108- جو چلے تو جان سے گزر گئے از ماہا ملک

جو چلے تو جان سے گزر گئے از ماہا ملک

Jo chaley tou jaan sey guzer gayeمصنفہ : ماہا ملک

صنف: ناول، پاکستانی ادب

صفحات: ۱۶۳

ماہا ملک صاحبہ خواتین کے لئے چھپنے والے ڈائجسٹس کی ممتاز مصنفہ ہیں۔ آپ کے قلم سے کئی ناول نکل چکے ہیں اور ملک گیر شہرت حاصل کر چکے ہیں۔ آپ کے کئی ناولوں پہ ڈرامے بھی بنائے جا چکے ہیں۔’ جو چلے تو جان سے گزر گئے ‘ کی بھی ڈراماٹائزیشن ہو چکی ہے۔ یہ ماہا کے قلم سے نکلا ہوا کافی پرانا ناول ہے جس نےاس وقت مقبولیت کے بےپناہ ریکارڈ قائم کئے ۔

’جو چلے تو جان سے گزر گئے‘ بنیادی طور پہ ایک رومانوی کہانی ہے جس میں شدت پسندی کا عنصر غالب ہے۔ ناول میں بیان کی گئی کہانی کتنی اصل ہو سکتی ہے ، کی بحث میں پڑے بغیر اس کی کہانی پہ بات کی جائے تو یہ بنیادی طور پہ تین کرداروں کے گرد گھومتی ہے۔ سید عالم شاہ، جس کی ناول میں آمد تو ولن کے طور پہ اور ایک منفی کردار کے طور پہ ہوئی تھی لیکن انجام تک پہنچتے پہنچتے وہ ہیرو کا روپ دھار گیا۔ آذر، ناول کا ہیرو، جو ہیروئن کا کزن تھا اور منگیتر بھی۔ اور ضوفشاں! ضوفشاں کہانی کی ہیروئن تھی جو آزر کے لئے اجالا اور سید عالم شاہ کے لئے روشنی تھی۔ ضوفشاں اور آذر آپس میں منسوب تھے اور ایک دوسرے کو پسند بھی کرتے تھے۔ ضوفشاں اعلیٰ اخلاق کی حامل ایک خوبصورت لڑکی تھی جسے سید عالم شاہ نے جب دیکھا تو اپنا دل ہار گیا۔ سید عالم شاہ ایک امیرزادہ تھا۔شراب پینا، عورتیں بلانا جیسے قبیح کا م اس کی زندگی کا معمول تھے۔ اس نے آذر کو اغوا کروا لیا اور اس شرط پہ رہا کیا کہ ضوفشاں آذر کے ساتھ نہیں بلکہ سید عالم شاہ سے شادی کرے گی۔ ضوفشاں نے سید عالم شہاہ کے رشتے کے لئے ہاں کہ دی ۔ اس کے گھر والوں کو ایسا محسوس ہوا کہ وہ اس کی دولت سے متاثر ہو کے شادی کے لئے رضامند ہوگئی ہے لیکن اصل بات کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ ایسا اس نے آذر کی جان بچانے کے لئے کیا ہے۔ ضوفشاں اور سید عالم شاہ کی شادی ہو گئی۔ شادی کے بعد سید عالم شاہ نے ضوفشاں کو اپنی محبت کی داستان سنائی لیکن ساتھ ہی اسے یہ بھی کہا کہ اگر اسے اس سے محبت نہیں ہے تو اس بارے میں اس سے جھوٹ نہ بولے بلکہ وہ اس وقت کا انتظار کرے گا جب اسے محبت ہو جائے گی۔ وقت کی گاڑی چل پڑی، آذر ملک سے باہر چلا گیا، ضوفشاں نے سید عالم شاہ کی کئی بری عادتیں چھڑوا دیں۔ وہ ایک نارمل گھریلو زندگی گزارنے لگے کہ ایک دن سید عالم شاہ کا حادثہ ہو گیا جس کی وجہ سے وہ چلنے پھرنے سے محروم ہو گیا۔ ضوفشاں نے ایک اچھی بیوی کی طرح اس کی خدمت کی لیکن سید عالم شاہ کو اپنی تمام زیادتیاں یاد آنے لگیں۔ اسے پہلی مرتبہ یہ احساس ہوا کہ اس نے ضوفشاں کے ساتھ زیادتی کی ہے۔ اسے یہ بھی شک تھا کہ وہ شاید ابھی تک اپنے کزن سے محبت کرتی ہے۔ اس کی سوچیں گھمبیر ہوتی چلی گئیں اور ایک دن اس نے خود کشی کر لی اور یہ وصیت کی کہ ضوفشاں آذر سے شادی کر لے لیکن تب تک ضوفشاں، خود سید عالم شاہ کی محبت میں گرفتار ہو چکی تھی۔

ناول ایک ٹریجیڈی ہے۔ اس کا اختتام سید عالم شاہ کی قبر پہ لکھی عبارت پہ ہوتا ہے ،’سید عالم شاہ، وہ عمر جس کی ماروی کو اس سے محبت ہو گئی‘۔ ضوفشاں کی کہانی کسی خواب کی طرح معلوم ہوتی ہے۔ سید عالم شاہ کا کردار بھرپور حساسیت لئے ہوئے ہے۔ ایک طرف وہ ایک بگڑا ہوا امیر ذادہ ہے وہیں ایک معصوم بچہ ہے جو اپنی ماں سے محروم ہے اور تیسری طرف ایسا عاشق جو اپنے معشوق کے اپنی طر ف پلٹنے کا منتظر ہے لیکن اس کے منہ سے اپنی محبت کا جھوٹا اعتراف سننے کو تیار نہیں تھا۔ سید عالم شاہ کا کردار اپنی تمام تر برائیوں سمیت جہاں ضوفشاں کے دل میں اتر گیا تھا وہیں یہ اپنے قارئین کو متاثر کرنے میں بھی کامیاب رہا ہے۔رومانوی کہانیوں کے شائقین کے لئے یہ ایک اچھی کتاب ہے۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے کاشف زبیر کی کتاب “یتی ” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

Advertisements

2 thoughts on “108- جو چلے تو جان سے گزر گئے از ماہا ملک”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s