103- اندھیروں کے قافلے از خان آصف

اندھیروں کے قافلے از خان آصف

Andheron k kafleمصنف: خان آصف

صنف: تاریخی ناول، پاکستانی ادب، اردو ادب

صفحات: 455

قیمت: 600 روپے

ناشر: القریش پبلی کیشنز لاہور

ISBN: 9789696022114

خان آصف اسلامی تاریخ کے دریچوں سے کہانیاں نکال کے لانے کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔ آپ کے قلم سے کئی تاریخی ناول نکل چکے ہیں۔ آپ نے مسلمان اولیاء اور بزرگوں کی زندگی کے واقعات بھی دلچسپ کہانیوں کی صورت میں پیش کئے ہیں۔ آپ کی یہ تحاریر ہفت روزہ اخبار جہاں میں بڑی باقاعدگی سے چھپتی رہی ہیں جن میں سے اکثریت نے نا صرف بےپناہ مقبولیت حاصل کی بلکہ یہ دلوں میں ایمان کی گرمی جگانے کا باعث بھی بن گئیں۔ خان آصف صاحب کی مقبول کتب میں اللہ کے ولی، اللہ کے سفیر، دلوں کے مسیحا، سفیرانِ حرم، وغیرہ شامل ہیں۔

اندھیروں کے قافلے، خان آصف صاحب کے دیگر ناولوں کی طرح اخبار جہاں میں قسط وار شائع ہوتا رہا تھا۔ آپ کی وفات کے بعد آپ کی صاحبزادی نے اس ناول کو کتابی شکل میں پیش کیا ہے جسے القریش پبلی کیشنز نے شائع کیا ہے۔ کتاب اخباری کاغذ پہ شائع کی گئی ہے، لیکن سرورق عمدہ ہے۔ ہمارا عام مشاہدہ ہے کہ ناشر ناولوں کے سرورق پہ زیادہ محنت نہیں کرتے۔ اکثر اوقات سرورق کہانی سے مطابقت بھی نہیں رکھتے بلکہ زیادہ تر تو کسی خاتون کی تصویر لگا کے کام چلا لیا جاتا ہے جو کتاب کی خوبصورتی اور موضوع کو متاثر کرتا ہے اور اچھے سے اچھی کتاب بھی سرورق کے سطحی پن کا شکار ہو جاتی ہے۔ اس بات کا یہاں ذکر کرنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ گرچہ اندھیروں کے قافلے، مصنف کی صاحبزادی کے بقول ایک رومانوی ناول ہے تاہم سرورق پہ کسی دوشیزہ کی دلربا تصویر نہیں ہے بلکہ سرورق پہ صحرا سے گزرتے ہوئے ایک قافلے کی تصویر ہے جو کہ ناول کے عنوان سے مطابقت رکھتی ہے اور قاری پہ اچھا اثر چھوڑتی ہے۔

اندھیروں کے قافلے ایک یتیم نوجوان کی زندگی کی داستان ہے۔ ناول کی سیٹنگ مسلمان بادشاہ غیاث الدین بلبن کے زمانے کی ہے۔ ناول میں خکومتی شورشوں، چالبازیوں، بغاوتوں کے ساتھ ساتھ غیاث الدین بلبن کے بادشاہ بننے کی روداد بھی ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ سیاسی اور حکومتی ہواؤں کے رخ بدلنے سے لوگوں کی وفاداریاں بھی تبدیل ہوتے دکھائی گئی ہیں۔ جن کے آگے خون کے رشتے بھی کچھ ثابت نہ ہو سکے۔ یہ ناول شجاع الدین کامران کی کہانی ہے۔ جس کے والد رضیہ سلطانہ کے وفادار تھے۔ تاہم جب رضیہ سلطانہ کی حکومت ختم ہوئی تو اس کے والد کو غدار قرار دے دیا گیا، انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اور گھر کو پسمار کر دیا گیا۔ کامران اور اس کی والدہ بےگھر ہو گئے۔ ہواؤں کے رخ دیکھتے ہوئے انہیں کہیں سے پناہ نہ مل سکی، نہ کامران کی والدہ کے گھر والوں نے انہیں قبول کیا اور نہ محلے والوں نے۔ کامران کی والدہ نے کام کرکے اپنی دو وقت کی روٹی کا انتظام کیا۔ کامران کی ایک ماموں زاد بہن یاسمین تھی جس کے ساتھ اس کی بچپن کی بات طے تھی۔ جب باقی رشتے ختم ہوئے تو یہ رشتہ بھی ختم ہو گیا۔ لیکن کامران اس بات کو قبول نہ کر سکا۔ وہ اسی خیال میں رہا کہ یاسمین اس سے محبت کرتی تھی۔ کامران اپنے حالات کی وجہ سے ذہنی پریشانی کا شکار ہو گیا، نہ وہ مدرسے سے کوئی تعلیم حاصل کر سکا اور نہ ہی کسی کام کاج کا بن سکا۔ تاہم اس کی یاسمین سے محبت ختم نہ ہو سکی۔ اس کے خیالات کی وجہ سے اس کے ماموں نے اس پہ چوری کا الزام لگا دیا۔ اسے قاضی نے دو سال کی سزا دے دی۔ کامران اور اس کی بیوہ ماں نے بہت کوشش کی کہ اپنی بےگناہی ثابت کر سکیں لیکن اس کے ماموں نے ایسا نہ ہونے دیا۔ نتیجتاً کامران کی زندگی پہ چور ہونے کا ٹھپا لگ گیا۔ یہیں سے کامران کی زندگی بدل گئی۔ اس نے اپنے ماموں سے بدلہ لینے کی ٹھانی اور ایک ہندو کے پاس چلا گیا جو بہت اثر و رسوخ کا حامل تھا۔ اس ہندو نے کامران کی مدد کا وعدہ کیا لیکن اس کے اپنے الگ ہی عزائم تھے۔ کامران کی کہانی کا انجام کیا ہوا، یہ جاننے کے لئے تو ناول ہی پڑھنا پڑے گا۔

ناول بہت تفصیلی انداز میں لکھا گیا ہے۔ کہانی کے تانے بانے آپس میں ربط رکھتے ہیں۔ مسلمان بادشاہوں کی تاریخ ساتھ ساتھ چلتی ہے جس کی وجہ سے ناول کے تاریخی ہونے کا تاثر برقرار رہتا ہے۔ رشتوں کی بےاعتنائی دیکھ کے افسوس ہوتا ہے اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان پہلے بھی دولت اور طاقت کا پجاری تھا اور آج بھی ہے۔ چلتی ہواؤں کو دیکھ کے اپنا رخ موڑ لیتا ہے اور پھر یہ نہیں دیکھتا کہ طوفان کی زد میں اس کے پیارے بھی پھنسے ہوئے ہیں۔ ناول پڑھتے ہوئے حکومت اور لوگوں کے ساتھ ساتھ تقدیر کی ناانصافی کا بھی اندازہ ہوتا ہے اور احساس ہوتا ہے کہ دینے والا کبھی کبھی کچھ بھی نہیں دیتا۔ تاریخی فکشن پڑھنے والے ساتھیوں کو یہ ناول ضرور دلچسپ لگے گا۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتےجیفری آرچر کی کتاب “ناٹ اے پینی لیس، ناٹ اے پینی مور * ” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

  • Not a penny less, not a penny more by Jeffery Archer
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s