097-Blasphemy by Tehmina Durrani

Blasphemy by Tehmina Durrani

کفر از تہمینہ درانی

Blasphemyنام ترجمہ: کفر

مصنفہ: تہمینہ درانی

مترجم: میجر آفتاب احمد

صنف: ناول، پاکستانی ادب

صفحات: 265

سن اشاعت:1999

ناشر: پینگوئن بکس، مطبوعہ فیروز سننز پرائیویٹ لمیٹڈ

تہمینہ درانی صاحبہ، پاکستان کے پہلے وزیر اعظم جناب لیاقت علی خان صاحب کی پوتی ہیں۔ آپ کا ادبی سفر آپ کی لکھی ہوئی کتاب “مائی فیوڈل لارڈ” سے شروع ہوا۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ “مینڈا سائیں” کے عنوان سے موجود ہے۔ یہ کتاب تہمینہ صاحبہ کی سوانح عمری ہے اس میں آپ نے اپنی شادی شدہ زندگی اور شوہر کے سلوک کی تفصیلات پیش کی ہیں۔ اس کتاب کو غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی اور آج بھی آپ کے حوالے کے طور پہ اس کتاب کا نام جانا جاتا ہے۔ تہمینہ نے اور کتب بھی لکھی ہیں جن میں جناب ایدھی صاحب کی سوانح حیات بھی شامل ہے۔ کتابستان میں آج جو کتاب شامل ہونے جا رہی ہے وہ سوانح حیات نہیں ہے بلکہ ایک ناول ہے۔ آپ نے یہ ناول انگریزی زبان میں لکھا تھا جو 1999 میں شائع ہوا۔ بعد میں اس کا اردو ترجمہ کفر کے عنوان میجر آفتاب احمد صاحب نے کیا اور یہ کتاب اب اردو زبان پڑھنے والے قارئین کے لئے بھی دستیاب ہے۔

تہمینہ صاحبہ کا موضوع “پاکستانی خواتین کی حالت زار” ہے۔ آپ خواتین کی بہبود کے لئے کئی فلاحی منصوبوں میں بھی شامل ہیں۔ “کفر” کا مرکزی کردار بھی ایک پاکستانی عورت ہے۔ تہمینہ صاحبہ کے بقول یہ ناول سچے واقعات پہ مشتمل ہے اور یہ حقیقی کہانی ہے۔ کہانی کا انتساب آپ نے “ہیر” کے نام کیا ہے جو اس ناول کی مرکزی کردار بھی ہے اور مصنفہ کےنظریں بقول جس کی یہ کہانی ہے۔

کفر ایک متنازعہ ناول ہے۔ یہ ناول عام آدمی کے لئے نہیں ہے۔ ناول پڑھتے ہوئے صفحے صفحے پہ قاری، اس میں بیان کئے گئے حقائق سے انکار کرتا ہے۔ ظلم، بربریت اور ہوس کی جو تصویر کشی اس ناول میں کی گئی ہے وہ عام نظر سے اوجھل ہے۔ یہ ناول کمزور دل افراد کے لئے نہیں ہے۔ یہ ناول ایک تکلیف دہ اور تلخ کہانی بیان کرتا ہے۔ اس ناول میں مذہبی کرداروں کی اصلیت بیان کی گئی ہے۔ ناول میں یہ بتایا گیا ہے کہ مذہبی اور خاندانی پیر کسی طرح اپنے اعلیٰ نسب ہونے کا استعمال کرتے ہیں۔ وہ کس طرح دہرے معیارات کی تبلیغ کرتے ہیں۔ ان کی اپنی ہوس کا نشانہ بننے والے کوئی غیر نہیں، بلکہ ان کے اپنے گھر کی محرمات خواتین ہیں۔ یہ بات ناقابل یقین محسوس ہوتی ہے کیونکہ اسلام میں حرمت کے رشتوں کا احترام اور تقدس لازم قرار دیا گیا ہے اور ہر مسلمان اپنے گھر میں ان رشتوں کا احترام کرتا ہے۔ ایک مسلمان اورپاکستانی معاشرے میں ماں، بہن، بیٹی عزت کے رستے ہیں، جن کی حفاظت کرنا گھر کے سربراہ کا فرض ہے اور تقریباً ہر گھرانے میں ان رشتوں کا تقدس برقرار ہے۔

تاہم تہمینہ صاحبہ اس ناول کے ذریعے اپنے قاری کو ایک ایسے پیر گھرانے میں لے جاتی ہیں جو اپنے علاقے میں مذہبی لحاظ سے اونچا اور اہم سمجھا جاتا ہے۔ گھر کے سربراہ پیر صاحب ایک مذہبی شخصیت ہیں جن کا علاقے میں احترام ہے۔ گھرانے کی عورتیں بھی اس مذہبی گھرانے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے قابل احترام ہیں۔ تاہم یہی عورتیں اپنے گھر میں غیر محفوظ ہیں۔ پیر صاحب کی ہوس ناکی کا شکار ان کی اپنی محرمات ہو رہی تھیں۔ اور یہ روایت پیر صاحب اپنی اگلی نسل کو بھی منتقل کر رہے تھے۔ گویا یہ ظلم ایک شخص تک محدود نہیں تھا بلکہ پورا خاندان ہی اس غلاظت میں ڈوبا ہوا تھا۔ یہ ناول ہیر کی کہانی ہے جو ان پیر صاحب کی بیوی تھی اور اپنے شوہر کو یہ سب ظلم کرتے دیکھ رہی تھی۔ ناول کی کہانی کیا ہے اور کس طرح آگے بڑھی، یہ سب بیان کرنے کی ہم میں ہمت نہیں۔ ہماری بس یہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام بیٹیوں اور بہنوں کی حفاظت کریں۔ آمین۔

ناول سے اتفاق کرنا یا نہ کرنا، قاری کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ تہمینہ صاحبہ نے ہمارے معاشرے کے ایک کریہہ رخ پہ پردہ اٹھایا ہے، جس پہ شاید کبھی بات نہیں ہوئی۔ کاش یہ کہانی جھوٹی ہو۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے عمیرا احمد کی کتاب “من و سلویٰ ” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

Advertisements

One thought on “097-Blasphemy by Tehmina Durrani”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s