107-The reluctant fundamentalist by Mohsin Hamid

The reluctant fundamentalist by Mohsin Hamid

ReluctantFundamentalistمصنف: محسن حامد

صنف: ناول، پاکستانی ادب

زبان: انگریزی

صفحات: ۲۰۰

سن اشاعت: ۲۰۰۷

محسن حامد پاکستانی ادیب ہیں جنہیں سن ۲۰۰۰ میں لکھے اپنے پہلے انگریزی ناول ’موتھ اسموک‘ کی وجہ سے بہت شہرت حاصل ہوئی۔ آپ کا دوسرا ناول ’دی ریلکٹنٹ فنڈامینٹلسٹ‘ جو آج کا ہمارا موضوع ہے ، نے بھی کامیابی کے نئے جھنڈے گاڑے۔ گزشتہ سال آپ کا تیسرا ناول بھی منظر عام پہ آیا ہے اور اس نے بھی بہت مقبولیت حاصل کی ہے۔آپ کے ناولوں کو بکر پرائز کے لئے شارٹ لسٹ بھی کیا گیا ہے۔ ٓپ کے ناولوں پہ فلمیں بھی بنائی جا رہی ہیں ۔ محسن حامد نے اپنی آدھی سے زیادہ زندگی پاکستان اور خصوصاً لاہور میں گزاری ہے۔ تاہم آپ کا بچپن امریکی شہر کیلی فورنیا میں گزرا ہے۔ آپ نے ہاورڈ اور پرسٹن یونیورسٹی سے تعلیم بھی حاصل کی ہے۔ کتابستان آج آپ کی کتاب کا تعارف و تبصرہ پیش کرتے ہوئے خوشی محسوس کر رہا ہے۔

ریلکٹنٹ فنڈامینٹلسٹ کا مرکزی کردار ایک باریش نوجوان ہے جس کا نام چنگیز ہے۔ یہ ناول اس نوجوان کی ایک شام کی کہانی ہے جو وہ لاہور شہر میں ایک اجنبی کے ساتھ گزارتا ہے۔ اس ملاقات کے دوران چنگیز، اس اجنبی نوجوان کو اپنی زندگی کی کہانی سناتا ہے۔ وہ اسے بتاتا ہے کہ وہ ایک ذہین اور ہونہار طالبعلم تھا اس نے فائنینس میں پرسٹن سے ڈگری حاصل کی ہے۔ اس ڈگری کے حصول کے بعد اسے ایک فرم میں بہت اچھی نوکری مل گئی تھی۔ اس کام کے دوران اسے دنیا کے مختلف ممالک میں جانے کا موقع ملا۔ اپنی چھٹیوں کے دوران اس کی ملاقات ایریکا سے ہوئی، جو ایک مصنفہ تھی۔ وہ ایریکا میں دلچسپی محسوس کرتا ہے لیکن ایریکا اپنے ایک دوست کرس کی موت کا غم منا رہی تھی اس لئے ان کے تعلقات پروان نہیں چڑھ سکے۔ چنگیز ، ایریکا کو سمجھاتا ہے کہ وہ اسے کرس ہی سمجھے۔ اس طرح وہ ایریکا کے نزدیک آ جاتا ہے، وہ اس بات پہ خوش ہوتا ہے لیکن ایریکا پہ کوئی اثر نہیں ہوتا۔ ایریکا اور چنگیز کا تعلق ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ عرصے کے بعد اسے معلوم ہوتا ہے کہ ایریکا نے خو د کو ایک مینٹل ہاسپٹل میں داخل کروا دیا ہے۔ پھر ایک دن ایک دریا کے کنارے اس کے کپڑے ملتے ہیں لیکن ایریکا کا کچھ معلوم نہیں ہوتا، دریا سے اس کی باڈی بھی نہیں مل پاتی جس کی وجہ سے اسے گمشدہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ دوسری طرف اپنی جاب میں چنگیز کی کارکردگی بہت عمدہ تھی جس کی وجہ سے اس کی ترقی کے امکانات بہت روشن تھے۔ انہی دنوں امریکا میںٴْ۹۔۱۱ کا واقعہ پیش آتا ہے۔ اس واقعے کے نتیجے میں کئی امریکی مسلمانوں کو نوکری سے ہاتھ دھونے پڑے، کئی لوگوں کو ملک چھوڑنا پڑا، تاہم چنگیز کے ساتھ ایسا نہیں ہوا، وہ امریکی معاشرے میں ایک اہم مقام کا حامل تھا اور اس کی پوزیشن پہ فرق نہیں پڑا۔ تاہم اسے اپنے اردگرد کے لوگوں کے رویوں میں فرق محسوس ہونا شروع ہو گیا۔ اس کے بعد بمبئی حملوں کے واقعے کے بعد جب اس نے امریکی حکومت کا رویہ دیکھا تو اس کا دل اچاٹ ہو گیا۔ اس نے اپنی نوکری سے استعفیٰ دے دیا اور پاکستان واپس آ گیا جہاں وہ ایک یونیورسٹی میں پڑھانے لگ گیا۔ دنیا کے مختلف معاملات پہ اس کی رائے کو اس کے طالبعلم قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ چنگیز عدم تشدد کا پرچاری تھا۔ لیکن اس کے کچھ شاگرد ایک امریکی پہ تشدد کے معاملے میں ملوث ہو گئے۔ اس وجہ سے چنگیز بھی توجہ کا مرکز بن گیا۔ ایک ٹی وی پروگرام میں چنگیز نے کھل کے امریکی اقدامات کی مذمت کی۔ اس کے اردگرد کے لوگوں کو ایسا محسوس ہونے لگا کہ اس کی تقریر کی بنا پہ اسے جلد ہی قتل کر دیا جائے گا۔ ناول کے اختتام پہ چنگیز اس اجنبی کو اس کے ہوٹل چھوڑنے جاتا ہے جہاں وہ اجنبی ایک دھاتی چیزاپنی جیب سے نکالتا ہے۔ وہ دھاتی چیز بس کارڈ بھی ہو سکتا تھا اور ایک ریوالور بھی۔ ناول یہاں ختم ہو جاتا ہے۔ مصنف اس بات کی وضاحت نہیں کرتا کہ وہ دھاتی چیز کیا تھی، آیا وہ اجنبی چنگیز کو مارنےآیا تھا یا نہیں، آیا وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوا یا نہیں، ان سب سوالات کے جوابات مصنف نے قاری کی اپنی صوابدید پہ چھوڑ دیا ہے۔

ناول کی خاص بات اس کی سادگی میں ہے۔ ۹۔۱۱ کے واقعے کے بعد مسلمانوں کے احساسات و جذبات میں آنے والی تبدیلی کی عکاسی ہے۔ یہ ناول واضح کرتا ہے کہ کس طرح امریکی رویے نے ایک روشن خیال اور قابل انسان کو ایک بنیاد پرست انسان میں مبتلا کر دیا۔ اس ناول میں ایسے شخص کے جذبات کی عکاسی کی گئی ہے جو اس قوم کی خدمت کر رہا تھا جو اس کے اپنے ملک کے باشندوں کے لئے ان کی زندگی مشکل بنا رہا تھا۔ ناول میں عالمی سیاسی حالات کے عام انسانوں پہ ہونے والے اثرات کی نمائندگی کی گئی ہے۔ محسن حامد کا یہ ناول بہت حقیقی محسوس ہوتا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ کتابستان کے قارئین اس ناول کو دلچسپ پائیں گے۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتےماہا ملک کی کتاب “جو چلے تو جاں سے گزر گئے ” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s