102- One hundred years of solitude by Gabriel García Márquez

One hundred years of solitude by Gabriel García Márquez

تنہائی کے سو سال از گبریل گارشیا مارکیز

one_hundred_years_of_solitude-Gabriel Garcia Marquezمصنف: گبریل گارشیا مارکیز

ترجمہ: تنہائی کے سو سال

مترجم: ڈاکٹر نعیم کلاسرا

ہمارے لئے خوشی کا موقع ہے کہ آج ہم نوبل انعام یافتہ مصنف گبریل گارشیا مارکیز کی کتاب کا تعارف پیش کر رہے ہیں۔ گبریل گارشیا مارکیز بیسویں صدی کے ایک اہم مصنف ہیں۔ گبریل گارشیا کا تعلق کولمبیا سے تھا۔ آپ ایک مشہور ناول نگار، افسانہ نگار، اور صحافی تھے۔ ایک طویل اور کامیاب ادبی سفر کے بعد موجودہ سال اپریل میں آپ انتقال کر گئے۔ آپ کے انتقال سے ادبی دنیا ایک بہت اچھے ادیب سے محروم ہو گئی ہے۔ “ون ہنڈرڈ ائرز آف سولیٹیوڈ” جس کا اردو ترجمہ “تنہائی کے سو سال” کے عنوان سے نعیم کلاسرا صاحب نے پیش کیا ہے، ادبی دنیا میں انتہائی اہمیت کا حامل ناول ہے۔ اس ناول کو نقادوں کی بہت توجہ حاصل ہوئی ہے اور اسے ادب کا شاہکار ناول قرار دیا گیا ہے۔ اس ناول کا دنیا کی سینتیس ذبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے جس کی وجہ سے اس کے قارئین دنیا کے ہر گوشے میں پائے جاتے ہیں۔

تنہائی کے سو سال، بوئندا خاندان کی سات نسلوں کی کہانی ہے جو ماکوندو نامی ایک گاؤں میں رہتے تھے۔ اس گاؤں کی بنیاد جوزے  ارکیدو بوئندا اور اس کی بیوی ارسلا نے رکھی تھی۔ ارسلا اور جوازے ارکیدو بوئندا آپس  میں رشتے دار تھے۔ ان کی شادی کی پیشن گوئی پہلے سے ہو چکی تھی تاہم ان کے خاندان میں آپس کی شادی کے نتیجے میں “اگوانے” پیدا ہونے کی تاریخ موجود تھے۔ اگوانے ایسے بچے تھے جن کے پیچھے دم تھی۔ تاہم اگوانوں کی پیدائش کا خوف ارسلا اور جوزے ارکیدو بوئندا کو روک نہیں سکا اور ان کی آپس میں شادی ہو گئی۔ وہ دونوں ایک بہتر مستقبل کی تلاش میں ایک نئی منزل کی طرف روانہ ہو گئے۔ ایک رات جوزے ارکیدو نے ایک ایسی بستی کا خواب دیکھا جو شیشوں کی بنی ہوئی تھی اور اس میں سے دنیا کا عکس جھلکتا تھا۔ اس نے اس بستی کو بسانے کا ارادہ کیا، تاہم کئی دن تک بھٹکتے رہنے کے بعد اس کو سمجھ آئی کہ ایسی بستی صرف خوابوں میں ہی ہو سکتی ہے۔ جوازے ارکیدو بوئندا نے ایک نئی بستی کی بنیاد رکھی، جہاں اس کی اگلی نسل کی پرورش شروع ہوئی۔ یہ خاندان شروع سے ہی عجیب و غریب حالات کا شکار رہا، وہ خاندانی بدنصیبی جو ان کے ساتھ شروع سے تھی، وہ یہاں بھی موجود رہی۔

تنہائی کے سو سال، حقیقت اور تخیل کا اچھا ملاپ ہے، حقیقت اور تخیل آپس میں اس طرح یکجا ہیں کہ کہانی پڑھتے ہوئے تخیلاتی باتیں بھی حقیقت جیسی محسوس ہوتی ہیں۔ جیسے ایک موقع پہ کرنل ارلیانو بوئندا کے سترہ بیٹوں کا ذکر ہے جو تمام کے تمام ایک ہی دن پیدا ہوئے، اسی طرح اگوانے بچے بھی غیر فطری ہیں لیکن گبریل کا قلم انہیں اس طرح بیان کرتا ہے کہ وہ حقیقت کا حصہ معلوم ہوتے ہیں۔ سو سال کے عرصے میں “ماکوندو” بستی، قصبہ، اور قصبے سے بڑھ کے شہر کے مندارج طے کرتی ہے۔ شہر میں ریل کی آمد تک تبدیلی کی بےشمار حیرتوں سے گزرتی ہے اور بالآخر تنہائی میں مبتلا ہو کے مر جاتی ہے۔ تین چار نسلوں میں ہی اس وراثت کو جو اگوانوں سے شروع ہوئی تھی، ایک بڑی دیمک اپنے بل کی طرف گھسیٹ کے لے جاتی ہے۔ کہانی کے اختتام پہ خاندان کے آخری سپوت پہ یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ تنہائی کا یہ عذاب کسی ایک فرد کا نہیں، کسی ایک خاندان یا نسل کا بھی نہیں بلکہ نئے اور پرانے وقت کی دہلیز پہ پوری انسانی تہذیب کا ہے جسے دوبارہ بسنے کا موقع نہیں ملتا۔ ناول پڑھنے کے دوران اور خصوصاً انجام کی جانب بڑھتے ہوئے تنہائی کا بڑی شدت سے احساس ہوتا ہے۔

تنہائی کے سو سال گرچہ ایک شاہکار ناول ہے تاہم ایک عام قاری کے لئے گبریل گارشیا کے لکھنے کا انداز الجھن پیدا کر سکتا ہے۔ ناول میں بوئندا خاندان کی سات نسلوں کا بیان پیش کیا گیا ہے۔ ان کرداروں کے نام بھی آپس میں ملتے جلتے ہیں۔ کہانی ایک تسلسل کے ساتھ چلتی ہے تاہم کرداروں کے ناموں کی مماثلت قاری کو بھٹکا سکتے ہیں۔ یہ ناول مکمل تسلی اور حاضر دماغی کے ساتھ پڑھنے والا ناول ہے۔ تاہم ایک دفعہ قاری گارشیا کے انداز سے واقفیت حاصل کر لیتا ہے تو کہانی اس کے ذہن کے کینوس پہ پھسلتی جاتی ہے اور وہ اردگرد کی دنیا سے بےخبر ماکوندو کی دنیا میں مگن ہو جاتا ہے جہاں گارشیا اسے لے گیا ہے۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے خان آصف کی کتاب “اندھیروں کے قافلے ” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

***************

گبریل گارشیا مارکیز کے قلم سے مزید

Of love and other demons by Gabriel García Márquez

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s