112-میرے ہمدم میرے دوست از فرحت اشتیاق

میرے ہمدم میرے دوست از فرحت اشتیاق

Merey hamdam merey dostمصنفہ: فرحت اشتیاق

صنف: ناول، پاکستانی ادب

میرے ہمدم میرے دوست، محترمہ فرحت اشتیاق صاحبہ کی تخلیق ہے۔ فرحت اشتیاق وہی مصنفہ ہیں جن کے لکھے ہوئے ناول ہم سفر پہ مبنی ڈرامے نے ناصرف ملک گیر شہرت حاصل کی بلکہ ہمسایہ ملک میں بھی اپنی پسندیدگی کے جھنڈے گاڑنے میں کامیاب ہوا۔ میرے ہمدم میرے دوست کی بھی ڈرامائی تشکیل کی گئی ہے اور اس کو بھی ڈرامے کی شکل میں حال ہی میں پیش کیا گیا ہے۔ فرحت اشتیاق صاحبہ خواتین کے لئے شائع ہونے والے ڈائجسٹس کی مشہور لکھاری ہیں۔ آپ ہلکے پھلکے رومانوی موضوعات پہ لکھتی ہیں۔ آپ کے ناولوں کا مرکزی کردار ناول کی ہیروئن ہوتی ہے اور ناولوں میں اس کی زندگی اور اس میں آنے والی تبدیلیاں اور حالات پیش کئے جاتے ہیں۔ زیادہ تر آپ کی ہیروئن ایک تعلیم یافتہ، خوددار اور باہمت لڑکی ہوتی ہے جو زندگی میں مشکلات پیش آنے پہ آنسو بہانے کے ساتھ ساتھ ہمت کا مظاہرہ کرتی ہے اور اپنے حالات کی بہتری کے لئے کوشش کرتی ہے۔ تاہم کہانی میں ایک زبردست سا ہیرو بھی ہمیشہ موجود ہوتا ہے۔


میرے ہمدم مییرے دوست بھی انہی خطوط پہ لکھا گیا ناول ہے۔ عنوان سے ناول کا مرکزی خیال واضح ہوتا ہے کہ ناول کے مرکزی کردار (ناول کی ہیروئن) کی زندگی کا وہی ساتھی ہے جو اس کا دوست بھی ہے۔ یہ ناول ام ایمن کی کہانی ہے۔ ام ایمن ایک غریب گھر سے تعلق رکھتی تھی جو حیدر آباد میں اپنی ماں کے ساتھ رہ رہی تھی۔ ایمن کی والدہ نے اس کی پرورش اکیلے ہی کی تھی تاہم ان کی زندگی ان کا زیادہ ساتھ نہیں دے سکی اور وہ اللہ کو پیاری ہو گئیں۔ مرنے سے پہلے انہوں نے ایمن کے والد جو کراچی میں رہائش پزیر تھے، کو خط لکھا جس میں انہوں نے یہ درخواست کی کہ وہ ان کے مرنے کے بعد ام ایمن کو اپنے پاس بلوا لیں۔ ناول کا آغاز اسی واقعے سے ہوتا ہے جب ایمن کی والدہ کی فوتگی کے بعد ایک اجنبی شخص اسے لینے آتا ہے۔ یہ اجنبی شخص ایمن کا والد نہیں تھا بلکہ ان کا ایک دوست تھا کیونکہ اس کے والد اپنے بزنس کے سلسلے میں ملک سے باہر گئے ہوئے تھے۔ اپنی ماں کو کھونے کے بعد ایمن کو اپنے والد کے رویے سے بھی مایوسی ہوتی ہے جس نے اسے ایک اجنبی شخص کے حوالے کر دیا تھا۔ اس اجنبی شخص کا نام حیدر تھا۔ حیدر ایمن کو اپنے گھر لے آتا ہے جہاں اس کی بی بی ایمن سے بہت محبت سے ملتی ہیں۔ ام ایمن، حیدر اور اس کی بی بی کے اچھے برتاؤ کی وجہ سے ان سے مانوس ہو جاتی ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے والد نے دوسری شادی کر لی تھی اور اس کا ایک بھائی بھی ہے اور اس کے والد ایک کامیاب بزنس مین ہیں تاہم ان سے ملنے کے اسے مایوسی ہی ہوتی ہے۔ ام ایمن کی حیدر سے اچھی دوستی ہو جاتی ہے وہ یونیورسٹی میں داخلہ لے لیتی ہے۔ پڑھائی میں اسے حیدر کی مدد حاصل ہوتی ہے اور وہ اچھے گریڈز لینے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔ ایمن کے والد اس کی تعلیمی کامیابیوں سے خوش ہوتے ہیں اور وہ ایمن کو توجہ دینے لگتے ہیں دوسری طرف ایمن حیدر کی محبت میں گرفتار ہو جاتی ہے۔ وہ اس کا اس اجنبی اور نئے شہر میں واحد دوست تھا جس نے اسے نئے ماحول میں سیٹ ہونے، اس کے والد اور اپنے بھائی کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے میں مدد دی اور وہ ہر قدم پہ اس کا مددگار اور قابل بھروسہ ساتھی رہا تاہم حیدر، عمر میں ام ایمن سے کافی بڑا تھا اور اس کی پہلے ایک شادی ہو چکی تھی جو ناکام رہی تھی۔ لیکن ام ایمن کی آنکھوں کے سارے خوابوں کا محور حیدر کی ذات ہی تھی۔ اس لو سٹوری کا انجام کیا ہوا، اس کے لئے تو ناول ہی پڑھنا پڑھے گا۔

میرے ہمدم میرے دوست، ایک ہلکا پھلکا رومانوی ناول ہے جو دو تین نشستوں میں باآسانی مکمل کیا جا سکتا ہے۔ ناول میں حیدر کا کردار ایک خیال رکھنے والا ، سلجھا ہوا اور سمجھدار شخص کا ہے جو فرحت اشتیاق کے ناولوں کی ایک اور خاصیت ہے۔ ناول کا آغاز جہاں ام ایمن کو اپنی والدہ کی وفات کے بعد گھر چھوڑنا پڑا اور ایک اجنبی شہر میں آنا پڑا اور اس کے بعد ہیروئن کی نئی زندگی کا آغاز ہوا، کسی نئے تاثر کا احساس پیدا نہیں کرتا۔ ایسا ہی ہم، ہم سفر میں بھی دیکھ اور پڑھ چکے ہیں جس میں بھی ہیروئن اپنی والدہ کی وفات کے بعد اپنا شہر چھوڑ کے کراچی آ جاتی ہے اپنے ماموں کے ساتھ رہنے کے لئے۔ دونوں ناولوں کی کہانی میں پیروئن کی زندگی کا یہ موڑ بالکل ایک جیسا ہے ان دونوں کے ساتھ “ایلس ان ونڈر لینڈ” جیسی صورتحال پیش آئی، لیکن یہ صورتحال ناول کے نئے پن اور سسپنس کو ختم کر دیتا ہے۔ ایک بڑی اور جانی مانی مصنفہ کے لکھے ہوئے ناولوں میں یہ تکرار اچھی محسوس نہیں ہوتی اور ایسا تاثر دیتی ہے کہ جیسے ان کے پاس خیالات کی کمی ہے یا کسی قسم کا جمود طاری ہے۔ ہمیں امید ہے آئندہ فرحت اشتیاق صاحبہ اس بات کی طرف توجہ دیں گی اور اپنی ہیروئن کی زندگی میں مزید ورائٹی لے کے آئیں گی۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے تہمینہ درانی کی کتاب “ہیپی تھنگز ان سورو ٹائمز* ” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ

  • Happy things in sorrow times by Tehmina Durrani

***************

فرحت اشتیاق کے قلم سے مزید

ہم سفر از فرحت اشتیاق

سفر کی شام از فرحت اشتیاق

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s