106- کان کن از علیم الحق حقی

کان کن از علیم الحق حقی

Kankun_Aleem-ul-Haq Haqqiمصنف: علیم الحق حقی

صنف: ناول، اردو ادب، پاکستانی ادب

صفحات: 179

ناشر: مکتبہ القریش، لاہور

کان کن علیم الحق حقی صاحب کی تحریر ہے۔ علیم صاحب کی کتب پہ پہلے بھی بات ہوئی ہے۔ آپ کو اگر ایک عوامی مصنف کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ آپ کی تقریباً تمام کتب ہی عوامی پسندیدگی کی سند پاتی ہیں۔ حقی صاحب کی اکثر کتب بین الاقوامی کتب سے متاثر شدہ یا ان کا ترجمہ ہوتی ہیں لیکن آپ ان اجنبی کرداروں اور ماحول کو دیسی انداز میں ڈھال لیتے ہیں۔ آپ کے لکھنے کا انداز سادہ اور سلیس ہے جس کی وجہ سے کہانی ایک عام قاری کے ذہن پہ پھسلتی جاتی ہے اور اسے کہانی اور کرداروں سے تعلق بنانے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔کان کن بھی ایک ایسی ہی کتاب ہے، ہمیں اس کتاب کے اصل کے بارے میں علم نہیں، اگر کوئی قاری اس بارے میں معلومات دیں گے تو ہم اسے اپنے تبصرے میں شامل کر لیں۔

کانیں، زمین سے معدنیات نکالنے کے لئے استعمال ہوتی ہیں۔ ان معدنیات کو نکالنے کے لئے زیر زمین جانا پڑتا ہے۔ یہ ایک خطرناک کام ہے اور اکثر کانوں میں ہونے والے حادثات کی خبریں بھی آتی رہتی ہیں۔ تاہم ہم جیسے عام لوگ ان خطرات اور مشکلات سے بالکل بھی آگاہ نہیں ہوتے یا بہت کم معلومات رکھتے ہیں، جس سے ایک کان کن دوچار ہوتا ہے۔ ایسے میں ایک کان کن کے بارے میں لکھی جانے والی یہ کہانی کافی دلچسپ معلوم ہوتی ہے۔

علیم الحق صاحب کا یہ ناول قاری کو ایک کان کن کی زندگی میں لے جاتا ہے جو غربت اور مشکلات سے بھری ہے۔ اس نے ہوش سنبھالتے ہی اپنے اردگرد سب لوگوں کو کان میں کام کرتے دیکھا ہے۔ اس کے علاقے میں کان ہی روزگار کا واحد وسیلہ ہے جو آئے دن لوگوں کی جان لیتی رہتی ہے۔ اگر کوئی خوش قسمت کان کن، کان کے حادثے سے بچ جائے تو کان میں کام کرنے کی وجہ سے اس کے پھیپڑے ناکارہ ہو جاتے ہیں۔ اس بستی میں عمومی عمر 30 سال کے لگ بھگ ہی ہے۔ ناول کے مرکزی کردار کا نام راشد ہے، جو ایک کان کن کا بیٹا ہے تاہم وہ ایک تیز لڑکا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ کان کے مالک نے اسے انجینئرنگ کی تعلیم دینے کے لئے ایک دوسری جگہ بھجوا دیا۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد جب وہ واپس آیا تو اس نے اپنے علاقے اور کان کی بہتری کے لئے کام کرنا شروع کیا جس سے مالکان کو بھی فائدہ ہوا اور اس علاقے کے کان کنوں کو بھی۔ اس وجہ سے اسے مخالفین کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو اسے مشکلات میں پھنساتے ہیں۔ اس کی محبت کی کہانی بھی ساتھ ساتھ چلتی ہے، کہانی کے اختتام پہ وہ اپنی محبت حاصل کر لیتا ہے اور اپنے مخالفین کو ہرانے میں بھی کامیاب ہو جاتا ہے۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتےمحسن حامد کی کتاب “دی ریلکٹنٹ فنڈامنٹلسٹ * ” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

* The reluctant fundamentalist by Mohsin Hamid

***************

علیم الحق حقی کے قلم سے مزید

دجال از علیم الحق حقی

چوتھی سمت از علیم الحق حقی

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s