114-Doomsday and life after death by Sultan Bashir Mehmood

Doomsday and life after death by Sultan Bashir Mehmood

قیامت اور حیات بعد الموت از سلطان بشیر محمود

Doomsday and life after deathمصنف: سلطان بشیر محمود

نام ترجمہ: قیامت اور حیات بعد الموت

مترجم: میجر (ر) امیر افضل خان

صنف: نان فکشن، اسلام اور سائنس، تحقیق

صفحات: 570

سن اشاعت: 1987

ناشر: القرآن الحکیم ریسرچ فاؤنڈیشن، اسلام آباد

ڈومز ڈے اینڈ لائف آفٹر ڈیتھ، جس کا اردو ترجمہ “قیامت اور حیات بعد الموت” کے عنوان سے کیا گیا ہے، سلطان بشیر محمود صاحب کی تصنیف ہے۔ بشیر صاحب کا تعارف ہم کتابستان میں پیش کی گئی ان کی ایک اور کتاب کے تعارف کے دوران کروا چکے ہیں۔ اس بلاگ کے آخر میں اس کتاب کا ربط موجود ہے جہاں سے قارئین اس تعارف تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس کتاب کے آغاز میں کتاب کے تعارف کے طور پہ درج ہے،

“قرآن حکیم، فرمودات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور جدید سائنسی دریافتوں کی روشنی میں تخلیق کائنات، مومن کا فلسفہ حیات، کائنات میں انسان کا مقام اور مقاصد تخلیق، زندگی، موت، جسم، نفس، روح، ملائکہ اور جنات کے حقائق، قیامت عالم قبور،عالم برزخ، آخرت، روز محشر، جزا و سزا، جنت و دوزخ کے حالات یعنی یہ کتاب زمان و مکان میں ابتدا سے انتہا تک انسانی سفر کی داستان پہ ایک حقیقی مدلل اور سائنٹیفک تجزیہ ہے”۔

قیامت یا زندگی کا اختتام، انسان کے لئے ہمیشہ ہی دلچسپی کا حامل موضوع رہا ہے۔ دنیا کے مختلف مذاہب میں قیامت کے دن کا تصور ملتا ہے۔ جدید سائنس بھی اس بارے میں متلاشی ہے کہ زمین پہ زندگی کا دورانیہ کتنا باقی رہ گیا ہے اور دنیا کا اختتام کس طرح عمل میں آئے گا۔ تمام آسمانی مذاہب میں قیامت اور قرب قیامت کے واقعات کا تذکرہ موجود ہے۔ کتابستان میں بھی ایسی کئی کتب پیش کی جا چکی ہیں جن میں قیامت، قرب قیامت، فتنہ دجال اور موت کے بعد کی زندگی جیسے موضوعات پہ قلم اٹھایا گیا ہے۔ اس موقع پہ ضرورت اس امر کی محسوس ہوتی ہے کہ اس ضمن میں کی گئی سائنسی دریافتوں اور ان کے نتیجے میں حاصل ہونے والی معلومات کو الہٰمی کتب میں موجود معلومات کی روشنی میں دیکھا جائے، انہیں جانچا اور پرکھا جائے تاکہ انسان کے جو معلومات کے ذخائر موجود ہے اور بظاہر ایک دوسرے سے متصادم معلوم ہوتے ہیں انہیں ایک مقام پہ یکجا کیا جا سکے۔ یہی سلطان بشیر محمود صاحب کی لکھی ہوئی کتاب کا مقصد ہے۔ وسیع پیمانے میں بات کی جائے تو کتاب کا موضوع اسلام اور سائنس ہے لیکن اس میں گفتگو اور بحث قیامت، قرب قیامت اور موت کے بعد کے حالات تک محدود کی گئی ہے۔ مصنف نے سائنسی معلومات کو قرآن پاک میں موجود معلومات کی روشنی میں پیش کیا ہے۔ کتاب اولاً انگریزی زبان میں لکھی گئی تھی تاہم میجر (ر) امیر افضل صاحب کی مہربانی کی وجہ سے یہ اردو زبان کے قارئین کے لئے بھی دستیاب ہے۔ کتاب تفصیلاً لکھی گئی ہے۔ مصنف نے اپنے نظریات آسان سائنسی اشکال کے ذریعے پیش کئے ہیں تاکہ انہیں واضح کیا جا سکے کتاب میں 60 سے زیادہ ایسی اشکال موجود ہیں جو موضوع کی مناسبت سے مختلف جگہوں پہ شامل کی گئی ہیں۔

کتاب کے کل چار حصے ہیں۔

حصہ اول: کائنات، قیامت اور انسان

کائنات اور مسافر، مختلف قیامتیں اور آخرت، دنیا پہ مصائب کی حقیقی وجوہ اور علاج، کائنات اور ہمہ گیر قیامت کا میکینیزم، آخر زمانہ کے مختلف ادوار اور واقعات، قیامت کا ہمہ گیر جائزہ اور ماحصل

حصہ دوم: نظام شمسی اور کرہ ارض کی قیامت

تمہید، ہمارے کرہ ارض کی قیامت کی کہانی، قرب قیامت کی نشانیاں، قرآن حکیم اور قرب قیامت کی نشانیاں، ارض قیامت سے پیشتر بڑے بڑے واقعات، قیامت کی آمد کی تیاری، سائنسی نظریات اور کرہ ارض کی قیامتیں، کرہ ارض کی قیامت کے متعلق قرآنی انکشافات۔ زمینی قیامت کے متعلق قرآنی واقعات اور ممکنہ سائنسی وجوہات، چاند کی قیامت، شمسی نظام کی قیامت، انجام کار نئی تخلیق نئی کائنات، دوسری دنیاؤں میں زندگی کی موجودگی

حصۃ سوم: عالم ازل سے ابد تک انسان کی کہانی

ابدی زندگی کی کہانی، زندگی اور روح کی وحدت، اعمال کا اندراج اور گواہی، انسانی نفوس جنات اور ملائکہ، حیات بعد الموت، موت کی اصل حقیقت اور مرنے کے بعد کے حالات، سکرات موت اور قبر کے حالات کی مزید تفصیلات، حشر و نشر اور نئی کائنات کی زندگی، روز محشر کے مناظر کی کچھ جھلکیاں

حصہ چہارم: ازل سے ابد تک کی باتوں کا خلاصہ اور وضاحتیں

یقین کرو یا نہ کرو، کامیاب انسان

ابواب کی فہرست سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصنف نے قیامت اور حیات بعد الموت کے موضوع سے متعلق ہر ممکن خیال اور بات کو احاطہ تحریر میں لانے کی کوشش کی ہے۔ تاکہ یہ ایک سیر حاصل کتاب بن سکے اور حق اور سچائی کے متلاشی ذہنوں کی تسکین کر سکے۔ اردو زبان میں اس موضوع پہ اتنی جامع کتاب دیکھنے میں نہیں آئی۔ کتابوں کے چاروں حصے اتنی وضاحتوں سے لکھے گئے ہیں کہ ہر حصہ بذات خود ایک الگ کتاب کی صورت میں پیش کیا جا سکتا ہے۔

مطالعے کے دوران قاری کو اس بات کا دھیان رکھنا چاہئے کہ کتاب میں پیش کی گئی باتیں حتمی نہیں ہیں۔ جو لوگ سائنسی تحقیق اور معلومات پہ نظر رکھتے ہیں وہ یہ جانتے ہیں کہ روز روز کی تحقیق کے نتیجے میں سائنس میں نئی باتیں شامل ہوتی جاتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں موضوعات کی وسعت میں اضافہ ہوتا ہے اور انسانی علم بڑھتا جاتا ہے۔ یہی بات اس کتاب پہ بھی صادق ہے کہ گرچہ قرآن معلومات صد فیصد درست اور حتمی ہیں لیکن کتاب کے دوسرے ستون یعنی سائنس کی رو سے پیش کی گئی باتیں گرچہ اب تک کے علم کے مطابق درست ہیں لیکن حتمی نہیں کہلائی جا سکتیں کیونکہ تحقیق کا سفر جاری و ساری ہے۔ اس کتاب کی تصنیف کو 25 سے زیادہ سال گزر چکے ہیں اس لئے یہ پرانی کتابوں کے زمرے میں آ سکتی ہے۔ اس لئے یہ ضرورت بھی محسوس ہوتی ہے کہ گزشتہ 25 سال کے دوران ہونے والی سائنسی تحقیقات کو بھی شامل کر لیا جائے۔ اس کے باوجود اسلام اور سائنس کے زمرے میں دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لئے یہ ایک بہترین کتاب ہے۔

ہمیں امید ہے کہ قارئین اس کتاب کے مطالعے کو مفید پائیں گے۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے مستنصر حسین تارڑ کی کتاب “بہاؤ ” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

***************

سلطان بشیر محمود کے قلم سے مزید

تلاش حقیقت ازسلطان بشیر محمود

Advertisements

One thought on “114-Doomsday and life after death by Sultan Bashir Mehmood”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s