117-The lost symbol by Dan Brown

The lost symbol by Dan Brown

The Lost Symbolمصنف: ڈین براؤن
صنف: ناول، امریکی ادب
زبان: انگریزی
صفحات:۴۶۲
سن اشاعت: ۲۰۰۹
مشہور امریکی مصنف ڈین براؤن کا ناول، دی لوسٹ سمبل جس کا اردو ترجمہ ’گمشدہ نشان‘ ہو سکتا ہے ان کی مشہور رابرٹ لینگڈن سیریز کا حصہ ہے۔ را برٹ لینگڈن ، ڈین براؤن کا تخلیق کردہ کردار کا نام ہے۔ یہ کردار ہاورڈ یونیورسٹی کا ایک درمیانی عمر کا پروفیسر ہے جس کی مہارت قدیم تہذیبوں کی تصویری زبانیں ہیں۔ دی لاسٹ سمبل، رابرٹ لینگڈن سیریز کا تیسرا ناول ہے۔ اس سے پہلے دو ناول دی ڈاونشی کوڈ اور دی اینجلنز اینڈ ڈیمنز نے بہت مقبولیت حاصل کی اور بیسٹ سیلرز کی لسٹ میں شامل ہوئے۔ موجودہ ناول  بھی بیسٹ سیلر کی لسٹ میں شامل ہے۔


دی لاسٹ سمبل کا مرکزی خیال ایک ایسے گمشدہ نشان کی تلاش ہے جو اپنے اندر علم و ذہانت کا ایک بے پناہ خزانہ رکھتا ہے۔ تاہم یہ نشان دنیا کی نظروں سے اوجھل ہے ۔ اس نشان کے متعلق چند ہی لوگ جانتے ہیں اور وہ لوگ اس راز کی اپنی جان سے زیادہ حفاظت کرتے ہیں۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ انسانیت ابھی تک اس بےپناہ علم کے ذخیرے سے مستفید ہونے کے لئے تیار نہیں ہے۔ ایسے میں اگر یہ راز منظر عام پہ آ گیا تو یہ دنیا کے لئے تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں لائے گا۔ یہ چند لوگ جو اس راز کی حقیقت سے واقف تھے، یہ فری میسن کی سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے۔ فری میسن امریکہ کی ایک خفیہ تنظیم ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ بڑے رازوں کی امین ہے۔ نیز امریکہ کی بنیاد میں اس تنظیم کی بہت کاوشیں شامل ہیں۔ رابرٹ لینگڈن کا یہ ناول فری میسنز کی اندرونی تنظیم، ان کے کام کرنے کے طریقوں، اور راز داری کی خاصیت پہ تفصیلی روشنی ڈالتا ہے۔ اس ناول میں ایک نئی ابھرتی ہوئی سائنس ’نیوٹک سائنس‘ کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس سائنس کے مطابق قدیم دور کا انسان کئی معاملات خصوصاً انسانی ذہن کی پیچیدگیوں سے بخوبی واقف تھا۔ وہ کائنات کے بڑے رازوں سے واقف تھا لیکن لوگ ان رازوں کو جادو یا معجزے کا نام دیتے تھے۔ مصنف نے اس سائنس کے ذریعے پرانے زمانے کی باتوں کو معلومات کا اہم خزانہ قرار دیا ہے جس کو تلاش کرکے انسانیت نئے رازوں سے واقفیت حاصل کر سکتی ہے۔ مصنف نے کتاب کے آغاز میں بیان کیا ہے کہ ناول میں پیش کی گئی تمام تنظیمیں اور سائنسیں یعنی فری میسن اور نیوٹک سائنسز سب حقیقت میں موجود ہیں۔

ناول کی کہانی کا آغاز ایک صبح اس وقت ہوتا ہے جب رابرٹ لینگڈن کو امریکہ سے اپنے دوست پیٹر سولومن کے سیکریٹری کی فون کال موصول ہوتی ہے۔ اس کا سیکریٹری اپنے مالک کی طرف سے اسے امریکہ آنے کی دعوت دیتا ہے جہاں اسے ایک تقریب میں ایک لیکچر دینا ہے۔ وہ تقریب اسی شام کو تھی اور رابرٹ کا لیکچر شام سات بجے تھا۔ یعنی اسے اس سہ پہر کو نکلنا تھا۔ رابرٹ اپنے دوست کی مدد کو تیار ہو جاتا ہے اور واشنگٹن پہنچ جاتا ہے۔ وہاں پہنچ کے اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب ایک دھوکا ہے۔ اسے اس کے دوست نے لیکچر دینے کے لئے نہیں بلایا، بلکہ اس کے دوست کو کسی نے اغوا کر لیا ہے اور اس کی جان خطرے میں ہے۔ مزید یہ کہ ناصرف اس کے دوست کی جان خطرے میں ہے بلکہ اس کا اغوا کنندہ رابرٹ سے ایک ایسے راز کو ڈی کوڈ کروانا چاہتا ہے جس کی فری میسن عرصے سے حفاظت کرتےآئے ہیں۔ رابرٹ کا یہ دوست نہ صرف فری میسن تھا اور بلکہ ا تاہم اسے اس تنظیم میں ایک انتہائی اہم عہدے کا حامل تھا۔ رابرٹ اس را ز کو ڈی کوڈ کرنے سے انکار کرتا ہے لیکن اسے اپنے دوست کی زندگی کی فکر ہو جاتی ہے۔ اس موقع پہ ناول میں کچھ اور کردار بھی شامل ہو جاتے ہیں جس میں سی آئی اے کی ڈائریکٹر ساٹو بھی شامل ہیں۔ ساٹو رابرٹ کو بتاتی ہے کہ یہ معاملہ نیشنل سیکیوریٹی کا ہے اور رابرٹ کو تعاون کرنا چاہیے۔ رابرٹ کسی طرح ساٹو سے بچ نکلتا ہے۔ وہ پیٹر سولومن کی بہن کبھی اس خطرے سےآگاہ کرتا ہے جو اس کے بھائی کو لاحق ہے۔ کہانی مزید کس طرح آگے بڑھتی ہے اس کے لئے ناول کا مطالعہ بہتر رہے گا۔

دی لاسٹ سمبل، ایک سسپنس تھرلر ہے۔ ناول کی تمام کہانی بارہ گھنٹے کے عرصے پہ محیط ہے۔ ناول بہت تفصیلی انداز میں لکھا گیا ہے جگہ جگہ مصصنف نے فری میسنز کے متعلق تفصیلات فراہم کی ہیں، جو اس سوسائٹی کو جاننے میں مدد گار ہیں۔ امریکن آرکیٹیکچر کس طرح بنایا گیا ہے اس بارے میں بھی وضاحت کی گئی ہے۔ ناول کی ایک اہم خاصیت نیوٹک سائنس کے متعلق معلومات ہیں۔ کہانی میں یہ باتیں پیٹر سولومن کی بہن، کیتھرین سولومن کے ذریعے کہلائی گئی ہیں۔ مصنف نے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ انسانی کانشئس نس، اس کے مرنے کے بعد بھی قائم رہتا ہے، یہ ایک ایسی چیز ہے جو انسان کا بیرونی دنیا سے تعلق قائم کرتی ہے۔ کانشئیس نیس کا ایک وزن ہے، اور جب کئی دماغ مل کے ایک ہی سمت میں سوچیں، تو گریویٹی کے اصول کے تحت یہ سوچیں اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہیں۔ پھر سوچ اگر اچھی ہوئی تو اچھا نتیجہ ملے گا اور اگر بری ہوئی تو برا نتیجہ۔ اس بات کی سائنسی حقیقت کیا ہے، اس بارے میں ہمارا کچھ کہنا تو مشکل ہے تاہم دیکھا گیا ہے کہ بہت سے خیالات پہلے ناولوں میں قصے کہانیوں کی شکل میں پیش کئے گئے اور پھر بعد میں آنے والی سائنسوں نے انہیں سچ ثابت کر دکھایا۔

رابرٹ لینگڈن کے لکھنے کا انداز بہت مخصوص ہے، ان کے کئی کرداروں میں یکسانیت موجود ہوتی ہے۔ بہت سے نقاد وں کے مطابق وہ اپنی کہانیوں کے پلاٹ کانسپیریسی تھیوریز سے لیتے ہیں۔ ان تمام باتوں کے باوجود ان کے تمام ناول بیسٹ سیلرز میں شامل ہیں۔ ان کی کتابیں ایسی ہیں کہ ایک دفعہ ہاتھ میں لینے کے بعد مکمل پڑھے بغیر چھوڑنا مشکل ہے۔ ناول کا سسپنس، تھرل اور تیز رفتاری بہت متاثر کن ہے۔ سمبالوجی کے موضوع پہ دی گئی معلومات بھی قاری کی توجہ جکڑے رہتی ہیں۔ تاہم ناول کا انجام ڈین براؤن کے دیگر ناولوں کی طرح مایوس کن ہے۔ فری میسن، سمبالوجی، سیکرٹ نالج، نیوٹک سائنسز کی بنیادوں پہ ناول کی جو عمارت کھڑی کی گئی تھی ، انجام سامنے آنے پہ ریت کی دیوار کی طرح ڈھے جاتی ہے۔ گرچہ ناول کے آغاز میں مصنف ناول میں بیان کی گئی سوسائیٹیوں اور سائنسز کی موجودگی کی تصدیق کرتے ہیں لیکن ناول کے اختتام پہ فکشن کی حد تک بھی ان کا کردار متعین نہیں کر پاتے۔ جس گمشدہ علم کے خزانے کی تلاش سارے ناول میں جاری رہی، جب وہ سامنے آیا کسی قسم کا تاثر قائم نہیں کر سکا۔ تاہم اگر انجام کی فکر نہ کی جائے تو یہ ایک ریکمنڈڈ ناول ہے۔ سپپنس اور تھرلر کے شائقین کے لئے یہ ایک ریکمنڈڈ ناول ہے۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔اس کتاب کے بارے میں تبصرہ کریں ۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے اسرار عالم کی کتاب”عالم اسلام کی روحانی صورتحال” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

*****

ڈین براؤن کے قلم سے مزید

اینجلز اینڈ ڈیمنز (Angels and demons) از ڈین براؤن (Dan Brown)

ڈیسیپشن پوائنٹ (Deception point) از ڈین براؤن (Dan Brown) (Dan Brown)

Digital Fortress by Dan Brown

Advertisements

One thought on “117-The lost symbol by Dan Brown”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s