101-زاویہ دوم از اشفاق احمد

زاویہ دوم از اشفاق احمد

مصنفZavia_2_Ashfaq_ Ahmed: اشفاق احمد

صنف: پاکستانی ادب، نان فکشن

صفحات: 320

ناشر: سنگ میل پبلی کیشنز لاہور

زاویہ دوم، اشفاق احمد مرحوم صاحب کے ٹی وی پروگرام زاویہ کے متن کا دوسرا حصہ ہے۔ یہ پروگرام پاکستان ٹیلی ویژن سے ہفتہ وار پیش کیا جاتا رہا ہے۔ ہر پروگرام ایک مختلف موضوع پہ ہوتا تھا جس میں اشفاق احمد صاحب اپنی زندگی کے تجربات سے حکمت، ہدایت اور نصیحت کی باتیں پیش کیا کرتے تھے۔ اس پروگرام نے بہت مقبولیت حاصل کی تھی اور ایک لمبے عرصے تک پیش کیا جاتا رہا۔ مقبولیت کا یہ عالم رہا کہ اس پروگرام کے بند ہونے کے بعد اس کو کتابی شکل میں بھی پیش کیا گیا تاکہ اس کا پیغام دور دراز تک پھیل سکے۔ اس ضمن میں تین کتابیں پیش کی گئی ہیں جن کے عنوانات بالترتیب زاویہ اول، زاویہ دوم اور زاویہ سوم ہیں۔ زاویہ اول پہ پہلے بات ہو چکی ہے، آج کا ہمارا موضوع زاویہ دوم ہے۔ ان شاء اللہ آنے والے دنوں میں زاویہ سوم بھی موضوع بنے گا۔

کتاب میں پروگرام کی ہر قسط کے لئے ایک علیحدہ باب بنایا گیا ہے اس لئے اس کتاب میں پچاس سے زیادہ ابواب موجود ہیں۔ ان ابواب کے عنوانات یوں ہیں:

پنجاب کا دوپٹہ، ملٹی نیشنل خواہشیں، وقت ایک تحفہ، چھوٹا کام، خوشی کا راز، ماضی کا البم، ویل وشنگ، دروازہ کھلا رکھنا، ایم اے پاس بلی، تنقید اور تائی کا فلسفہ، سلطان سنگھاڑے والا، میں کون ہوں، سائکو انالیسس، ترقی کا ابلیسی ناچ، ہاٹ لائن، تکبر اور جمہوریت کا بڑھاپا، شک، رشوت، بشیرا، اسطخدوس کے عرق سے اسٹین گن تک، پانی کی لڑائی اور سندیلے کی طوائفیں، بندے کا دار و بندہ، عالم اصغر سے عالم اکبر تک، انسانوں کا قرض، بابے کی تلاش، محاورے، ڈپریشن کا نقشہ، زندگی سے پیار کی اجازت درکار ہے، نظر بد، اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے، چیلسی کے باعزت ماجھے گامے، ذات کی تیل بدلی، رہبانیت سے انسانوں کی بستی تک، سیلیوٹ ٹو نان ڈگری ٹیکنالوجسٹس، تھری پیس میں ملبوس بابے اور چغلی میٹنگ، مائنڈ اوور میٹر، من کی آلودگی، ان پڑھ سقراط، بونگیاں ماریں خوش رہیں، آٹو گراف، چاہئے کا روگ، چلاس کی محبتیں، تسلیم و رضا کے بندے، بھائی والی کا رشتہ، گھوڑا ڈاکٹر اور بلونگڑا، لڑن رات ہو وچھڑن رات نہ ہو، توکل، بانسری، تحائف، جیرا بلیڈ ڈاکیا اور علم، فونگ شوئی اور دھرتی کے رشتے۔

عنوانات کی فہرست کافی طویل ہے تاہم یہ تمام مضامین اشفاق احمد صاحب کے مخصوص انداز میں پیش کئے گئے ہیں جو پڑھنے والے ذہن پہ بوجھ نہیں بنتے۔ اکثر باتیں اور خیالات دل و دماغ کو جلا بخشتے ہیں اور پڑھنے والے کو زندگی دیکھنے کے نئے زاویوں سے آگاہ کرتے ہیں۔ زاویہ کے اقتباسات کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ جا بجا یہ فیس بک پہ شیر کئے جاتے ہیں۔ جس سے اشفاق صاحب کی باتیں اور پیغام مزید دور تک پھیل رہا ہے۔ یہ ایسی کتاب ہے جو اپنے پڑھنے والوں کو بالکل مایوس نہیں کرے گی۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے گبریل گارشیا مارکیز کی کتاب “ون ہنڈرڈ ایئرز آف سولیٹیوڈ * ” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

* One hundred years of solitude by Gabriel García Márquez

***************

اشفاق احمد کے قلم سے مزید

زاویہ اول از اشفاق احمد

Advertisements

One thought on “101-زاویہ دوم از اشفاق احمد”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s