سان تیاگو کی کشتی کے گرد چکر لگانے شروع کر دئے۔ سان تیاگو نے اپنا بھالا نکال کے مچھلی کو کچھ زخم لگائے۔ پھر اس نے مچھلی کو اپنی کشتی سے باندھا اور ساحل کی طرف چل دیا۔ وہ اس شکار پہ خوش تھا اور اسے ایک اچھی قیمت ملنے کی امید تھی۔

مچھلی سان تیاگو کے ہتھیار کی وجہ سے زخمی ہو چکی تھی اور اس کے خون کی خوشبو کی وجہ سے شارک مچھلیاں اس کے اردگرد منڈلانا شروع ہو گئی تھیں۔ سان تیاگو نے اپنے بھالے سے انہیں بھگانا شروع کر دیا، لیکن وہ تعداد میں بہت زیادہ تھیں۔ وہ جب بھی قریب آتیں مچھلی کے جسم سے گوشت کا ایک ٹکڑا نکال لیتیں۔ یہاں تک کہ اس مچھلی کا صرف ڈھانچہ ہی باقی بچ سکا۔ اگلے دن صبح سے قبل سان تیاگو ساحل پہنچ گیا۔ اس نے اپنی کشتی کھڑی کی اور اپنی جھونپڑی میں سونے چلا گیا۔ صبح ہونے پہ کچھ مچھیروں نے سان تیاگو کی کشتی کے ساتھ بندھے مچھلی کے ڈھانچے کو دیکھا۔ جب اس کی پیمائش کی گئی تو وہ مچھلی اٹھارہ فٹ لمبی تھی۔ مینولن فوراً سان تیاگو کی طرف دوڑا اور اسے اپنے جھونپڑے میں دیکھ کے خوش ہو گیا۔

سان تیاگو گرچہ مچھلی کو ساحل تک سلامت لانے میں کامیاب نہ ہو سکا لیکن اس نے اپنی زندگی کی سب سے عظیم مچھلی کا شکار کر لیا تھا اور یہی ناول کے اختتام پہ اس کی پرسکون نیند کی وجہ تھی۔ بوڑھا اور سمندر، ہمت، لگن اور مسلسل محنت کی داستان ہے۔ اس سے یہ بھی سبق ملتا ہے کہ ناکامی کے بادل چاہے جتنے بھی گہرے ہوں، ایک دن چھٹ جاتے ہیں۔ یہ ایک چھوٹی سی کہانی ہے جو چند نشستوں میں بآسانی مکمل کی جا سکتی ہے۔ ناول کے اختتام پہ قاری سان تیاگو کی ہمت اور حوصلے سے متاثر ہوتا ہے اور اس کے لئے خوشی محسوس کرتا ہے۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتےعبداللہ حسین کی کتاب “ اداس نسلیں ” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s