105- Evidence of afterlife: The science of near death experiences by Jeffrey Long, MD with Paul Perry

Evidence of afterlife: The science of near death experiences by Jeffrey Long, MD with Paul Perry

evidence_of_the_afterlifeمصنف: جیفرے لانگ، پال پیری

صنف: نان فکشن، تحقیقی ، سائنسی

صفحات: ۲۳۴

ناشر: ہارپر کولنز ای بکس

سن اشاعت: ۲۰۱۰

موت انسانی زندگی کی ایک اٹل حقیقت ہے۔ اس دنیا میں آنے والی ہر روح کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ ہر زندگی اپنی پیدائش سے شروع ہوتی ہے اور موت پہ جا کے اس کا اختتا م ہوتا ہے۔ موت کے بعد کیا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا حتمی جواب کسی کے پاس نہیں، کیونکہ مرنے والا کبھی لوٹ کے واپس نہیں آیا۔ موت کی حقیقت کے بارے میں دنیا کے مختلف عقائد کے ماننے والوں کے مختلف خیالات ہیں۔ کچھ عقائد میں مرنے کے بعد دوسرے جنم کا تصور ہے۔ ان لوگوں کا ماننا ہے کہ مرنے والا ایک نیا جنم لے کے دنیا میں واپس آجاتا ہے۔ اس نئے جنم میں اسے کس طرح کی زندگی ملے گی اس کی بنیاد اس کے گزشتہ جنم میں کئے گئے اعمال پہ ہو گی۔ اور یہ سلسلہ اس روح کے سات جنموں تک چلتا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مرنے کے بعد کوئی زندگی نہیں، کوئی نیا جنم نہیں لیا جاتا، یہ دنیا کی زندگی ہی ہے جو سب کچھ ہے، مرنے کے بعد کچھ نہیں۔ تاہم یہ اعتقادات کی باتیں ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سائنس بھی اس موضوع میں دلچسپی رکھتی ہے وہ بھی اس سوال کا جواب لگانے کی کوشش کر رہی ہے کہ مرنے کے بعد کیا ہوتا ہے، یا موت کیا ہے، کیا یہ زندگی کا اختتام ہے یا سفر کی ایک منزل کی طرف روانگی ہے۔ کتابستا ن میں آج اسی موضوع کے بارے میں بات کرنے کے لکھی گئی ایک سائنسی تحقیقی کتاب منتخب کی گئی ہے۔ اس کتاب کا اردو عنوان ’حیات بعدالموت کے شواہد‘ ہو سکتا ہے۔ یہ کتاب میڈیکل ڈاکٹر جیفرے لانگ صاحب کی تحریر کردہ ہے اور اس کام میں ان کی مدد پیری پال نے کی ہے۔
کتابستان میں اس موضوع پہ پہلے بھی کچھ کتب پیش کی جا چکی ہیں جن میں موت کی حقیقت مذہبی نقطہ نظر سے پیش کی گئی ہے۔ ان کتب کے عنوانات ہیں:

سراغ زندگی از اوشو

دنیا کے اس پار از مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

آج کی اس کتاب میں اس موضوع پہ موجود سائنسی حقائق پہ بات کی گئی ہے۔ مرتے ہوئے لوگوں کے بارے میں ہم میں سے اکثر لوگوں نے سنا ہوگا کہ انہیں مردے لینے آتے ہیں یا مرنے والے کو مرتے وقت اس کی پوری زندگی دکھائی جاتی ہے وغیرہ۔۔ یہ تمام باتیں اب سائنسی حقیقت کے طور پہ سامنے آئی ہیں ۔کسی مرنے کے قریب شخص کو جو کچھ پیش آتا ہے اسے سائنس نے ’نئیر ڈیتھ ایکسپیرئینس‘ یعنی مرنے کے قریب حاصل ہونے والے تجربات کا نام دیا ہے۔ تاہم یہ تجربات کسی لیبارٹری میں حاصل نہیں کئے جاتے بلکہ یہ کسی مرتے ہوئے شخص کو حقیقی طور پہ پیش آتے ہیں۔ سائنسی ترقی کی وجہ سے موجودہ دور میں خطرناک حادثات کے نتیجے میں ہونے والے زخمیوں اور شدید بیمار لوگوں کو بھی بچا لیا جاتا ہے۔ ایسے لوگوں میں سے کئی لوگ اپنے علاج کے دوران زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہوتے ہیں، کئی موت کی دہلیز تک پہنچ کے واپس آتے ہیں۔ ایسے واپس آنے والے کچھ لوگ موت کی دہلیز سے کچھ یاداشتیں بھی چرا لاتے ہیں۔ انہی یادداشتوں کی مدد سے سائنسدان موت کی حقیقت جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔

’ایویڈنس آف آفٹر لائف‘ میں مصنف نے ایسے ہی موت کی دہلیز سے واپس آنے والے لوگوں سے سوالات کرکے معلومات اکھٹی کی ہیں۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے انٹرنیٹ پہ ایک ویب سائٹ بنائی ہے جس تک دنیا بھر کے لوگوں کی رسائی ہے۔ اس ویب سائٹ پہ ایسے لوگوں کو جو موت کی دہلیز سے واپس آئے ہیں، کو اپنے تجربات بیان کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ انہیں ایک سوالنامہ بھرنا پڑتا ہے جس میں وہ تحقیق کاروں کے سوالات کے جوابات دیتے ہیں۔ یہ جوابات بعد میں ویب سائٹ پہ اپ لوڈ کر دئے جاتے ہیں اور ساتھ ہی تحقیق کے مقصد کے لئے بھی استعمال ہوتے ہیں۔ مصنف کے مطابق اس طریقے سے وہ دنیا کی سب سے بڑی ڈیٹا بیس بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ اور ان کی تحقیق کے نتائج ایک بہت بڑے سیمپل سائز کی بنیاد پہ پیش کئے گئے ہیں۔ ڈیٹا کی اتھارٹی اور درستگی کے بارے میں کتاب کے آغاز میں مصنف نے ایک باب لکھا ہے اور وہ دلائل دئے ہیں جو ان کے ڈیٹا کی درستگی اور اس سے اخذ کئے گئے نتائج کے قابل اعتبار ہونے کی سند دیتے ہیں۔ تحقیق کاروں کے مطابق موت کی دہلیز سے واپس ٓنے والے لوگوں کو بارہ مختلف طرح کے تجربات ہوتے ہیں:

روح اور جسم کی علیحدگی، حسیات کا بہتر طور پہ کام کرنا، مثبت احساسات اور خیالات، سرنگ کا سفر، کسی روشنی یا پراسرار روح سے ملاقات، کسی اور زماں و مکاں میں موجودگی کا احساس، زندگی کا جائزہ، غیر زمینی احساسات اور حقائق سے آگاہی، کسی خاص بات کا علم حاصل ہونا، کسی حد کا پابند نہ ہونا، اپنے مادی جسم میں واپسی۔

اس کتاب میں ان تمام بارہ تجربات کے بارے میں الگ الگ اور تفصیلی بات کی گئی ہے۔ مصنفین نے مختلف لوگوں کے تجربات کی کہانیاں پیش کی ہیں جن کی مدد سے انہوں نے ان تجربات کو واضح کیا ہے۔ ان تجربات میں ہر مذہب اور ہر خطے کے افراد کے تجربات پیش کئے گئے ہیں۔ اور مصنف کے مطابق موت کی دہلیز سے واپس آنے والے لوگوں کے تجربات مذہب، رنگ نسل، علاقے کی تفریق کے بنا حیرت انگیز طور پہ یکساں ہوتے ہیں۔ اس لئے ان کا کہنا ہے کہ ان تجربات اور نتائج کی یقیناً ایک حقیقت ہے۔ گو یہ تحقیق ابھی ابتدائی دور میں ہے اور سائنس کو اس ضمن میں بہت کام کرنا ہے تاہم ابھی تک کے سائنس جہاں تک پہنچی ہے یہ کتاب اس کے بارے میں جاننے کے لئے اچھی ہے۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے علیم الحق حقی کی کتاب “کان کن ” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s