109-یتی از کاشف زبیر

یتی از کاشف زبیر

Yatti by Kashif Zubairمصنف: کاشف زبیر

صنف: ناول، پاکستانی ادب

صفحات: ۱۳۲

ناشر: جاسوسی پبلی کیشنز لاہور، کتاب گھر ڈاٹ کام

یتی، بگ فٹ، آئس مین، برفانی آدمی یہ تمام نام ایک ہی مخلوق کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ انسانی نسل عرصے سے ایک ایسی مخلوق کی کہانیاں سنتی آئی ہے جو برفانی پہاڑوں پہ بستی ہے۔ بلند و بالا پہاڑوں کے نزدیک علاقوں میں رہنے والے کئی لوگوں نے برفانی آدمی کو دیکھنے کے واقعات کا ذکر کیا ہے خصوصاً کوہ ہمالیہ کے گرد و نواح میں رہنے والے لوگوں میں اس مخلوق کی کہانیاں بہت مشہور ہیں۔ برفانی انسان یا برفانی آدمی بین الاقوامی ادب میں ایک جانا مانا کردار ہے۔ بگ فٹ، یتی، آئس مین نامی کرداروں پہ مشتمل ایڈونچر، سسپنس تھرلرز وغیرہ اکثر منظر عام پہ آتے رہتے ہیں۔ پاپولر فکشن میں اس قدر مقبول ہونے کی وجہ سے سائنس دانوں اور ماہرین حیاتیات نے اس مخلوق کے سراغ کی بہت کوشش کی ہے لیکن تمام تر کوششوں کے باوجود ابھی تک برفانی انسان کی موجودگی کا کوئی حتمی ثبوت نہیں مل سکا۔ بہت سارے تحقیق کاروں کا خیال ہے کہ برفانی ریچھوں یا بھالوؤں کو ہی برفانی انسان سمجھنے کی غلطی کر لی جاتی ہے۔ یعنی برفانی انسان انسانی ذہن کی ایسی اختراع ہے جس کی ابھی تک تصدیق نہیں ہو سکی، اس کے باوجود بھی یتی کا کردار کہانیوں میں زندہ سلامت موجود ہے۔ جب برفانی انسان کے بارے میں دنیا بھر میں اتنی بحث جاری ہے تو ایسے میں پاکستانی مصنفین بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ کاشف زبیر ، جو ایک مشہور کہانی نویس ہیں، نے اسی موضوع پہ قلم اٹھایا ہے۔ انہوں نے اپنے ناول کا عنوان اسی مخلوق کے نام پہ رکھا ہے یعنی ’یتی‘۔

یتی غالباً کسی انگریزی ناول کی اردو ایڈاپٹیشن ہے یعنی ناول کے ماحول اور کرداروں کو روایتی ماحول سے ہم آہنگ کیا گیا ہے۔ ہم اس ناول کے اصل سے ناواقف ہیں اس لئے اس ناول کو کاشف زبیر صاحب کا نام ہی دے رہے ہیں۔ یتی ایک ایڈونچر ناول ہے۔ ناول کی کہانی ایسے مہم جو افراد کا قصہ بیان کرتی ہے جو ایک برفانی انسان کی تلاش میں تھے۔ ان افراد میں سے ایک ڈاکٹر احمد تھے جو حیاتیات کے شعبے میں ماہر تھے۔ وہ دنیا میں موجود معدوم ہوتی مخلوقات کے بارے میں ایک کتاب لکھ رہے تھے۔ اس کتاب کے نو ابواب مکمل ہو چکے تھے لیکن دسواں باب چاہنے کے باوجود بھی مکمل نہیں ہو سکا تھا۔ ڈاکٹر صاحب کے مطابق وہ یہ بات برفانی انسان کے متعلق لکھنا چاہتے تھے لیکن تمام تر تحقیق کے باوجود انہیں برفانی آدمی کے بارے میں کوئی حتمی بات معلوم نہیں ہو سکی تھی یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اس دسویں باب کے بنا ہی کتاب کو چھپوانے کا ارداہ کر لیا تھا۔ تاہم انہی دنوں میں میکزماں نامی ایک کوہ پیما اور آرکیالوجسٹ نے اپنے دورہ پاکستان کے بعد وہاں موجود برفانی انسان کی موجودگی کے بارے میں ایک پریس کانفرنس کی۔ میکزماں کا اس آدمی سے سامنا اس کی کوہ پیمائی کی مہم کے دوران ہوا تھا۔ اس نے اس کی کچھ تصویریں اتاری تھیں اور انہی کی بنا پہ اس نے پریس کے سامنے برفانی انسان کو دیکھنے کا دعویٰ کیا تھا۔ مریم ایک امریکی رپورٹر تھی۔ میکزماں کی پریس کانفرنس کے بعد اس کے ٹی وی چینل کی طرف سے اس معاملے کی کوریج اور ڈاکومینٹری بنانے کی ذمہ داری اسے سونپ دی گئی تھی۔ میکزماں اور ڈاکٹر احمد کی ملاقات کے دوران انہوں نے یہ طے کیا کہ برفانی انسان کے معاملے کو مزید نزدیک سے دیکھنے کے لئے وہ پھر سے پاکستان جائیں گے۔ ڈاکٹر احمد کو بھی اپنی کتاب کے دسویں باب کے مکمل ہونے کی امید پیدا ہو گئی تھی۔ میکزماں برفانی انسان کی انگلی کا ایک نمونہ اپنے ساتھ واپس لایا تھا۔ یہ نمونہ لیبارٹری میں بھجوا یا گیا، تاہم اس نمونے میں ایسے جراثیم پائے گئے جو نسل انسانی کے لئے بےحد خطرناک تھے یہی وجہ تھی کہ اس پوری لیبارٹری کو جلا دیا گیا تاکہ اس جرثومے کے خطرے سے بچا جا سکے۔ یہ تین افراد پاکستان پہنچ گئے۔ ڈاکٹر احمد اور میکزماں ایک ٹیم میں تھے جبکہ مریم اپنی ٹی وی کی ٹیم کے ساتھ علیحدہ تھی۔ ڈاکٹر احمد کی ٹیم میں کچھ اور لوگ بھی تھے جو بظاہر تو برفانی انسان کی تلاش میں آئے تھے تاہم اس تلاش سے ان کا مقصد کسی اور طرح کا فائدہ اٹھانا تھا۔ ان تینوں افراد کی برفانی انسان کی تلاش کس طرح ٓگے بڑھی اور یہ گتھی کس طرح سلجھی، آیا سلجھی بھی یا نہیں۔۔ یہ جاننے کے لئے تو ناول ہی پڑھنا پڑھے گا۔

ناول کی کہانی اچھی ہے اور سسپنس مناسب رفتار سے آگے بڑھتا ہے۔ جلد ہی قاری خود کو کہانی کے تانوں بانوں میں گرفتار پاتا ہے اور جاننا چاہتا ہے کہ برفانی انسان کی اصل حقیقت کیا ہے۔ پہاڑوں کے دامن سے نکلی ہوئی اس کہانی کی فضا بہت صاف ستھری اور شفاف محسوس ہوتی ہے۔ قاری خود کو انہی پہاڑوں کے دامن میں محسوس کرتا ہے جہاں ناول کے کردار موجود تھے۔ برفانی انسان کے موضوع میں دلچسپی رکھنے والوں کے لئے ایک اچھا ناول ہے۔یہ ناول آن لائن کتابوں کی ویب سائٹ کتاب گھر پہ مفت مطالعے کے لئے دستیاب ہے۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے اشفاق احمد کی کتاب “زاویہ سوم ” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s