110-زاویہ سوم از اشفاق احمد

زاویہ سوم از اشفاق احمد

Zavia-3مصنف: اشفاق احمد

صنف: پاکستانی ادب، نان فکشن

صفحات: ۳۲۰

ناشر: سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور

ISBN: 969-35-1885-3

زاویہ اول اور زاویہ دوم کے بعد اب پیش خدمت ہے زاویہ سوم کا تعارف ۔ زاویہ سوم، زاویہ سیریز کی آخری کتاب ہے۔ حصہ اول اور حصہ دوم کی طرح یہ بھی اشفاق احمد صاحب کے ٹیلی ویژن پروگرام زاویہ کی اقساط کے متن پہ مشتمل ہے۔ اس پروگرام کا نام زاویہ کیوں رکھا گیا، اس بارے میں اشفاق احمد صاحب فرماتے ہیں،

’فرض کریں ماڈرن دنیا میں کسی قسم کا ایک ڈیرہ ہو، جس میں سائیکاٹرسٹ بیٹھا ہو، یا سائیکالوجسٹ ہو لیکن وہ فیس نہ لے، اس کے پاس وہ بنچ نہ ہو جس پہ لٹا کر انالسس کرتے ہیں بلکہ بچھانے کے لئے صف ہو۔ ایسا سامان ہو کہ آمنے سامنے بیٹھ کر بات کر سکیں تو ان ڈیروں کو، ان تکیوں کو شمالی افریقہ میں، الجزائر میں، تیونس میں ’زاویے‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان کو ’زاویہ‘ کہتے ہیں۔ کچھ رباط بھی کہتے ہیں لیکن زاویہ زیادہ مستعل ہے۔ حیران کن بات ہے ، باوجود اس کے کہ زاویہ ایک خاص اسم طرف مکان ہے شمالی افریقہ کا، لیکن اندلس کے زمانے میں اندلس کی سرزمین پر زاویے نہیں تھے۔ تیونس، الجزائر میں رباط تھے۔ یہاں صوفی لوگ بیٹھ کر لوگوں کو، آنے جانے والوں کو ایک چھت فراہم کرتے تھے۔ وہنے کے لئے جگہ دیتے تھے۔ کھانے کے لئے روٹی پانی دیتے تھے۔ کچھ دیر لوگ بیٹھتے تھے، دکھی لوگ آتے تھے، اپنا دکھ بیان کرتےتھے اور ان سے شفا حاصل کرکے ڈائیلاگ کرتے تھے۔ سچ مچ! سائیکالوجسٹ جوکہا کرتے ہیں، وہ مہیا کرتے تھے، ہم نے بھی اسی تقلید میں پروگرام کا نام زاویہ رکھا ہے۔ اس لحاظ سے تو مجھے تھوڑی سی شرمندگی ہے کہ یہ اصل زاویہ نہیں ہے ۔ نقل بمطابق اصل ہے لیکن روح اس کی وہی ہے۔ کوشش اس کی یہی ہے کہ اس طرح کی باتیں یہاں ہوتی رہیں اور طبیعیت کا بوجھ جو پروگراموں میں کالموں اور کتابوں سے دور نہیں ہوتا وہ کسی طور یہاں دور ہو سکے۔‘

اشفاق احمد صاحب اپنے مقصد میں یقیناًکامیاب رہے ہیں، اس بات کا اندازہ اس پروگرام کی مقبولیت سے لگایا جا سکتا ہے اور ساتھ ہی کتب کی مقبولیت سے بھی اندازہ ہوتا ہے جن کے کئی ایڈیشن اب تک مارکیٹ میں آ چکے ہیں۔ زاویہ پروگرام میں ہونے والی باتیں فیس بک پہ اچھی اور کام کی باتوں کے طور پہ پیش کی جاتی ہیں اور دور دراز کے لوگوں تک پہنچتی ہیں۔یہ ایک صدقہ جاریہ ہے اور ہمیں امید ہے کہ جیتنے زیادہ لوگ اس پروگرام میں پیش کی گئی اچھی باتوں سے مستفید ہوں گے اتنا ہی اشفاق احمد صاحب کے نامہ اعمال میں نیکیاں بڑھتی جائیں گی۔ زاویہ سوم میں جو ابواب موجود ہیں ان کے عنوانات یوں ہیں:

سب دا بھلا سب دی خیر، ناشکری کا عارضہ، بابا قطبہ، رویوں کی تبدیلی، لچھے والا، پناہ گاہیں، اصولوں کے ابلیس، پندرہ روپے کا نوٹ، دو بول محبت کے، وڈزم ٓف دی ایسٹ، خالی کینوس، لائٹ ؤس، پتنگ باز سجنا، بلیک اینڈ وائٹ، بلھے شاہ اساں مرنا ناہیں، ، فوک وزڈم، پچاس برس پہلے کی دعا، فرنٹ سیٹ، اللہ میاں کی لالٹین، واشنگٹن سے شکوے امریکنوں کے نام ، شاہی محلے کی ابابیلیں، وجود کا بچہ جمورا، ڈبو اور کالو، ہم زندہ قوم ہیں، ویلیوز اینڈ سینسر شپ، حرام بکرا، مسٹر بٹ سے اسلامی بم تک، روشنی کا سفر، تصوف اور کامیاب ازدواجی زندگی، بش اور بلیئر مت بنئے، ٹین کا خالی ڈبہ اور ہمارے معاملات، شہ رگ کا ڈرائنگ روم، کریڈٹ کارڈ رشتے، ڈیفینسو ویپن، قناعت پسندی، مرعوبیت، اندھا کنواں، خدا سے زیادہ جراثیموں کا خوف، ضمیر کا سگنل، سائنس مذہب اور نفس کی کھوج، محبت کی حقیقت، تاؤ، حقیقت اور ملا سائنسدان، اجرام سماوی کا جغرافیہ، کارڈئیک اریسٹ، دو گولی ڈسپرین اور یقین کامل، صاحب السیف، کلچر تھرڈ ورلڈ کے بادشاہ اور پیوند کاری، اٹھ فریدا ُستیا، سائنسی ملوکیت، علم فہم اور ہوش، کارپوریٹ سوسائٹی اینڈ پری میچور لونگ، انسان اور چوہا، روح کی سرگوشی، مرکز دعا، زاویہ سے زاویہ تک۔

ہمیں امید ہے کہ قارئین اس کتاب کے مطالعے کو مفید پائیں گے۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے فیودور دستوفیسکی کی کتاب “ہیومیلیٹڈ اینڈ انسلٹڈ * ” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

* Humiliated and insulted by Fyodor Dostoyevsky

***************

اشفاق احمد کے قلم سے مزید

زاویہ اول از اشفاق احمد

زاویہ دوم از اشفاق احمد

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s