104- Not a penny more, not a penny less by Jeffrey Archer

Not a penny more, not a penny less by Jeffrey Archer

not-a-penny-more-not-a-penny-less مصنف: جیفری آرچر

صنف:  ناول،انگریزی ادب

سن اشاعت: ۱۹۷۶

ناٹ اے پینی مور، ناٹ اے پینی لیس، جس کا اردو ترجمہ ’نہ ایک پیسہ زیادہ ، نہ ایک پیسہ کم‘ ہو سکتا ہے، مصنف جیفری آرچر کا پہلا ناول ہے۔ یہ ایک سسپنس تھرلر ناول ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کی کہانی جیفری آرچر کی ذاتی زندگی سے اٹھائی گئی ہے۔ آرچر ایک انگریز مصنف اور سیاستدان ہیں۔ مصنف بننے سے پہلے آپ پارلیمنٹ کے ممبر تھے۔ تاہم مالی بےضابطگیوں کے اسکینڈلز کی وجہ سے آپ کو استعفیٰ دینا پڑا۔ آپ کے پہلے ناول نے ہی بے انتہا کامیابی حاصل کی اور آپ کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا۔ اس ناول کی بعد ازاں پکچرائزیشن بھی کئی گئی۔ آرچر نے اس کے بعد کئی ناول لکھے جنہوں نے بہت کامیابی حاصل کی۔

ناٹ اے پینی مور، ناٹ اے پینی لیس، چار اجنبیوں کی کہانی ہے جو ایک دوسرے سے ناواقف تھے، تاہم ایک ناخوشگوار واقعے نے ان چاروں کو اکھٹا کر دیا۔ یہ واقعہ ایک فراڈ کا واقعہ تھا جس نے ان چاروں کو ان کی تمام جمع شدہ دولت سے محروم کر دیا تھا۔ یہ چار عام افراد تھے جن میں سے ایک ریاضی کا استاد تھا، ایک مصور، ایک ڈاکٹر اور ایک انگریز لارڈ تھا۔ ان چاروں افراد نے ایک آئل کمپنی کے شئیرز خریدے تھے جس کے متعلق یہ خبریں پھیلائی جا رہی تھیں کہ اس نے تیل کا ایک بڑا ذخیرہ دریافت کر لیا ہے۔ اس کمپنی کے شئیرز کی قیمت دن بہ دن بڑھ رہی تھی گرچہ کوئی بھی قیمت کے اس چڑھاؤ کی وجہ سے آگاہ نہیں تھا لیکن پھر بھی ان چار افراد نے مارکیٹ ٹرینڈ دیکھتے ہوئے شئیرز مہنگے داموں خرید لئے، اس امید پہ کہ آئیندہ دنوں میں انہیں بہتر منافع پہ بیچ دیں گے۔ مارکیٹ میں شئیرز کے اس مصنوعی چڑھاؤ کے پیچھے ایک شخص تھا جس کا نام ہاروے میٹ کاف تھا۔ یہی کردار اس ناول کا ولن ہے۔ اس شخص کی کہانی آرچر نے ناول میں بہت تفصیلی بیان کی ہے، اس لئے ہم اس کا یہا ں ذکر نہیں کر رہے، قاری ناول کے مطالعے کے دوران اس سے آگاہ ہو جائیں گے ۔ ہاورے میٹ کاف کے فراڈ کے نتیجے میں چار افراد اپنی تمام جمع پونجی سے ہاتھ دھو بیٹھے، تاہم وہ آپس میں مل بیٹھے اور انہوں نے طے کیا کہ وہ ہاروے سے اپنی لوٹی ہوئی رقم واپس حاصل کریں گے۔ رقم کے حصول کے لئے انہوں نے یہ اصول اپنایا کہ وہ ہاروے میٹ کاف سے صرف اتنی رقم ہی واپس حاصل کریں گے جتنا ان کا نقصان ہوا ہے، اصل رقم سے نہ تو ایک پینی زیادہ وصول کیا جائے گا اور نہ ہی کم۔ یہی اصول اس ناول کا عنوان بھی ہے۔ اس رقم کی وصولی کے ان چاروں لوگوں نے چار مختلف پلان بنائے ۔ آیا وہ پلان کامیاب ہوئے یا ہاروے میٹ کاف کو ان کے ارادوں کا علم ہوا، یہ جاننے کے لئے تو ناول ہی پڑھنا پڑے گا۔

 

ناول کا تھرل اور سسپنس عمدہ ہے۔ یہ آغاز سے ہی قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ چاروں مرکزی کردار کیونکہ عام زندگی سے اٹھائے گئے ہیں، اس لئے پلانز پہ عمل درآمد کے دوران ان کی بوکھلاہٹ بہت حقیقی محسوس ہوتی ہے اور کئی مقام پہ قاری اپنی ہنسی پہ قابو نہیں رکھ پاتا۔ کہانی کا نقطہ عروج بہت کمال کا ہے اور بہت غیر متوقع ہے۔ یہ کہنا بےجا نہیں ہوگا کہ مصنف ناول کا سسپنس برقرار رکھنے میں مکمل طور پہ کامیاب رہے ہیں۔ تاہم ناول کا ولن اتنا شاندار نہیں ہے جتنا شاندار سڈنی شیلڈن کے ناول کا کوئی ولن ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود بھی یہ ناول پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتےجیفرے لانگ کی کتاب “ایویڈینس آف آفٹر لائف* ” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

  • Evidence of afterlife: The science of near death experiences by Jeffery Long, MD
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s