100- سرخ فیتہ از قدرت اللہ شہاب

سرخ فیتہ از قدرت اللہ شہاب

Surkh Feetaمصنف: قدرت اللہ شہاب

صنف: افسانے، اردو ادب، پاکستانی ادب

صفحات: 239

کتابستان آج اپنے بلاگ پہ 100 ویں کتاب کا تعارف و تبصرہ پیش کرنے جا رہا ہے۔ یہ کتابستان کے سفر میں ایک سنگ میل ہے۔ اس سفر کے دوران ہماری کوشش رہی ہے کہ مختلف النوع کتب کے بارے میں بات کی جائے جو مذہب سے لے کے فکشن، بین الاقوامی ادب اور سائنس و ٹیکنالوجی کے میدانوں کی کتب کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ آج کے اس موقع پہ ہم آپ کے لئے ایک خاص کتاب پیش کر رہے ہیں جس کا عنوان ہے سرخ فیتہ اور یہ قدرت اللہ شہاب صاحب کی لکھی ہوئی ہے۔

قدرت اللہ شہاب ایک بیوروکریٹ تھے۔ لیکن یہ آپ کی وجہ شہرت نہیں۔ آپ کی مقبولیت کی وجہ آپ کا مصنف ہونا ہے۔ آپ کی سوانح حیات شہاب نامہ کے نام سے شائع ہوئی جس میں آپ نے اپنے بچپن، قیام پاکستان اور بعد میں سول سروسز اور حکومتوں کے حوالے سے اپنی یادداشتیں تحریر کی ہیں۔ ممتاز مفتی کی لکھی ہوئی کتاب الکھ نگری کی وجہ سے آپ اللہ کے ایک برگزیدہ بندے کے طور پہ بھی جانے جاتے ہیں۔ قدرت اللہ صاحب کی ایک اور خوبی آپ کے لکھے ہوئے افسانے ہیں۔ گرچہ شہاب نامہ آپ کی لکھی ہوئی معروف ترین کتاب ہے۔ لیکن آپ کئی کتب کے مصنف ہیں جن میں سے اکثر ہی بہت معروف ہیں۔ شہاب نامہ کے بعد آپ کی مشہور ترین تخلیق آپ کا افسانہ “ماں جی” ہے۔ اس کے علاوہ یاخدا، نفسانے، سرخ فیتہ وغیرہ بھی آپ کے مشہور افسانوں میں شامل ہیں۔ قدرت اللہ شہاب کا زمانہ قیام پاکستان کے اوائل دور کا ہے۔ انگریزوں کا دور حکومت آپ نے دیکھا تھا۔ ہجرت پاکستان کا واقعہ آپ کی آنکھوں کے سامنے پیش آیا تھا۔ اورقیام پاکستان کے بعد آپ کو مہاجرین کی مشکلات اور حالت زار کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی تحریروں میں مہاجرین کی مشکلات اور ہجرت کے حالات و تکالیف کا ذکر ملتا ہے۔ ولایتی حکمران اور دیسی ملازمین کی کہانیاں بھی آپ کے ہاں موجود ہیں۔ شہاب صاحب کے لکھنے کا ایک منفرد انداز ہےجو کسی ڈاکٹر کی طرح مرض کی تشخیص کرتا ہے۔ آپ کا لکھا ہوا افسانہ “یاخدا” ایک لمبے عرصے تک پاکستان میں بین رہا۔ لیکن اس میں مہاجرین کی حالت زار پیش کی گئی ہے وہ کسی بھی شخص کے لئے دہلا دہنے والی ہے۔ ہم کتابستان کے ابتدائی دور میں اس کتاب کا جائزہ پیش کر چکے ہیں۔ آج جس کتاب کی بات ہونے والی ہے اس کا عنوان ہے سرخ فیتہ۔

سرخ فیتہ افسانوں کا مجموعہ ہے۔ ان میں پہلا افسانہ تو یاخدا ہی ہے، جس پہ بات کی جا چکی ہے۔ مزید افسانوں کے عنوانات ہیں:

ماں جی، اقبال کی فریاد، آثار قدیمہ، اے بنی اسرائیل، ایک پنکچر، ثمر بیلیز، پکے پکے آم، پھوڑے والی ٹانگ، سٹینو گرافر، شلوار، جگ جگ، آیا، تلاش، دو رنگا، جلترنگ، لے دے، کراچی، پٹیالہ پیگ، آپ بیتی، اور عائشہ آ گئی، غم جاناں، ریلوے جنکشن، سردار جسونت سنگھ، سرخ فیتہ، ایک ڈسپیچ۔

یہ تمام مختصر افسانے ہیں اور ایک سے دو نشستوں میں باآسانی پڑھے جا سکتے ہیں۔ افسانوں میں جہاں ہجرت کی مشکلات پیش کی گئی ہیں۔ وہیں اشرافیہ کے چہروں پہ روشنی بھی ڈالی گئی ہے جہاں ان کے صاف چہروں کے پیچھے موجود کردار کی گندگی ظاہر کی گئی ہے۔ شہاب صاحب نے جنسی تعلقات کو بھی موضوع بنایا ہے اور اس خواہش کی تکمیل کے لئے انسان کا پستی میں گرنے کا بھی ذکر ہے۔

ہمیں امید ہے کہ ادب کے شائقین کو یہ افسانے پسند آئیں گے۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے اشفاق احمد کی کتاب “زاویہ دوم” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

***************

قدرت اللہ شہاب کے قلم سے مزید

یاخدااز قدرت اللہ شہاب

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s