115- بہاؤ از مستنصر حسین تارڑ

بہاؤ از مستنصر حسین تارڑ

Bahaoمصنف: مستنصر حسین تارڑ

صنف: ناول، پاکستانی ادب

صفحات:229

قیمت: 250 روپے

ناشر: سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور

ISBN: 969-35-0150-8

اردو ادب میں وادی سندھ کی گم گشتہ تہذیب کو کسی مصنف نے اپنے تخیل کا موضوع نہیں بنایا، یہی بات ہے جو بہاؤ کو موضوع کے حساب سے انتہائی منفرد ناول بنا دیتی ہے۔ مستنصر حسین تارڑ صاحب کی وجہ شہرت ان کے تحریر کردہ سفر نامے ہیں۔ ان کے لکھے سفر نامے گھر بیٹھے ہی قاری کو دور کے دیس میں لے جاتے ہیں جہاں چلتی برفیلی ہواؤں اور برف پوش چوٹیوں کی ٹھنڈک کو وہ اپنے گھر کے اندر ہی محسوس کر لیتے ہیں۔ تاہم بہاؤ میں تارڑ صاحب اپنے قاری کو کسی دور کے دیس میں نہیں لے جا رہے بلکہ بہاؤ قاری کو آج سے پانچ ہزار سال پرانی ایک ایسی بستی میں لے جاتا ہے جو دریائے سندھ کے کنارے آباد تھی اور اس کا زمانہ موہنجودڑو کی تہذیب کا ہم عصر زمانہ تھا۔ موہنجودڑو کے متعلق انسانی معلومات وہاں کھدائی کے دوران نکلنے والے کھنڈرات اور چند قدیم باقیات تک محدود ہے۔ یہ تارڑ صاحب کے مضبوط تخیل کا کمال ہے کہ انہوں نے اتنی کم معلومات کی بنیاد پہ موہنجودڑو کے نواح میں واقع ایک بستی پہ ایک بھر پور ناول لکھ دیا ہے۔

بہاؤ کی تصویر کشی اتنی عمدہ ہے کہ قاری آغاز سے ہی خود کو اس قدیم بستی میں موجود پاتا ہے۔ بستی کی گلیاں، کوچے، گھر، کھیت، دریا، جنگل، ریگستان سب اس کی آنکھوں کے سامنے پھیلتے جاتے ہیں اور ایک نقشہ سا بن جاتا ہے۔ مصنف نے جہاں اس بستی کی تصویر کشی کی ہے وہیں اس زمانے کے لوگوں کی زندگی، عادات اور طور طریقوں کو بھی اس طریقے سے پیش کیا ہے کہ وہ بالکل اجنبی محسوس نہیں ہوتے بلکہ ایسا لگتا ہے کہ وہ آنکھوں کے سامنے ہی موجود ہیں اور اپنے افعال انجام دے رہے ہیں۔ قاری انہیں اپنے ماتھے سے پسینہ پوچھتے دیکھ سکتا ہے، سلگتے اپلوں پہ روٹی پکاتے دیکھ سکتا ہے اور پانی کے انتظار میں دریا کے کنارے بیٹھے محسوس کر سکتا ہے۔

بہاؤ آج سے پانچ ہزار سال پہلے دریائے سند کے کنارے آباد ایک بستی کی کہانی ہے۔ اس بستی کا دارومدار دریا کے پانی پہ تھا۔ یہ پانی ان کے کھیتوں کو سیراب کرتا تھا لیکن دریا آہستہ آہستہ سوکھتا جا رہا تھا۔ بستی کے لوگ سادہ دل تھے۔ ان کی زندگیاں محدود تھیں وہ کبھی دریا کے دوسرے کنارے نہیں گئے تھے۔ ان کی زندگی خوف اور وہموں کا شکار تھی دریا کو خوش رکھنے کے لئے وہ اس میں نذرانے ڈالتے تھے، بے اولاد عورتیں اولاد کے لئے درختوں پہ دھاگے باندھتی تھیں اور کھیتوں میں عمدہ فصل کے لئے وہ کھیتوں میں ملاپ کیا کرتے تھے۔ اس بستی کی کہانی بیان کرنے کے لئے مصنف نے ایک عورت کے کردار کا انتخاب کیا ہے اس عورت کا نام پاروشنی تھا۔ پاروشنی ہی بہاؤ کا مرکزی کردار ہے۔ ناول میں دریا کے سوکھنے کے ساتھ ساتھ پاروشنی کی زندگی میں آنے والی تبدیلیوں کو بیان کیا گیا ہے۔ مصنف نے پاروشنی کا کردار بہت تفصیل سے پیش کیا ہے۔ اس کے کردار کی چھوٹی سے چھوٹی بات وضاحت سے بیان کی ہے۔ کسی مرد مصنف کے قلم سے کسی عورت کے کردار کی اتنی تفصٰل کم ہی پڑھنے کو ملتی ہے لیکن یہ تفصیل ہی ہے جو قاری کو پاروشنی کے کردار سے جوڑ دیتی ہے، لیکن دوسری طرف یہی تفصیل اس ناول کو نابالغ قارئین کے لئے نامناسب بھی بنا دیتی ہے۔ تاہم پاروشنی کا کردار ایک مضبوط عورت کے کردار کے طور پہ ابھرتا ہے جو اپنے حالات سے بہادری سے نبٹنا جانتی ہے۔

ناول میں قاری دریا کے سوکھنے کا سفر پاروشنی کے ساتھ ساتھ طے کرتا ہے۔ ناول اتنی گہرائی میں لکھا گیا ہے کہ اس کو تیز رفتاری سے پڑھنا مناسب نہیں۔ یہ ناول اس بات کا متقاضی ہے کہ اسے ٹھہر ٹھہر کے اور آہستگی کے ساتھ پڑھا جائے تاکہ قاری ناول کے ماحول میں رچ بس جائے اور خود کو اس کا حصہ محسوس کرے۔ ناول کے اختتام پہ جو سناٹا بستی میں چھاتا ہے وہی سناٹا قاری اپنے اندر بھی اترتا محسوس کرتا ہے لیکن اس کے اندر سے ایک آواز آتی ہے کہ یہ ایک شاہکار ناول ہے۔ اتنا بہترین ناول لکھنے پہ مصنف مبارکباد کے مستحق ہیں۔

ناول سے چند اقتباسات ذیل میں ہیں:

“ہماری بستی کا کوئی نام کیوں نہیں؟” پاروشنی شاید کہیں اور تھی۔

“جہاں بھانت بھانت کے لوگ ہوں۔ اندر کے، باہر کے اور جہاں امن نہ ہو وہاں نام رکھتے ہیں۔ اور جہاں لوگ بستی نہ ہوں وہ نام رکھتے ہیں۔ ہم تو خود بستی ہیں۔ ہم یہاں نہ ہوں تو وہاں ہوں تو وہاں بستی ہوگی، تو نام کیوں رکھیں۔۔”

ایک اور جگہ مصنف نے لکھا ہے،

“گھاگھرا سندھو جیسا نہیں ہے۔۔۔” ڈورگا بولا

“ہماری بستی بھی تو موہنجو جتنی نہیں ہے۔۔” ورچن مسکرا رہا تھا “جتنے ہم اتنا ہمارا دریا۔”

“اور یہ کب سے یہاں بہتا ہے؟”

“کب سے؟” ورچن نے سمرو کو دیکھا جو اپنے دھیان سے زمین کو انگلیوں سے کریدتا تھا۔۔۔ “دریا تو شروع ہوتا ہے مڈھ قدیم سے۔۔۔ جیسے ہم ہوتے ہیں۔۔۔ ہم کب سے ہوتے ہیں۔”

“اور یہ آخر تک ہوتا ہے؟”

“ہاں۔۔۔۔”

“پر ہم تو آخر تک نہیں ہوتے پھر دریا ہم جیسا کیسے ہوا؟۔۔۔ پر ورچن یہ ہم جیسا ہوتا ہے، وریانا کی بستی میں بھی تو دریا آتا تھا جو اب نہیں۔۔۔”

“ان کا آخر ہو چکا۔۔۔” ورچن کا دل بیٹھا “وہ ریت میں گم تب ہوا جب آخر ہو چکا۔۔۔”

“اور آخر کب ہوتا ہے؟” ڈورگا نے پوچھا۔

ورچن نے اسے دیکھا کہ ایسے سوالوں کے جواب تو تمہارے بھیجے میں ہیں تم بتاؤ اور ڈورگا نے جان لیا کہ وہ ایسا کہتا ہے اور بتانے لگا “جب ہزار برس سے لوگ کڑھتے ہیں اندر ہی اندر۔۔۔ بوڑھے بچے عورتیں اور مرد کڑھتے ہیں اور ان کے مہاندرے عام انسانوں سے الگ ہو جاتے ہیں۔۔۔ وہ کچھ جنور اور کچھ انسان بن جاتے ہیں۔ ان کا وجود اور شکل وجہ تو انسانوں ایسی ہوتی ہیں پر ان کا اٹھنا بیٹھنا اور کھانا پینا جنوروں جیسا ہو جاتا ہے۔ کسی کے سامنے جاتے ہیں تو ان کے ہاتھ آپو بندھ جاتے ہیں اور ان کی آنکھیں بجھ جاتی ہیں کہ کہیں ان کی چمک سے وہ برا نہ مان جائے، ناراض نہ ہو جائے۔۔۔ ان کی ساری حیاتی اسی بھاگ دوڑ میں ختم ہوتی ہے کہ کہیں ان کا پالن ہار ان سے ناراض نہ ہو جائے، وہ کتے کی طرح دم ہلاتے رہتے ہیں، اپنی تھوتھنی اس کے قدموں میں رکھتے ہیں اور ٹھڈے کھاتے ہیں تو ہلکی سی چوؤں کرکے پھر اس کے آگے پیچھے لوٹنیاں لگاتے ہیں۔۔۔”

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے عمیرا احمد کی کتاب “امر بیل ” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

***************

مستنصر حسین تارڑ کے قلم سے مزید

پیار کا پہلا شہر از مستنصر حسین تارڑ

جپسی از مستنصر حسین تارڑ

Advertisements

2 thoughts on “115- بہاؤ از مستنصر حسین تارڑ”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s