113-Happy things in sorrow times by Tehmina Durrani

Happy things in sorrow times by Tehmina Durrani

Happy-Things-in-Sorrow-Timesمصنفہ: تہمینہ درانی

صنف: ناول، پاکستانی ادب

زبان: انگریزی

صفحات: ۲۰۴

سن اشاعت: ۲۰۱۳

قیمت: ۸۹۵ روپے

ناشر: فیروز سنز پرائیویٹ لمیٹڈ، لاہور ، راولپنڈی، کراچی

ISBN: 9789690024763

ہیپی تھنگز ان سورو ٹائمز، محترمہ تہمینہ درانی صاحبہ کا تحریر کردہ تازہ ترین ناول ہے، جو گزشتہ سال منظر عام پہ آیا ہے۔ یہ تہمینہ صاحبہ کی چوتھی تحریر ہے۔ اس سے قبل آپ اپنی سوانح عمری، جناب عبدالستار ایدھی صاحب کی سوانح حیات، اور ایک انگریزی ناول تحریر کر چکی ہیں۔ آپ کی سوانح حیات مائی فیوڈل لارڈ کے عنوان سے شائع ہوئی تھی۔ یہ اپنے وقت کی مشہور ترین کتاب تھی جس نے آپ کو شہرت کی بلندیوں پہ پہنچا دیا۔

ہر ملک کا ادب اس ملک کے حالات، اس کی ثقافت، وہاں کے لوگوں کے اعتقادات، طور طریقوں رہن سہن کے بارے میں آگاہی دیتا ہے۔ جیسے امریکن مصنفین کے لکھے ہوئے تھرلر ناول وہاں کی تیز رفتار زندگی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ عرب مصنفات کی کہانیوں میں عرب خواتین کی حالت اور مشکلات کی گونج سنائی دیتی ہے۔ انگریز مصنفین کی باتوں میں لندن کی فیشن ایبل زندگی کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ پاکستانی مصنفین دہشت گردی کے مسئلے پہ بات کرتے نظر آتے ہیں۔ وہیں افغانستان سے آنے والی کہانیاں اس ملک پہ دو سپر پاوروں کے حملوں سے متاثر ہونے والے انسانوں کی زندگی کی داستان سناتی ہیں۔ان حملوں میں سب سے زیادہ متاثر افغان بچوں کی زندگی ہوئی ہے۔ گزشتہ صدی کو اگر عورتوں کی آزادی کی صدی کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ اس صدی میں عورتوں کے استحصال کی طرف توجہ دلائی گئی، اور عورتوں کے حقوق کی بحالی کے لئے کئی تحاریک چلائی گئیں۔ تاہم موجودہ صدی شاید صدی جنگ زدہ بچوں کی بحالی کی صدی ہو کیونکہ اس وقت دنیا کے کئی ممالک میں جنگی اور ہنگامی حالات نافذ ہیں۔ اور ان ہنگاہی حالات کا سب سے زیادہ شکار بچے ہی ہوتے ہیں۔

تہمینہ صاحبہ کے موجودہ ناول کا موضوع چلڈرن آف وار ہی ہیں۔ ناول کی کہانی افغانستان سے اٹھائی گئی ہے جسے گزشتہ تین دہائیوں سے ایک کے بعد ایک سپر پاور کی چڑھائی کا سامنا ہے۔ ان جنگوں نے جہاں عام افغان شہریوں کو جنگجو بننے پہ مجبور کر دیا ہے وہیں اب افغان بچوں کے پاس کوئی مستقبل نہیں بچا۔ ان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ جنگی تربیت حاصل کریں اور بڑے ہونے پہ اس جنگ کا ایندھن بنیں جو ان پہ مسلط کر دی گئی ہے۔ ناول کا مرکزی کردار ایک افغان بچی ہے جس کا تمام خاندان روسی جارحیت کے نتیجے میں ایک لمحے میں ختم ہو گیا تھا اور وہ بالکل تنہا رہ گئی تھی۔ اس کے پاس نہ کھانے کو کچھ تھا، نہ سر چھپانے کو کوئی آسرا، نیز وہ روسی جارحیت کے نتیجے میں ہونے والے اپنے خاندان کی تباہی کے بعد بےخوابی کا شکار ہو گئی تھی۔ آنکھ بند کرتے ہی روسی ٹینک اس کی آنکھوں کے سامنے آ جاتے اور گولے برسانے شروع کر دیتے اور وہ چیخیں مارتی ہوئی اٹھ جاتی۔ اس مشکل وقت میں اس لڑکی نے خود ہی ہمت کی، اپنےآپ کو اس نے خود ہی تسلی دی تاکہ اس کا خوف دور ہو سکے۔ اس نے اپنے آپ کو ہی اپنی ماں سمجھا اور اس کے انداز میں خود کو سمجھایا تاکہ وہ سنبھل سکے۔ چلتے چلتے اس بچی ، جس کا نام بصرابیاہ تھا، کی ملاقات شیر خان سے ہوئی، جو اس کا ہم عمر ایک بچہ تھا اور اپنے خاندان کا فخر تھا۔ شیر خان کے خاندان نے بصرابیاہ کو پناہ دی، تاہم کچھ ہی عرصے بعد وہ پورا خاندان بھی روسی جارحیت کا شکار ہو گیا ۔ حملے کے بعد صرف شیر خان اور بصرابیاہ ہی زندہ بچے۔ شیرخان ، بصرابیاہ کو پاکستان کی سرحد پہ چھوڑ آیا جہاں وہ ریفیوجی کیمپ میں چلی گئی اورشیر خان واپس افغانستان چلا گیا تاکہ جنگی تربیت حاصل کرکے افغانستان کے لئے لڑ سکے۔ اس دن کے بعد ان دونوں کا آپس میں رابطہ نہیں ہوا، لیکن شیرخان بصرابیاہ کی یادوں میں ہمیشہ موجود رہا۔ شیر خان کو یاد کرنے کے لئے اس نے الوژن کا سہارا لیا، تاکہ اس کی امید برقرار رہے۔ بصرابیاہ کو ایک امریکی فلاحی اسکول میں پناہ مل گئی اور اس کی تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا۔ مزید کہانی آگے کس طرح بڑھی، اس کے لئے تو ناول ہی پڑھنا پڑے گا۔

ہیپی تھنگز ان سورو ٹائمز، مصنفہ نے دل سے لکھا ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ قاری کے بھی دل کو چھو جاتا ہے۔ مطالعے کے دوران قاری خود کو بصرابیاہ کے ساتھ موجود پاتا ہے۔ ناول میں تہمینہ صاحبہ کی بنائی ہوئی واٹر پینٹنگز بھی شامل ہیں جو کہانی کو واضح کرتی ہیں۔ اس سے ذہن میں موجود تصویر مزید واضح ہوتی ہے۔ بصرابیاہ کی چھوٹی چھوٹی باتیں، اس کے معصوم سوالات اور معصوم خواہشات کئی بڑے بڑے مسائل کو بڑے آرام سے قاری کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ ایک جنگ کتنی ہولناک شے ہے، اور اس کے تباہ کن اثرات بچوں پہ کس طرح پڑتے ہیں، یہ تاثر اس ناول کو پڑھ کے بخوبی ابھرتا ہے۔ اس پیغام کے لئے مصنفہ مبارکباد کی مستحق ہیں۔ ناول گرچہ انگریزی زبان میں ہے تاہم ہماری رائے میں قارئین کو اس کا مطالعہ ضرور کرنا چاہئے۔ ناول فیروز سنز والوں نے شائع کیا ہے ناول کی طباعت عمدہ ہے، پروف ریڈنگ کی غلطیاں موجود نہیں ہیں، کاغذ عمدہ ہے، اور مصنفہ کی بنائی ہوئی تصویریں سونے پہ سہاگہ کا کام کرتی ہیں۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتےسلطان بشیر محمود کی کتاب “ڈومز ڈے اینڈ لائف آفٹر ڈیتھ * ” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

Dooms day and life after deat by Sultan Bashir Mahmood

***************

تہمینہ درانی کے قلم سے مزید

Blasphemy by Tehmina Durrani

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s